Quantcast
Channel: Pakistan Affairs
Viewing all 4738 articles
Browse latest View live

طالبعلم کے ایک ٹوئٹ پر ترک صدر ہاسٹل پہنچ گئے

$
0
0

ترک صدر رجب طیب اُردگان سحری کرنے اسٹوڈنٹ پاسٹل پہنچ گئے۔ ترکش طالبعلم نے اپنے صدر کو ٹوئٹر پر سحری کا دعوت نامہ دیا تو ان کے صدر رجب طیب اردگان نے بھی زندہ دلی کا مظاہرہ کرتے ہوئے طالبعلم کے پیغام کا نہ صرف جواب دیا بلکہ آنے کا بھی کہہ دیا۔ ترک صدر طالبعلم کو سرپرائز دینے ہاسٹل پہنچ گئے
رپورٹس کے مطابق ترکی کے دارالحکومت انقرہ کے بوائز ہاسٹل کے طالبعلم نے ترکی کے صدر کو دعوت دی تو رجب طیب اردگان نے جواب میں چائے تیار رکھنے کا کہا اور ہاسٹل پہنچ کر طلبا کو نہ صرف سرپرائز دے ڈالا بلکہ ان کے ساتھ خوب گپ شپ کی اور سحری سے لطف اندوز بھی ہوئے۔ یوں ایک ٹوئٹ پر اپنے صدر کے آجانے پر جہاں وہ طالبعلم بے حد حیران ہوا وہیں دیگر بے حد خوش بھی ہوئے اور اس سحری کی پر لطف موقع کو خوب انجوائے کیا۔
 


اپنی ساری دولت فلاحی کاموں پر خرچ کرنے والے علی بنات کون تھے ؟

$
0
0

یہ نیک دل مسلمان اربوں کی جائداد کا مالک تھے لیکن دنیا سے جانے سے پہلے اپنی ساری دولت کینسر کے مریض غریب بچوں پر لُٹا کر خالی ہاتھ مگر مطمئن دل کے ساتھ رخصت ہوئے۔ آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے ارب پتی مسلمان علی بنات موذی مرض کینسر کے باعث دنیا سے رخصت ہو گئے، لیکن ساتھ ہی ایسا بڑا کام کر گئے کہ جو رہتی دنیا تک ایک مثال رہے گا۔  ویب سائٹ INDY100 کے مطابق 2015 میں ڈاکٹروں نے علی بنات کو بتایا کہ وہ کینسر کی بیماری میں مبتلا ہیں۔ یہ اندوہناک خبر ملنے پر انہوں نے غم زدہ اور مایوس ہونے کی بجائے پہلا یہ فیصلہ یہ کیا کہ وہ اپنی تمام دولت کو غربا ومساکین کے لیے خرچ کر دیں گے۔

سدٹی سے تعلق رکھنے والے اس ارب پتی بزنس مین کو ڈاکٹروں نے بتایا تھا کہ وہ تقریباً 7 ماہ تک زندہ رہ پائیں گے لیکن وہ 2 سال تک زندہ رہے اور اس تمام عرصے کے دوران اپنے فلاحی کام میں مصروف رہے۔ ان 2 سالوں کے دوران انہوں نے نہ صرف اپنی ساری دولت فلاحی کاموں پر خرچ کر دی بلکہ دنیا بھر سے چندہ جمع کیا اور کینسر کے مریض غریب بچوں کو کروڑوں ڈالر عطیہ کیے۔
علی بنات نے اپنی موت سے قبل اپنی تمام دولت غریبوں میں تقسیم کر دی۔ سنہ 2015 میں علی بنات نے دنیا بھر کے مسلمانوں کی اقتصادی حالت کی بہتری کے لیے مسلمز اراؤنڈ دی ورلڈ (ایم ای ٹی ڈبلیو) نامی ایک تنظیم کا انعقاد کیا۔ اس تنظیم کے ذریعے افریقی ممالک میں غریبوں کی بنیادی ضروریات کو مکمل کرنے اور مسلمانوں کی تعلیم کے لیے انتظامات کیے گئے۔

سوشل میڈیا پر علی بنات کا ایک ویڈیو بھی وائرل ہے جس کے ذریعے انھوں نے دنیا کو ایک بہترین پیغام دیا ہے۔ علی بنات نے اپنے ویڈیو میں کہا کہ یہ مرض مجھے تحفے میں ملا ہے۔ انھوں نے کہا کہ میں نے غریبوں کی مدد کے لیے جو کام شروع کیا تھا اُس کو آپ لوگ جاری رکھیں۔ علی بنات نے ویڈیو میں کہا کہ میرے پاس گاڑی ہے، پیسہ ہے اور ہر چیز موجود ہے لیکن کینسر کی بیماری کے بعد مجھے اس بات کا اندازہ ہوا کہ انسان کی زندگی میں ان تمام اشیا کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔ گزشتہ ہفتے علی بنات کینسر کے باعث دنیا سے رخصت ہوئے تو ان کے پاس کوئی جائیداد نہیں تھی اور بینک اکاؤنٹ بھی بالکل خالی تھا۔ بنات کے دوستوں اور عزیزوں کا کہنا ہے کہ کینسر کی تشخیص سے قبل وہ انتہائی پرتعیش زندگی گزرتے تھے۔ ان کے پاس دنیا کی مہنگی ترین کاریں تھی اور ان کا عالی شان گھر کسی بادشاہ کے محل سے کم نہیں تھا۔ کینسر تشخیص ہونے کے بعد انہوں نے اپنی تمام دولت غریب بچوں کے علاج پر خرچ کر دی۔
 

