↧
روس نے امریکی صدارتی انتخابات میں مداخلت کی تھی
↧
Black Rhinos on the move
↧
↧
چینی اور امریکہ کے درمیان ’تاریخ کی سب سے بڑی تجارتی جنگ‘
چین اور امریکا نے ایک دوسرے کی مصنوعات پر اربوں ڈالر کے نئے درآمدی ٹیکس عائد کر دیے ہیں۔ یوں دنیا کی دو بڑی اقتصادی طاقتوں کے مابین تنازعہ شدید تر ہو گیا ہے۔ چین نے ’تاریخ کی سب سے بڑی تجارتی جنگ‘ کے خلاف خبردار کیا ہے۔ چینی برآمدات پر نئے امریکی درآمدی ٹیکس لگائے جانے کے بعد جواباﹰ اب چین نے بھی اپنے ہاں امریکی درآمدات پر 34 ارب ڈالر مالیت کے اضافی محصولات عائد کر دیے ہیں۔ امریکا میں ٹرمپ انتظامیہ نے چینی مصنوعات پر ان اضافی درآمدی محصولات کا اعلان کافی دن پہلے ہی کر دیا تھا اور یہ فیصلہ نافذ العمل ہو گیا ہے۔
دوسری طرف چین نے بھی اپنی طرف سے خبردار کر رکھا تھا کہ اگر ٹرمپ انتظامیہ کے اس ’یکطرفہ‘ فیصلے پر عمل درآمد کیا گیا تو بیجنگ حکومت بھی اپنے ردعمل میں کوئی تاخیر نہیں کرے گی۔ ساتھ ہی بیجنگ کی طرف سے یہ بھی واضح کر دیا گیا تھا کہ چین بھی اپنے ہاں درآمد کی جانے والی امریکی مصنوعات پر نئے اضافی محصولات لگا دے گا، جن کی مالیت اتنی ہی ہو گی، جتنی مالیت کے نئے درآمدی ٹیکسوں کے نفاذ کا اعلان امریکا نے چینی مصنوعات کی درآمد کے حوالے سے کر رکھا تھا۔ جیسے ہی اضافی امریکی محصولات عملی طور پر نافذ ہو گئے، بیجنگ کی طرف سے بھی اسی وقت یہ کہہ دیا گیا کہ امریکی مصنوعات کی چین میں درآمد پر عائد کردہ اضافی محصولات بھی فوری طور پر مؤثر ہو گئے ہیں۔
چینی دارالحکومت سے ملنے والی مختلف خبر رساں اداروں کی رپورٹوں کے مطابق بیجنگ نے کہا ہے کہ اس تجارتی جنگ کا آغاز امریکا نے کیا تھا، جس کے ساتھ ’چین کو جوابی حملے پر مجبور‘ کر دیا گیا تھا۔ امریکا دنیا کی سب سے بڑی معیشت ہے جس کے بعد دوسرے نمبر پر چین کا نام آتا ہے۔ ماہرین کے مطابق واشنگٹن اور بیجنگ کے ایک دوسرے کے خلاف مجموعی طور پر 68 ارب ڈالر مالیت کے ان اقدامات سے ایک ایسی بڑی تجارتی جنگ شدید تر ہو گئی ہے، جو عالمی معیشت کو ایک نئے بحران سے دوچار کر سکتی ہے۔ چینی وزارت تجارت کی طرف سے کہا گیا ہے، ’’امریکا نے ایسے اقدامات کی ابتدا کر کے ’انسانی تاریخ کی سب سے بڑی تجارتی جنگ‘ کا خطرہ مول لیا ہے، جو عالمی سطح پر تجارتی مصنوعات کی اہمیت کے لیے نقصان دہ ہو گی، جس سے تجارتی منڈیاں بھی متاثر ہوں گی اور دنیا میں اقتصادی ترقی کے مجموعی عمل پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔‘‘
بیجنگ میں ملکی وزارت تجارت نے یہ بھی کہا کہ چین امریکا کے ساتھ اپنے اس تجارتی تنازعے کو عالمی ادارہ تجارت یا ڈبلیو ٹی او میں بھی لے کر جائے گا۔ وزارت تجارت کے مطابق، ’’بیجنگ حکومت ڈبلیو ٹی او کو آگاہ کرے گی کہ چینی امریکی تجارتی تنازعے کی تازہ ترین صورت حال کیا ہے، چین نے اپنی طرف سے جوابی اقدمات کیوں کیے اور یہ کہ اس عالمی تنظیم کو یہ یقینی بنانا ہو گا کہ بین الاقوامی سطح پر آزاد تجارت کے کثیرالفریقی نظام کو ہر حال میں کام کرتے رہنا چاہیے۔‘‘ دنیا کی دو سب سے بڑی معیشتوں کے مابین باہمی تجارت کا موجودہ توازن واضح طور پر چین کے حق میں ہے۔ 2017ء میں چین اور امریکا کے مابین مصنوعات کی جتنی بھی تجارت ہوئی تھی، اس میں امریکا کو 375 ارب ڈالر کا نقصان ہوا تھا، جو ایک نیا ریکارڈ تھا۔
بشکریہ DW اردو
↧
عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتوں میں مزید اضافے کا امکان
پاکستان کی نگراں حکومت نے پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ کر دیا ہے۔ وزارت خزانہ کی جانب سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ پیٹرول کی قیمت میں اضافے کی وجہ عالمی منڈی میں قیمتوں میں اضافہ اور ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر میں کمی ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں صرف پیٹرول ہی نہیں بلکہ گیس اور بجلی کے نرخ بڑھنے کی بھی امکان ہے، اور اس کی وجوہات داخلی ہونے کے ساتھ ساتھ عالمی بھی ہیں۔ پاکستان کی نگراں حکومت کی جانب سے پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کے بعد اب پیٹرول کی قیمت ننانوے روپے پچاس پیسے فی لیٹر ہو گئی ہے۔ جب کہ تیل کی دیگر مصنوعات کی قیمتیں بھی بڑھا دی گئی ہیں۔
اقتصادی ماہرین ایندھن کی قیمتوں میں مزید اضافے کی توقع کر رہے ہیں ، تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس کی وجوہات مختلف ہیں۔ ویدر فورڈ سعودی عربیہ اینڈ بحرین نامی تیل کمپنی کے سابق جنرل منیجر مسعود عبدالی کہتے ہیں کہ تیل کی قیمتوں میں اضافے کی وجوہات تکنیکی نوعیت بھی ہیں اور سیاسی بھی ہیں۔ مسعود عبدالی کہتے ہیں کہ، معاملہ یہ نہیں ہے کہ سعودی عرب کی تیل کی پیداوار اس سلسلے میں عالمی سطح پر ہونے والی کمی کو پورا کرے گی۔ معاملہ ایران کا بھی ہے۔ معاملہ وینزویلا کا بھی ہے۔ معاملہ لیبیا کا بھی ہے اور معاملہ انگولا کا بھی ہے۔ یہ دنیا بھر میں تیل پیدا کرنے والے ممالک ہیں ۔ ان سب میں سوائے سعودی عرب اور روس کے، کسی ملک کے پاس یہ صلاحیت نہیں ہے کہ وہ تیل کی پیداوار میں اضافہ کر سکے۔
اقتصادی ماہر ڈاکٹر شاہد مسعود صدیقی پاکستان میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کو داخلی معاملات سے جوڑتے ہوئے کہتے ہیں کہ طاقتور طبقوں کو ٹیکسوں میں بے جا چھوٹ اور مراعات دی گئی ہیں ۔ ان دونوں سے جو نقصان ہوتا ہے، اس کا بوجھ پورا کرنے کا آسان راستہ یہ ہے کہ پیٹرول اور بجلی اور گیس کے نرخ بڑھا دئیے جائیں۔ تو جب آپ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں بڑھاتے ہیں تو اس میں وصولی سو فیصد ہو جاتی ہے۔ مسعود عبدالی اس سے اتفاق کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ تیل کی قیمتوں میں عالمی سطح پر اضافے سیاسی وجہ بھی موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام کےخلاف پابندیوں کے ضمن میں، اس کی تیل کی برآمد بھی روکنا چاہتے ہیں۔ امریکی حکومت بھارت سے بھی یہ کہہ چکی ہے کہ وہ ایران سے تیل نہ خریدے، جو ایرانی تیل کا ایک بڑا خریدار ہے۔
دوسری جانب ، صدر حسن روحانی نے دھمکی دی ہے کہ اگر ایران کے تیل کی فروخت پر پابندی لگی تو وہ آبنائے ہرمز کو بند کر دیں گے۔ اس بارے میں عبدالی کہتے ہیں کہ اگر واقعی انہوں نے آبنائے ہر مز کو بند کر دیا، یا کچھ دن کے لئے بند کیا ، یا مال بردار بحری جہازوں کی آمد و رفت میں تعطل ڈالا ، تو اس کی وجہ سے بھی تیل کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں۔ میرا خیال یہ ہے کہ آئندہ دنوں میں، دنیا میں تیل کی پیداوار، اس کی ضرورت سے کم ہو گی یا اس کی ضرورت کے برابر ہو گی، تو میرا خیال ہے کہ تیل قیمت جو اس وقت پچھتر سے اسی یا پچاسی ڈالر فی بیرل کے قریب ہے ، آئندہ تین چار مہینوں کے درمیان، اس کی قیمت میں ہر ہفتے دو سے تین فی صد اضافے کا امکان ہے۔
ڈاکٹر صدیقی کہتے ہیں کہ اس میں مسئلہ عالمی مالیاتی فنڈ کا بھی ہے، جو کہ ہمیشہ بجٹ خسارہ کم کرنے کی بات کرتا ہے اور آئندہ دنوں میں نہ صرف تیل بلکہ بجلی اور گیس کے نرخوں میں بھی اضافہ ہونے کا خدشہ ہے۔ ڈاکٹر شاہد کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں، جو تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے، اس سے فائدہ اٹھا کر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مزید اضافہ کر کے، ٹیکس چوری کی حوصلہ افزائی کر کے، ان نقصانات کو یہاں سے پورا کرنے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔ اس سے ہماری برآمدات متاثر ہوں گی، روزگار کے مواقع کم ہوں گے، اور معیشت کی شرح نمو سست ہو جائے گی۔ اور بدقسمتی سے آئی ایم ایف کا جو نسخہ ہے، وہ ہے بنیادی طور پر بجٹ خسارہ کم کرنا، تو یہ چیز اس میں بھی فٹ آ جاتی ہے۔ مسعود عبدالی کہتے ہیں کہ سعودی عرب کے لئے تکنیکی ترسیل کا دوسرا راستہ، بحیرہ احمر سے گزرتا ہے۔ اور بحیرہ احمر ، یمن کے ساتھ واقع ہے جہاں ہوتیوں کا اثر و رسوخ ہے، اور وہ بھی تیل کی ترسیل میں خلل ڈال سکتے ہیں ، جس سے تیل کی قیمت میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے۔
بشکریہ وائس آف امریکہ
↧
پاکستان میں ملٹری اسٹیبلشمنٹ اور سویلین بالادستی
