Quantcast
Channel: Pakistan Affairs
Viewing all 4738 articles
Browse latest View live

پندرہ سال سے برسر اقتدار طیب اردگان پھر فاتح

$
0
0

ترک صدر طیب اردگان نے قبل از وقت ہونے والے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات میں کامیابی کا اعلان کر دیا۔ طیب اردگان کی جماعت اے کے پارٹی کو غیرحتمی اور غیر سرکاری نتائج کے مطابق 53.8 فیصد ووٹ حاصل ہوئے جبکہ مخالف پارٹی کے محرم انجنے کو 30.1 فیصد ووٹ حاصل ہوئے۔ انتخابات میں اگر کوئی امیدوار 50 سے زائد ووٹ حاصل نہ کر پاتے تو الیکشن کا دوسرا دور 8 جولائی کو طے کیا گیا تھا۔ ترکی کے انتخابات کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ مقامی شہریوں اور 30 لاکھ دیگر ممالک میں مقیم ترک شہریوں کو حق رائے دہی استعمال کرنے کے لیے رجسٹر کیا گیا تھا۔ واضح رہے کہ ترکی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ساتھ پارلیمانی اور صدراتی انتخابات ہوئے۔ 











عوامی رہنما ایردوان کی جیت

$
0
0

ترکی کی تاریخ کے اہم ترین انتخابات جس کے نتیجے میں ترکی کا پارلیمانی نظام صدارتی نظام میں تبدیل ہو گیا ہے، اس نئے نظام کو ترک عوام میں متعا رف کروانے والے صدر ایردوان نے گزشتہ سولہ سال سے مسلسل کامیابیوں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔ رجب طیب ایردوان نہ صرف ترکی بلکہ دنیا کے واحد جمہوری رہنما ہیں جو مسلسل عوام کے ووٹوں کے نتیجے میں کامیاب ہوتے چلے آرہے ہیں حالانکہ صرف مغربی میڈیا ہی نے نہیں بلکہ پاکستان کے بھی چند ایک میڈیا گروپ نے ان کی شکست کی پہلے ہی پیشین گوئی کر رکھی تھی۔ 

سوشل میڈیا پر پاکستان ہی سے ہمارے ایک عزیز دوست جو اپنے آپ کو ترکی کے امور کے اسپیشلسٹ اور دانشور کہلوانا پسند کرتے ہیں نے صدر ایردوان کے خلاف باقاعدہ مہم شروع کر رکھی تھی اور ایردوان کے قریبی حریف محرم انجے کی فتح کو یقینی قرار دیتے ہوئے ان کے استنبول ، انقرہ اور ازمیر میں ہونے والی ریلیوں میں کئی ملین انسانوں کے شریک ہونے کا ذکر کرتے ہوئے مجھ جیسے انسان جو کہ تین دہا ئیوں سے ترکی میں آباد ہیں کو حیرت میں مبتلا کر کے رکھ دیا کیونکہ ترکی کے کسی بھی الیکٹرانک یا پرنٹ میڈیا نے اتنی بڑی تعداد میں انسانوں کے موجود ہونے کا کوئی ذکر نہ کیا تھا ۔

مجھے گزشتہ سال پاکستانی میڈیا سے تعلق رکھنے والی شخصیات جن میں حفیظ اللہ نیازی بھی شامل ہیں نے اپنے دورہ انقرہ کے موقع پر آگاہ کیا تھا کہ اسی محترم ہستی نے ترکی میں 15 جولائی 2016ء کی ناکام بغاوت کو کامیاب قرار دیتے ہوئے بغاوت کے نتیجے میں صدر ایردوان کے مارے جانے اور حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بارے میں پاکستانی میڈیا پر خبروں اور تبصروں کو جگہ دی علاوہ ازیں پاکستان ہی سے مجھے کئی ایک دانشور اور صحافی اس عظیم شخصیت کے ترکی کی ری پبلکن پیپلز پارٹی سے خصوصی لگا ئو رکھنے اور اسی لگائو کے نتیجے میں صدر ایردوان کی دشمنی میں بہت آگے تک نکل جانے اور واپسی ممکن نہ ہونے سے آگاہ کر چکے ہیں۔

پاکستانی دانشوروں اور صحافیوں کے مطابق یہ عظیم شخصیت اپنے کالموں یا تبصروں میں ترکی اور صدر ایردوان کے بارے میں راقم کے تحریر کردہ کالموں سے بالکل مختلف تصویر پیش کرتے ہیں لیکن جب پاکستانی خود ترکی جا کر اور صدر ایردوان سے ملتے ہیں تو ان کو حقائق میں واضح فرق نظرآتا ہے۔ یہ عظیم ہستی دراصل میرے قریبی دوست بھی رہے ہیں اور ماضی میں شادی سے پہلے ہمیشہ ترکی میں میرے گھر میں قیام کرتے تھے۔ تمام انسانوں کو ایک حدود کے اندر رہتے ہوئے کسی بھی شخص کوپسند نا پسند کرنے کا پورا پورا حق حاصل ہے لیکن یہ حق حاصل نہیں کہ وہ حقائق کو جانتے بوجھتے بھی توڑ موڑ کر پیش کرے اور دشمنی میں اتنا آگے نکل جائے کہ واپسی کی راہ ممکن نہ ہو کیوں کہ حقائق ایک نہ ایک دن ضرور ابھر کر سامنے آجاتے ہیں ۔

راقم یہ سمجھنے سے قاصر ہے کہ ایک دو دفعہ تو آپ غلط تصویر پیش کر سکتے ہیں لیکن ہر بار ہر گز نہیں ، کیونکہ ایسا کرنے سے انسان کا اعتبار اٹھ جاتا ہے۔ مجھے اس وقت شدید دھچکا لگا کہ جب اس شخص نے راقم کے اتاترک دشمن ہونے اور اپنی تحریروں میں اتاترک کے خلاف نازیبا الفاظ استعمال کرنے ( ترکی میں اتاترک کے خلاف بیان دینے یا نازیبا الفاظ استعمال کرنے کی صورت میں قانون کے تحت سزا دی جا سکتی ہے اور متعلق شخص کو ڈی پورٹ بھی کیا جا سکتا ہے) کا الزام لگاتے ہوئے مجھے مقدمے میں پھنسانے کی کوشش کی تھی لیکن روزنامہ جنگ کے آرکائیو نے مجھے اس صورتِ حال سے نکالا اور میں نے اپنے تمام کالم ترجمے کے ساتھ عدالت میں پیش کرتے ہوئے اپنے آپ کو اس صورتِ حال سے بچایا ۔ 

یہاں اس واقعہ کو پیش کرنے کا مقصد صرف یہ بتانا ہے کہ حقائق ایک روز لازمی طور پر سامنے آتے ہیں اس لیے میری اس عظیم ہستی سے درخواست ہے کہ وہ بے شک اپنے آپ کو ترکی کے ایکسپرٹ کے طور پر پیش کریں لیکن پاکستان اور ترکی کے تعلقات کا ضرور خیال رکھیں۔ آج میں صرف ایردوان کی انتخابات میں کامیابی پر ہی روشنی ڈالنا چاہتا تھا لیکن قارئین نے سوشل میڈیا پر ایردوان حکومت سے متعلق تبصرے کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہوئے حقائق پیش کرنے کی درخواست کی تھی ۔ جیسا کہ پہلے عرض کر چکا ہوں کہ صدر ایردوان   دنیا کے طویل عرصے تک حکمرانی کرنے والے واحد عوامی منتخب شدہ ( واحد جماعتی نظام کے تحت نہیں ) لیڈر ہیں ۔

راقم نے اپنے گزشتہ ہفتے کے کالم میں صدر ایردوان کے اکیاون یا با ون فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے پہلے ہی رائونڈ میں منتخب ہونے اور تین سو کے لگ بھگ پارلیمنٹ کی نشستیں حاصل کرنے سےآگاہ کیا تھا اور ایسا ہی ہوا اور ایردوان پہلے ہی راؤنڈ میں باون فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے صدر منتخب ہو گئے ہیں جبکہ ان کی جماعت کو پارلیمنٹ کی چھ سو میں سے 295 نشستیں حاصل ہوئی ہیں جبکہ ان کے اتحاد ہی میں شامل ’’اتحادِ جمہور‘‘ میں نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی (MHP) نے 49 نشستیں حاصل کرتے ہوئے قانون سازی کے لئے اکثریت حاصل کر لی ہے۔ 

یہاں پر یہ بھی عرض کرتا چلوں نئے نظام کے تحت صدر ایردوان قومی اسمبلی سے باہر ہی حکومت تشکیل دے سکتے ہیں قومی اسمبلی سے کسی بھی رکن کو لینے کی صورت میں اس شخص کو قومی اسمبلی کی نشست سے مستعفی ہونا پڑے گا اور صدر ایردوان قومی اسمبلی میں محدود تعداد میں اراکین پارلیمنٹ ہونے کی وجہ سے کسی بھی رکن کو اپنی کابینہ میں شامل نہیں کریں گے۔ ترکی میں گزشتہ اتوار کو منعقد ہونے والے صدارتی اور قومی اسمبلی کے عام انتخابات کی سب سے اہم بات ترکی بھر میں ان انتخابات کا بڑے پر سکون طریقے سے منعقد ہونا ہے اور 87 فیصد رائے دہندگان کی جانب سے اپنا اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا جانا ہے جو کہ یورپ اور امریکہ کے مقابلے میں بہت زیادہ ہے اور ایک ریکارڈ کی حیثیت رکھتا ہے۔

ان انتخابات کی ایک اور اہم بات ری پبلکن پیپلز پارٹی کے صدارتی امیدوار محرم اِنجے کا اپنی پارٹی کے چیئرمین کے لیے درد سر بن جانا ہے اور حالات یہی بتا رہے ہیں کہ پارٹی چیئرمین کمال کلیچدار اولو اپنے عہدے سے مستعفی ہو جائیں گے۔ ’’ گڈ پارٹی‘‘ جو کہ نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی کا حصہ تھی انتخابات کے بعد ایک بار پھر نیشنلسٹ موومنٹ پارٹی اور اتحادِ جمہور کا حصہ بن کر قومی اسمبلی میں صدر ایردوان کا ہاتھ مضبوط کر دے گی۔ صدر ایردوان کو قومی اسمبلی میں اپنی پسند کے قوانین پاس کروانے میں مشکلات کا بھی سامنا نہیں کرنا پڑے گا اور یوں صدر ایردوان کلی طور پر اختیارات کے مالک بن جائیں گے۔

ان انتخابات میں ’’گڈ پارٹی‘‘ اور ’’پیپلز ڈیمو کریٹک پارٹی‘‘ دس فیصد کا Thresholdعبور نہ کر تیں تو پھر ان دونوں جماعتوں کی جیتی ہوئی نشستیں خود بخود دوسرے نمبر پر آنے والی جماعت یعنی جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ کو منتقل ہو جاتیں ۔ ان انتخابات میں ’’اتحادِ ملت‘‘ میں شامل ’’سعادت پارٹی‘‘ کو صدارتی اور پارلیمانی انتخابات میں منہ کی کھانا پڑی ہے اس کے ووٹروں نے پارٹی کے چیئرمین ’’تے میَل قارا مولا‘‘ کے فیصلے سے اختلاف کرتے ہوئے صدر ایردوان اور ان کی پارٹی کو ووٹ دیا۔

ڈاکٹر فر قان حمید
 

اونٹاریو جھیل : شمالی امریکا کی پانچ عظیم جھیلوں میں سے ایک

$
0
0

جھیل اونٹاریو ریاست ہائے متحدہ امریکا اور کینیڈا کی سرحد پر واقع ہے۔ یہ شمالی امریکا کی پانچ عظیم جھیلوں میں سے ایک ہے اور ان میں سب سے چھوٹی ہے۔ شمال اور مغرب میں کینیڈا اور ریاست ہائے متحدہ امریکا کی سرحدیں اس کے درمیان سے گزرتی ہیں۔ اس جھیل کے ایک جانب کینیڈا کا صوبہ اونٹاریو اور دوسری جانب امریکی ریاست نیویارک ہے۔ شمال مغرب میں یہ جھیل دریائے نیاگرا اور ویلینڈ شپ کینال کے ذریعے جھیل ایری سے ملا دی گئی ہے۔ اونٹاریو جھیل کی لمبائی 193 میل اور انتہائی گہرائی آٹھ سو فٹ سے زائد ہے۔ اس کا رقبہ 7340 مربع میل ہے۔ اس جھیل کو تیر کر پہلی مرتبہ ایک لڑکی میریلین بل نے صرف سولہ برس کی عمر میں عبور کیا۔ 