میجر جنرل آصف غفور سے وضاحت کی درخواست

$
0
0

فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کی چند دن قبل پریس کانفرنس کے دوران جب سوشل میڈیا کے غیر ذمہ دارانہ کردار پر بات ہوئی تو وہاں موجود صحافیوں کو باقاعدہ ایک چارٹ کے ذریعے دکھایا گیا کہ کیسے ایک نیٹ ورک کے ذریعے ریاست مخالف اور دفاعی افواج کے خلاف باتوں کو آگے بڑھایا جاتا ہے اور بعض اوقات ایسی ریاست مخالف اور افواج مخالف باتیں کرنے والوں کو شاباشی بھی دی جاتی ہے۔ جہاں تک جنرل آصف غفور نے زبانی کلامی بات کی اُس پر تو اعتراض نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ پاکستان دشمن قوتوں کے ساتھ ساتھ بہت سے لوگ سوشل میڈیا کے ذریعے پاکستان اور اس کے اداروں کے خلاف زہر اگلتے ہیں اور پاکستان کو کمزور کرنے کی سازش میں شامل ہیں۔

اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ سوشل میڈیا کو ذمہ دار بنانےکی بہت ضرورت ہے۔ لیکن مجھے اعتراض اُس چارٹ پر ہے جو پریس کانفرنس کے دوران صحافیوں کو دیکھایا گیا اور الزام لگایا گیا کہ چارٹ کے ذریعے دکھائے جانے والے افراد اپنے ٹیوٹر اکاونٹ کے ذریعے ریاست مخالف اور افواج مخالف مواد پھیلاتے ہیں۔ اعتراض کی بات یہ ہے کہ اس چارٹ کے ذریعے پاکستان کے کئی صحافیوں کی تصویریں دکھائی گئیں اور جیو ٹی وی چینلز کا بھی ٹیوٹرہینڈل دکھایا گیا۔ جن صحافیوں کو اس چارٹ کے ذریعے ایک ریاست مخالف نیٹ ورک کا حصہ بنا کر دکھایا گیا اُن میں چند ایک صحافی میرے ساتھ نیوز کے انویسٹیگیشن سیل میں کام کرتے ہیں جن میں عمر چیمہ، وسیم عباسی اور فخر درانی شامل ہیں۔ 

سوچ اورنظریہ کا اختلاف اپنی جگہ لیکن میرے لیے یہ بات کسی طور بھی قابل قبول نہیں کہ اس طرح کسی بھی صحافی کو منفی انداز میں ایک پریس کانفرنس کے دوران فوجی ترجمان کی طرف سے پیش کیا جائے۔ مجھے ان سمیت کئی صحافیوں کے بہت سے ٹیوٹس (یعنی سوشل میڈیا کے پیغامات) یا ری ٹیوٹس سے اختلاف رہتا ہے لیکن اُن میں سے کسی کی بھی حب الوطنی پر مجھے شک نہیں۔ بلکہ یہ سب پاکستان کے لیے درد دل رکھتے ہیں اور اپنے ارد گرد حالات دیکھ کر بعض اوقات سخت لہجہ بھی اختیار کر لیتے ہیں یا کبھی کبھار متنازع بات بھی کر دیتے ہیں لیکن انہیں ایک ایسے نیٹ ورک کا حصہ بنا کر پیش کرنا جو ریاست مخالف یا افواج مخالف ہو قابل مذمت بھی ہے اور قابل افسوس بھی۔

اگر ان میں سے کوئی واقعی کسی ملک دشمن ایجنڈے پر کام کر رہا ہے یا کسی غیر ملکی طاقت کا آلہ کار بنا ہوا ہے اور اس کے ترجمان فوج کے پاس ثبوت ہیں تو پھر ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہیے۔ میں حکومت اور ریاست کا یہ اختیار بھی مانتا ہوں کہ اگر ان میں سے کسی نے بھی اپنے سوشل میڈیا پیغامات کے ذریعے پاکستان کے کسی قانون کی خلاف ورزی کی اور آزادی رائے کو غلط استعمال کیا تو پھر بھی ان کے خلاف قانونی کارروائی کی جانی چاہیے لیکن یہ کوئی طریقہ نہیں کہ کچھ لوگوں کی تصویریں چارٹ پر لگا کر اُنہیں دنیا کے سامنے ایسے رنگ میں پیش کیا جائے جیسے خدانخواستہ وہ غدار ہوں یا ملک دشمن۔ 

میری جنرل غفور سے درخواست ہو گی کہ وہ اس معاملے کی وضاحت کریں کیوں کہ یہ نہ صرف ایک صحافتی ادارہ اور کئی صحافیوں اور کچھ دوسروں کی repute کا معاملہ ہے بلکہ منفی انداز میں پیش کیے جانے پر متعلقہ افراد اور اُن کے خاندانوں کی زندگیاں بھی خطرے میں پڑ سکتی ہیں۔ ہاں اگر واقعی کوئی ثبوت ہے تو پھر میں کہوں گا کہ متعلقہ افراد کے خلاف باقاعدہ ایکشن لیا جائے۔ غداری غداری کا کھیل یہاں پہلے ہی بہت کھیلا گیا۔ محض الزامات کی بنیاد، اختلاف رائے حتی کہ کسی غلط بیان یا پیغام کی وجہ سے دوسرے کی حب وطنی کو ہی مشکوک بنا دینے کے رویےّ کو ہمیں بدلنا ہو گا۔ جو غدار ہے یا ریاست مخالف اُسے پکڑا جانا چاہیے، ثبوت کے ساتھ اُس کو عدالت کے ذریعے سخت سے سخت سزا بھی دلوانی چاہیے۔ 