پاکستان کی سیاسی قوتوں اور ملٹری اسٹیبلشمنٹ المعروف خلائی مخلوق کے درمیان اکھاڑ پچھاڑ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے فوراً بعد سے شروع ہوگئی تھی جو آج لگ بھگ 70 سال گزر جانے کے باوجود بھی جاری و ساری ہے۔ پاکستان کی داخلی، خارجی و دفاعی پالیسی سازی میں ملٹری کا غالب لیکن پس پردہ کردار ایک کھلا راز ہے۔ جمہوریت اور سویلین بالادستی کے علمبردار اس کردار کو حدود سے تجاوز اور سول حکومت کے دائرہ اختیار میں مداخلت تصور کرتے ہوئے عسکری اداروں کو سول حکومت کے عملاً ماتحت دیکھنا چاہتے ہیں۔ سطحی تناظر میں دیکھا جائے تو ان کی یہ خواہش کچھ ایسی ناجائز بھی نہیں کیونکہ جمہوری نظام حکومت میں عوام کے منتخب کردہ نمائندوں ہی کو ملکی نظم و نسق چلانے کا حق حاصل ہونا چاہیے۔ آئین پاکستان کی شق 245 میں بھی افواج پاکستان کا کردار واضح طور پر سرحدوں کی حفاظت تک ہی محدود ہے تاوقتیکہ سول حکومت کسی غیر معمولی یا ہنگامی حالت سے نمٹنے کےلیے خود ان کی خدمات طلب نہ کرے۔ حدود اور کردار طے ہو جانے کے باوجود بھی سول ملٹری تعلقات میں تناؤ کی کیا وجوہ ہیں؟ اسکا جائزہ لینے کےلیے ذرا گہرائی میں جانا ہو گا۔
’’پاکستان کی مسلح افواج‘‘ پاکستان کا ایک انتہائی منظم وفاقی ادارہ ہے جس کی پیشہ ورانہ مہارت، اہلیت اور قابلیت کسی شک و شبہ سے بالاتر اور عالمی سطح پر تسلیم شدہ ہے۔ اس ادارے کے اولین فرائض میں ہر قیمت پر وطن کی سالمیت اور بقا کا تحفظ کرنا ہے چاہے اس کےلیے جان ہی کیوں نہ قربان پڑے۔ ایک سپاہی کی تربیت روز اول سے انہی خطوط پر اس وقت تک کی جاتی ہے جب تک کہ فرض کی بجا آوری ہر شئے سے مقدم قرار پا کر اس کے خانہ لاشعور میں نہ بیٹھ جائے۔ پاکستان کا یہ ادارہ وزارت دفاع کے ماتحت کام کرتا ہے جس کی سربراہی وزیراعظم پاکستان کی منتخب کردہ کابینہ کے رکن کسی سویلین وزیر دفاع کے پاس ہوتی ہے۔ یہاں تک تو سب ٹھیک ہے لیکن گڑبڑ دراصل اس سے آگے شروع ہوتی ہے۔
ہمارا ایک المیہ ہے کہ ہم بحیثیت مجموعی تبدیلی اور نئے تجربات سے خوف کھاتے ہیں۔ ہم حالات کو جوں کا توں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں اور اپنی اسی کوشش اور سوچ کے زیر اثر ہم بار بار ایسے سیاسی نمائندگان کو منتخب کر کے پارلیمان میں پہنچاتے ہیں جن کی اکثریت جدیدیت سے بے بہرہ اور عصر حاضر کے تقاضوں سے نابلد ہے۔ جن کے انتخابی عمل میں کم سے کم تعلیمی اہلیت کی کچھ پابندی نہیں اور یہی وجہ ہے کہ ایک انگوٹھا چھاپ بھی اسمبلی کی رکنیت کے لیے اہل قرار پاتا ہے۔ دور کیا جانا، آپ حال ہی میں اپنی مدت پوری کر کے تحلیل ہونے والی قومی اسمبلی کے اراکین ہی کا جائزہ لے لیجیے، ان میں سے اکثریت ایسی ہو گی جو 80 یا 90 کی دہائی میں سیاست میں وارد ہوئے اور آج تیس چالیس سال بعد بھی میدان چھوڑنے کو تیار نہیں؛ اور نہ ہی کوئی ایسا قانون موجود ہے جو ان کی انتخابی مدت پر کوئی قدغن لگائے۔
ایسے میں کیا یہ تصور کیا جا سکتا ہے کہ انہی اراکین میں سے منتخب کردہ فرسودہ اور سطحی سوچ کا مالک کوئی وزیر دفاع، عالمی معیار کے عسکری تعلیمی اداروں سے فارغ التحصیل، انتہائی منظم، تربیت یافتہ اور پیشہ ورانہ مہارت کے حامل باوردی افسران سے اپنی بالادستی تسلیم کروا سکتا ہے؟ دفاع میں دفاعی حکمت عملی کا ایک کلیدی کردار ہوتا ہے۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایسا کوئی شخص ملکی دفاع کی باریکیوں اور نزاکتوں کو مد نظر رکھ کر ملکی دفاعی حکمت عملی ترتیب دینے میں اپنا کوئی کردار ادا کر سکے؟ کیا ایسا کوئی شخص ہر آن بدلتے عالمی و علاقائی جغرافیائی حقائق کا ٹھیک ٹھیک ادراک رکھنے کا اہل ہو سکتا ہے؟ سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
عالمی سطح پر درپیش چو مکھی چیلنجوں کی تو بات ہی الگ، ملکی داخلی سطح پر سول قیادت کی بدترین نااہلی کی لاتعداد مثالوں میں سے حالیہ مثال کسی بھی قسم کے اسلحے کے بغیر صرف لاٹھیوں سے مسلح مذہبی انتہا پسندوں کے ایک جتھے کا دارالحکومت اسلام آباد کی دہلیز پر دیا گیا فیض آباد دھرنا ہے جس نے آناً فاناً سارے ملک میں نظام زندگی مفلوج کر کے رکھ دیا۔ ریاست بے بسی و لاچاری کی تصویر اور داخلی سلامتی کے ذمہ دار، تجربے اور قابلیت کے زعم میں ہنوز مبتلا، وزیر بےتدبیر اپنی خفت مٹاتے نظر آئے۔ بالآخر یہاں ایک خالصتاً سیاسی تنازع میں افواج پاکستان ہی کو آگے بڑھ کر اپنا کردار ادا کرنا پڑا۔
ایک اور مثال پاکستان کی معاشی شہ رگ کراچی ہے جو انہی سیاسی سول قوتوں کی باہم سیاسی رسہ کشی اور سول انتظامیہ کے ماتحت پولیس کی شرمناک ناکامی کے باعث کسی جہنم کا منظر پیش کر رہا تھا۔ یہاں بھی ریاست دشمن عناصر کی بیخ کنی کے لیے فوج ہی کی ذیلی شاخ پاکستان رینجرز نے اپنا کردار کامیابی سے ادا کیا اور کراچی کو اس کا امن واپس لوٹایا۔ دشوار گزار اور شورش زدہ قبائلی علاقوں سمیت ملک کے طول و عرض میں دہشت گردی کے خلاف آپریشن ضرب عضب افواج پاکستان کی کامیابیوں کی ایک اور حیرت انگیز داستان ہے۔ یہ حقائق اس بات کے عکاس ہیں کہ افواج پاکستان نہ صرف آئین میں طے کردہ سرحدی حفاظت کا فریضہ بحسن و خوبی نباہ رہی ہیں بلکہ سول اداروں کی نااہلی کے نتیجے میں ملکی سلامتی کو لاحق ایسے اندرونی خطرات سے بھی نبرد آزما ہیں جن سے نمٹنا سو فیصد سول حکومتوں اور ان کے ماتحت اداروں کی ذمہ داری ہے۔
سویلین بالادستی کا دن رات پرچار کرنے والوں کےلیے شرم کا مقام ہے کہ وہ خود تو زبانی جمع خرچ سے ہی آگے نہ بڑھ پائے اور ایک مرتبہ پھر ایک سابق فوجی حکمران ہی آئینی اصلاحات متعارف کروا کر اس ضمن میں بھی سبقت لے گیا۔ رکن قومی اسمبلی یا سینیٹر منتخب ہونے کےلیے تعلیمی اہلیت کم از کم گریجویشن اور وزارت عظمی کی مدت دو بار تک محدود کرنے کی آئینی ترامیم انتہائی قابل تحسین تھیں لیکن افسوس کہ ملک و قوم اور خود پارلیمان کےلیے دور رس افادیت و ثمرات کی حامل ان ترامیم کو بھی سویلینز نے اپنے وقتی اور ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھا کر پارلیمان کو دوبارہ انہی مفاد پرستوں اور ٹھگوں کی آماجگاہ بنا دیا۔
جمہوری تسلسل ان ترامیم کے ساتھ جاری رہتا تو یقیناً پارلیمان ہی کی مضبوطی و بالادستی پر منتج ہوتا۔ المیہ ہے کہ ایک جاہل یا واجبی تعلیم رکھنے والے، بددیانتی کی علامت، ملت فروش سیاستدان کو سیاست کے نام پر پیشہ ورانہ بندشوں میں پابند ایک ایسے بے زبان ادارے پر دشنام طرازی کی کھلی چھوٹ حاصل ہے جو اللہ کے بعد اس بدقسمت پاکستان کی سلامتی کی آخری امید ہے۔ اگر سویلین بالادستی اسی دشنام طرازی و زبان درازی کا نام ہے تو خدا کرے ایسی سویلین بالادستی کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہ ہو، آمین۔
وقاص ارشد چیمہ
↧
↧
نواز شریف کے لیے کوئی بھی فیصلہ آسان نہیں
اب جبکہ الیکشن میں تین ہفتے سے بھی کم کا وقت رہ گیا ہے تو سابق وزیرِ اعظم نواز شریف اور ان کی بظاہر سیاسی جانشین اور بیٹی مریم نواز کو احتساب عدالت سے کرپشن مقدمے میں سخت سزاؤں سے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کے سامنے سخت سوالات کھڑے ہوگئے ہیں۔ بلاشبہ اس فیصلے کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا جائے گا اور دونوں رہنما جو اس وقت نواز شریف کی شدید بیمار اہلیہ کلثوم نواز کے ساتھ موجود ہیں، اپیل کے دوران ضمانت کے لیے درخواست دیں گے۔ پر اگر یہ فیصلہ کر لیا گیا ہے کہ ان کے گرد گھیرا تنگ کر کے ان کی درخواستِ ضمانت مسترد کرنی ہے، تو پھر پارٹی اس انتخابی مہم کے آخری دنوں میں شدید مشکلات کا شکار ہو جائے گی جس کا پورا دار و مدار باپ اور بیٹی کی سیاسی کشش پر ہے۔
عدالتوں کی جانب سے نواز شریف کو پارٹی عہدہ تک رکھنے سے بھی نااہل کیے جانے کے بعد ان کے وزارتِ عظمیٰ کے امیدوار اور پارٹی صدر شہباز شریف ملک کے سب سے بڑے صوبے میں اپنی کارکردگی کی بنیاد پر اپنی انتخابی مہم چلا رہے ہیں۔ مگر اس حوالے سے سیاسی مبصرین میں اتفاق ہے کہ نواز شریف اور ان کی بیٹی کی زبردست مہم اور ان کا یہ بیانیہ ان کی عوامی حمایت پا چکا ہے کہ انہیں سویلین بالادستی کا مطالبہ کرنے کی وجہ سے ملکی افواج جیسے طاقت کے مراکز کی جانب سے سزا دی جا رہی ہے۔ حالیہ سرویز کے مطابق مسلم لیگ (ن) کو اس وقت پی ٹی آئی پر صرف باریک سی فوقیت حاصل ہے جبکہ گزشتہ سال تک بھی ان دونوں کے درمیان وسیع فرق موجود تھا۔ ویسے میں ان سرویز کو ہمیشہ شک کی نگاہ سے دیکھتا ہوں، یہاں تک کہ اگر یہ مغرب میں بھی ہوں جہاں ان کے طریقہ کار کو کافی معیاری قرار دیا جاتا ہے۔