اینالیزے کیر اس جھیل کو تیر کر عبور کرنے والا سب سے کم عمر فرد ہے۔ اس نے 2007ء میں صرف 14 برس کی عمر میں اسے عبور کیا۔ اس وقت وہ ایک طالبہ تھی۔ گہرائی کی وجہ سے موسم سرما میں اس جھیل کا کچھ ہی حصہ برف بنتا ہے۔ یہ آبی حیات کا مسکن ہے اور پرندوں، پودوں اور مچھلیوں کی بہت سی اقسام کی آماج گاہ ہے۔ یہ جھیل اردگرد جنگلات کا بھی باعث ہے۔ جنگلات کی کٹائی سے یہاں کی حیات کو اپنی بقا کے خطرات لاحق ہیں۔ اسی وجہ سے دوبارہ جنگلات اگانے کی کوشش شروع کی گئیں۔ 

جھیل کو صنعت کاری اور آبادی کے پھیلنے سے آلودگی کا سامنا بھی کرنا پڑا۔ 1960-70ء کی دہائی میں جھیل میں آلودگی اتنی زیادہ ہو گئی کہ یہاں کی حیات مرنے لگی۔ بالآخر فیصلہ کیا گیا کہ اس کے پانی کی صفائی کی جائے۔ اس کے لیے بڑے پیمانے پر کام ہوا اور اس میں خاطر خواہ کامیابی بھی حاصل ہوئی۔ ماضی میں یہاں مچھلیوں کا حد سے زیادہ شکار ہوتا رہا جس کی وجہ سے مچھلیوں کی تعداد بہت کم ہو گئی اور بعض اقسام کو ناپید ہونے کا خطرہ لاحق ہو گیا۔ اس خوبصورت جھیل کا نظارہ کرنے بہت سے لوگ آتے ہیں۔ یہ انسانوں سمیت ہر طرح کے جانداروں کے لیے اہمیت رکھتی ہے۔

وردہ بلوچ


 

پاکستان میں پانی کا مسئلہ اور جرمن سفیر کی پریشانی

$
0
0

پاکستان میں تعینات جرمن سفیر مارٹن کوبلر کی ایک تصویر سوشل میڈیا پر کئی ہزار مرتبہ شیئر کی جا چکی ہے۔ اس تصویر میں وہ اسلام آباد کی ’خشک‘ راول جھیل میں موجود ہیں۔ اس تصویر کے ساتھ جرمن سفیر نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ میں لکھا،’’سارا پانی کہاں گیا ؟ میں نے اسلام آباد میں راول جھیل کا دورہ کیا تاکہ پانی کی قلت کے حالات دیکھ سکوں۔ حیران کن منظر! ایک حصہ جھیل کم اور صحرا زیادہ لگ رہا تھا. امید ہے کہ مون سون موسم جلد بارشیں لائے گا جس کی اشد ضرورت ہے۔‘‘ مارٹن کوبلر کی اس ٹویٹ پر انہیں پاکستانی ٹوئٹر صارفین کی جانب سے سینکڑوں جوابات موصول ہوئے۔ ٹوئٹر صارف روبینی نے لکھا،’’ جرمن سفیر آپ اپنے ملک کے ماہرین کو پاکستان مدعو کیجیے تاکہ وہ پاکستان میں پانی کے بحران کو کم کرنے میں مدد فراہم کر سکیں۔‘‘

عمر شیخ نے مارٹن کوبلر کو ان کی ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے لکھا،’’ ہمیں مارٹن کوبلر کو پاکستان کا سفیر بنا دینا چاہیے۔‘‘ کوبلر اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ میں انگریزی اور اردو زبان میں ٹویٹ کرتے ہیں۔ وہ اکثر عوامی مقامات پر بھی چلے جاتے ہیں اور پاکستانی عوام سے براہ راست ٹوئٹر کے ذریعے رابطے میں رہتے ہیں۔ عماد اکرم شیخ نے جرمن سفیر کی ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے لکھا،’’مسٹر کوبلر پاکستان میں پانی کے بحران کو منظر عام پر لانے کا بہت شکریہ، ہمیں آپ جیسے لوگوں کی ضرورت ہے جو اس مسئلے کو اجاگر کرنے اور اس کے حل کے لیے کوشاں ہیں۔‘‘

ٹوئٹر صارف تنویر عارف نے لکھا،’’ پاکستان میں پانی کو ذخیرہ کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے، ہمیں زیادہ درخت لگانے کی ضرورت ہے، پاکستان کے کافی علاقوں میں سیم اور تھور کا بھی مسئلہ ہے۔‘‘ احمد ایوب نے لکھا،’’ بدقسمتی سے ہم پاکستانی عوام میں جنگلات اور درختوں کے حوالے سے آگاہی پیدا نہیں کر پائے۔ ہمارے سیاسی رہنماؤں نےڈیمز کی تعمیرمیں بھی دلچسپی نہیں لی۔‘‘ مارٹن کوبلر نے کچھ عرصہ قبل ایک ٹویٹ میں اپنی صبح کے وقت دانت برش کرتے ہوئے تصویر بھی شیئر کی تھی جس میں وہ ایک گلاس میں ڈالا گیا پانی استعمال کر رہے تھے۔ وہ اکثر پانی اور ماحولیات سے متعلق ٹویٹس کرتے ہیں۔
 

امریکی عدالت نے تارکین وطن بچوں کو والدین سے علیحدہ کرنے سے روک دیا

$
0
0

امریکی عدالت نے ٹرمپ انتظامیہ کو تارکین وطن والدین سے بچوں کو الگ کرنے سے روکنے کا حکم جاری کر دیا۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق تارکین وطن والدین کے بچوں کو خاندان سے علیحدہ رکھنے پر امريکا کی مقامی عدالت میں دائر کیے گئے مقدمے میں جج ڈانا سابرو نے فیصلہ سناتے ہوئے انتظامیہ کو ایک ماہ کے اندر منقسم خاندان کو ملانے اور 5 برس سے کم عمر بچوں کو دو ہفتوں کے اندر تارکین والدین کے حوالے کرنے کا حکم دیا ہے۔ سين ڈياگو کے ڈسٹرکٹ کورٹ کی جج ڈانا سابرو نے امريکن سول لبرٹير يونين کی جانب سے دائر کردہ درخواست پر اپنے تفصیلی فیصلے میں کہا کہ والدین کے جرم کی سزا معصوم بچوں کو نہیں دی جا سکتی یہ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ جج نے مزيد کسی بچے کو والدين سے جدا کرنے کے عمل کو بھی فوری طور پر روکے جانے کا فيصلہ جاری کیا۔

قبل ازیں حکومت کی جانب سے عدالت میں موقف اختیار کیا گیا تھا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے تارکین وطن سے متعلق ایگزیکیٹو آرڈر میں تبدیلی اور اپنی امیگریشن پالیسی ترک کرنے کا اعلان کیا ہے جس پر عدالت نے منقسم خاندان کو ملانے کی ڈیڈ لائن جاری کی۔ واضح رہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی تارکین وطن سے متعلق نفرت آمیز اور متعصبانہ پالیسی کو عالمی سطح پر تنقید کا سامنا ہے اور خود امریکا کی 17 ریاستوں نے بھی ٹرمپ انتظامیہ کے خلاف مقدمہ دائر کر دیا ہے جس میں پناہ گزینوں کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی پالیسی پر تنقید کی گئی ہے۔
 

کالا باغ ڈیم نہیں، پاکستان ڈیم کی بات کریں

$
0
0

سپریم کورٹ میں کالا باغ ڈیم کی تعمیر سے متعلق کیس کی سماعت کے دوران چیف جسٹس نے نئے ڈیم کا نام پاکستان ڈیم رکھ دیا ہے۔ چیف جسٹس نے ریمارکس دئیے کہ ڈیم میری زندگی میں بنیں یا بعد میں لیکن بنیں گے ضرو۔ ماہرین کی ٹیم بلائیں ۔ سب کو بٹھا کرمعاملے کا حل نکلنے تک باہر سے کنڈی لگا دوں گا۔ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے کچھ نہیں ہو۔ سیاسی حکومتوں نے دس سال میں ڈیمز کی تعمیر کے لئے کیا کیا ؟ سپریم کورٹ میں چیف جسٹس پاکستان جسٹس میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر سےمتعلق کیس کی سماعت کی۔

سابق چیئرمین واپڈا شمس الملک عدالت میں پیش ہوئے اور ڈیم کی تعمیر کے حق میں دلائل دیئے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں 46 ہزار ڈیم تعمیر ہو چکے ہیں۔ چین میں 22 ہزار ڈیم بنائے گئے ہیں۔ چین ایک ڈیم سے 30 ہزار میگاواٹ بجلی پیدا کرتا ہے۔ بھارت 4500 ڈیم تعمیر کر چکا ہے۔ کالاباغ ڈیم کی تعمیر نہ ہونے سے سالانہ 196 ارب روپے کا نقصان ہو رہا ہے۔ جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ کیا پانی کے بغیر پاکستان کی بقا ممکن ہے؟ کوئٹہ میں زیر زمین پانی کی سطح خطر ناک حد تک گر چکی ہے۔ پانی کے مسئلے کے لئے کن اقدامات کی ضرورت ہے؟ چیف جسٹس نے ریمارکس دیئے کہ بار بار کہہ رہا ہوں یہاں کالا باغ کی نہیں پاکستان ڈیم کی بات کر رہا ہوں۔ پاکستان ڈیم نہیں بنائے گا تو 5 سال بعد پانی کی صورتحال کیا ہو گی۔ ڈیم پاکستان کی بقا کے لئے نہایت ضروری ہیں۔ چاروں بھائیوں میں اتفاق ہونا چاہیے۔ ڈیم بنانے کے لئے قربانی دینا ہو گی۔

جسٹس ثاقب نثار نے کہا کہ زمین بنجر ہو گی تو کسان مقروض ہو جائے گا۔ ہمیں ہنگامی اور جنگی بنیادوں پر کام کرنا ہو گا۔ لوگوں کو اکٹھا کریں تاکہ لوگوں کی تجاویز آئیں۔ سب کو مل بیٹھ کر معاملے کے حل کے لئے سوچنا ہو گا۔ واپڈا کے بانی رکن امتیاز علی قزلباش نے بتایا کہ کالا باغ ڈیم کی حامی لابی نے ملک میں دیگر ڈیمز کی تعمیر روک دی۔ اس لابی نے کہا کہ اگر ڈیم بننا ہے تو صرف کالا باغ ڈیم بنے۔ اس وجہ سے کوئی اور ڈیم نہ بن سکا۔ اعتزاز احسن نے دلائل دیئے کہ ڈیمز کے مخالفین سے بھی بات کرنا ہو گی۔

چیف جسٹس نے کہا کہ جو ڈیم متنازعہ نہیں ان پر فوکس پہلے کیوں نہ کریں۔ ڈیم کی تعمیر کے حوالے سے کچھ نہیں ہوا۔ سیاسی حکومتوں نے دس سال میں ڈیمز کی تعمیر کے لئے کیا کیا؟ ڈیم تو ہر حال میں بننا ہے، یہ بتائیں ڈیمز کن جگہوں پر بنیں گے۔ مجھے مسئلے کا حل بتائیں۔ جب تک مسئلے کا حل نہیں نکلتا میں نے جانے نہیں دینا۔ مجھے بندے بتائیں ماہرین کے نام بتائیں، میں نے سب کو بلا کر اندر سے کنڈی لگا دینی ہے۔ کم از کم اس مسئلے پر گفت و شنید شروع کرنی چاہیے۔ عدالت نےآئندہ ہفتے سے کیس کی سماعت روزانہ کی بنیاد پر کرنے کا فیصلہ کر لیا جبکہ نئے ڈیم کو پاکستان ڈیم کا نام دے دیا ہے۔