اگر ایسا نہیں ہوتا تو غداری کا الزام لگانے والوں سے جواب طلب کیا جانا چاہیے۔ ہمارا ماضی ایسی مثالوں سے بھرا پڑا ہے کہ کبھی کسی ایک سیاسی پارٹی تو کبھی کسی دوسری سیاسی جماعت کے رہمنا کو غدار کہا گیا، وہی ’’غدار‘‘ پھر اعلیٰ ترین عہدوں پر بھی فائز رہے۔ عمومی طورپر غداری کے ان الزامات کا نشانہ سول حکمراں، سیاستدان اور صحافی رہے۔ اس کھیل کو اب بند ہونا چاہیے کیوں کہ ایسا نہ ہو کہ حب وطنی کے ہم اپنے اپنے دائرہ کھینچ لیں اور اپنے علاوہ ہر ایک کو اس دائرہ سے باہر نکالنے کی ریس میں پڑ جائیں۔

انصار عباسی


 

آتش فشاں اور ان کی اقسام

$
0
0

لفظ آتش فشاں فارسی سے ماخوذ ہے ( آتش یعنی آگ اور فشان یعنی اگلنے یا برسانے والا) اس سے مراد ایسا مخروطی پہاڑ جس کا دہانہ قیف نما ہو اور جس میں سے گرم مادہ نکلتا ہو۔ دہانے سے راستہ بطن ارض میں گہرائی تک جاتا ہے اور اس کے ذریعے گیس، لاوا اور بھاپ سطح ارض پر برآمد ہوتی ہے۔ آتش فشاں کا پہاڑ ہونا ضروری نہیں۔ دراصل وہ نشیب جس سے مادہ نکلتا ہو وہ بھی آتش فشاں کہلاتا ہے اور برآمد شدہ مادے سے مخروطی پہاڑ متشکل ہو جاتا ہے۔

آتش فشاں پہاڑوں کی فعالیت کے اعتبار سے تین بڑی اقسام ہیں : زندہ آتش فشاں، خفتہ آتش فشاں اور مردہ آتش فشاں۔ جن میں آتش فشانی کا عمل گاہے بگاہے ہوتا رہتا ہے اور لاوا وغیرہ کا اخراج تھوڑے وقفے سے جاری رہتا ہے اور اس عمل میں طویل عرصہ حائل نہیں رہتا زندہ آتش فشاں کہلاتے ہیں۔ ان میں مادے کے اخراج کی رفتار کم زیادہ ہوتی رہتی ہے۔ بعض آتش فشاں خاصے طویل عرصے تک خاموش رہتے ہیں اس کے بعد یکایک آتش فشانی شروع کر دیتے ہیں ان کو خفتہ آتش فشاں کہتے ہیں۔ ایسے آتش فشاں جن سے کسی زمانے میں آتش فشانی ہوتی تھی مگر اب اس کا کوئی امکان نظر نہیں آتا، یہ آتش فشاں مردہ آتش فشاں کہلاتے ہیں۔ دنیا کے اہم ترین آتش فشاں یہ ہیں۔ ویسوویس، اٹلی۔ ایٹنا، اٹلی۔ ماؤنا لوا ریاستہائے متحدہ امریکا۔ اسٹرمبولی، اٹلی۔ فیوجی، جاپان۔ کوٹوپیکسی، ایکواڈور۔ سینٹ ہیلنز، ریاستہائے متحدہ امریکا۔

معروف آزاد


 

مسلمان رہنماؤں کے اعزاز میں صدر ٹرمپ کی دعوتِ افطار

$
0
0

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو رمضان کی مبارک دیتے ہوئے روزے کو "دنیا کے عظیم ترین مذاہب میں سے ایک کا مقدس فریضہ"قرار دیا ہے۔ وہ وائٹ ہاؤس میں مسلمان سفیروں کے اعزاز میں دی جانے والی دعوتِ افطار سے خطاب کر رہے تھے۔ لگ بھگ گزشتہ ڈیڑھ سال سے برسرِ اقتدار صدر ٹرمپ کے دورِ صدارت میں وائٹ ہاؤس کی جانب سے دی جانے والی یہ پہلی دعوتِ افطار تھی جس میں سعودی عرب، کویت، اردن، متحدہ عرب امارات اور دیگر مسلم اکثریت ملکوں کے امریکہ میں تعینات سفیروں اور صدر ٹرمپ کی کابینہ کے ارکان شریک ہوئے۔