اگر مہم مکمل طور پر شہباز شریف پر چھوڑ دی جائے تو یہ باریک سی فوقیت بھی اب شدید مشکلات کا شکار ہو گی۔ شہباز شریف کو ویسے تو ایک مؤثر منتظم کے طور پر دیکھا جاتا ہے جو میگا پروجیکٹس کو کم سے کم وقت اور بجٹ میں مکمل کروا سکتے ہیں، مگر ان کی شخصیات میں وہ کرشماتی کشش موجود نہیں ہے۔ اور یہ عنصر کس قدر اہم ثابت ہو سکتا ہے، اس کا اندازہ عدالتی فیصلہ آنے کے بعد ایک نیوز کانفرنس میں شہباز شریف کے فوری ردِ عمل سے لگایا جا سکتا ہے۔ انہوں نے بے دلی سے عدالتی فیصلے کو مسترد کرتے ہوئے اسے 'سیاسی بنیادوں'پر دیا گیا فیصلہ کہا۔ اگر کوئی شخص شہباز شریف سے اس سے زیادہ، مثلاً آتش بازی اور باغیانہ الفاظ کی توقع کر رہا تھا، تو ان کی بے ذوق کارکردگی اور تقریباً شکست خوردہ لہجے نے ان کی توقعات پر پانی پھیر دیا ہو گا اور پارٹی کی صفوں کا مورال گرا دیا ہو گا۔ جیسا کہ ایک تجزیہ کار کا کہنا تھا، وہ متاثر کرنے میں ناکام رہے۔
میں سمجھ سکتا ہوں کہ شہباز شریف نے خود کو ملنے والی تصادم کی تجویز کو نظرانداز کرتے ہوئے ان مشیروں کی بات مانی جنہوں نے نرم و ملائم رویہ رکھنے کا مشورہ دیا تھا۔ شاید یہ ممکنہ طور پر طاقتور ریاستی اداروں کے غصے سے بچنے کے لیے ایک کافی عملیت پسند کام تھا۔ مگر اس سے جو چیز حاصل نہیں ہو گی، وہ ووٹروں کی حمایت اور ووٹروں میں تحرک ہے؛ کارکن مسلم لیگ (ن) کے صدر کے ہی رویے کی پیروی کریں گے، جو کہ خود تھکے ماندے نظر آئے۔ جب یہ الفاظ لکھے جا رہے تھے، تو نواز شریف نے اعلان کیا کہ جیسے ہی ان کی اہلیہ ہوش میں آئیں گی تو وہ ملک واپس آ جائیں گے (ان کی واپسی کی حتمی تاریخ کا ابھی بھی انتظار ہے) اور ان کا سامنا کریں گے جنہوں نے جج کو "یہ فیصلہ سنانے کے لیے تھمایا"۔ مریم نواز بھی اتنی ہی باغیانہ نظر آئیں۔
یہ بحران مسلم لیگ (ن) کہلانے والی سیاسی جماعت اور مشین کے لیے ایک امتحان ہوگا جو کہ 1999 کی فوجی بغاوت کے بعد بکھر گئی تھی، جس سے مسلم لیگ (ق) نے جنم لیا، اور اس کی حیاتِ نو صرف تب ممکن ہوئی جب پی پی پی رہنما بینظیر بھٹو نے مہارت سے فوجی رہنما جنرل پرویز مشرف کی چالوں کا سدِ باب کیا۔ یہ بینظیر بھٹو ہی تھیں جنہوں نے نواز شریف کو سعودی عرب اور لندن میں اپنی جلاوطنی ختم کرنے اور 2008 کے انتخابات میں حصہ لینے کے لیے قائل کیا تھا۔ اس کے بعد اس وقت کے چیف جسٹس تھے، جن کو باہر نکالنے کی کوشش مشرف کو مہنگی پڑی اور انہیں کمزور کر گئی۔ یہی چیز نواز شریف کے حق میں بھی کام کر گئی جس سے وہ 2008 میں پنجاب میں اور 2013 میں ملک میں حکومت حاصل کرنے میں کامیاب رہے۔
باپ اور بیٹی کا سرکش رویہ اور اپنی مشکلات کا منصوبہ ساز فوج کو قرار دینا عوامیت پسند سیاست جیسا تھا، ایسی سیاست جس کے ذریعے بینظیر بھٹو جیسی رہنما نے مقبولیت حاصل کی۔ اگلے چند ہفتے واضح کر دیں گے کہ آیا مسلم لیگ (ن) اپنے گڑھ پنجاب میں ایسی سیاست کر سکتی ہے یا نہیں۔ مسلم لیگ (ن) اور شریف خاندان کی حالیہ مشکلات کا کوئی بھی تجزیہ پی ٹی آئی کے سربراہ عمران خان کے ذکر کے بغیر مکمل نہیں ہو سکتا جن کے کریڈٹ پر وہ سخت لڑائی ہے جس کی وجہ سے شریف خاندان ان مقدمات میں پھنسا۔ جب پاناما پیپرز سب سے پہلے سامنے آئے تو اس وقت شریف خاندان (بھلے ہی نواز شریف کا نام ان میں موجود نہیں تھا) کو لندن میں موجود جائیدادوں کا مالک قرار دیا گیا تھا۔ عمران خان نے تنِ تنہا اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچانے کی لڑائی لڑنے کا فیصلہ کیا۔
بے حد پراعتماد نواز شریف، جنہیں شاید پارلیمنٹ میں اپنی زبردست اکثریت کی وجہ سے اعتماد تھا، نے اپوزیشن میں موجود پی پی پی کی بات نہ سننے کا فیصلہ کیا جب خورشید شاہ نے اسکینڈل پر پارلیمانی کمیٹی قائم کرنے کا مشورہ دیا تھا۔
یہ مسئلے کو طویل گھاس میں دبا دینے جیسا تھا مگر ایسا نہیں ہونے والا تھا۔ ایک بار جب نواز شریف نے پی پی پی کی تجویز کو مسترد کر دیا اور جب ابتدائی ہچکچاہٹ کے بعد سپریم کورٹ نے عمران خان اور دیگر سیاستدانوں کی درخواستیں سماعت کے لیے منظور کیں، تو اس حوالے سے کوئی یقینی کیفیت نہیں تھی کہ کیس کس سمت میں جائے گا۔ پھر سپریم کورٹ کا فیصلہ آیا اور اس کے بعد احتساب عدالت کا یہ فیصلہ۔ اس مرحلے پر کئی لوگ پوچھ رہے ہوں گے کہ کیا نواز شریف کا کھیل ختم ہو چکا ہے؟ ان کے مستقبل کی چابی ان کے ہاتھ میں ہے، بھلے ہی اسٹیبلشمنٹ کے دباؤ کا شکار میڈیا ان سے ہمدردی رکھتا ہو یا نہیں۔
وہ کہتے ہیں کہ وہ جلد ہی واپس آ جائیں گے۔ اگر ایسا ہوا تو وہ جیل میں ہونے کے باوجود سیاسی طور پر اہم رہیں گے اور ممکنہ طور پر انتخابات سے پہلے اہم عوامی حمایت کو ابھار سکیں گے۔ ان کی واپسی کا وقت اہم ہو گا، اور فیصلہ مشکل، کیوں کہ ان کی اہلیہ اب بھی شدید بیمار ہیں۔
عباس ناصر
یہ مضمون ڈان اخبار میں 7 جولائی 2018 کو شائع ہوا۔
↧
نواز شریف کا ’چند ججوں اور چند جرنیلوں‘ کے خلاف اعلان جنگ
پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف نے لگی لپٹی اب بلکل ترک کر دی ہے۔ جیسا کہ توقع تھی، انھوں نے احتساب عدالت سے اپنے خلاف ایون فیلڈ ہاؤس اپارٹمنٹس کا فیصلہ آتے ہی ’چند ججوں اور چند جرنیلوں‘ کو آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
’مجھے جو سزا دی جارہی ہے وہ کرپشن کی وجہ سے نہیں دی جا رہی بلکہ میں نے 70 برس سے جاری ملک کی تاریخ کا جو رخ موڑنے کی جدوجہد شروع کی ہے یہ اس کی سزا دی جا رہی ہے ‘ احستاب عدالت میں مجرم قراد دیے جانے اور قید کی سزا پانے کے بعد نواز شریف نے اپنے پریس کانفرنس کے ذریعے اپنے باقاعدہ ردعمل کا اظہار کیا ہے۔
میں نے میاں صاحب سے پوچھا کہ آپ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ گذشتہ 70 برس سے چند جج اور چند جرنیل ملک کو جب چاہے یرغمال بنا لیتے ہیں تو اس مرتبہ ان کے خلاف کون سازش کر رہا ہے؟ جواب میں میاں صاحب نے الٹا سوال پوچھ لیا کہ آپ بتائیں کہ وہ کون ہیں جو ہمارے لوگوں کی وفاداریاں بدل رہے ہیں، ہماری حکومت گرانے کی سازشیں کر رہے ہیں، ہمارے خلاف ججوں کو استعمال کر رہے ہیں، ہمارا حق میں بولنے والوں کو اغوا کر رہے ہیں، میڈیا کو خاموش کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمارے ایک امیدوار کو مارا پیٹا اس نے کہا آئی ایس آئی کے لوگ تھے، دوسرے روز اس کا بیان تبدیل کروایا اور اس نے کہا محکمہ زراعت کے لوگ تھے، اب آپ بتایے، کیا یہ سب محکمۂ زراعت کے لوگ کر سکتے ہیں؟
معلوم نہیں میاں صاحب کے ان خیالات سے ان کی پارٹی کے حالیہ صدر اور ان کے بھائی شہباز شریف کتنے متفق ہیں، لیکن ایک بات واضح ہے کہ تاریخ میں پہلی مرتبہ نواز شریف کی قیادت میں پنجاب میں فوج اور اسٹیبلشمنٹ مخالف سوچ میں اضافہ ہو رہا ہے۔ پاکستانی کالم نویس اور ایکٹویسٹ گل بخاری کا کہنا ہے کہ پنجاب میں آج جتنا فوج مخالف جذبات پائے جاتے ہیں، اتنا تو شاید جنرل ضیا کے زمانے میں بھی نہیں تھے۔ گل بخاری کا کہنا ہے کہ نواز شریف اب ایک حقیقی عوامی رہنما بن کر ابھرے ہیں اور یہی بات اسٹیبلشمنٹ کو پسند نہیں آرہی۔ نواز شریف نے کہا کہ اب وقت آ گیا ہے کہ قوم میرا ساتھ دے تاکہ ہم ان سازشی عناصر کا خاتمہ کریں۔ ان کے بقول عوام ان نادیدہ قوتوں اور ان کے سیاسی حواریوں کا محاسبہ کریں گے۔
نواز شریف نے کہا کہ جتنا جلدی ان کے خلاف مقدمہ چلایا گیا ہے کیا ہی اچھا ہوتا کہ اتنا جلد مقدمہ ملک اور آئین توڑنے والوں، دہشت گردوں اور ان کے حمایت کرنے والوں کے خلاف بھی چلایا جاتا۔ نواز شریف کی اس بات چیت سے کم ازکم ایک تو بات تو بلکل واضع ہو گئی ہے کہ جو لوگ یہ امید لگائے بیٹھے تھے کہ فوج اور نواز شریف کے درمیان کوئی مصالحت ہو جائے گی، ان کو شدید دھچکا لگے گا۔ نواز شریف کو دیکھ اور انھیں سن کر اس بات کا کہیں سے عندیہ نہیں ملا کہ اب کوئی مصالحت ممکن ہے۔ شاید کسی وقت اور کسی سطح پر اس کی کوششیں ہوئی ہوں لیکن اب یہ ممکن نظر نہیں آتا۔ تو سوال یہ ہے کہ ایسی صورت میں مسلم لیگ نواز کے صدر کس انداز میں انتخابی مہم چلائیں گے کیا وہ اپنے بھائی اور قائد کے راستے پر چلیں گے یا پھر مصالحت کے؟
میاں صاحب نے یہ بھی کہہ دیا ہے کہ وہ اور ان کی بیٹی مریم نواز شریف اس وقت تک پاکستان نہیں جائیں گے جب تک بیگم کلثوم نواز کو ہوش نہیں آجاتا اور ان کا وینٹیلیٹر ہٹا نہیں دیا جاتا۔ تو ایسی صورت میں یہ بھی بہت اہم ہے کہ ان کے بقول ان کے ملک کی تاریخ بدلنے کے لیے اس جدوجہد کی قیادت کون کرے گا ؟ کم از کم پاکستان میں جو اس وقت مسلم لیگ کی قیادت موجود ہے، ان میں سے تو کوئی اس ڈگر پر چلتا نظر نہیں آتا لیکن امید پر دنیا قائم ہے۔