پاکستان دنیا کے ان 17 ممالک میں شامل ہے جو پانی کی قلت کا شکار ہیں۔ پاکستان کے قیام کے وقت ملک میں ہر شہری کے لیے 5 ہزار 6 سو کیوبک میٹر پانی تھا جو اب کم ہو کر ایک ہزار کیوبک میٹر رہ گیا ہے اور سال 2025 تک یہ 8 سو کیوبک میٹر رہ جائے گا۔ پاکستان کونسل برائے تحقیقِ آبی ذخائر(پی سی آر ڈبلیو آر) کے مطابق سال 2025 تک پاکستان میں پانی کی شدید قلت واقع ہو جائے گی۔ یہ کونسل وزارت سائنس و ٹیکنالوجی کے زیر سرپرست ہےجو آبی ذخائر کے مختلف امور اور تحقیق کی ذمہ دار ہے۔ کونسل کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس صورتحال سے بچنے کے لیے فوری طور پر اس کا حل تلاش کرنے کی ضروت ہے۔

میانوالی کے علاقے کالاباغ میں ڈیم تعمیر کرنے کا منصوبہ 1953 سے زیر غور ہے۔ یہ پاکستان کی تاریخ کے متنازعہ ترین منصوبوں میں سے ایک ہے جس پر چاروں صوبوں کا اپنا اپنا موقف ہے۔ پنجاب کے علاوہ باقی تینوں صوبے اس ڈیم کی تعمیر کے سخت مخالف ہیں۔ 2005 میں سابق صدر پرویز مشرف نے کالاباغ ڈیم کی تعمیر کا اعلان کیا لیکن سیاسی مخالفت کے باعث وہ اس منصوبے پر کام شروع نہ کرا سکے جس کے بعد 2008 میں اس وقت کے وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف نے اس منصوبے کو ناقابل عمل قرار دے دیا تھا۔

بشکریہ وائس آف امریکہ
 

پاکستان، فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی گرے لسٹ میں

$
0
0

واشنگٹن سے سفارتی ذرائع نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستان کو باقاعدہ طور پر دہشت گردوں کی مالی معاونت کرنے والے ملکوں کی گرے لسٹ میں شامل کر لیا گیا ہے۔ رپورٹ اگرچہ غیر مصدقہ ہے کہ فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی جانب سے کوئی اعلامیہ سامنے نہیں آیا، تاہم ذرائع کا کہنا ہے کہ ایسا ہو چکا ہے۔ 1989 میں قائم ہونے والے ادارے ایف اے ٹی ایف میں امریکہ، برطانیہ، چین اور انڈیا سمیت دنیا کے 35 ممالک شامل ہیں۔ 2000 کے بعد سے وقتاً فوقتاً یہ ادارہ ایسے ملکوں کے ناموں کی فہرست جاری کرتا ہے جو اس کے خیال میں کالے دھن کو سفید اور دہشت گردوں کی مالی معاونت کرتے ہیں۔

فروری 2018 میں ایف اے آئی ایف کا پیرس میں اجلاس ہوا تو اس میں بھارت اور امریکی کاوش سے پاکستان کا نام گرے لسٹ میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی لیکن پاکستان کی سفارتی مہارت کے باعث پاکستان کو تین ماہ کی مہلت دے دی گئی۔ اگر پاکستان کا نام واقعی گرے لسٹ میں شا مل ہو گیا تو یہ اس کے لئے ایک بڑا اقتصادی، سفارتی و سماجی دھچکا ثابت ہو سکتا ہے، پاکستان کے مالیاتی اداروں کے ساتھ تعلقات متاثر ہوں گے، بحالی امن کے باوجود سرمایہ کاروں کو پاکستان لانا مشکل ہو گا اور پاکستان آنے والی ہر پیمنٹ یا سافٹ لون کی کڑی چھان بین ہو گی۔ 

پیرس کانفرنس کے بعد پاکستان میں ایک صدارتی آرڈیننس کے ذریعے اقوم متحدہ کی طرف سے دہشت گرد قرار دی جانے والی بلکہ دیگر کئی تنظیموں کے خلاف بھی ایکشن لیا گیا اور انہیں کالعدم قرار دے کران کے مراکز و مدارس تک تحویل میں لے لئے گئے لیکن بھارت کی سفارتکاری نے اپنا کام دکھایا جس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں۔ پاکستان کو اس صورتحال سے نکلنے کے لئے دو محاذوں پر کام کرنا ہو گا، اولین محاذ سفارتکاری کا ہے، دنیا کو ان اقدامات سے آگا ہ کرنا ہوگا جو پاکستان نے کئے ہیں۔ دوسری جانب ایسے مزید عملی اقدامات کرنا ہوںگے جو دنیا کو نظر آئیں۔ متحرک و موثر سفارتی اقدامات کرکے خود پر لگنے والے الزامات کو غلط ثابت کرنا ہو گا۔

اداریہ روزنامہ جنگ
 

جنگیں اور مسلح تنازعات : دس ہزار سے زائد بچے ہلاک یا معذور

$
0
0

اقوام متحدہ کے مطابق گزشتہ برس دنیا بھر میں مختلف جنگوں اور مسلح تنازعات میں دس ہزار سے زائد بچے ہلاک یا معذور ہو گئے۔ اس کے علاوہ بہت سے بچوں کو ریپ کیا گیا اور جنگوں میں نابالغ فوجیوں کے طور پر بھی استعمال کیا گیا۔
امریکی شہر نیویارک میں اقوام متحدہ کے صدر دفاتر سے ملنے والے نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کے مراسلوں کے مطابق اس عالمی ادارے نے اپنی ایک نئی رپورٹ میں بتایا ہے کہ 2017ء میں دنیا بھر میں بہت سے بحران زدہ علاقوں میں جنگی کارروائیوں کے دوران بے شمار اسکولوں اور ہسپتالوں کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ ایسی کارروائیاں بھی سینکڑوں بچوں کے ہلاک یا زخمی ہونے کا سبب بنیں۔

عالمی ادارے کی اس سالانہ رپورٹ کو ’بچے اور مسلح تنازعات‘ کا نام دیا گیا ہے۔ اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ برس 21 ہزار سے زائد واقعات میں مسلح تنازعات کے شکار علاقوں میں بچوں کے بنیادی حقوق کی خلاف ورزیاں بھی کی گئیں۔ یہ شرح 2016ء میں ایسی خلاف ورزیوں کی سالانہ تعداد کے مقابلے میں بہت ہی زیادہ تھی۔ عالمی ادارے کی اس رپورٹ میں عرب دنیا کے غریب ترین ملک یمن کی صورت حال کا خاص طور پر ذکر کیا گیا ہے۔ یمن میں خانہ جنگی کی وجہ سے پچھلے سال مجموعی طور پر 1300 سے زائد بچے ہلاک یا زخمی ہوئے۔

اس رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ 2017ء میں یمن سمیت کئی ممالک میں جاری مسلح تنازعات میں ایسے بچوں کو بھی نابالغ فوجیوں کے طور پر جنگ میں جھونک دیا گیا، جن کی انفرادی عمریں محض 11 برس تک تھیں۔ مسلح تنازعات والے علاقوں میں بچوں کے حقوق سے متعلق عالمی ادارے کی خصوصی مندوب ورجینیا گیمبا نے اس موقع پر کہا، ’’یہ بچے دنیا کے کسی بھی دوسرے ملک کے بچوں سے کم حقوق کے مالک نہیں اور نہ ہی ان سے ایسا سلوک کیا جانا چاہیے، جیسے وہ کم تر حقوق کے حامل ہوں۔‘‘ ورجینیا گیمبا نے مطالبہ کیا کہ بحران زدہ علاقوں کے بچوں کو بھی یہ پورا موقع ملنا چاہیے کہ وہ اپنا بچپن اور اپنی زندگی بامقصد طریقے سے گزار سکیں اور انہیں بھی معمول کی زندگی گزارنے کے لیے بحالی کے مکمل مواقع مہیا کیے جائیں۔


جنگ زدہ علاقوں میں ہسپتالوں اور اسکولوں تک کو بمباری کا نشانہ بنایا گیا
ورجینیا گیمبا کے بقول اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش نے اس رپورٹ میں شامل کردہ حقائق کو ’سچ لیکن قابل مذمت‘ قرار دیتے ہوئے ان پر اپنے شدید غصے کا اظہار کیا ہے۔ پچھلے برس دنیا بھر میں جو 10 ہزار سے زائد بچے جنگوں اور مسلح تنازعات کے نتیجے میں ہلاک یا معذور ہو گئے، ان کی اکثریت کا تعلق عراق، میانمار، وسطی افریقی جمہوریہ، ڈیموکریٹک ریپبلک کانگو، جنوبی سوڈان، شام اور یمن سے تھا۔ دیگر تکلیف دہ حقائق میں یہ بھی شامل ہے کہ صرف جنوبی سوڈان میں 1200 سے زائد بچوں کو فوجیوں کے طور پر بھرتی کیا گیا، عراق میں 1036 بچے ’ملکی سلامتی کے تحفظ‘ کے نام پر مختلف جیلوں میں بند تھے اور صومالیہ میں دہشت گرد تنظیم الشباب کے شدت پسندوں نے مبینہ طور پر 1600 بچوں کو اغواء کر کے یا تو ان سے جنسی زیادتیاں کیں یا پھر انہیں جنگجوؤں کے طور پر اپنی صفوں میں شامل کر لیا۔ 2016ء میں کل ساڑھے پندرہ ہزار واقعات کے مقابلے میں 2017ء میں مجموعی طور پر بچوں کے حقوق کی عالمی سطح پر جو 21 ہزار سے زائد خلاف ورزیاں کی گئیں، ان میں سے 9000 سے زائد خلاف ورزیاں مختلف ممالک کی سرکاری فورسز نے کیں۔

م م / ع ا / اے پی

بشکریہ DW اردو
 


صدر ٹرمپ کو کس نے اور کیسے ’بیوقوف‘ بنایا ؟

$
0
0

ایک امریکی کامیڈین نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو اس وقت بیوقوف بنایا جب انھوں نے صدارتی جہاز ایئر فورس ون پر کال کر کے صدر سے بات کی۔ کامیڈین جان میلنڈیز نے اپنے آپ کو سینیٹر بوب میننڈیز ظاہر کیا۔ جان کا کہنا ہے کہ انھوں نے ڈونلڈ ٹرمپ کے داماد کشنر سے بات کی اور پھر صدر ٹرمپ نے ان کو فون کیا۔ جان کا کہنا ہے کہ انھوں نے سینیٹر میننڈیز ہونے کا دعویٰ کیا۔ جان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ’میں اب بھی حیران ہوں، میں نے تو مذاق کیا اور میں کامیڈین ہوں۔ مجھے یقین نہیں آ رہا کہ مجھے صرف ڈیڑھ گھنٹہ لگا کے میں ایئر فورس ون پر داماد کشنر اور صدر ٹرمپ سے بات کر سکوں۔‘

جان نے مزید بتایا کہ پہلے انھوں نے وائٹ ہاؤس فون کیا اور اپنا اصل نام بتایا لیکن وائٹ ہاؤس نے کہا کہ وہ مصروف ہیں اور فون بند کر دیا۔ ’میں نے دوبارہ فون کیا اور اس بار سینیٹر کے جعلی اسسٹنٹ شون مور بن کر۔‘ ’میں نے اپنا لہجہ تبدیل کیا جو کہ اتنا اچھا نہیں تھا۔ میں نے کہا کہ میں سینیٹر میننڈیز کا اسسٹنٹ شون مور ہوں اور سینیٹر صدر سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ وائٹ ہاوس نے کہا کہ وہ بعد میں فون کرتے ہیں اور پھر میرے موبائل فون پر فون آیا۔‘ وائٹ ہاؤس کے ایک اہلکار نے سی این این سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’کبھی کبھار اس قسم کی غلطیاں ہو جاتی ہیں۔‘