وائٹ ہاؤس نے پہلی بار صدر بل کلنٹن کے دور میں ہر سال رمضان میں مسلمانوں کے اعزاز میں دعوتِ افطار دی تھی جس کے بعد سے یہ ایک مستقل سالانہ روایت بن چکی ہے۔ وائٹ ہاؤس میں مسیحیت اور یہودیت سمیت دیگر بڑے مذاہب کے مقدس دنوں کے موقع پر بھی تقریبات منعقد کی جاتی ہیں۔ صدر کلنٹن کے بعد آنے والے صدور جارج ڈبلیو بش اور صدر اوباما بھی اپنے دورِ صدارت کے دوران پابندی سے ہر سال رمضان میں امریکی مسلمان رہنماؤں اور سفیروں کو افطار پر مدعو کرتے رہے۔ یہاں تک کہ 11 ستمبر 2001ء کے دہشت گرد حملوں کے فوراً بعد بھی صدر بش نے وائٹ ہاؤس میں مسلمان رہنماؤں اور نمایاں شخصیات کو افطار پر وائٹ ہاؤس مدعو کیا تھا۔

البتہ گزشتہ سال رمضان میں صدر ٹرمپ نے یہ روایت توڑ دی تھی اور وائٹ ہاؤس میں کسی افطار ڈنر کا انعقاد نہیں کیا گیا تھا۔ اس کے برعکس وائٹ ہاؤس نے عید کے موقع پر محض ایک بیان جاری کیا تھا جو دہشت گردی کے مسئلے اور اس کے مقابلے کی ضرورت پر زور دینے جیسے معاملات پر مرکوز تھا۔ لیکن اس بار اپنی روایت کے برعکس رمضان کے آغاز پر بھی وائٹ ہاؤس نے صدر ٹرمپ کی جانب سے ایک بیان جاری کیا تھا جس میں انہوں نے دنیا بھر کے مسلمانوں کو رمضان کی مبارک باد دی تھی۔ صدر ٹرمپ اپنی انتخابی مہم کے دوران مسلمانوں اور اسلام سے متعلق متنازع بیانات کے باعث مختلف حلقوں کی تنقید کا نشانہ بنتے رہے ہیں۔

ایک موقع پر انہوں نے مسلمانوں کی امریکہ آمد پر مکمل پابندی لگانے کا مطالبہ کیا تھا جب کہ گزشتہ سال انہوں نے برطانیہ کے ایک انتہائی دائیں بازو کی تنظیم کی جانب سے بنائی جانے والی مسلمان مخالف ویڈیوز اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے شیئر کی تھیں۔ وائٹ ہاؤس میں ہونے والی افطار کے مقابلے پر وائٹ ہاؤس کے سامنے پارک میں امریکہ کی بعض مسلمان تنظیموں نے 'ناٹ ٹرمپ افطار'کے عنوان سے احتجاج کیا۔ احتجاج کے دوران مسلمانوں نے وائٹ ہاؤس کے سامنے ہی روزہ افطار کیا۔ احتجاجی افطار کے منتظمین کا کہنا تھا کہ صدر ٹرمپ کے اشتعال انگیز بیانات کے نتیجے میں امریکہ میں مسلمانوں کے ساتھ بدسلوکی اور امتیازی سلوک میں اضافہ ہوا ہے۔

بشکریہ وائس آف امریکہ
 

چینی ہیکرز نے امریکی خفیہ عسکری منصوبے چرا لیے

$
0
0

کیا یہ امریکی فوج کے لیے شرمندگی نہیں؟ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق چینی ہیکرز نے اپنی حکومت کے کہنے پر راکٹ اور آبدوزوں کی تیاری کے امریکی فوجی منصوبے کی تفصیلات چرا لی ہیں۔ چین نے اس تناظر میں فوری رد عمل کا مظاہرہ کیا ہے۔ اخبار واشنٹگن پوسٹ نے لکھا ہے کہ امریکی نیوی کو سامان حرب مہیا کرنے والی ایک کمپنی سے جنوری اور فروری میں بڑے پیمانے پر ڈیٹا چوری کیا گیا تھا۔ ہیک کیے گئے کوائف میں آبدوزوں کے لیے انتہائی تیز رفتار( سپر سونک) ’اینٹی شپ‘ میزائل کی تیاری کے منصوبے بھی شامل ہیں۔

اخبار نے اپنے ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے، ’’چرائی گئی تمام معلومات کو خفیہ مواد کہا جا سکتا ہے۔‘‘ بتایا گیا ہے کہ نیوی نے وفاقی تفتیشی ادارے’ ایف بی آئی‘ کے تعاون سے ان واقعات کی چھان بین شروع کر دی ہے۔ اخبار نے اپنی اس خبر میں اُس کمپنی کا نام نہیں لکھا، جس پر چینی ہیکرز نے سائبر حملہ کیا ہے۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق، ’’یہ کمپنی زیر سمندر سامان حرب کی تیاری میں مہارت رکھتی ہے اور اس کا مرکز امریکی ریاست رہوڈ آئی لینڈ میں قائم ہے۔‘‘

بتایا گیا ہے ’سی ڈریگن‘ نامی منصوبے کی 614 گیگا بائٹ پر مشتمل معلومات چرائی گئی ہیں۔ یہ تمام معلومات ایک غیر محفوظ نیٹ ورک میں موجود تھی۔ اخبار نے مزید لکھا ہے کہ وزیر دفاع جیمز میٹس نے اس کمپنی کی سائبر سکیورٹی کی چھان بین کا حکم دیا ہے۔ ایف بی آئی سے جب اس بارے میں رابطہ کرنے کی کوششش کی گئی تو اس نے کوئی بیان دینے سے انکار کر دیا۔ اس سلسلے میں چینی سفارت خانے نے کہا ہے کہ انہیں اس طرح کے کسی سائبر حملے کا علم نہیں، ’’چینی حکومت قانون کے مطابق ہر قسم کے سائبر حملوں کی مذمت کرتی ہے۔‘‘