جاوید سومرو
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، لندن
↧
تھائی لینڈ : غار میں پھنسے بچوں کے ریسکیو میں مصروف غوطہ خور ہلاک
تھائی لینڈ کے ایک غار میں پھنسے بچوں کو بچانے کی کوششوں میں مصروف ٹیم میں شامل ایک مقامی غوطہ خور آکسیجن ختم ہونے کے باعث ہلاک ہو گیا ہے حکام کے مطابق ہلاک ہونے والا غوطہ خور تھائی فوج کے نیوی سیلز دستے کا سابق اہلکار تھا جس کی شناخت سمارن پونان کے نام سے ہوئی ہے۔ حکام نے بتایا ہے کہ اہلکارغار کے اندر ایک موڑ پر آکسیجن ٹینک رکھنے گیا تھا لیکن واپسی پر خود اس کے اپنے ٹینک کی آکسیجن ختم ہو گئی جس کے باعث وہ چل بسا۔ تھائی حکام اور بین الاقوامی امدادی ٹیمیں گزشتہ چار دن سے غار میں پھنسے انڈر 16 فٹ بال ٹیم کے 12 کھلاڑیوں اور ان کے کوچ کو نکالنے کی منصوبہ بندی میں مصروف ہیں۔ اسی مقصد کے لیے غار کے اندر ان راستوں پر جگہ جگہ آکسیجن ٹینک رکھے جارہے ہیں جہاں سے بچوں کو نکالا جا سکتا ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ سیلابی پانی اور کیچڑ سے بھرے غار میں سے بچوں کو نکالنے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔ بچوں کے ریسکیو کے لیے گزشتہ دو ہفتوں سے جاری بین الاقوامی آپریشن کے دوران کسی امدادی اہلکار کی یہ پہلی ہلاکت ہے جس سے اس آپریشن کی دشواری کا اندازہ ہوتا ہے۔ غار میں پھنسے ان 12 بچوں کی عمریں 11 سے 16 سال کے درمیان ہیں جو تمام انڈر 16 فٹ بال ٹیم کے رکن ہیں۔ یہ بچے اپنے 25 سالہ کوچ کے ہمراہ 23 جون کو فٹ بال میچ کی پریکٹس کے بعد تھام لوانگ نامی غاروں کے سلسلے کی سیر کو گئے تھے لیکن علاقے میں ہونے والی طوفانی بارش اور سیلاب کے بعد لاپتا ہو گئے تھے۔ کئی کلومیٹر طویل غاروں کا یہ سلسلہ میانمار کے ساتھ واقع تھائی لینڈ کی شمالی سرحد پر ایک جنگل میں واقع ہے۔
بچوں کے لاپتا ہونے کے بعد ان کی تلاش کی کوششیں شروع کی گئی تھیں جس میں تھائی لینڈ کے علاوہ برطانیہ، امریکہ، آسٹریلیا، چین اور فلپائن کے ماہرین بھی شریک ہیں۔ دس روز کی مسلسل کوششوں کے بعد بالآخر برطانوی غوطہ خوروں کی ایک ٹیم نے بچوں کا سراغ لگا لیا تھا۔ تھائی حکام کے مطابق یہ بچے اور ان کے کوچ غار کے دہانے سے چار کلومیٹر اندر ایک چٹان پر پھنسے ہوئے ہیں جنہیں وہیں طبی امداد اور خوراک پہنچائی جارہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ غار سے واپسی کا راستہ انتہائی دشوار گزار اور رکاوٹوں سے پر ہے جسے کم از کم پانچ گھنٹوں تک گہرے اور دلدلی پانی میں مسلسل تیر کر ہی عبور کیا جا سکتا ہے۔
لیکن غار میں پھنسے بچوں میں سے بیشتر کو غوطہ خوری تو دور کی بات تیرنا بھی نہیں آتا۔ حکام کا کہنا ہے کہ بچوں کو غار ہی میں غوطہ خوری اور تیراکی کی تربیت دی جارہی ہے جسے مکمل ہونے میں کئی ہفتے لگ سکتے ہیں۔ ریسکیو اہلکار پمپوں کے ذریعے بھی مسلسل غار سے پانی نکال رہے ہیں۔ بچوں کے ریسکیو مشن میں شریک آسٹریلین ٹیم کے کیپٹن ایلن وارلڈ نے رواں ہفتے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا تھا کہ بچوں کو نکالنے کا پورا آپریشن تاریکی اور گدلے پانی میں انجام پائے گا۔ ایلن وارلڈ کا کہنا تھا کہ اس عمل کے دوران بچے کچھ بھی دیکھنے کے قابل نہیں ہوں گے اور سب سے مشکل عمل اس ریسکیو مشن کے دوران بچوں کو پرسکون رکھنا اور گھبراہٹ سے بچانا ہو گا۔
تھام لوانگ نامی غاروں کا یہ سلسلہ گہرائی، بھول بھلیوں اور خطرناک ہونے کے باعث دنیا بھر میں مشہور ہے اور مقامی حکام نے وہاں یہ انتباہی پیغام بھی درج کر رکھا ہے کہ سیاح جولائی سے نومبر تک جاری رہنے والی بارشوں کے دوران ان غاروں سے دور رہیں۔ امدادی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ ماہر غوطہ خور بچوں کو ایک، ایک کر کے غار سے نکال سکتے ہیں لیکن اس کے لیے خود بچوں کو غوطہ خوری کا ماہر ہونا ضروری ہے۔ امدادی اہلکار مسلسل غار وں کے اس سلسلے سے پمپوں کے ذریعے بھی پانی باہر نکال رہے ہیں۔ حکام کے مطابق اس وقت 16 لاکھ لیٹر فی گھنٹہ کی مقدار سے پانی باہر نکالا جارہا ہے اور پمپنگ شروع ہونے کے بعد سے غار میں پانی کی مقدار صرف 40 سینٹی میٹر کم ہوئی ہے۔ لیکن علاقے میں مزید بارش کا بھی امکان ہے جس سے بچوں کو نکالنے کا آپریشن مزید دشواری کا شکار ہو سکتا ہے۔
بشکریہ وائس آف امریکہ
↧
ختم نبوتؐ حلف نامے سے متعلق راجہ ظفر الحق رپورٹ سامنے آگئی
ختم نبوت ﷺ حلف نامے سے متعلق راجہ ظفر الحق رپورٹ منظر عام پر آگئی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ختم نبوت کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے راجہ ظفر الحق رپورٹ پبلک کرنے کا حکم دیا تھا۔ ختم نبوت حلف نامے میں تبدیلی سے متعلق راجہ ظفر الحق کمیٹی کی 11 صفحات پر مشتمل مکمل رپورٹ منظر عام پر آگئی ہے۔ رپورٹ کے ساتھ پارلیمانی جماعتوں کے اجلاس بلانے کے نوٹیفکیشن بھی لگائے گئے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق 24 مئی کو پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں الیکشن بل زیر بحث آیا، انوشہ رحمان اور ایم این اے شفقت محمود نے امیدواروں کے مالی معاملات کے حوالے سے بل کو ری ڈرافٹ کیا، انوشہ رحمان کو فارمز کا مسودہ نظر ثانی کے لیے دیا گیا، اور انہوں نے کمیٹی کے اگلے اجلاس میں نظر ثانی شدہ فارم پیش کیا، نظر ثانی شدہ فارم کو جانچ پڑتال کی ہدایت کے ساتھ منظور کیا گیا۔
کمیٹی کے علم میں آیا کہ حلف نامہ فارمز کو سادہ بنانے کے دوران ہی انہیں تبدیل کر دیا گیا، 93 ویں ذیلی کمیٹی کے اجلاس کے نکات تمام ممبران کو بھیجے گئے لیکن حلف نامے میں تبدیلی کے حصہ کو نہیں بھیجا گیا، وزیر قانون زاہد حامد نے بطور کنوینئر (سربراہ) تسلیم کیا کہ ڈرافٹ چیک کرنا ان کی ذمہ داری تھی۔ سب سے پہلے 22 ستمبر کو سینیٹ اجلاس میں سینیٹر حافظ حمد اللہ نے یہ معاملہ اٹھایا اور قرارداد پیش کی۔ راجہ ظفر نے سینیٹر حافظ حمد اللہ کی قراداد کی حمایت کی، لیکن سینیٹ میں حلف نامے کے حوالے سے قراداد کی پی ٹی آئی اور پی پی پی نے مخالفت کی۔
معاملہ سامنے آنے پر اسپیکر کی جانب سے تمام پارلیمانی جماعتوں کے سربراہان سے رابطہ کیا گیا، چار اکتوبر کو اسپیکر نے تمام جماعتوں کے سربراہان سے میٹنگ کی، تمام جماعتیں اس پر متفق ہوئیں کہ حلف نامے کی سیون بی اور سیون سی کو بحال کیا جائے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ زاہد حامد کے استعفیٰ کا مطالبہ بھی پوری ہو چکا اور فارم بھی اپنی اصل شکل میں بحال ہو چکا۔ واضح رہے کہ اسلام آباد کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا تھا کہ ختم نبوت حلف نامے میں ترمیم سوچا سمجھا منصوبہ تھا،اس معاملے کی تفصیلی جانچ پڑتال ضروری ہے۔
↧
↧
برہان وانی : صدیوں گلشن کی فضا مجھے یاد کرے گی
مسلمانوں کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان میں ایسے غیور اور بہادر بیٹے پیدا ہوئے جنہوں نے نہ صرف وقت کے فرعونوں کو للکارا بلکہ جب تک وہ زندہ رہے ظلم و ستم کے سامنے سیسہ پلائی دیوار بن کر ڈٹے رہے۔ کشمیر میں جن بہادر سپوتوں نے بھارتی درندوں کی چالوں کو ناکام بنایا اور ان کے سامنے تحریک آزادی کو زندہ رکھا ان میں برہان مظفر وانی بھی شامل ہیں۔ ان کی شہادت 8 جولائی 2016ء کو ہوئی۔ ان کی شہادت پر سب سے زیادہ خوشی ہندو انتہا پسندوں کو ہوئی۔ بھارتی میڈیا نے وانی کی شہادت کی خبر کو بریکنگ نیوز کے طور پر نشر کرتے ہوئے بھارتی فوج کی ایک بڑی فتح قرار دیا۔ لیکن وہ یہ نہیں جانتے کہ ’’شہید کی جو موت ہے وہ قوم کی حیات ہے‘‘۔
وانی اپنے خون سے ایک طرف تحریک آزادیٔ کشمیر کو ایک نئی طاقت جلا بخش گئے اور دوسری طرف عالمی سطح پر بھارتی حکومت کا بھیانک، مکروہ اور سیاہ چہرہ بھی عیاں کر گئے ۔ وانی کی شہادت کی خبر مقبوضہ کشمیر ، آزاد کشمیر اور پاکستان میں، حتیٰ کہ پوری دنیا میں فوراً پھیل گئی۔ کشمیری نوجوان جانتے تھے اس کے بعد کیا ہو گا ۔ انہیں معلوم تھا کہ ریاستی حکومت فوری طور پر انٹر نیٹ ، فون اور دیگر مواصلاتی رابطے منقطع کر دے گی تا کہ اس سانحہ کے خلاف احتجاج کرنے والے جمع نہ ہو سکیں۔ حریت پسند ایسے مواقع پر کئی کلومیٹر کا فاصلہ پیدل بھی طے کر جاتے ہیں۔ وانی کی شہادت پر ایسے ہی ہوا ۔