واضح رہے کہ سینیٹر میننڈیز نیو جرسی سے ڈیموکریٹ جماعت کے سینیٹر ہیں اور امیگریشن اصلاحات کے حق میں ہیں۔ جان نے امریکی صدر جو اس وقت ایئر فورس ون پر تھے کے ساتھ بات چیت ریکارڈ کی اور اپنے پوڈ کاسٹ پر اپ لوڈ کی۔ اپ لوڈ کی گئی ریکارڈنگ میں صدر نے سینیٹر کو 2017 میں رشوت لینے کے الزام سے بری ہونے پر مبارکباد دی۔ سینیٹر میننڈیز پر الزام تھا کہ انھوں نے سیاسی اثر و رسوخ کے لیے فلوریڈا کے ایک ڈاکٹر سے تحائف لیے۔ پوڈ کاسٹ پر اپ لوڈ کی گئی آوازوں نے سپریم کورٹ میں ایک جج کی جگہ پُر کرنے پر بھی بات چیت کی۔ صدر ٹرمپ کی بتائی جانے والی آواز نے کہا کہ وہ نئے جج کی تقرری کے حوالے سے اگلے 10 سے 14 روز میں فیصلہ کریں گے۔ وائٹ ہاوس کی جانب سے اس گفتگو کی تحقیقات کے لیے جب سینیٹر کے دفتر فون کیا گیا تو انھوں نے لاعلمی کا اظہار کیا۔ کامیڈین جان کا کہنا ہے کہ ان کو بہت آسانی سے پکڑا جا سکتا تھا۔ ’اگر مجھ سے یہ پوچھا جاتا کے سینیٹر میننڈیز کس جماعت سے تعلق رکھتے ہیں یا کس ریاست سے سینیٹر منتخب ہوئے تو مجھے اس کا جواب نہیں معلوم تھا۔ لیکن انھوں نے مجھ سے کچھ نہیں پوچھا۔‘

 

شمالی کوریا نے یورینیم کی افزودگی بڑھا دی

$
0
0

امریکی حکام نے شبہ ظاہر کیا ہے کہ شمالی کوریا نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے آغاز کے ساتھ ہی جوہری ہتھیاروں کے ایندھن کی تیاری میں اضافہ کر دیا ہے۔ امریکی نشریاتی ادارے 'این بی سی نیوز'نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ امریکی انٹیلی جنس اداروں کے تازہ ترین تجزیوں سے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وہ دعوے غلط ثابت ہو گئے ہیں جن کا اظہار انہوں نے شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان کے ساتھ ملاقات کے بعد کیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے 12 جون کو سنگاپور میں ہونے والی ملاقات کے بعد کہا تھا کہ کم جونگ ان شمالی کوریا کا جوہری پروگرام ختم کرنے کے بارے میں سنجیدہ اور پرعزم ہیں اور اب امریکہ کو شمالی کوریا سے کوئی جوہری خطرہ لاحق نہیں رہا۔

'این بی سی نیوز'نے اپنی رپورٹ میں پانچ امریکی اہلکاروں کے حوالے سے کہا ہے کہ انٹیلی جنس اطلاعات سے ظاہر ہوا ہے کہ شمالی کوریا نے حالیہ چند ماہ کے دوران یورینیم کی افزودگی کا عمل تیز کر دیا ہے اور وہ یہ کام امریکہ کے ساتھ رابطوں کے دوران بھی کر رہا تھا۔ افزودہ یورینیم جوہری بموں کے ایندھن کے طور پر استعمال کی جاتی ہے۔ امریکی ادارے کے مطابق امریکی حکام نے بتایا ہے کہ یونگ بیان کے علاقے میں یورینیم کی افزودگی کے لیے معروف تنصیب کے علاوہ شمالی کوریا کی ایک سے زائد ایسی خفیہ تنصیبات موجود ہیں جہاں وہ یورینیم افزودہ کر رہا ہے۔ ایک امریکی اہلکار نے 'این بی سی نیوز'سے بات کرتے ہوئے یہ تک کہا کہ اس بارے میں ناقابلِ تردید شواہد موجود ہیں کہ شمالی کوریا امریکہ کو دھوکہ دینے کی کوشش کر رہا ہے۔ امریکی خفیہ ادارے 'سی آئی اے'نے 'این بی سی نیوز'کی رپورٹ پر ردِ عمل دینے سے انکار کر دیا ہے۔ محکمۂ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ اس رپورٹ کی تصدیق نہیں کر سکتا کیوں کہ وہ انٹیلی جنس معاملات پر ردِ عمل دینے کا مجاز نہیں۔ 'این بی سی'کی جانب سے رپورٹ پر ردِ عمل کے لیے وائٹ ہاؤس سے بھی رابطہ کیا گیا تھا لیکن وائٹ ہاؤس نے چینل کی درخواست کا کوئی جواب نہیں دیا۔

امریکی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے بعد امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے بارے میں شمالی کوریا کی سنجیدگی پر نئے سوال کھڑے ہوگئے ہیں۔ امریکی حکام اور خود صدر ٹرمپ کا مؤقف رہا ہے کہ شمالی کوریا کے ساتھ ہونے والے مذاکرات کا محور اس کا جوہری پروگرام ہے جسے ترک کرنے پر وہ پیانگ یانگ کو راضی کرچکے ہیں۔ 'این بی سی'سے گفتگو کرتے ہوئے ایک سینئر امریکی انٹیلی جنس افسر کا کہنا تھا کہ امریکہ کے ساتھ مذاکرات سے قبل شمالی کوریا کی جانب سے اپنے جوہری اور میزائل تجربات روکنے کا فیصلہ خاصا غیر متوقع تھا۔ لیکن افسر کے بقول اس معاملے پر امریکہ کو دھوکہ دیا گیا اور شمالی کوریا نے اپنی کئی تنصیبات میں بہت سے ہتھیار اور میزائلوں پر کام جاری رکھا ہوا ہے۔ تاحال یہ واضح نہیں کہ شمالی کوریا امریکی نشریاتی ادارے کے اس دعوے پر کیا ردِ عمل دے گا اور آیا ان مبینہ انٹیلی جنس رپورٹوں کے بعد ٹرمپ حکومت کی پیانگ یانگ سے متعلق پالیسی میں کوئی تبدیلی آئے گی یا نہیں۔

 

عبد القدیر خان : پاکستانیوں کے ہیرو، مغرب کے لیے ولن

$
0
0

پاکستانی سائنس دان عبدالقدیر خان نے پاکستان کو جوہری طاقت بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ اسی بنیاد پر انہیں پاکستان میں قومی ہیرو کا درجہ حاصل ہے تاہم مغرب انہیں ایٹمی راز اسمگل کرنے والا خطرناک شخص سمجھتا ہے۔ یکم اپریل سن 1936 کے روز بھارتی شہر بھوپال میں پیدا ہونے والے پاکستانی ایٹمی سائنس دان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو پاکستان میں جوہری ہتھیاروں کا بانی تصور کیا جاتا ہے۔ پاکستانی عوام کے نزدیک وہ سن 1998 میں پاکستان کے کامیاب ایٹمی تجربے کے بعد اس حوالے سے بھارت کے ہم پلہ ہو جانے اور ملکی دفاع کو ’ناقابل تسخیر‘ بنانے کی وجہ سے قومی ہیرو ہیں۔

لیکن ایران، لیبیا اور شمالی کوریا کو غیر قانونی طور پر جوہری ٹیکنالوجی فراہم کرنے کے الزامات سامنے آنے کے بعد ان کی حیثیت بھی متنازع ہو گئی۔ انہوں نے سن 2004 میں غیر قانونی طور پر جوہری ٹیکنالوجی کی منتقلی کے جرم کا اعتراف بھی کیا جس کے بعد انہیں اسلام آباد ہی میں ان کے گھر میں نظر بند کر دیا گیا۔ فروری سن 2009 میں عدالتی حکم پر ان کی نظر بندی تو ختم کر دی گئی لیکن وہ اپنی نقل و حرکت کے بارے میں حکام کو مطلع کرنے کے پابند ہیں۔ خان ہمہ وقت سکیورٹی کے حصار میں رہتے ہیں۔

بھوپال سے اسلام آباد تک کا سفر
بھارتی شہر بھوپال میں پیدا ہونے والے عبدالقدیر خان کا خاندان سن 1947 میں برصغیر کی تقسیم کے بعد پاکستان منتقل ہو گیا۔ سن 1960 میں کراچی یونیورسٹی سے سائنس کی ڈگری حاصل کرنے کے بعد وہ اعلیٰ تعلیم کے لیے جرمن دارالحکومت برلن چلے آئے۔ بعد ازاں انہوں نے ہالینڈ اور بیلجیم میں بھی تعلیم حاصل کی۔ پاکستانی جوہری پروگرام کے لیے خان نے یورینیم سینٹریفیوجیز کے بلیو پرنٹ حاصل کیے تھے جو انہوں نے ہالینڈ میں قائم یرینکو نامی کمپنی میں کام کرتے ہوئے حاصل کیے  تھے اور سن 1976 میں انہیں اپنے ساتھ پاکستان لے گئے تھے۔ اس جرم میں ہالینڈ میں ان کے خلاف مقدمہ بھی درج کیا گیا تھا۔

بھٹو سے مشرف تک
پاکستان آمد کے بعد اس وقت کے پاکستانی وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو نے انہیں یورینیم کی افزودگی کے منصوبے کا انچارج بنا دیا۔ اپنے ایک انٹرویو میں ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے بتایا کہ ان کی ٹیم سن 1978 تک یورینیم کی افزودگی کر چکی تھی اور چھ برس بعد، یعنی سن 1984 میں پاکستان ایٹم بم کا تجربہ کرنے کے قابل ہو گیا تھا۔

زوال کا سفر
مختلف وجوہات کی بنا پر پاکستان نے ایٹمی تجربہ کرنے سے گریز کیا اور آخر کار یہ کام سن 1998 میں مکمل ہوا جس کے بعد عبدالقدیر خان قومی ہیرو کے طور پر سامنے آئے۔ لیکن ان کا زوال اس وقت شروع ہوا جب سن 2001 میں امریکی دباؤ کے بعد پرویز مشرف نے انہیں کہوٹہ ریسرچ لیبارٹریز کی سربراہی سے ہٹا کر انہیں خصوصی مشیر بنا دیا۔ تاہم پاکستانی اسٹیبلشمنٹ کو بھی شاید یہ اندازہ نہیں تھا کہ ان کا ہیرو اس قدر متنازع بھی ہو جائے گا۔ اقوام متحدہ کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق واچ ڈاگ نے اسلام آباد کو ایک خط ارسال کیا جس میں الزام لگایا گیا تھا کہ پاکستانی جوہری سائنس دانوں نے جوہری راز فروخت کیے ہیں۔ بعد ازاں خان نے سرکاری ٹی وی پر آ کر اس جرم کا اعتراف کیا۔ اعتراف جرم کے بعد جنرل مشرف نے ان کے لیے معافی کا اعلان کر دیا۔ تاہم بعد ازاں عبدالقدیر خان اس بیان سے مکر گئے۔ سن 2008 میں انہوں نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا، ’’میں نے پہلی مرتبہ پاکستان کو جوہری طاقت بنا کر بچایا اور دوسری مرتبہ میں نے تمام الزام اپنے سر لے کر ملک کو بچایا۔‘‘

’بے نظیر بھٹو کے حکم پر جوہری راز دیے‘

چھ برس قبل جولائی سن 2012 میں عبدالقدیر خان نے ’تحریک تحفظ پاکستان‘ نامی ایک نئی سیاسی جماعت کے قیام کا اعلان کرتے ہوئی عملی سیاست میں قسمت آزمانے کا فیصلہ کیا۔ ان کی جماعت نے ملک بھر سے ایک سو گیارہ امیدوار نامزد کیے، جن میں سے کوئی بھی کامیاب نہ ہو پایا اور ایک سال بعد انہوں نے جماعت ختم کر دی۔ اسی برس انہوں نے اپنے ایک انٹرویو میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ سابق پاکستانی وزیراعظم بینظیر بھٹو کی ہدایات پر انہوں نے دو ممالک کو ایٹمی راز مہیا کیے تھے تاہم انہوں نے ان ممالک کے نام نہیں بتائے۔ بھٹو کی جماعت نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران سامنے آنے والے متعدد تنازعات کے باجود عبدالقدیر خان کی عوامی مقبولیت میں بظاہر کوئی کمی نہیں آئی۔ آج بھی پاکستان میں کئی تعلیمی ادارے ان کے نام پر قائم ہیں اور ان کی تصاویر کتابوں اور اسٹیشنری پر چھاپی جاتی ہیں۔