بشکریہ DW اردو
 

لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے وعدوں اور دعوؤں میں کتنی حقیقت کتنا فسانہ ؟

$
0
0

نواز شریف نے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کے وعدے پر اپنی انتخابی مہم کی بنیاد رکھی اور مسلم لیگ (ن) کی حالیہ انتخابی مہم میں بھرپور طریقے سے اس چیز کا اعادہ کیا جائے گا کہ یہ وعدہ پورا کیا جا چکا ہے۔ تصور یہ تھا کہ مارچ 2013ء میں بے مثال سطح کو چھونے والی لوڈشیڈنگ کے مسئلے پر انتخابی مہم چلائی جائے اور پھر انتخابات میں کامیابی کے بعد چینی معاونت سے جس قدر ممکن ہو سکے بجلی گھر لگائے جائیں۔ اس سے پہلے کہ وہ وزارتِ عظمیٰ کا حلف اٹھاتے، انہوں نے چین کے وزیرِاعظم لی کی چیانگ سے 23 مئی کو ملاقات کی (انہوں نے حلف 5 جون کو اٹھایا تھا)۔

میٹنگ کے بعد اعلامیہ جاری کیا گیا کہ دونوں ممالک ’اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط کرنے، اقتصادی روابط کو وسعت دینے اور عوام کے عوام سے تعلقات بڑھانے‘ کے لیے تیاری کر رہے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ بھی اعلان کیا گیا تھا کہ چینی وزیرِاعظم نے اس وقت منتخب وزیرِاعظم کو چین کا دورہ کرنے کی دعوت دی تھی۔ یہ دورہ نواز شریف کے حلف اٹھانے کے ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں وقوع پذیر ہوا۔ یہ پہلی مرتبہ تھا جب ہم نے دونوں ممالک کے درمیان کسی 'اقتصادی راہداری'کا سنا تھا جس کے ساتھ ایک 'طویل مدتی منصوبے'پر کام کیا جا رہا تھا۔ نومبر 2014ء میں نواز شریف کے چین کے دوسرے سرکاری دورے کے دوران ان کے اور ژی جن پنگ کے درمیان یادداشت پر دستخط ہوئے جن میں ان تمام توانائی کے منصوبوں کی نشاندہی کی گئی تھی جن میں چین نے سرمایہ کاری کرنی تھی۔

یہ اس منصوبے کے متوازی تھا جو ایک سال پہلے شروع کیا گیا تھا، اور ان منصوبوں کو 'ارلی ہارویسٹ پراجیکٹس'یعنی جلد مکمل ہونے والے منصوبے قرار دیا گیا۔ اس فہرست میں کوئلے، ایل این جی، شمسی اور پن بجلی کے منصوبوں کی ایک قطار شامل تھی جن میں چین نے ’مارکیٹ اصولوں کی پاسداری‘ کرتے ہوئے سرمایہ کاری کرنی تھی تاکہ پاکستان کی بجلی کی طلب و رسد میں موجود خلیج کو پُر کیا جا سکے۔ یہاں سے آگے منصوبہ یہ تھا کہ ان ارلی ہارویسٹ منصوبوں پر فوری کام کرتے ہوئے انہیں اگلے انتخابات سے قبل مکمل کیا جائے اور پھر عوام کے سامنے جاکر کہا جائے کہ ’کیا میں نے لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا وعدہ نہیں کیا تھا ؟ دیکھو، میں نے وعدہ پورا کیا۔ اب مجھے ایک مرتبہ پھر ووٹ دیں تاکہ میں بھوک، غربت اور بے روزگاری کو ختم کروں‘ وغیرہ وغیرہ۔

یہی وجہ ہے کہ ارلی ہارویسٹ منصوبوں کو اس قدر تیز رفتاری سے مکمل کیا گیا ہے۔ اگر انہیں مجموعی طور پر دیکھا جائے تو ان کی وجہ سے ملکی سسٹم میں 10 ہزار میگاواٹ بجلی کی پیداواری صلاحیت کا اضافہ ہوا ہے جو کہ ایک ہی وقت میں ملک کی بجلی کی پیداواری صلاحیت میں سب سے بڑا اضافہ ہے۔ سب کچھ منصوبے کے مطابق جا رہا تھا۔ کراچی میں 2 ایل این جی ٹرمینلز کا منصوبہ بھی تیار کیا گیا تاکہ پنجاب میں زیرِ تکمیل 3 ایل این جی پلانٹس کے لیے ایندھن فراہم کیا جائے۔ صرف میگاواٹس میں اضافہ نہیں بلکہ پیداواری لاگت بھی کم کی جانی تھی۔