بھارتی فوج کو مقبوضہ کشمیر کے ایک ایک گھر، محلے، گلی، باغ، کھیل کے میدان، ہسپتال، سکول اور کالج کا علم ہے۔ اسے پتہ ہے کہ فلاں گھر میں کتنے، مرد ہیں، کتنے بوڑھے اور بچے ہیں۔ کتنے پڑھے لکھے اور کتنے ان پڑھ ہیں۔ وہ کیا کام کرتے ہیں اور کہاں آتے جاتے ہیں۔ کتنی خواتین ہیں اور ان کی عمریں کیا ہیں ۔ ان کے پاس تمام اعداد و شمار ہیں اور تصاویر ہیں۔ مقبوضہ وادی میں ہر پانچ کلو میٹر پر فوجی کیمپ تعمیر ہیں جن کے باہر کیمرے لگے ہوئے ہیں۔ احتجاج کرنے والوں کو راستے میں روکا جاتا ہے۔ جو لوگ احتجاجی ریلیوں کی قیادت کرتے ہیں، جابر سکیورٹی فورسز پر پتھر پھینکتے ہیں یا نعرے بلند کرتے ہیں انہیں گھروں سے بھی اٹھا لیا جاتا ہے۔
یہ فوجی کیمپ نہیں بلکہ ٹارچر سیل ہیں۔ عقوبت خانے ہیں جہاں کشمیری نوجوانوں پر بہت تشدد کیا جاتا ہے۔ انہیں جھیلوں اور دریائوں کے جمے ہوئے پانی میں چھلانگ لگانے کا کہا جاتا ہے۔ وانی کی شہادت کے بعد ہزاروں نوجوانوں کو گرفتار کر کے تشدد کیا گیا لیکن وہ بڑی تعداد میں احتجاج میں شریک ہوئے۔ صرف 22 سال کی عمر میں وانی کی شہادت ہوئی۔ انہوں نے اکتوبر 2010ء میں پندرہ سال کی عمر میں تحریک آزادی میں عملی شمولیت اختیار کی۔ سوشل میڈیا کے ذریعے انہوں نے کشمیری نوجوانوں کو متحرک کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کے ایک چھوٹے بھائی خالد مظفر وانی کو 13 اپریل 2015 ء کو قابض فوج نے شہید کر دیا تھا ۔
برہان وانی نے 2010ء میں تحریک آزادی کی جدوجہد میں حصہ لینا شروع کیا ۔ مقامی پولیس نے تسلیم کیا کہ وانی نے سوشل میڈیا کی مدد سے تحریک میں ایک نئی تبدیلی پیدا کر دی۔ برہان وانی کی شہادت کے بعد کشمیر میں ہنگامے شروع ہوئے اور چھ ماہ تک حالات انتہائی کشیدہ رہے۔ ہڑتالوں اور احتجاج کے دوران ایک سال میں 100سے زیادہ کشمیری شہید ہوئے اور کثیر تعداد پیلٹ گنوں کی فائرنگ سے آنکھوں کی بینائی کھو بیٹھی۔ حریت کانفرنس کی قیادت نے ان کی دوسری برسی پر وادی میں مکمل ہڑتال کا اعلان کیا ہے ۔ جس شان سے برہان مظفر وانی نے شہادت قبول کی ان پر جتنا فخر کیا جائے کم ہے۔
طارق احسان غوری
↧
امریکہ کے ساتھ مذاکرات ’قابل افسوس‘ رہے، شمالی کوریا
شمالی کوریا نے کہا ہے کہ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو کی سربراہی میں آنے والے وفد کے ساتھ اعلیٰ سطحی مذاکرات ’’قابلِ افسوس‘‘ رہے۔ شمالی کوریا نے امریکا پر الزام عائد کیا ہے کہ وہ یکطرفہ دباؤ ڈال رہا ہے۔ امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو امریکی وفد کے ساتھ شمالی کوریا کے دو روزہ دورے پر تھے۔ ان کے اس دورے کا مقصد امریکا اور شمالی کوریا کی سربراہی ملاقات میں طے پانے والے معاملات پر پیش رفت کا جائزہ لینا تھا۔ پومپیو شمالی کوریا کے اعلیٰ حکام کے ساتھ ملاقات کے بعد پیونگ یانگ سے جاپانی دارالحکومت ٹوکیو پہنچ گئے ہیں۔
مائیک پومپیو کی روانگی کے چند گھنٹے بعد ہی شمالی کوریا کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں ان مذکرات کو قابل افسوس قرار دیتے ہوئے مزید کہا گیا کہ بات چیت کے دوران امریکا جوہری ہتھیار سازی کے پروگرام کو ختم کرنے کے لیے یک طرفہ دباؤ ڈال رہا ہے۔ دوسری جانب پومپیو نے پیونگ یونگ حکومت کے سینیئر اہلکار کم یونگ چول کے ساتھ مذاکرات کو تعمیری اور بعض معاملات میں بڑی پیش رفت بتایا تھا۔ اس دورے کے دوران پومپیو سے چیئرمین کم جونگ اُن کی ملاقات نہیں ہوئی۔
خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق شمالی کوریا کی طرف سے جاری ہونے والے بیان میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ امریکا نے شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کے خاتمے کے حوالے سے ’’یکطرفہ اور ڈاکوؤں کی طرح کے مطالبات‘‘ کر کے گزشتہ ماہ امریکا صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریائی رہنما کِم جونگ اُن کے درمیان طے پانے والی مذاکرات کی روح سے غداری کی ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس حوالے سے ہونے والے مذاکرات پر شمالی کوریا کو ’’بہت تحفظات‘‘ ہیں کیونکہ یہ ایک خطرناک مرحلے کی طرف لے جا سکتے ہیں جو جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کی اُس خواہش کے خاتمے کا سبب بھی بن سکتے ہیں جو ابھی تک برقرار ہے۔
شمالی کوریا کی سرکاری نیوز ایجنسی میں ملکی وزارت خارجہ کے ایک اہلکار کا نام ظاہر کیے بغیر جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے، ’’ہم امید کر رہے تھے کہ امریکا مثبت اقدامات کی پیشکش کرے گا تاکہ فریقین کے درمیان سربراہی ملاقات کی روح کے مطابق اعتماد سازی میں اضافہ ہو سکے۔‘‘ بیان میں مزید کہا گیا ہے، ’’تاہم پہلی اعلیٰ سطحی ملاقات میں سامنے آنے والا امریکا کا رویہ اور نقطہ نظر بلا شبہ قابل افسوس ہے۔‘‘ دوسری طرف جاپان روانگی سے قبل امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے بتایا کہ پینٹا گون کی ایک ٹیم 12 جولائی کو شمالی کوریا کے حکام کے ساتھ ملاقات کرے گی۔ جس میں شمالی کوریا کے میزائل تجربات کے مقام کے خاتمے پر بات چیت کی جائے گی۔
ا ب ا / ع ح (ایسوسی ایٹڈ پریس، اے ایف پی)
بشکریہ DW اردو
↧
دنیا میں کتنے براعظم ہیں، دنیا سات حصوں میں تقسیم کیوں ہے؟
آپ یہ جانتے ہی ہوں گے کہ ہماری زمین کا 70.8 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے اور باقی حصہ خشک ہے جہاں پر ہم انسان بستے ہیں۔ اکثر دوستوں کے ذہن میں خیال آتا ہو گا کہ خشک زمین کو سات حصوں میں تقسیم کیوں کیا گیا ہے۔ یعنی ہماری زمین کے سات براعظم کیوں ہیں تو آج ہم آپ کو اس کے متعلق دلچسپ معلومات بتاتے ہیں۔ ’’بر‘‘ کا مطلب خشکی ہے۔ اور اعظم بہت بڑے کو کہتے ہیں۔ تو براعظم کا مطلب ہوا۔ خشکی کا بہت بڑا ٹکڑا جس کے اردگرد پانی ہو۔ دنیا کو سات براعظموں میں اس لئے تقسیم کیا گیا ہے کہ زمین کا ایک بہت بڑا علاقہ جو عام خیال سے سمندر میں گھرا ہوا ہوتا ہے، براعظم کہلاتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ دنیا سات بڑے جزیروں پر مشتمل ہے جس کی وجہ سے دنیا کو سات حصوں میں تقسیم کیا گیا ہے۔
اس تعریف کے مطابق سات براعظم ہیں۔ ایشیا ، یورپ ، افریقہ ، انٹارکٹیکا ، آسٹریلیا ، شمالی امریکہ اور جنوبی امریکہ جبکہ زمین کے چھوٹے چھوٹے جزیروں کو قریب کے بڑے براعظموں میں شمار کر لیا جاتا ہے۔ بہت سے ماہرین کے نزدیک یہ خیال درست نہیں کیونکہ یورپ اور ایشیا روس کے کچھ زمینی راستوں سے جڑے ہوئے ہیں اور یوریشیا کہلاتے ہیں۔ اسی طرح جنوبی امریکہ اور شمالی امریکہ بھی جڑے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ بعض ماہرین کے نزدیک براعظموں کی اصل تعداد پانچ ہی سمجھی جاتی ہے۔ یعنی افریقہ، یوریشیا، امریکہ، انٹارکٹکا اور آسٹریلیا۔ اگر آپ اولمپک کے نشان یعنی پانچ سرکلز کو دیکھیں تو اس سے بھی ظاہر ہوتا ہے کہ براعظم پانچ ہی ہیں۔
کیونکہ اولمپک تنظیم کا نشان پانچ براعظموں کے لئے پانچ دائروں پر مشتمل ہے۔پانچ براعظموں کی نمائندگی کرنے والا اولمپک تنظیم کا نشان رقبے اور آبادی دونوں لحاظ سے سب سے بڑا براعظم یوریشیاء ہے۔ مسلمانوں کی اکثریت ایشیا میں رہتی ہے۔ ساتوں براعظم مل کر زمین کا صرف ایک تہائی بنتے ہیں اور باقی حصہ سمندروں پر مشتمل ہے۔
ایشیاء
براعظم ایشیاء دنیا کا سب سے بڑا اور زیادہ آبادی والا براعظم ہے۔ یہ زمین کے کل رقبے کا 8.6 فیصد، کل بری علاقے کا 29.4 فیصد اور کل آبادی کے 60 فیصد حصے کا حامل ہے۔ ایشیاء روایتی طور پر یوریشیا کا حصہ ہے جس کا مغربی حصہ یورپ ہے۔ ایشیاء نہر سوئز کے مشرق، کوہ یورال کے مشرق اور کوہ قفقاز یا کوہ قاف ، بحیرہ قزوین اور بحیرہ اسود کے جنوب میں واقع ہے۔ قرون وسطیٰ سے قبل یورپی ایشیاء کو براعظم نہیں سمجھتے تھے تاہم قرون وسطیٰ میں یورپ کی ثانیہ کے وقت تین براعظموں کا نظریہ ختم ہو گیا اور ایشیاء کو بطور براعظم تسلیم کر لیا گیا۔
یورپ
یورپ (europe) دنیا کے سات روایتی براعظموں میں سے ایک ہے تاہم جغرافیہ دان اسے حقیقی براعظم نہیں سمجھتے اور اسے یوریشیا کا مغربی جزیرہ نما قرار دیتے ہیں۔ اصطلاحی طور پر کوہ یورال کے مغرب میں واقع یوریشیا کا تمام علاقہ یورپ کہلاتا ہے۔ یورپ کے شمال میں بحر منجمد شمالی، مغرب میں بحر اوقیانوس، جنوب میں بحیرہ روم اور جنوب مشرق میں بحیرہ روم اور بحیرہ اسود کو ملانے والے آبی راستے اور کوہ قفقاز ہیں۔ مشرق میں کوہ یورال اور بحیرہ قزوین یورپ اور ایشیا کو تقسیم کرتے ہیں۔ یورپ رقبے کے لحاظ سے آسٹریلیا کو چھوڑ کر دنیا کا سب سے چھوٹا براعظم ہے جس کا رقبہ ایک کروڑ چالیس لاکھ مربع کلومیٹر ہے جو زمین کے کل رقبے کا صرف دو فیصد بنتا ہے۔