ش ح/ع ق (اے ایف پی)

بشکریہ DW اردو
 

امریکا سے اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی کی سربراہی چھن گئی

$
0
0

اقوام متحدہ کی پناہ گزین ایجنسی میں نئے سربراہ کے لیے ہونے والے انتخاب میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے نامزدہ امیدوار کو بدترین شکست کا سامنا کرنا پڑا، 1951 کے بعد سے امریکا کو دوسری مرتبہ ایجنسی کے اہم ترین عہدے سے محروم ہونا پڑا۔ انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف مائیگریشن کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدے پر ہونے والی ووٹنگ کے تیسرے مرحلے میں امریکی امیدوار کین آئیزکس کو شکست کھانی پڑھی۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کے ارکان نے پرتگالی سیاستدان انتونیو ویتورینو کو نیا سربراہ منتخب کر لیا ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کے نامزد امیدوار کی شکست کی اصل وجہ ڈونلڈ ٹرمپ کا بین الاقوامی اداروں کے خلاف محاذ آرائی کا نتیجہ قرار دیا جارہا ہے۔

واضح رہے کہ امریکا نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل پر شدید تنقید کرتے ہوئے اس سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا اور بعدازاں ڈونلڈ ٹرمپ نے ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن کو امریکا کے لیے ’دوغلا‘ قرار دیا تھا۔ مقامی میڈیا کے مطابق نومنتخب ڈائریکٹر جنرل ویتورینو یورپی یونین کے داخلی امور اور انصاف کے کمشنر بھی فرائض انجام دے چکے ہیں جبکہ ان کا تعلق پرتگال کی سیاسی جماعت سوشلسٹ پارٹی سے بتایا جاتا ہے۔ پرتگالی سیاستدان کا سخت مقابلہ ادارے کے نائب سربراہ لاؤرا تھامسن کے ساتھ تھا۔ امریکا کے سابق صدر بارک اوباما کی انتظامیہ میں کونسل کے نامزد امیدوار کیتھی ہارپر نے ٹوئیٹ کیا ’اب تیسری مرتبہ امریکی طاقت، وجود اور وقار کو غیر معمولی جھٹکا لگا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ انٹرنیشنل آرگنائزیشن آف مائیگریشن کے ڈائریکٹر جنرل کے عہدہ ’امریکی نشست‘ تھی جسے ٹرمپ انتظامیہ نے گنوا دیا۔ اس حوالے سے انہوں نے مزید بتایا کہ امریکا کی جانب سے سفری پابندیاں، مہاجرین بچوں کو ان کے والدین سے الگ کرنے کی پالیسی اور مسلم مخالف بیانات نے مذکورہ نشست کے امریکی امیدوار کو تنہا چھوڑ دیا‘۔ نتائج سامنے آنے کے بعد ایک سفارتکار نے موقف اختیار کیا کہ ’امریکا باہر ہو گیا‘۔
 

رجب طیب اردوان کی کامیابی کا راز

$
0
0

ترکی کی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک ساتھ ہونے والے صدارتی اور پارلیمانی انتخابات میں اپنے مخالفوں کی سازشوں، مغربی حکومتوں کی ناپسندیدگی اور مغربی میڈیا کی متعصبانہ پروپیگنڈہ مہم کے باوجود رجب طیب اردوان 53 فیصد ووٹ لے کر ایک بار پھر ترکی کے صدر منتخب ہو گئے۔ پارلیمانی انتخابات میں اْن کی جماعت جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی (AKP) نے کامیابی حاصل کی ہے اور 600 رْکنی پارلیمنٹ میں حکمران جماعت نے 345 سے زیادہ نشستیں جیتی ہیں۔ٹرن آؤٹ تقریباً 90 فیصد رہا۔ اردوان جدید ترک تاریخ کے مقبول ترین اورطاقتور لیڈر بن کر ابھرے ہیں۔ حالیہ الیکشن نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ترک عوام کی اکثریت طیب اردوان کے ساتھ کھڑی ہے۔ صدر رجب طیب اردوان نے اپنے اس عزم کا اعادہ کیا کہ ترکی کی ترقی و خوش حالی کا سفر تیزی سے جاری رہے گا۔

رجب طیب اردوان کی کامیابی کے بعد پاکستان میں مسلم لیگ (ن)، پاکستان تحریک انصاف اور متحدہ مجلس عمل میں شامل مذہبی جماعتوں کے کارکنان اپنے اپنے رہنماؤں کو رجب طیب اردوان کے پائے کا لیڈر ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں، حالانکہ کوئی بھی پاکستانی سیاسی رہنماء رجب طیب اردوان کے قریب قریب بھی نہیں ہے، کیونکہ رجب طیب اردوان دعوؤں سے عظیم لیڈر نہیں بنے، بلکہ انھوں نے اپنے ملک اور اپنی قوم کے لیے عظیم کام کیے ہیں تو ان کی قوم نے انھیں عظیم لیڈر بنایا ہے۔ پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان تحریک انصاف کے رہنماؤں کو تو طیب اردوان کے مثل اس لیے قرار نہیں دیا جا سکتا کہ ان دونوں جماعتوں کو حکومت کی صورت میں قوم کی خدمت کرنے کا موقع ملا، لیکن یہ جماعتیں قوم کی خدمت کر کے عوام کے دل جیتنے میں ناکام رہی ہیں۔ مذہبی جماعتوں کے لیڈر بھی خود کو طیب اردوان کے قریب سمجھ رہے ہیں، جو ان کی غلط فہمی ہے۔

اس سے انکار نہیں کہ معاملہ فلسطین کا ہو یا کشمیر کا مصر کا ہو یا میانمار کا طیب اردوان ہر مسلمان کے دکھ درد کو اپنا دکھ درد سمجھتے ہیں اور اس پر اپنے دردو غم کا اظہار بھی کرتے ہیں اور اس کے ساتھ طیب اردوان نے اگرچہ ترکی میں مصطفیٰ کمال کے مذہب مخالف نظریے کو شکست دے کر اسلامی روایات کی جانب کامیابی کے ساتھ سفر شروع کیا ہے، لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ انھیں ترکی میں کامیابی بھی ان اقدامات کی وجہ سے ملی ہے۔ طیب اردوان کو کامیابی صرف اور صرف اپنے ملک اور اپنی قوم کی خدمت کرنے کی وجہ سے ملی ہے۔
ہمارے ایک صحافی دوست ان دنوں ترکی میں ہیں۔ اس سے پہلے بھی وہ ترکی کا دورہ کر چکے ہیں۔ کچھ عرصہ پہلے جب ترکی سے ہو کر آئے تو تفصیل سے وہاں کے حالات سنائے۔ ترکی میں ان کا میزبان ترکی صدر رجب طیب اردوان کی حریف جماعت کا کارکن تھا۔ جن کے توسط سے ترک صدر کی حریف جماعت کے دیگر کارکنوں سے بھی ملاقات ہوئی۔

ہمارے دوست نے انھیں ترک صدر سے پاکستانیوں کی محبت کے بارے میں بتایا اور طیب اردوان کے بارے میں ان کے خیالات پوچھے تو حریف جماعت کے کارکنان کہنے لگے کہ ہم نظریاتی طور پر طیب اردوان کے حریف ہیں، لیکن ووٹ طیب اردوان کو ہی دیں گے۔ دوست نے پوچھا اس کی کیا وجہ ہے؟ تو وہ کہنے لگے کہ طیب اردوان سے اگرچہ ہمارا نظریاتی اختلاف ہے، مگر ترکی میں ان سا لیڈر کوئی نہیں ہے۔ طیب اردوان نے دنیا میں ہمیں عزت دلوائی۔ ہمیں اک نئی پہچان دی ہے۔ ہمارے ملک کو پستیوں سے اٹھا کر اوج ثریا پر پہنچایا۔ ہمیں سر اٹھا کر جینے کا سلیقہ سکھایا۔ آج ہم دنیا میں سر اٹھا کر جی سکتے ہیں۔ اس لیے ایسے لیڈر کو ووٹ دینا ہماری مجبوری ہے۔ مخالف جماعتوں کے کارکنان کا طیب اردوان کو ووٹ دینا یہ ثابت کرتا ہے کہ ترک صدر نے ملک و قوم کی کتنی زیادہ خدمت کی ہو گی کہ مخالفین بھی ان کو صدر دیکھنا چاہتے ہیں۔

طیب اردوان نے عوام کی خدمت کر کے عوام کے دلوں میں جگہ بنائی ہے۔ طیب اردوان 1994ء سے 1998ء تک وہ میئر استنبول رہے۔ اپنی میئر شپ کے دوران استنبول کو بڑی ترقی دی اور اس کا شمار دْنیا کے خوبصورت شہروں میں ہونے لگا۔ 2002ء سے طیب اردوان ایک نئے سیاسی سفر پر نکل کھڑے ہوئے۔ انھوں نے استنبول والے خدمات عوام ماڈل کو سارے ترکی میں متعارف کروایا۔ 2014ء میں ترکی کے صدر منتخب ہوئے۔ 2002ء سے لے کر اب تک وہ کبھی صدر کبھی وزیر اعظم منتخب ہوتے چلے آرہے ہیں اور ان کی اپنے ملک اور اپنی قوم کے لیے خدمات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

رجب طیب اردوان نے اپنے ملک کو اقتصادی لحاظ سے 111 نمبر پر موجود ملک کو اٹھا کر 16 ویں نمبر پر پہنچا دیا۔ ترکی پہلی بار دنیا کے اقتصادی لحاظ سے مضبوط 20 ممالک کے گروپ (G-20) میں شامل ہوا۔ ترکی میں اقتصادی خوش حالی کے نتیجے میں تنخواہوں میں 300 فیصد اضافہ ہوا اور بے روزگاری کی شرح 38 فیصد سے کم ہو کر صرف 2 فیصد تک رہ گئی ہے۔ ترکی کا بجٹ خسارہ 47 ارب تک پہنچ گیا تھا۔ طیب اردوان نے اس کو ختم کر دیا۔ اردوان نے ترکی کا سارا قرض ختم کر دیا۔ ترکی کی برآمدات 23 ارب تھیں، جن کو اردوان نے 153 ارب تک پہنچا دیا۔ ترکی کی گاڑیاں پہلے نمبر پر، دوسرے نمبر الیکٹرانک سامان ہے۔ اس وقت یورپ میں فروخت ہونے والے الیکٹرانک سامان میں سے ہر تیسرا سامان ترکی کا تیار کردہ ہوتا ہے۔ طیب اردوان نے اعلان کیا ہے کہ ترکی 2023ء میں دنیا کی سب سے پہلی اقتصادی اور سیاسی قوت بن جائے گی۔

اردوان نے اقتدار سنبھالا تو ترکی اپنی دفاعی صنعت کی ضروریات کا محض بیس فی صد خود پیدا کرتا تھا، لیکن اب یہ شرح 65 فی صد تک جا پہنچی ہے۔ اردوان نے ترکی کی تاریخ میں پہلی بار اپنا ٹینک بنایا، پہلا بحری فریگیٹ تیار کیا، پہلا ڈرون طیارہ اور فوجی سیٹلائیٹ بھی اسی دور میں بنایا گیا۔ استنبول کا ہوائی اڈہ یورپ کے بڑے ہوائی اڈوں میں شمار ہوتا ہے۔ اردوان نے 50 کے لگ بھگ ایئرپورٹ تعمیر کیے ہیں۔ تیز رفتار سڑکیں تعمیر کی ہیں۔ تقریبا 19 ہزار کلومیٹر طویل نئی سڑکیں تعمیر کی گئیں۔ 11 ہزار کلومیٹر لمبی نئی ریلوے لائنیں بچھائیں۔
دس سال میں اردوان کی حکومت نے ملک بھر میں دو ارب 77 کروڑ درخت لگائے ہیں۔ ترک حکومت نے کچرے کو ری سائیکل کر کے توانائی بنانے کے منصوبوں پر کام شروع کیا ہے۔ اس وقت ترکی کے 98 فیصد شہروں اور دیہاتوں میں بجلی ہے۔ ترکی میں تعلیم کا بجٹ بڑھا کر دفاع کے بجٹ سے بھی زیادہ کر دیا گیا اور طلباء و طالبات کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کیں۔ جدید ٹیکنالوجی پر تحقیق کے لیے 35 ہزار لیبارٹریاں قائم کی گئی ہیں۔