مگر پاناما نے اس پورے منصوبے میں رکاوٹ ڈال دی۔ اس کی وجہ سے نواز شریف کو اپنا پورا منصوبہ تیز تر کر کے آگے لے جانا پڑا۔ جی ٹی روڈ پر کی گئی تقریریں سنیں تو آپ سمجھ جائیں گے کہ وہ اصل میں ان کی انتخابی مہم کی تقریریں تھیں جو انہیں اب کرنی چاہیے تھیں۔ ’کیا میں نے وعدہ نہیں کیا تھا کہ میں لوڈشیڈنگ ختم کر دوں گا ؟ کیا ہم یہ وعدہ پورا نہیں کر رہے؟‘ یہ لائن وقت سے پہلے باہر نکالی گئی مگر تب سے لے کر اب تک پارٹی اس پٹری پر چل رہی ہے۔ اسے بجٹ تقریر کے دوران سابق وزیرِ خزانہ مفتاح اسماعیل نے دوبارہ دہرایا۔ ’گزشتہ انتخابات میں ہم نے جو قوم سے سب سے بڑا وعدہ کیا تھا وہ لوڈشیڈنگ ختم کرنے کا تھا، جو کہ آج پورا ہو چکا ہے۔‘

جانے سے پہلے انہوں نے یقینی بنایا کہ سسٹم چلتا رہے۔ ایندھن کی رسد بھی دستیاب رکھی گئی ہے جبکہ توانائی کے شعبے کے کئی شراکت داروں کو 100 ارب روپے کی ادائیگی بھی کر دی گئی ہے تاکہ اہم موقع پر گردشی قرضہ سسٹم کا گلا نہ گھونٹ دے۔ 3 انتہائی اہم ایل این جی منصوبوں کو بھی ان کی تکنیکی مشکلات کے ساتھ ہی فاسٹ ٹریک پر چلایا گیا ہے جس میں سے ایک اب کسی بھی وقت بجلی کی پیداوار شروع کر دے گا۔ آج سسٹم مجموعی طور پر اتنی بجلی پیدا کر رہا ہے جتنی کہ آج تک نہیں کی، یعنی روزانہ 20 ہزار میگاواٹ سے بھی زیادہ۔ مگر پھر نگراں حکومت کو باگ ڈور سونپتے ہی ایک بُرے خواب کی طرح وسیع پیمانے پر لوڈشیڈنگ پھر لوٹ آئی (مگر پھر بھی یہ 2013ء کی ملک گیر لوڈشیڈنگ کے مقابلے میں ایک محدود علاقے میں تھی۔)

غلطی کہاں ہوئی؟
نواز شریف فوراً صفائی دینے پہنچے ’ہم اب لوڈشیڈنگ کے ذمہ دار نہیں ہیں‘ کیوں کہ سسٹم کو چلانا نگراں حکومت کی ذمہ داری ہے۔ ڈیموں میں پانی کی کم آمد کی وجہ سے پن بجلی کی پیداوار محدود ہوئی تھی جب کہ کچھ ایل این جی پلانٹ بھی آن لائن آنے والے تھے۔ منصوبہ کئی طرح سے مضبوط ہے اور شاید کام بھی کر جائے۔ مگر واحد مسئلہ یہ ہے کہ توانائی کے شعبے میں اتنے زیادہ متحرک پرزے ہیں (پیداوار، ترسیل، تقسیم، بلنگ، وصولی، بینکوں، ایندھن کمپنیوں اور آئی پی پیز کو ادائیگی) کہ اگر ایک چھوٹی سی چیز بھی غلط ہو جائے تو اس کے نتائج پورے سسٹم پر مرتب ہوتے ہیں۔ نگراں حکومت کو اقتدار کی منتقلی سے قبل ہم نے اس کی مثال تب دیکھی جب گڈو تھرمل پاور اسٹیشن کے سوئچ یارڈ میں خرابی کی وجہ سے پنجاب کا ایک بڑا حصہ تاریکی میں ڈوب گیا۔

سسٹم زبردست قیمت پر تیار کیا گیا ہے اور اس سے بھی زیادہ اس میں سیاسی فوائد داؤ پر لگے ہیں۔ اب آزمائش کی گھڑی ہے۔ اگر یہ گرمیوں کے دورانیے میں صحیح چل گیا اور انتخابات کے دن بھی چلتا رہا، تو شاید یہ سیاسی قسمتوں کا پانسہ پلٹ دے۔ اگر اس دوران کسی بھی وجہ سے کوئی خرابی پیدا ہوئی، چاہے دانستہ طور پر سبوتاژ کیا جائے یا پھر نادانستہ طور پر (ادائیگیوں میں مسئلہ یا تکنیکی خرابی) تو نواز شریف اور ان کے لوگوں کا وہ پیغام برباد ہو جائے گا جو وہ ووٹروں تک پہنچانا چاہ رہے ہیں۔ وہ کہیں گے، ’ہم وہ لوگ ہیں جو کام مکمل کرتے ہیں، ہم ملک کی بہتری اور بھلائی چاہتے ہیں، کیا آپ کو ہمارے آنے سے پہلے کی تاریک گھڑیاں یاد نہیں؟ اور یہ لوگ ہمیں ایسا کرنے سے روک رہے ہیں کیوں کہ یہ آپ کی بھلائی نہیں چاہتے، کیوں کہ اس سے ان کے مفادات کو خطرہ ہے۔‘ 