افریقہ
افریقہ رقبے کے لحاظ سے کرہ ارض کا دوسرا بڑا بر اعظم ہے، جس کے شمال میں بحیرہ روم، مشرق میں بحر ہند اور مغرب میں بحر اوقیانوس واقع ہے۔ دلکش نظاروں، گھنے جنگلات، وسیع صحراؤں اور گہری وادیوں کی سرزمین جہاں آج 53 ممالک ہیں جن کے باسی کئی زبانیں بولتے ہیں۔ افریقہ کے شمالی اور جنوبی حصے نہایت خشک اور گرم ہیں جن کا بیشتر حصہ صحراؤں پر پھیلا ہوا ہے۔ خط استوا کے ارد گرد گھنے جنگلات ہیں۔ مشرقی افریقہ میں عظیم وادی الشق کے نتیجے میں گہری وادیاں تشکیل پائیں جن میں کئی بڑی جھیلیں بھی واقع ہیں۔ مشرق میں عظیم وادی الشق ہے، جو دراصل زمین میں ایک عظیم دراڑ کے نتیجے میں وجود میں آئی۔ یہ عظیم دراڑ جھیل نیاسا سے بحیرہ احمر تک پھیلی ہوئی ہے۔ اگر یہ دراڑ مزید پھیلتی گئی تو ایک دن قرن افریقہ براعظم سے الگ ہو جائے گا۔
انٹارکٹکا
انٹارکٹکا دنیا کا انتہائی جنوبی براعظم ہے جہاں قطب جنوبی واقع ہے۔ یہ دنیا کا سرد ترین، خشک ترین اور ہوا دار ترین براعظم ہے جبکہ اس کی اوسط بلندی بھی تمام براعظموں سے زیادہ ہے۔ انٹارکٹکا 98 فیصد برف سے ڈھکا ہوا ہے۔ یہاں کوئی باقاعدہ و مستقل انسانی بستی نہیں۔ انٹارکٹکا یونانی لفظ Antarktikos سے نکلا ہے جس کا مطلب ہے آرکٹک کے مدمقابل۔ اس براعظم کو پہلی بار روسی جہاز راں میخائل لیزاریف اور فابیان گوٹلیب وون بیلنگشاسن نے 1820ء میں دیکھا۔
براعظم آسٹریلیا
یہ براعظم ملک آسٹریلیا اور قریبی جزائر ریاست تسمانیا ، نیو گنی، جزائر ارو اور جزائر راجہ امپت پر مشتمل براعظم ہے۔ اس براعظم کے بڑے شہروں میں سڈنی، ملبورن، برسبین، ایڈیلیڈ، گولڈ کوسٹ، کینبرا اور وولونگانگ شامل ہیں۔ اس کا کل رقبہ 84 لاکھ 68 ہزار مربع کلومیٹر پر پھیلا ہوا ہے۔ جو دنیا کا سب سے چھوٹا براعظم ہے۔
جنوبی امریکہ
براعظم جنوبی امریکہ، جنوبی امریکہ مغربی نصف کرہ میں واقع ایک براعظم ہے جس کا بیشتر حصہ جنوبی کرہ ارض میں واقع ہے۔ مغرب میں اس براعظم کی سرحدیں بحر الکاہل اور شمال اور مشرق میں بحر اوقیانوس اور شمالی امریکہ اور شمال مغرب میں بحیرہ کیریبیئن سے ملتی ہیں۔ جنوبی امریکہ کا نام شمالی امریکہ کی طرح یورپی جہاز راں امریگو ویسپوچی کے نام پر رکھا گیا جس نے پہلی مرتبہ یہ انکشاف کیا کہ امریکہ دراصل ہندوستان نہیں بلکہ ایک نئی دنیا ہے جسے یورپی نہیں جانتے۔
شمالی امریکہ
شمالی امریکہ دنیا کے 7 براعظموں میں سے ایک براعظم ہے۔ اس براعظم میں کینیڈا اور امریکہ اہم ممالک ہیں۔ اس براعظم کے قدیم باشندوں کو ( Red Indians ) کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ اس قوم کو نوآبادکار یورپیوں نے قتل عام کے بعد تقریباً ختم کر دیا تھا۔
نوید انجم
↧
مستقبل کے اسمارٹ سٹی کیسے ہوں گے ؟
ہر سو یہی گفتگو ہو رہی ہے کہ سمارٹ سٹی ہے کیا ؟ حکومت کے مطابق کئی شہروں کو سمارٹ سٹی بنایا جائے گا، اس کے بعد لوگوں میں یہ بحث چل رہی ہے کہ یہ سمارٹ سٹی ہوتی کیا ہے ؟ کچھ لوگوں نے یہ سوال بھی پوچھنا شروع کر دیا ہے سمارٹ سٹی میں سمارٹ واقعی کون ہے؟ شہر یا شہر میں رہنے والے؟ شہر میں رہنے والے اگر سمارٹ ہیں، یہی سمارٹ سٹی کا مقصد ہو تو کئی شہر اس کی جیتی جاگتی مثال ہیں۔ کچھ لوگوں کا کہنا ہے کہ اگر سٹی سمارٹ ہو مگر اس میں رہنے والے اسمارٹ نہ ہو تو پھر کیا اس سٹی کو سمارٹ کہا جا سکتا ہے؟
ایسی کونسی بات یا عناصر ہوتے ہیں جو شہروں کو سمارٹ سٹی بناتے ہیں۔ موجودہ شہروں کو ہی سمارٹ سٹی بنا یا جائے گا یا پھر نئے شہروں کی تعمیر کرنی ہو گی۔ پرانے مکانات کی تزئین کاری کر کے سمارٹ سٹی بنائی جا سکتی ہے یا پھر نئے شہروں کو آباد کرنا ہو گا، اگر نئے شہروں کو سمارٹ سٹی کیلئے آباد کرنا ہو گا تو پھر بلڈرز کی پانچوں انگلیاں گھی میں اورسر کڑاہی میں ہو گا۔ شہریوں کو یہ اسمارٹ سٹی کیسا لگے گا ؟ یہ تمام شہری اب عمر بھر اس شہر میں رہنے والے ہیں، پھر وہ زندگی انھیں ٹھیک ٹھاک، خوشی کے ساتھ جینے کیلئے کیا کرنا ہو گا، ان تمام سوالات کے جوابات شہریوں سے ہی طلب کیے گیے ہیں۔
شہریوں کی ضروریات اور توقعات کیا ہیں؟ شہروں کی تعداد بڑھے گی یا پھر موجودہ شہروں کے چہرے بدل دیے جائیں گے۔ Data Base، شہرمیں لوگوں کا ہجوم ہوتا ہے ، ان لوگوں کی پسند ناپسند ہوتی ہے، کسے پینٹنگ میں دلچسپی ہے، کسے آرٹ میں دلچسپی ہے، اس طرح الگ الگ گروپ بنائے جاتے ہیں۔ اس بنیاد پر شہریوں کیلئے تفریحی ساز وسامان اور سہولیات مہیا کیے جائیں گی۔ پھر اس میں سائیکلنگ کیلئے بھی راستہ ہو گا، ماحولیات کیلئے سازگار سواری ہے ، اس کا علم ہر ایک کو ہے۔ پھر یہ سائیکل سب استعمال کریں گے ایسا نہیں ہے۔ سب لوگ خریدیں گے ہی، ایسا بھی نہیں ہے، مگر اس سائیکل کی وجہ سے سے ’گرین سائیکل‘ کے تصور نے جنم لیا ہے۔
مگر ایک ایسا سوال پیدا ہوتا ہے کہ اگر کسی نے سائیکل کرائے پر لی اور اسے فلاں جگہ پر جانا ہے، پھر اس کی سائیکل پارک رکھنے کیلئے جگہ تو چاہیے۔ پھر اسے صرف سائیکل دینے کیلئے ہی دوبارہ اسی جگہ پر جانا ہو گا جہاں سے وہ آیا ہے ، ایک تکلیف دہ کام ہے۔ اس کیلئے پہلے اپنے یہاں لوہے کی مشینیں ہوا کرتی تھی۔ اس کے بعد الیکڑونک لاک آگئے پھر اس میں ایک سہولت ایسی بھی ہوگی کہ سائیکل کہیں سے بھی کرائے پر لو اور کہیں پر بھی اسے چھوڑ دو، جس کیلئے سڑکوں کے کنارے مخصوص سائیکل اسٹینڈ بنائیں جائیں گے، پھر اس سائیکل اسٹینڈ پر مشین میں پیسے ڈال دیے جائیں گے، جس سے سائیکل کا لاک کھل جائے گا۔ سائیکل لینا ، جہاں چاہے سائیکل پر گھوم لو، اس کے بعد ایسے ہی کسی اسٹینڈ پر اسے چھوڑ دو۔ سائیکل چھوڑنے کے بعد مشین میں سائیکل کا نمبر ڈال دو، تو مشین سے ایک پرچی باہر آتی ہے، اس کیلئے شہر بھر میں میونسپل کارپوریشن سہولیات مہیا کر سکتی ہے۔
اس کے ساتھ ساتھ پورا شہر وائی فائے سے جوڑا جائے گا۔ اس وائے فائے کے سہارے شہریوں کو جو معلومات چاہیے وہ حاصل کر سکتے ہیں۔ کوئی فلم یا ڈرامہ کا ٹکٹ آن لائن بک کر کے ہم فلم دیکھ سکتے ہیں، کہیں ٹرافک جام ہو تو فوراً ایس ایم ایس آجاتا ہے کہ فلاں روڈ سے نہ جائیں ٹرافک جام ہے، پھر کونسے راستہ سے کہاں جانا ہے اس متبادل سے بھی ہمیں آگاہ کیا جاتا ہے۔ یہ صرف تفریحی سہولیات کیلئے ہی نہیں بلکہ روز مرہ کی سہولیات بھی اس طرز پر مہیا کی جاتی ہے۔ پراپرٹی ٹیکس کی ادائیگی، واٹر ٹیکس، بجلی کے بل کی ادائیگی، پھر آخری تاریخ سے قبل ہمیں یاد دہانی بھی کرائی جاتی ہے۔ اگر کسی راستہ پر کوئی گڑھا ہو جائے یا بڑا سا پتھر پھسل کر آجائے تو اس کی تصویر کے ساتھ شکایت درج کی جا سکتی ہے۔
اپنے قرب و جوار میں اگر کوئی واردات ہو تو اس کی اطلاع فوری طور پر دی جا سکتی ہے، وہ اطلاع دیتے وقت ہم کہاں سے اطلاع دے رہے ہیں یہ کہنے کی ضرورت نہیں، انھیں جی پی ایس کے ذریعے فوراً معلوم ہو جاتا ہے۔ ان تمام سہولیات کے ساتھ ساتھ شہر کے تمام سکولوں کے جال کہاں سے کہاں تک بچھے ہوئے ہیں، اس کی معلومات بھی ہوتی ہے۔ ان سکولوں تک رسائی کیسے ہو، یہ سہولیات موبائل اور کمپیوٹر پر دی جاتی ہے۔ شہر میں داخل ہونے والے نئے لوگوں کیلئے بھی معلومات فراہم کی جاتی ہیں، کونسے علاقے میں کتنے نئے گھر تعمیر ہو رہے ہیں اور اس میں خالی کتنے ہیں، اس کے خرید و فروخت کیلئے یا پھر کرائے پردینے کیلئے میونسپل کارپوریشن تعاون کرتی ہے۔ اسٹریٹ لائٹ کو آن اور آف کرنے کیلئے بھی شہریوں کا سہارا لیا جاتا ہے۔ ان تمام کاموں کو انجام دینے کیلئے صاف ستھرا نظام بنایا گیا ہے۔
محمد حسین
↧
↧
رجب طیب اردوان ملک کے بااختیار صدر بن گئے
ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے حکومتی نظام کے تحت وسیع تر انتظامی اختیارات کے ساتھ اپنے عہدے کا حلف اٹھا لیا ہے۔ ناقدین کا کہنا ہے کہ اب انہیں حکومت پر بہت زیادہ کنٹرول حاصل ہو گیا ہے۔ اردوان، جنہوں نے استنبول کے میئر کی حیثیت سے اپنے سیاسی سفر کا آغاز کیا تھا، سن 2003 میں ترکی کے وزیر اعظم بنے اور اس کے بعد 2014 میں براہ راست انتخابات کے ذریعے ملک کے صدر منتخب ہوئے۔ دارالحکومت انقرہ میں اپنی حلف برادری کی تقریب کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ ملک کی تاریخ کا سب سے اہم دن ہے۔ پچھلے مہینے ہونے والے انتخابات میں انہوں نے 52.6 فی صد ووٹوں کے ساتھ کامیابی حاصل کی تھی۔ ان انتخابات کے ذریعے ملک میں پارلیمانی سسٹم کی جگہ صدارتی نظام نافذ ہوا اور وزیر اعظم کے تمام اختیارات صدر کو منتقل ہو گئے.