عوام کی خدمت کی بدولت طیب اردوان کا عوام سے رابطہ مضبوط سے مضبوط تر ہوتا چلا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جب 15 / جولائی 2016ء کو فوج کے ایک دھڑے نے اچانک مارشل لاء کے نفاذ کا اعلان کیا تو طیب اردوان کی اپیل پر ملک بھر میں لاکھوں لوگ گھروں سے نکل آئے اور ٹینکوں کے سامنے لیٹ کر فوجی بغاوت کو ناکام بنا دیا اور یہ ثابت کیا کہ یہ مقبولیت کسی لیڈر کو اسی وقت ملتی ہے جب وہ مسائل کے حل کے لیے فی الواقع اپنا خون پسینہ ایک کر دے۔ ا گر ہمارے سیاستدان خود کو طیب اردوان کے پائے کا لیڈر ثابت کرنا چاہتے ہیں تو پہلے طیب اردوان کی طرح ملک و قوم کی خدمت کرکے عوام کے دل جیتیں۔

عابد محمود عزام
 

اپنے بچے کی آواز سنے 50 دن گزر گئے، امریکی ظلم کا شکار ماں رو پڑی

$
0
0

مجھے اپنے 6 سالہ ننھے بچے کی آواز سنے ہوئے 50 دن سے اوپر ہو گئے وہ کیسا ہے تاحال کچھ نہیں پتا، ہنڈوراس سے غیر قانونی طور پر امریکا آنے کے بعد حراستی مرکز میں موجود ایک ماں رونے لگی۔ یاسیکا واحد ماں نہیں جس کے ساتھ یہ حادثہ پیش آیا۔ 50 دن قبل ہنڈوراس اور دیگر ملحقہ ممالک سے غیر قانونی طور پر امریکا آتے ہوئے یاسیکا کو بھی امریکی سیکیورٹی اداروں نے دیگر افراد کی طرح گرفتار کیا اور ٹرمپ کے نافذ کردہ قانون کے تحت اس کے بچے کو الگ جگہ اور اسے کسی دوسری جگہ حراستی کیمپ میں رکھ دیا گیا۔ چھ ہفتے گزرنے کے بعد بھی ماں کا اپنے 6 سالہ بچے سے کوئی رابطہ نہیں اور اسے بالکل نہیں پتا کہ اس کا بچہ کس حال میں ہے اور ماں اپنے بیٹے کی جدائی میں تڑپ رہی ہے۔

حراستی مرکز میں قید خاتون یاسیکا نے بی بی سی کو ایک بیان دیا جس میں بات کرتے ہوئے یاسیکا کی آواز بھرا گئی اور وہ رونے لگی۔ یاسیکا نے کہا کہ مجھے اپنے بچے کو دیکھے ہوئے 50 دن گزر گئے، میں نے بچوں کے حراستی مرکز میں کئی بار فون کیے مگر مجھے بچے سے متعلق کوئی معلومات نہیں دی گئیں۔
یاسیکا نے بتایا کہ وہ ہمیں کہتے ہیں کہ تم کرمنلز ہو، تمہیں جیل میں قید کر دیا جائے گا اور تمہارے بچے پالنے کے لیے کسی اور کو دے دیے جائیں گے وہ ہم پر بری طرح چلائے جس سے ہمارے بچے خوف زدہ ہو گئے انہوں نے رات گئے ہمیں حکم دیا کہ وہ اپنے بچوں کو فرش پر چھوڑ دیں پھر وہ زبردستی ہمارے بچوں کو اٹھا کر لے گئے۔

چھ ہفتے گزارنے کے بعد یاسیکا اسی ہفتے جیل سے رہا ہوئی ہے اور اس کے پیر میں ٹریکر لگا دیا گیا ہے اور اس پر غیر قانونی داخلے کا مقدمہ چل رہا ہے لیکن اس کا بچہ اسے نہیں دیا گیا، یاسیکا نے بتایا کہ مجھے اپنے بچے سے متعلق کچھ نہیں معلوم، فون کرتی ہوں تو انتظامیہ کے افراد کچھ نہیں بتاتے کہتے ہیں میرا بچہ نیویارک میں کہیں ہو گا۔ یاسیکا نے ایک اور درد ناک واقعہ بتایا کہ اس کی گرفتاری کے وہاں ایک عورت ایسی بھی موجود تھی جس کے ساتھ چند ماہ کا دودھ پیتا بچہ تھا ایک آفیسر نے اس سے کہا کہ تم کوئی جانور ہو جو بچے کو دودھ پلا رہی ہے یہ کہہ کر وہ اس ماں سے بچہ چھین کر لے گئے اور سب کو ہتھکڑیاں پہنا دیں۔ متاثرہ ماں یاسیکا نے مزید بتایا کہ میں زیادہ دیر سو نہیں سکتی دل کی دھڑکن تیز ہوتی ہے اور آنکھ کھل جاتی ہے اور میں ٹھیک طرح سے سانس نہیں لے پاتی، میں اکیلی نہیں میری طرح اور بھی مائیں ہیں جنہیں نہیں پتا کہ ان کے بچے کہاں ہیں؟ یقیناً وہ ابھی تک ٹیکساس کے حراستی مرکز میں ہیں۔
 

انجیلا مرکل کا اقتدار خطرے میں

$
0
0

پناہ گزیوں کے حوالے سے پالیسی کے معاملے پر جرمن وزیرِ داخلہ ہورسٹ سیہوفر نے اپنے سرکاری عہدرے اور اپنی جماعت کرسچن سوشل یونین (سی ایس یو) کے سربراہ کے عہدے سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کر لیا۔ برطانوی اخبار دی انڈپینڈنٹ کی رپورٹ کے مطابق جرمن وزیرِ داخلہ نے اپنی پارٹی کے بند کمرہ اجلاس میں اپنے استعفے کا اعلان کیا۔ امیگریشن کے حوالے سے پیدا ہونے والی صرتحال کے پیشِ نظر وزیرِ داخلہ کے استعفے کے بعد جرمن چانسلر انجیلا مارکل کی حکومت کے خاتمے کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ انجیلا مارکل کی جماعت کرسچن ڈیموکریٹ پارٹی (سی ڈی یو) نے سی ایس یو کے ساتھ مشترکہ حکومت قائم کی ہوئی ہے اور دونوں جماعتوں کا اتحاد ایک دہائی سے زائد پر محیط  ہے۔ 

پناہ گزینوں کے جرمنی میں داخلے پر جب انجیلا مارکیل ملکی سطح پر ناکام ہوئیں تو انہوں نے اس معاملے میں یورپی یونین کو مداخلت کرنے کے لیے زور دینا شروع کیا۔ ہورسٹ سیہوفرکی جانب سے مطالبہ کیا گیا تھا کہ یوپی یونین کے ساتھ معاہدے کے باوجود جرمن چانسلر پناہ گزینوں کے حوالے سے اپنی نرم پالیسی میں سختی لائیں۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ انہیں انجیلا مارکل کی پالیسی میں جرمنی نے پناہ گزینوں کو واپس سرحد کی جانب پہنچانے کی حکمتِ عملی نظر نہیں آتی۔ امکان ظاہر کیا جارہا ہے کہ وزیرِ داخلہ کے ممکنہ استعفے کی وجہ سے جرمنی میں سی ایس یو اور سی ڈی یو کے اتحاد کے ساتھ ساتھ انجیلا مارکل کے طویل اقتدار کو بھی خطرات لاحق ہو گئے ہیں۔
 


A boys' soccer team trapped in a flooded Thai cave

$
0
0

On Saturday, 23 June 2018, twelve members of the Moo Pa (Wild Boar) football team, aged 11–16, and their coach, aged 25, went into the Tham Luang Nang Non cave in Chiang Rai, Thailand, and became trapped deep inside when the entrance was flooded by a sudden downpour. A search was immediately commenced when a ranger of the National Park in Chiang Rai alerted authorities of the missing boys after seeing their unclaimed belongings at the cave entrance. After struggles through narrow passages and muddy waters, divers discovered the missing people, all alive, on an elevated rock about 4 km (2.5 mi) from the cave mouth, on 2 July 2018, 10 pm local time. To leave the cave, they may need to learn to dive or wait months for the flooding to recede. More than 1,000 people have been involved in the rescue operation, including teams from the Thai Navy SEALs, the UK, China, Myanmar, Laos, Australia, Sweden, and the United States.











تھائی لینڈ میں غار میں پھنسے بچوں کا سراغ مل گیا

$
0
0

حکام کا کہنا ہے کہ بچے اور ان کے کوچ غار کے اندر دہانے سے چار کلومیٹر
ایک اونچی چٹان پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔ تھائی لینڈ کے ایک گہرے غار میں لاپتا ہوجانے والے 12 بچوں اور ان کے فٹ بال کوچ کا 10 روز بعد سراغ مل گیا ہے اور حکام انہیں غار سے نکالنے کے انتظامات میں مصروف ہیں۔ تھائی لینڈ کے صوبے چیانگ رائے کے گورنر نرونگسک اوستناکورن نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ لاپتا بچوں کا سراغ پیر کی شام ملا جو سیلابی پانی اور گارے سے بھرے ایک غار کے اندر پھنسے ہوئے ہیں۔ بین الاقوامی امدادی کارکن اور غوطہ خور گزشتہ 10 دن سے ان بچوں تک پہنچنے کی کوشش کر رہے تھے۔ حکام کا کہنا ہے کہ بچے اور ان کے کوچ غار کے اندر دہانے سے چار کلومیٹر ایک اونچی چٹان پر پناہ لیے ہوئے ہیں۔

بچوں تک پہنچنے والے ایک امدادی کارکن کی جانب سے ٹارچ کی روشنی میں بنائی جانے والی ویڈیو میں لال اور نیلی جرسیاں اور نیکر پہنے بچوں کو سیلابی پانی سے گھری ایک چٹان پر بیٹھے اور کھڑے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں بین الاقوامی امدادی ٹیم کا رضاکار انگریزی میں بلند آواز سے بچوں سے سوال کرتا ہے، "آپ کتنے لوگ وہاں ہیں؟ 13 ؟ بہت خوب۔" بعد ازاں امدادی کارکن کو کہتے سنا جا سکتا ہے، "آپ لوگ یہاں 10 دن سے ہیں۔ آپ لوگ بہت بہادر ہیں۔"جواب میں ایک بچہ کہتا ہے، "آپ کا شکریہ۔" ویڈیو میں ایک بچہ سوال کرتا ہے کہ انہیں غار سے کب نکالا جائے گا جس کے جواب میں امدادی کارکن کہتا ہے، "آج نہیں۔ آپ لوگوں کو غوطہ لگانا پڑے گا۔"

برطانوی خبر رساں ادارے 'رائٹرز'کے مطابق ان بچوں تک سب سے پہلے وہ دو برطانوی غوطہ خور پہنچے جنہیں غاروں میں پھنسے افراد کے لیے امدادی سرگرمیاں انجام دینے کا خاصا تجربہ ہے۔ 'برٹس کیو ریسکیو کونسل'کے سربراہ بِل وائٹ ہاؤس نے 'رائٹرز'کو بتایا ہے کہ دونوں غوطہ خوروں کے ہمراہ تھائی لینڈ کی فوج کے خصوصی دستے کے غوطہ خور بھی تھے۔ غار میں پھنسے تمام بچوں کی عمریں 11 سے 16 سال کے درمیان ہیں جو تمام انڈر 16 فٹ بال ٹیم کے رکن ہیں۔