انتخابی مہم میں اتنا زور حقوق اور آزادیوں پر نہیں ہو گا جتنا کہ عام آدمی کی زندگی میں مادی بہتریوں پر۔ وہ پوچھیں گے، ’آپ کے لیے کس نے زیادہ ڈیلیور کیا، انہوں نے یا ہم نے؟‘ نواز شریف کو توقع ہے کہ انتخابات پر عدالتی فیصلوں، ٹاک شوز میں ہونے والے شور و غل، تمام شرارتوں اور ارکان کے پارٹی چھوڑنے سے زیادہ اثر اس جواب کا ہو گا جو کہ ووٹر ان کے اس سوال کے ردِ عمل میں دیں گے۔

خرم حسین
یہ مضمون ڈان اخبار میں 7 جون 2018 کو شائع ہوا۔
 

ڈاکٹر سعید اختر اب آپ جا نہیں سکتے

$
0
0

آج کل میڈیا پر سیاسی خبروں کے علاوہ ایک عدالتی نوٹس کا بہت تذکرہ ہو رہا ہے۔ قصہ کچھ یوں ہے کہ "چیف جسٹس پاکستان نے پاکستان کڈنی لیور انسٹیٹیوٹ میں بھاری تنخواہوں کا ازخود نوٹس لیتے ہوئے پی کے ایل آئی کے بجٹ اور بھرتی کیے گئے ڈاکٹرز اور عملے کی تفصیلات پیش کرنے کا حکم دیا ہے۔ عدالت نے پی کے ایل آئی اے میں ملازمین کے سروس اسٹرکچر کی تفصیلات بھی طلب کر لیں جب کہ چیف جسٹس نے کہا کہ چیف سیکرٹری صاحب آج شام تک تمام تفصیلات میرے گھر پر فراہم کی جائیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت کے نوٹس میں آیا ہے کہ 15 ،15 لاکھ روپے پر ڈاکٹروں کو بھرتی کیا گیا ہے، چیف جسٹس نے استفسار کیا کہ پی کے ایل آئی کے سربراہ کون ہیں۔ کمرہ عدالت میں موجود چیف سیکرٹری نے عدالت کو بتایا کہ ڈاکٹر سعید اختر پی کے ایل آئی کے سربراہ ہیں اور وہ عمرے کی ادائیگی کے لئے گئے ہوئے ہیں۔ چیف جسٹس نے کہا کہ سنا ہے ڈاکٹر سعید کی اہلیہ بھی پی کے ایل آئی میں تعینات کی گئی ہیں، عدالت کو تمام تر تفصیلات فراہم کی جائیں "۔ اس خبر کے ساتھ ہی سوشل میڈیا پر ڈاکٹر سعید کے حوالے سے ایک بھیانک مہم کا آغاز ہو گیا جس کا مقصد ڈاکٹر سعید کو ایک نااہل ڈاکٹر کے طور پر پیش کرنا تھا ۔ 

میں یہ کالم کبھی نہ لکھتا اگر میں ڈاکٹر سعید کو ذاتی طور پر نہ جانتا ۔ قریباََ دو سال پہلے رمضان کے مہینے میں ہمارے ایک پرانے مہربان کا فون آیا ۔ یہ وہ صاحب ہیں جو نیکی کے ہر کام میں اپنا نام خفیہ رکھتے ہیں بہت ہی ثروت مند شخصیت ہیں مگر نہایت درد مند دل رکھتے ہیں۔ ان کی بات کا احترام ہم پر واجب رہتا ہے ۔ انہوں نے کہا آج آپ کے گھر کھانا کھائیں گے اور آپ کو ایک لاجواب شخصیت سے ملوائیں گے۔ ان کے ساتھ آنے والی وہ لاجواب شخصیت ڈاکٹر سعید تھے۔ چند لمحوں کی گفتگو میں ڈاکٹر سعید کی وطن سے محبت واضح ہو گئی۔ ڈاکٹر صاحب امریکہ کے نامی گرامی ڈاکٹر تھے اور اپنا سب کچھ چھوڑ کر پاکستان کی محبت میں واپس آئے تھے۔ شفا انٹرنیشنل اسپتال میں آپ نے پاکستان کڈنی انسٹیٹیوٹ قائم کیا جہاں ڈیڑھ لاکھ مستحق مریضوں کا مفت علاج کیا۔ ان تمام غریب مریضوں کو وہی سہولتیں دی گئیں جو شفا انٹرنیشنل جیسے مہنگے اسپتال میں کسی بھی امیر مریض کو حاصل ہوتی ہیں۔

ڈاکٹر صاحب اب پاکستان کڈنی انسٹیٹیوٹ کو پاکستان کڈنی اور لیور اسپتال بنانے چلے تھے۔ ان کے عزم کے مطابق یہ پاکستان بھر میں اپنی نوعیت کا سب سے عمدہ اسپتال ہو گا۔ ڈاکٹر صاحب جس لگن سے اس اسپتال کا ذکر کر رہے تھے اس کے لئے ایک نشست ناکافی تھی۔ ڈاکٹر صاحب نے چند دن کے بعد اپنے گھر دعوت افطار پر دعوت دی۔ وہاں ایک چادر میں لپٹی نہایت سادہ خاتون سے تعارف ہوا یہ ڈاکٹر معصومہ سعید تھیں جو دنیا بھر میں جانی پہچانی انستھیزیسٹ کے طور پر کام کر چکی تھیں اور اب تک ہزاروں پیچیدہ آپریشنز کروا چکی ہیں۔ ڈاکٹر صاحب کی دو صاحبزادیاں بھی ڈاکٹر ہیں اور امریکہ میں مزید تعلیم حاصل کر رہی ہیں۔افطار کی دعوت میں کھجور اور دال چاول تھے جو ڈاکٹر معصومہ نے خود بنائے تھے۔ ہماری دوست شخصیت نے بتایا کہ ڈاکٹر سعید اپنے امریکہ کے قیام میں ایک ماہ میں کئی کروڑ روپے کماتے تھے اور ان کے پاس اپنا ایک چار نشستوں والا ہائی پرفارمنس سیسنا جہاز بھی تھا ۔