اپنی تقریر میں صدر اردوان نے کہا کہ سابقہ نظام حکومت کی ملک کو سیاسی، معاشرتی اور اقتصادی افراتفری کی صورت میں بھاری قیمت چکانی پڑی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ نیا نظام ملک میں استحکام اور بہتر کارکردگی لائے گا۔ وزیر اعظم کے عہدے کے خاتمے کے بعد اب صدر، وزراء، نائب صدور اور اعلیٰ حکومت عہدے دار تعینات کر سکے گا۔ اس کے پاس حکم نامے جاری کرنے کا اختیار ہو گا ۔ بجٹ کی تیاری اور ملک میں ہنگامی حالات کا نفاذ بھی اس کے دائرہ اختیار میں ہو گا۔ پارلیمنٹ صدر کے بجٹ میں ترمیم یا اسے منسوخ کر سکے گی اور صدر کو ہنگامی حالات کے نفاذ کے لیے پارلیمنٹ کی منظوری درکار ہو گی۔ نئے نظام کے تحت صدر اردوان نہ صرف انتظامیہ شعبے کے سربراہ ہوں گے بلکہ وہ پارلیمنٹ میں اپنی جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کی قیادت بھی کریں گے، جہاں انہیں چھ ارکان کی کمی کا سامنا ہے اور اس کے لیے انہوں نے ایک قوم پرست جماعت کے ساتھ اتحاد کیا ہے۔
↧
تھائی لینڈ : غار میں پھنسے بچوں کو کامیابی سے باہر نکال لیا گیا
تھائی لینڈ کے غار پھنسے ہوئے نوجوان لڑکوں میں سے آٹھویں لڑکے کو بھی نکال لیا گیا ہے۔ میڈیا اطلاعات کے مطابق اسے آج پیر کے روز سٹریچر پر غار سے باہر لایا گیا اور ہسپتال پہنچا دیا گیا۔ سیلابی پانی سے بھری ہوئی غار میں اب چار بچے اور ان کا کوچ باقی رہ گیا ہے۔ امدادی کارکنوں نے غار میں پھنسے ہوئے باقی فٹ بال کھلاڑیوں اور اُن کے کوچ کو باہر نکالنے کی کارروائیاں آج صبح پھر شروع کیں۔ اس موقع پر ریسکیو مشن کے کمانڈر نارونگسک اوسو ٹیناکورن نے میڈیا کو بتایا کہ وہ تمام ضروری سامان کے ساتھ اپنی کارروائیوں کیلئے تیار ہیں۔ اس سلسلے میں آکسیجن کی ٹیوب بھی نصب کر دی گئی ہے۔ اُنہوں نےبتایا کہ امدادی کارروائیاں آج صبح مقامی وقت کے مطابق 11 بجے شروع کی گئیں۔
اس سے قبل مقامی اور بین الاقوامی غوطہ خوروں کی ایک ٹیم نے گزشتہ ڈھائی ہفتوں سے ایک غار میں پھنسے جونیئر فٹ بال ٹیم کے 12 میں سے چار کھلاڑیوں کو بحفاظت باہر نکالا۔ حکام کے مطابق چاروں افراد کو علاقے میں قائم ایک عارضی میڈیکل کیمپ میں ابتدائی طبی امداد دی جارہی ہے جس کے بعد انہیں ہیلی کاپٹر کے ذریعے بڑے اسپتال منتقل کیا جائے گا۔ غار میں پھنسے ان بچوں کو بچانے کی کارروائی تھائی حکام نے بین الاقوامی ٹیموں کی مدد سے شروع کی تھی۔ حکام کے مطابق ریسکیو مشن میں 13 غیر ملکی اور پانچ تھائی غوطہ خور شریک ہیں اور ہر بچے کو دو غوطہ خور اپنے ہمراہ لے کر غار سے باہر آئیں گے۔
بچوں کو غار سے نکالنے کی کارروائی علاقے میں مزید بارشوں کے خدشے کے پیشِ نظر ہنگامی طور پر شروع کی گئی تھی۔ محکمۂ موسمیات نے خبردار کیا تھا کہ علاقے میں آئندہ چند روز کے دوران طوفانی بارشوں کا خدشہ ہے جس کے باعث پہلے سے زیرِ آب غار میں مزید پانی بھر سکتا ہے۔ علاقے سے ملنے والی اطلاعات کے مطابق علاقے میں بارش شروع ہو چکی ہے جس کے باعث غار میں پانی کا لیول بڑھنے سے وہاں آکسیجن کم ہو رہی ہے۔ بچوں کو بچانے کی کوششوں میں مصروف ایک تھائی غوطہ خور غار میں آکسیجن ختم ہونے کی وجہ سے ہلاک ہو گیا تھا۔
گو کہ حکام گزشتہ کئی روز سے غار میں جمع پانی پمپوں کے ذریعے باہر نکالنے میں مصروف ہیں لیکن نئی بارشوں کی پیش گوئی کے بعد یہ خطرہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ جتنا پانی غار سے اب تک نکالا گیا ہے اس سے کئی گنا زیادہ اس میں داخل ہو سکتا ہے۔ غار میں پھنسے ان 12 بچوں کی عمریں 11 سے 16 سال کے درمیان ہیں جو تمام انڈر 16 فٹ بال ٹیم کے رکن ہیں۔ یہ بچے اپنے 25 سالہ کوچ کے ہمراہ 23 جون کو فٹ بال میچ کی پریکٹس کے بعد تھام لوانگ نامی غاروں کے سلسلے کی سیر کو گئے تھے لیکن علاقے میں ہونے والی طوفانی بارش اور سیلاب کے بعد لاپتا ہو گئے تھے۔
کئی کلومیٹر طویل غاروں کا یہ سلسلہ میانمار کے ساتھ واقع تھائی لینڈ کی شمالی سرحد پر ایک جنگل میں واقع ہے۔ بچوں کے لاپتا ہونے کے بعد ان کی تلاش کی کوششیں شروع کی گئی تھیں جس میں تھائی لینڈ کے علاوہ برطانیہ، امریکہ، آسٹریلیا، چین اور فلپائن کے ماہرین بھی شریک ہیں۔ دس روز کی مسلسل کوششوں کے بعد بالآخر برطانوی غوطہ خوروں کی ایک ٹیم نے پیر کو بچوں کا سراغ لگا لیا تھا۔ تھائی حکام کے مطابق یہ بچے اور ان کے کوچ غار کے دہانے سے چار کلومیٹر اندر ایک چٹان پر پھنسے ہوئے ہیں جنہیں وہیں طبی امداد اور خوراک پہنچائی جارہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ غار سے واپسی کا راستہ انتہائی دشوار گزار اور رکاوٹوں سے پر ہے جسے کم از کم پانچ گھنٹوں تک گہرے اور دلدلی پانی میں مسلسل تیر کر ہی عبور کیا جا سکتا ہے۔ لیکن غار میں پھنسے بچوں میں سے بیشتر کو غوطہ خوری تو دور کی بات تیرنا بھی نہیں آتا۔ حکام کا کہنا ہے کہ بچوں کو غار ہی میں غوطہ خوری اور تیراکی کی ابتدائی تربیت دی گئی ہے اور اب انہیں ماہر غوطہ خور باری باری اپنے ساتھ لے کر باہر آ رہے ہیں۔
بشکریہ وائس آف امریکہ
↧
ترک زبان : ترکی اور اردو زبان میں کم از کم 9 ہزار الفاظ مشترک ہیں
ترک زبان کا شمار دنیا کی بڑی زبانوں میں ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں یہ سات سے آٹھ کروڑ افراد کی مادری زبان ہے جن کی اکثریت ترکی میں رہتی ہے۔ اس کے علاوہ قبرص، یونان، وسطی و مغربی یورپ میں رہائش پذیر تارکین وطن کی بڑی تعداد بھی ترک زبان بولتی ہے۔ یہ زبان وسط ایشیا کے متعدد ممالک میں بولی جاتی ہے۔ جس کی وجہ عہد وسطیٰ میں ترک اثرات کا پھیلنا ہے۔ موجودہ منگولیا میں ایک بادشاہ کی یاد میں پتھروں پر لکھائی ملی ہے۔ ماہرین کا خیال ہے کہ یہ قدیم ترکی زبان ہے۔ یہ پتھر ترک زبان کا قدیم ترین ثبوت ہیں۔
مغرب میں عثمانی ترک زبان کے اثرات عثمانی سلطنت کے پھیلاؤ کے ساتھ بڑھتے رہے۔ اس دور میں ترکی زبان کو عربی رسم الخط میں لکھا جاتا تھا۔ اسے عثمانی ترکی زبان بھی کہا جاتا ہے۔ سینکڑوں سال تک کا ادبی، ثقافتی اور تاریخی مواد اسی رسم الخط میں ترکی اور کچھ دیگر ممالک کے عجائب گھروں میں موجود ہے۔ اتاترک کی اصلاحات کے نتیجے میں عربی رسم الخط کا خاتمہ کر کے نئے لاطینی رسم الخط کو رائج کیا گیا۔
ترک اردو زبان بھی نہیں سمجھتے، لیکن آپ کو یہ جان کر حیرت ہو گی کہ ترکی اور اردو زبان میں کم از کم 9 ہزار الفاظ مشترک ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کو ترکی میں کوئی بات کرنی ہو تو پورے پورے جملے کی جگہ آپ صرف اردو کے الفاظ بول کر بھی کام چلا سکتے ہیں۔ مثلاً اگر آپ کو کسی دکان سے کوئی چیز خریدنی ہو، تو آپ How Much یا What is the price کہنے کے بجائے صرف اردو کا ایک لفظ بول دیجیے ’قیمت‘۔ دکاندار آپ کی بات فوراً سمجھ جائے گا اور آپ کو چیز کی قیمت بتا دے گا۔
محمد مشتاق
↧
ترک صدر رجب طیب ایردوان نیٹو سربراہ اجلاس میں شرکت کریں گے