یہ بچے اپنے 25 سالہ کوچ کے ہمراہ 23 جون کو فٹ بال میچ کی پریکٹس کے بعد تھام لوانگ نامی غاروں کے سلسلے کی سیر کو گئے تھے لیکن علاقے میں ہونے والی طوفانی بارش اور سیلاب کے باعث لاپتا ہو گئے تھے۔ کئی کلومیٹر طویل غاروں کا یہ سلسلہ میانمار کے ساتھ واقع تھائی لینڈ کی شمالی سرحد پر ایک جنگل میں واقع ہے۔ ان بچوں کی تلاش کے لیے کی جانے والی امدادی سرگرمیوں کو تھائی لینڈ کے مقامی اور بین الاقوامی ذرائع ابلاغ خصوصی کوریج دے رہے تھے اور ان بچوں کے ملنے کی اطلاع پر ملک میں خوشی کی لہر دوڑ گئی تھی۔

ان بچوں کے والدین اور دیگر رشتے دار گزشتہ کئی روز سے غار کے نزدیک ہی قائم کیے گئے ایک خصوصی کیمپ میں مقیم ہیں جہاں بچوں کے ملنے کی اطلاع ملنے کے بعد جذباتی مناظر دیکھنے میں آئے اور جشن کا سا سماں رہا۔ حکام کا کہنا ہے کہ وہ بچوں کو بحفاظت باہر نکالنے کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں لیکن اس کام میں کئی ہفتے بھی لگ سکتے ہیں کیوں کہ غار سیلابی پانی، گارے اور دیگر رکاوٹوں سے اٹا ہوا ہے۔ ابتدائی طور پر امدادی کارکنوں نے بچوں کو توانائی فراہم کرنے والی گولیاں پہنچائی ہیں تاکہ ان کی جسمانی طاقت بحال رہے۔
امدادی اہلکاروں کا کہنا ہے کہ جن منصوبوں پر غور کیا جارہا ہے ان میں غار میں پانی کا لیول کم ہونے کا انتظار کرنا یا پھر بچوں کو غوطہ خوری کی تربیت دینا شامل ہیں تاکہ وہ سیلابی پانے سے تیر کر نکل سکیں۔

صوبے کے گورنر نے جائے واقعہ پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ بچوں کو غار سے نکالنے کی کارروائی خاصی پیچیدہ ثابت ہو گی جس کے باعث ان کی جلد واپسی کا بظاہر کوئی امکان نہیں۔ گورنر نے صحافیوں کو بتایا کہ ایک میڈیکل ٹیم نے بچوں کا معائنہ کیا ہے اور منگل کو بھی ان کا طبی معائنہ کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ بچوں کو چند خراشیں آئی ہیں اور کسی کو کوئی بڑی چوٹ نہیں لگی۔

بشکریہ وائس آف امریکہ
 

ملائیشیا کے سابق وزیراعظم کرپشن کے الزام میں گرفتار

$
0
0

ملائیشیا کے سابق وزیر اعظم نجیب رزاق کو بدعنوانی کے الزامات کے تحت گرفتار کر لیا گیا۔ ملکی سیکورٹی ذرائع نے بتایا کہ نجیب عبدالرزاق کو بدعنوانی کے خلاف چھان بین کرنے والے ملکی ادارے کے تفتیش کاروں نے حراست میں لیا۔ ایک اعلیٰ سیکورٹی اہلکار نے کارورائی کے بارے میں بتایا کہ نجیب کو ملائیشیا کے اینٹی کرپشن کمیشن کے اہلکاروں نے گرفتار کر کے ایم اے سی سی کے ہیڈ کوارٹرز میں پہنچا دیا ہے۔ یہ اہلکار 4 ایسی گاڑیوں میں سوار ہو کر رزاق کو گرفتار کرنے آئے تھے، جن پر کوئی نمبر پلیٹیں نہیں لگی ہوئی تھیں۔ سابق وزیر اعظم نجیب رزاق کو اپنے خلاف کرپشن کے الزامات کا سامنا ہے اور ان کے ساتھ ان کے ایک سابق معاون کو بھی حراست میں لے لیا گیا۔ 

ملائیشیا کے اس سابق سربراہ حکومت کی گرفتاری اسی سال 9 مئی کو ہونے والے ان قومی انتخابات کے 2 ماہ سے کم عرصے بعد عمل میں آئی ہے، جس میں ان کی قیادت میں برسراقتدار سیاسی اتحاد کو غیر متوقع طور پر بڑی شکست کا سامنا کرنا پڑا تھا۔ ملائیشیا کے اینٹی کرپشن کمیشن کے ایک اہلکار نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ نجیب رزاق کو ان کی رہایش گاہ سے گرفتار کیا گیا اور اس سلسلے میں جلد ہی یہ اینٹی کرپشن کمیشن ایک باقاعدہ بیان بھی جاری کرنے والا ہے۔ نجیب رزاق کو ایم بی ڈی ون نامی سرکاری سرمایہ کاری فنڈ سے کی جانے والی رقوم کی مبینہ چوری اور منی لانڈرنگ کے الزامات کا سامنا ہے۔ اسی سلسلے میں اینٹی کرپشن کمیشن کے تفتیشی ماہرین نجیب رزاق کے سوتیلے بیٹے رضا عزیز سے بھی پوچھ گچھ کر رہے ہیں۔

حضرت عمرو بن العاصؓ کے مزار پر

$
0
0

اور میں بالآخر حضرت عمرو بن العاصؓ کے دروازے پر پہنچ گیا‘ میرے سامنے دیوار پر ’’یرالٹی جامعی‘‘ لکھا تھا‘ ترکی میں (Yeralti) کا مطلب زیر زمین ہوتا ہے جب کہ یہ لوگ مسجد کو جامعی کہتے ہیں‘ حضرت عمرو بن العاصؓ کی مسجد واقعی زیر زمین تھی‘ میں سیڑھیاں اتر کر اندر داخل ہوا تو سامنے آخری دیوار تک پستہ قد ستون تھے اور ان ستونوں پر آدھے دائروں کی چھت تھی‘ چھت بھی نیچی تھی‘ میں سرخ قالین پر چلتا ہوا آخری حصے میں پہنچ گیا‘ الٹے ہاتھ دو مزار تھے‘ دونوں مزارات پر سبز چادریں تھیں اور چھت سے بھی سبز روشنی چھن چھن کر نیچے آ رہی تھی‘ دیوار پر تختی لگی تھی اور تختی پر دو نام کندہ تھے‘ حضرت عمرو بن العاصؓ اور حضرت وہب بن حصیری ؓ‘ میں نے دعا کے لیے ہاتھ اٹھائے اور پھر میری آنکھوں کے بند ٹوٹ گئے۔

حضرت عمر بن العاصؓ یا حضرت عمرو بن العاص ؓ کی حیات کے بے شمار شیڈ ہیں‘ یہ قریش کے بنو صاہم سے تعلق رکھتے تھے‘ والد کا نام عاص بن وائل تھا‘ عاص بن وائل نے دور جہالت میں رسول اللہ ﷺ کو ابتر کہہ دیا تھا‘ یہ واقعہ نبی اکرمؐ کے صاحبزادے عبداللہ کے انتقال کے بعد پیش آیا‘ عرب اولاد نرینہ سے محروم لوگوں کو ابتر کہا کرتے تھے‘ یہ طعنہ اللہ تعالیٰ کو پسند نہ آیا چنانچہ سورۃ کوثر کا نزول ہوا اور قادر مطلق نے ڈکلیئر کر دیا‘ نبی اکرمؐ حوض کوثر کے مالک ہیں اور صرف ان کے دشمن ہی بے نام اور بے نشان رہیں گے‘ حضرت عمرو بن العاصؓ تجارت سے وابستہ تھے‘ تجارتی قافلے لے کر ایشیا‘ مڈل ایسٹ اور مصر جاتے تھے‘ بے انتہا معاملہ فہم‘ زیرک اور سفارتی خوبیوں کے مالک تھے۔

مسلمانوں نے حبشہ میں ہجرت کی تو قریش نے نجاشی کو سمجھانے کے لیے آپ کی قیادت میں وفد بھجوایا‘ یہ دورِ جہالت میں مسلمانوں کے خلاف ہر جنگ میں شریک ہوئے‘ جنگ خندق کے بعد پیچھے ہٹ گئے‘ اللہ تعالیٰ نے ہدایت سے نوازا‘ آٹھ ہجری میں اسلام قبول کر لیا‘ آپؓ نبی اکرمؐ کا خط لے کر عمان کے بادشاہ کے پاس بھی تشریف لائے‘ خط کی کاپی آج بھی عمانی حکومت کے پاس موجود ہے‘ اصل خط ترکی کے کسی صاحب کے پاس ہے‘ سلطان قابوس خط کے حصول کے لیے کوشش کر رہے ہیں‘ یہ ان شاء اللہ کسی نہ کسی دن کامیاب ہو جائیں گے۔

آپؓ نے حضرت ابوبکرؓ اور حضرت عمرؓ کے ادوار میں لشکروں کی قیادت کی‘ سینا کا صحرا عبور کیا اور صرف چار ہزارمجاہدین کے ساتھ مصر فتح کر لیا‘ فتح مصر مسلمانوں کا بہت بڑا معرکہ تھا‘ آپؓ نے مصر میں الفسطاط کے نام سے نیا شہر آباد کیا‘فسطاط بعد ازاں مصر کا دارالحکومت بنا‘ اس کے آثار آج بھی قاہرہ کے قدیم حصے میں موجود ہیں‘ فسطاط عربی میں خیمے کو کہتے ہیں‘ آپؓ نے جنگ مصر کے دوران جس جگہ خیمہ لگایا یہ شہر ٹھیک اسی جگہ آباد ہوا اور یہ خیمے کی مناسبت سے الفسطاط کہلایا‘ یہ شہر خیمے کی جگہ کیوں آباد ہوا؟ اس کی وجہ ایک فاختہ تھی‘ حضرت عمرو بن العاصؓ جنگی مہم پر تھے‘ وہ واپس آئے تو دیکھا فاختہ نے خیمے میں انڈے دے دیے ہیں‘ حضرت عمرؓو نے اپنا خیمہ فاختہ کے لیے وقف کر دیا‘ یہ معمولی واقعہ بعد ازاں مصر کے نئے دارالحکومت کی وجہ بن گیا۔

حضرت عمرو بن العاصؓ نے مصر میں اپنے نام سے ایک عظیم مسجد بھی بنوائی‘ یہ مسجد آج بھی قاہرہ میں موجود ہے‘ اللہ تعالیٰ نے مجھے اس مسجد میں نماز پڑھنے کی سعادت نصیب فرمائی‘ آپؓ طویل العمر تھے‘ آپؓ آخر میں عالم اسلام کی جنگوں اور سازشوں سے دل گرفتہ ہو گئے‘ مورخین کا خیال ہے آپؓ کا انتقال مصر میں ہوا‘ یہ بات درست ہو سکتی ہے لیکن مصر میں آپؓ کا مزار موجود نہیں ‘ قاہرہ کی مسجد عمرو بن العاصؓ میں ایک مزار ہے لیکن یہ مزار آپؓ کے صاحبزادے حضرت عبداللہ بن عمرو بن العاص کا ہے‘ آپؓ مصر سے استنبول کب اور کیسے تشریف لائے؟

اس کے دو امکانات ہو سکتے ہیں‘ نبی اکرمؐ نے قسطنطنیہ یعنی استنبول فتح کرنے والے لشکر کو جنت کی بشارت دی تھی‘ حضرت امیر معاویہؓ نے 672ء میں ایک بڑا لشکر قسطنطنیہ بھجوایا‘ میزبانِ رسولؐ حضرت ابو ایوب انصاریؓ بھی اس لشکر میں شامل تھے‘ حضرت ابو ایوب انصاریؓ اس وقت علیل تھے‘ وہ جنگ کے دوران زیادہ بیمار ہو گئے اور انھوں نے وصیت فرمائی میں اگر فوت ہو جائوں تو مجھے شہر کی فصیل کے نیچے دفن کر دیا جائے‘ حضرت ابو ایوب انصاریؓ 674ء میں انتقال کر گئے‘ مسلمانوں نے برستے تیروں اور پتھروں کے درمیان بڑی مشکل سے آپ کی میت فصیل کے نیچے پہنچائی اور آپؓ کو وہاں دفن کر دیا‘ استنبول کی فتح کے بعد یہ علاقہ ایوب سلطان بن گیا۔