برسلز میں نیٹو سربراہ اجلاس کے دوران ترک صدر رجب طیب ایردوان اپنے مغربی ہم منصبوں کے ساتھ ملاقات کریں گے۔ ادارے کا سربراہ اجلاس ایسے میں ہو رہا ہے جب فوجی اتحاد کے طور پر ترکی کی وفاداری کے بارے میں سوال اٹھ رہے ہیں، جب کہ ترکی روس کے ساتھ تعلقات کو فروغ دے رہا ہے۔ ایردوان کی قیادت میں ترکی اور روس کے مابین سیاسی اور معاشی تعلقات بڑھ رہے ہیں ۔ ایران کے ساتھ ساتھ، یہ دونوں ملک شام کی لڑائی بند کرانے کی کوششوں میں قریبی تعاون کر رہے ہیں۔ نیٹو اس بات پر بھی ناخوش ہے کہ ترکی نے روسی ساختہ ایس 400 میزائل خریدنے کا فیصلہ کیا ہے، جس پر اتحاد نے انتباہ جاری کیا ہے کہ اس سے اُن کے فوجی نظاموں کی رازداری پر اثر پڑ سکتا ہے۔
ساجھے داروں سے متعلق عالمی ذرائع کے سیاسی تجزیہ کار، اتیلا یسیلادا نے کہا ہے کہ ’’ہمیں نیٹو، یورپی یونین اور ایران و روس میں سے کسی ایک کے حق میں فیصلہ کرنا ہو گا‘‘۔ بقول اُن کے، ’’یہ ایک مشکل ترین فیصلہ ہو گا۔ ہم مزید خاموش نہیں رہ سکتے، چاہے کسی بھی فریق کا انتخاب کریں، ایک فریق ہم سے نالاں ہو گا‘‘۔ ترکی کا مؤقف ہے کہ وہ مغرب کے ساتھ حکمت عملی کی نوعیت کے اتحاد میں شامل ہے، یہ دلیل دیتے ہوئے کہ ایران اور روس کے ساتھ اس کے تعلقات کی بنیاد تجارت اور شامی تنازع کے حل کے لیے مل کر کام کرنے پر مرتکز ہے۔
انقرہ کی مڈل ایسٹ تکنیکی یونیورسٹی کے بین الاقوامی تعلقات کے پروفیسر، حسین باقی نے کہا ہے کہ ’’ہمیشہ سے ترکی سفارت کاری کا توازن برقرار رکھنے کی راہ پر گامزن رہا ہے‘‘۔ باقی نے کہا کہ ’’(ترک روس) تعلقات زیادہ تر مثبت سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں، لیکن ترکی کو اپنے تعلقات کی حد کا پتا ہے۔ ترکی نیٹو سے الگ نہیں ہو گا۔ اس کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘‘۔ متوقع طور پر ایردوان امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ سے سربراہ اجلاس کے احاطے سے باہر ملاقات کریں گے۔ روسی میزائل خریدنے کے علاوہ، ایجنڈا میں ترکی کی جانب سے ایران کے خلاف عائد کی جانے والی امریکی تعزیرات کا معاملہ شامل ہو گا۔
بشکریہ وائس آف امریکہ
↧
↧
نقیب اللہ قتل کیس : مرکزی ملزم راؤ انوار کی ضمانت، سوشل میڈیا پر احتجاج
صحافی اور اینکر مبشر زیدی کہتے ہیں کہ یہ ناانصافی ہے۔
INJUSTICE.....#RaoAnwar gets bail in #Naqeebullah Mehsud's murder #PTM— Mubashir Zaidi (@Xadeejournalist) July 10, 2018جبران ناصر نے لکھا کہ ریاست کم ہی ایسے اقدامات کرتی ہے جس سے اس کے شہریوں میں اس پر اعتماد پیدا ہو، لیکن عوام کی بجائے قاتلوں کو سہارا دینا کبھی نہیں بھولتی۔
#RaoAnwar granted bail in #NaqeebullahMehsud fake encounter case. He is still in custody as bail in another case of illegal weapons is still pending. State gets rare opportunities to restore faith and goodwill amongst citizens but it chose to support a murderer over the people— M. Jibran Nasir (@MJibranNasir) July 10, 2018
ایکٹوسٹ جلیلہ حیدر لکھتی ہیں کہ حیات پریغال جس نے نقیب اللہ محسود کے ناحق قتل پر احتجاج کیا آج مسنگ ہے اور کسی کیمپ میں ٹارچر سہہ رہا ہو گا جب کہ نقیب اللہ محسود اور 444 مزید لوگوں کے ماورائے عدالت قاتل کو انسداد دہشت گردی کی عدالت نے ضمانت دے دی ہے۔
تجزیہ نگار ڈاکٹر محمد تقی نے کہا کہ پشتون تحفظ تحریک کو اپنے جلسے بالکل نہیں روکنے چاہئیں تھے، یہ بہت بڑی غلطی تھی۔
قلم کار رامش فاطمہ نے عدلیہ کو مخاطب کر تے ہوئے لکھا ہے کہ آپ کو یقین ہے کہ آپ کی ایجنسیاں جبری گمشدگیوں میں ملوث نہیں ہیں۔ آپ راؤ انوار کو ضمانت پہ رہا کر سکتے ہیں۔ اب اپنے پیاروں سے کہیں کہ حیات پریغال سمیت باقی افراد کو بھی چھوڑ دیں۔ گھر والے صرف راؤ انوار کے نہیں، حقوق صرف راؤ انوار کے نہیں باقی سب کے بھی ہیں۔
رحمن بونیری نے لکھا کہ راو انوار کو ضمانت مل گئی۔ مشال کے قاتلوں کو ضمانتیں مل گئی۔ صوفی محمد کو ضمانت مل گئی۔ جنرل مشرف کو ضمانت مل گئی۔ احسان اللہ احسان سرکاری مہمان بن گیا۔ مگر ان والدین، بیواؤں، بہنوں، بیٹیوں اور بیٹوں کو بھی انصاف ملے گا جن کے اپنے بے دردی سے مارے گئے؟
سوشل میڈیا یوزر اور ہائی کورٹ کے وکیل سنگین خان کہتے ہیں کہ ناانصافی کہیں بھی ہو ہر جگہ انصاف کے لئے خطرہ ہوتی ہے۔ راو انوار کو ضمانت ملنا سے قانون کی حکمرانی کی قلعی کھل گئی ہے۔ جو لوگ اس ظلم اور زیادتی کے خلاف بول رہے ہیں وہ اٹھائے جاتے ہیں اور قاتلوں کو ضمانت مل رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر مقبول ایکٹوسٹ فرحان ورک کہتے ہیں کہ اگر راو انوار رہا ہو گیا تو میں پشتون تحفظ موومنٹ والوں سے معافي مانگوں گا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ راو انوار ابھی بھی بری نہیں ہوا تو امید باقی ہے۔
ایسے ہی سوشل میڈیا پر مشہور شفاعت علی نے بھی ٹویٹ کیا کہ راؤ انوار کو ضمانت مل گئی۔ یعنی ہم بلا وجہ منظور پشتین کو برا بھلا کہہ رہے تھے۔
صحافی خرم حسین لکھتے ہیں کہ آج ایک قاتل آزاد ہوگیا ہے اور انصاف قید۔
Today a murderer was released and justice was locked up instead. #RaoAnwar
— Khurram Husain (@KhurramHusain) July 10, 2018
ملک عمید
وائس آف امریکہ
↧
انسانی آبادی کے حقائق : 2050ء تک افریقہ کی آبادی دگنی ہو جائے گی
2017ء کے وسط تک انسانی آبادی 7.6 ارب تھی اور 2050ء تک یہ 10 ارب سے تھوڑی سی ہی کم ہو گی۔ پاکستان دنیا کا پانچواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے جبکہ رقبے کے اعتبار سے اس کا نمبر 33 واں ہے۔ 2024ء تک چین کی بجائے انڈیا دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک بن جائے گا۔ چین کی آبادی 1.4 ارب ہے جبکہ انڈیا کی 1.3 ارب۔ ان دونوں کی آبادی دنیا کی آبادی کا تقریباً 37 فیصد ہے۔ دنیا میں سب سے زیادہ تیزی سے نائیجیریا کی آبادی بڑھ رہی ہے۔ یہ دنیا کا ساتواں سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے لیکن 2050 تک اس کی پوزیشن تیسری ہو گی اور یہ ریاست ہائے متحدہ امریکا سے بھی آگے نکل جائے گا۔
دنیا کی آبادی کی آدھی نمو نو ممالک میں ہو گی۔ 2050ء تک انڈیا، نائیجیریا، کانگو، پاکستان، ایتھوپیا، تنزانیہ، ریاست ہائے متحدہ امریکا، یوگینڈا اور انڈونیشیا میں آبادی کی نمو سب سے زیادہ ہو گی۔ اس کا یہ بھی مطلب ہے کہ 2050ء تک افریقہ کی آبادی دگنی ہو جائے گی۔ یورپ کی آبادی کم ہو جائے گی۔ جب فی عورت شرح پیدائش 2.1 سے کم ہو جائے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ اب اتنے بچے پیدا نہیں ہو رہے کہ وہ والدین کی جگہ لے سکیں، بلکہ ان کی تعداد کم ہے۔ یورپ میں ایسا پہلے ہی سے ہو رہا ہے۔
دنیا میں عمر رسیدہ افراد کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ 1950ء میں یہ کم تھے اور جوان زیادہ تھے۔ اب جوان کم ہیں۔ آئندہ اور کم ہوں گے۔ دنیا میں اوسط عمر بڑھ گئی ہے۔ دنیا میں 2000 سے 2015ء تک اوسط عمر میں چار سال کا اضافہ ہوا اور یہ 67 سے 71 برس ہو گئی۔ خیال کیا جاتا ہے کہ 2045 سے 2050ء تک یہ 77 سال تک ہو جائے گی۔ افریقہ کی تقریباً 60 فیصد آبادی کی عمر 25 سال سے کم ہے اور صرف پانچ فیصد 60 یا اس سے زیادہ برس کے ہیں۔ پاکستان میں 64 فیصد آبادی کی عمر 30 سال سے کم ہے۔
(ترجمہ: ر۔ع)
↧
'March of Peace' in Bosnia and Herzegovina
↧