حضرت ابو ایوب انصاریؓ کا مزار اور مسجد آج بھی یہاں موجود ہے‘ یہ مسجد ہر سال لاکھوں زائرین کی عقیدت کا غسل لیتی ہے‘ استنبول کی پہلی جنگ 672ء سے 677ء تک جاری رہی‘ امکان ہے حضرت عمرو بن العاصؓ اسی دوران استنبول تشریف لائے‘ انتقال فرمایا اور حضرت ابو ایوب انصاریؓ کی طرح شہر کی فصیل کے ساتھ دفن ہو گئے اور آپؓ کا مزار فرقہ پرستی کا شکار ہو کر گم نامی میں چلا گیا‘ یہ بھی امکان ہے آپؓ زندگی کے آخری حصے میں چپ چاپ قسطنطنیہ آئے‘ انتقال فرمایا اور اس سرزمین میں مدفون ہو گئے جسے فتح کرنے والوں کے لیے جنت کی بشارت دی گئی تھی‘ ان دونوں میں سے کون سا امکان درست ہے یہ راز سردست پوشیدہ ہے تاہم آپؓ 1639ء میں دمشق کے ایک نقش بندی بزرگ کے خواب میں آئے اور اپنی قبر کی نشاندہی فرمائی‘ یہ ترکی میں عثمانی خلیفہ سلطان مراد چہارم کا زمانہ تھا‘ وہ بزرگ استنبول آئے۔

سلطان تک رسائی حاصل کی اور اپنا خواب بیان کیا‘ سلطان نے بزرگ کی نشاندہی پر کھدائی کروائی تو وہاں سے واقعی قبر دریافت ہو گئی‘ سلطان نے قبر پر مسجد تعمیر کرانا شروع کرا دی‘ سلطان مراد مسجد کی بنیاد رکھنے کے بعد انتقال کر گیا‘ سلطان مراد کے بعد مسجد کی تعمیر کھٹائی میں پڑ گئی‘ یہ معاملہ 1730ء تک زیر التواء رہا یہاں تک کہ سلطان محمود اول نے دوبارہ مسجد کی تعمیر شروع کرا دی‘ مسجد 1754ء میں مکمل ہوئی اور زیر زمین ہونے کی وجہ سے ’’یرالٹی جامعی‘‘ کہلائی‘ مسجد میں حضرت عمرو بن العاصؓ کے مزار کے ساتھ حضرت وہب بن حصیریؓ کی قبر ہے‘ یہ بھی صحابی تھے تاہم ان کے بارے میں زیادہ تفصیلات دستیاب نہیں ہیں‘ ان دونوں مزارات سے چند میٹر کے فاصلے پر حضرت سفیان بن عُیینہ ؓ کا مزار ہے‘ میں بدقسمتی سے ان کے بارے میں بھی زیادہ نہیں جانتا‘ میں تفصیلات جاننے کے لیے امام صاحب کو تلاش کرتا رہا لیکن وہ نہیں ملے‘ مسجد میں موجود نمازی اور عملہ بھی نابلد تھا‘ زبان بھی درمیان میں دیوار بن کر کھڑی ہو گئی چنانچہ میں نے دونوں صحابہؓ کے بارے میں ریسرچ اگلے وزٹ پر چھوڑ دی۔

حضرت عمرو بن العاصؓ کا مزار اور مسجد استنبول میں کار کے پل کے قریب ہے‘ مسجد کے بالکل سامنے چھوٹا سا پارک ہے اور پارک سے آگے سمندر‘ یہ یورپی سائیڈ پر ’’گولڈن ہارن‘‘ کے کنارے واقع ہے‘ دائیں بائیں گھریلو اور کمرشل عمارتیں ہیں‘ مسجد کو عمارتوں کے درمیان شناخت کرنا آسان نہیں‘ یہ مکانوں کے درمیان مکان محسوس ہوتی ہے‘ صحن بھی نہ ہونے کے برابر ہے‘ زائرین بمشکل جوتے اتار کر مسجد میں داخل ہوتے ہیں‘ داخلے کے دو دروازے ہیں‘ سمندر کی سائیڈ کا دروازہ اور محلے کی طرف کھلنے والا دروازہ‘ یہ دونوں آمنے سامنے ہیں اور دونوں ایک دوسرے سے صاف نظر آتے ہیں‘ سمندر کی سائیڈ نیچی ہے جب کہ محلے کی سائیڈ سے زیادہ سیڑھیاں اترنی پڑتی ہیں۔

یہ مسجد زیادہ پاپولر نہیں‘ لوگ حضرت عمرو بن العاصؓ کے نام سے بھی واقف نہیں ہیں‘ میں بڑی مشکل سے وہاں تک پہنچا لیکن جب اندر داخل ہوا تو سینے میں ٹھنڈ پڑ گئی‘ مزار شریف کے قریب سکون اور روحانی مسرت کے ڈھیر لگے تھے‘ میں قبر کے سامنے کھڑا ہو گیا‘ ہاتھ اٹھائے اور میری آنکھوں کے بند ٹوٹ گئے‘ میرا چہرہ آنسوئوں سے تر ہو گیا‘ یہ لوگ بھی کیا لوگ تھے‘ یہ اپنی کھلی آنکھوں سے روز میرے رسولؐ کا دیدار کرتے تھے‘ یہ اپنے ہاتھوں سے انھیں چھوتے تھے‘ یہ ان کے نقش قدم کا بوسا لیتے تھے‘ یہ آپؐ کے بدن کی خوشبو سونگھتے تھے‘ یہ آپؐ کے ہاتھوں سے لے کر کھاتے تھے اور یہ آپؐ کے دہن مبارک سے نکلے ہوئے لفظ اپنے کانوں میں سنتے تھے۔

یہ کتنے عظیم‘ کتنے بابرکت لوگ تھے اور میں کتنا بدنصیب‘ کتنا حقیر ہوں‘ مجھے وہ زمانہ نصیب نہیں ہوا‘ کاش میں اس زمانے میں پیدا ہوا ہوتا‘ میرا نام نتھورام ہوتا‘ مجھے یہاں ہندوستان میں خبر ہوتی اللہ کے آخری رسولؐ تشریف لے آئے ہیں اور میں یہ سن کر یہاں سے پیدل مدینہ چل پڑتا‘ میں رسول اللہ ﷺ کے ہاتھوں اسلام قبول کرتا‘ آپؐ مجھے اپنا غلام‘ اپنا خادم ڈکلیئر فرماتے اور میں باقی زندگی نعلین شریفین اپنے سینے سے لگا کر گزار دیتا‘ میں مدینہ کا گداگر بن جاتا‘ صفہ کے چبوترے پر لٹکی کھجوریں کھاتا‘ حضرت عثمانؓ کے کنوئیں کا پانی پیتا اور آپؐ جب جب مسجد نبوی میں تشریف لاتے میں یا رسول اللہ ﷺ‘ یا رسول اللہ ﷺ پکارتا ہوا آپؐ کے کرتے کا دامن پکڑ لیتا لیکن کہاں میں اور کہاں مسجد نبوی اور کہاں عہد رسالتؐ ‘ مجھ جیسے گناہ گاروں کو یہ سعادت کہاں نصیب ہوتی ہے‘ میں روتا جا رہا تھا اور اپنی کم مائیگی‘ اپنی مسکینی کا سیاپا کرتا جا رہا تھا اور حضرت عمرو بن العاصؓ کے مزار سے قبولیت کی خوشبو امڈتی چلی جا رہی تھی‘ مجھے محسوس ہو رہا تھا میری دعائیں رجسٹر ہو رہی ہیں‘ میرے لیے دروازے ابھی بند نہیں ہوئے۔

جاوید چودھری


 

نیا صدارتی نظام : ترک صدر کو حاصل ہونے والے اختیارات

$
0
0

ترکی نے ملکی آئین میں 74 تبدیلیاں کی ہیں جس کے بعد صدر رجب طیب ایردوآن کو کئی نئے اختیارات مل گئے ہیں۔ ان تبدیلیوں کے بعد ایردوآن، ریاست کے ساتھ ساتھ حکومت کے بھی سربراہ بن گئے ہیں۔ نئے صدارتی نظام کے تحت ترکی میں گزشتہ ماہ ہونے والے صدارتی انتخابات میں رجب طیب ایردوآن جیتے تھے اور پارلیمانی انتخابات میں میں ایردوآن کی جماعت کامیاب رہی تھی۔ ایک سرکاری حکم نامے کے تحت ترک آئین کی 74 دفعات میں تبدیلیاں کی گئیں جس کے بعد صدر کو مزید اختیارات مل جائیں گے۔

سرکاری گزٹ میں شائع ہونے والے اس حکم نامے میں سن 1924 سے لے کر 2017ء تک بنائے گئے مختلف ترک قوانین میں تبدیلیاں کی گئیں۔ صدارتی نظام کے نفاذ کے بعد وزیر اعظم کا عہدہ بھی ختم ہو چکا ہے اس لیے آئین میں وزیر اعظم کی جگہ صدر کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔

ترک صدر کو حاصل ہونے والے اختیارات
آئین کی شقوں میں تبدیلیوں کے بعد اب ترک صدر رجب طیب ایردوآن کو جو اضافی اختیارات حاصل ہوں گے ان میں سے چند درج ذیل ہیں۔

نئی وزارتیں تشکیل دے کر ان کی کارکردگی پر بھی نظر رکھ سکیں گے۔ اس کے علاوہ اب وہ پارلیمان کی منظوری کے بغیر سرکاری افسروں کو معطل کر سکیں گے۔

صدر ججوں اور دفتر استغاثہ کے بورڈ کے چار ارکان تعینات کر سکیں گے جب کہ ملکی پارلیمان بورڈ کے سات ارکان تعینات کرے گی۔

صدر ملکی بجٹ بنا سکیں گے اور ملکی سکیورٹی پالیسی کے بارے میں بھی فیصلہ کر پائیں گے۔

پارلیمان کی منظوری کے بغیر صدر ایردوآن ملک میں چھ ماہ تک کی مدت کے لیے ایمرجنسی نافذ کر پائیں گے۔

صدر ایردوآن کو ملکی پارلیمان تحلیل کرنے کا اختیار بھی حاصل ہو گا۔ تاہم اس صورت میں قبل از وقت صدارتی انتخابات بھی کرانا ہوں گے۔

نئے اختیارات کا نفاذ کب سے ہو گا ؟
ملکی آئین میں کی گئی ان تبدیلیوں کا اطلاق صدر کے حلف اٹھاتے ہی ہو جائے گا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ صدر ایردوآن رواں ماہ کی آٹھ یا نو تاریخ کو ترک پارلیمان میں حلف اٹھائیں گے۔

نیا صدارتی نظام اور رجب طیب ایردوآن
ترکی میں صدارتی نظام کے نفاذ کا فیصلہ گزشتہ برس اپریل میں کیے گئے ایک عوامی ریفرنڈم میں ہوا تھا۔ اس ریفرنڈم میں معمولی برتری کے ساتھ صدارتی نظام کے حامیوں کی جیت ہوئی تھی۔ آئینی تبدیلیوں کے بعد اس عہدے پر کوئی بھی شخص زیادہ سے زیادہ دو مرتبہ فائر رہ پائے گا۔ تاہم اگر دوسری مدت صدارت کے دوران قبل از وقت انتخابات کرائے گئے تو صدارتی امیدوار تیسری مرتبہ بھی انتخابات میں حصہ لے پائے گا۔

رجب طیب ایردوآن سن 2003 سے لے کر سن 2014 تک ترکی کے وزیر اعظم رہے جس کے بعد وہ ترک صدر بن گئے تھے۔ صدر کے عہدے کو مضبوط بنانے کا منصوبہ ایردوآن کے صدر بننے سے بھی پہلے تیار کر لیا گیا تھا۔ ریفرنڈم کے بعد صدارتی نظام کا نفاذ در اصل سن 2019 میں ہونا تھا لیکن مئی 2018 میں ہی قبل از وقت صدارتی انتخابات کرا لیے گئے۔

ش ح/ ا ب ا (روئٹرز، اے پی)

بشکریہ DW اردو
 

Viewing all 4738 articles
Browse latest View live


<script src="https://jsc.adskeeper.com/r/s/rssing.com.1596347.js" async> </script>