ڈاکٹر صاحب کی سادگی دیکھ کر یقین نہیں آتا تھا مگر انکے علم و فضل کو دیکھ کر یہ لگتا تھا کہ یہ رقم انکے تجربے کے حوالے سے کم تھی۔ ڈاکٹر صاحب اپنی دھن میں نئے پروجیکٹ کا ذکر کرتے رہے کہ زمین کا انتظام تو وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے کر دیا ہے بس اب جلدی سے تعمیر مکمل ہو جائے تو ہزاروں مریضوں کا فائدہ ہو۔ ڈاکٹر صاحب نے اس ملاقات میں بھی اپنے اسپتال کے خواب کے علاوہ کوئی اور بات نہیں کی بس ایک جنون کے عالم میں پاکستان سے اپنے عشق کا ذکر کرتے رہے اور بتاتے رہے کس طرح ایک دن ان کی کایا پلٹ گئی اور انہوں نے سوچا بہت کما لیا اب وطن کی خدمت کے لئے باقی زندگی وقف کی جائے۔ ڈاکڑ صاحب کی گفتگو میں قرآن کریم کی آیات کا ذکر مسلسل رہا اور اس بات پر زور رہا کہ انسان کو اللہ کی مخلوق کی خدمت میں پہل کرنی چاہئے۔ خصوصاً وہ اس حدیث کا ذکر کثرت سے کرتے رہے مخلوق اللہ کا کنبہ ہے۔

ڈاکٹر سعید کے زیر نگرانی لاہور میں تعمیر ہونے والا پاکستان کڈنی اور لیور اسپتال معیار کے اعتبار سے پاکستان کا ہاورڈ کہلایا جا سکتا ہے۔ جے سی آئی کے بین الاقوامی معیار پر پورا اترنے والا یہ پہلا اسپتال ہو گا۔ ابتدا میں اس میں چار سو ستر بیڈ کا انتظام ہو گا اور تکمیل کے بعد بیک وقت پندرہ سو مریض داخل کئے جا سکیں گے۔ اس اسپتال کی خاص بات اس کی ٹیچنگ اور شعبہ تحقیق ہے جو ایشیا میں اپنی مثال ہو گی۔ پنجاب حکومت کی شعبہ صحت میں اس بڑی کامیابی کا چرچا بہت ہی کم کیا گیا ہے۔ چیف جسٹس کے نوٹس کے بعد میں نے بڑی مشکل سے ہمت کر کے اس فرشتہ سیرت انسان کو فون کرنے کی ہمت کی تو ڈاکٹر صاحب کو ہمیشہ کی طرح حوصلہ مند پایا۔ میں جانتا تھا کہ وہ امریکہ میں کتنا کماتے تھے اس لئے سوال کرتے حجاب آیا کہ آپ کی تنخواہ پر جو اعتراضات اٹھائے جا رہے ہیں وہ کتنے رکیک ہیں مگر ڈاکٹر صاحب نے خود ہی بتا دیا کہ پاکستان میں بھی باہر سے آنے والے ڈاکٹر اس سے کہیں زیادہ تنخواہ پر کام کر رہے ہیں ۔

خود شوکت خانم میں ایک ڈاکٹر صاحب تیس لاکھ روپیہ تنخواہ لے رہے ہیں۔ ڈاکٹر سعید نے یہ بھی بتایا کہ وہ حکومت سے اپنی تنخواہ صرف تین سال لیں گے اور اسکے بعد اس اسپتال کے تمام تر اخراجات اسپتال سے ہی پورے ہوں گے۔ ڈاکٹر سعید نے یہ بھی بتایا کی سوشل میڈیا کی رکیک مہم کے برعکس انکی اہلیہ کے سوا انکے خاندان کا کوئی شخص اس اسپتال میں ملازمت نہیں کر رہا۔ ڈاکٹر صاحب نے اپنی گواہی دینے کے لئے ٹیکساس ٹیک یونیورسٹی کے حالیہ چیئر مین ڈاکٹر ورنر کا خط بھی منگوا لیا جس میں اس بات کی تصدیق کی گئی تھی کہ انیس سو چھیانوے میں ڈاکٹر سعید شعبہ یورالوجی کے چیئرمین تھے۔

ڈاکٹر سعید تین سال سے اس اسپتال کے پروجیکٹ سے وابستہ ہیں اور ان تین سالوں میں انہوں نے اسپتال سے ایک روپیہ بھی نہیں لیا بلکہ تمام دنیا میں اس اسپتال کی پبلسٹی کے لئے تمام دورے بھی اپنی جیب سے کئے۔ امریکہ میں ایک ماہ میں کروڑوں کمانے والے ڈاکٹر سعید آج کل لاہور میں ایک گیسٹ ہائوس کے کمرے میں اپنی اہلیہ کے ساتھ رہتے ہیں جس کا کرایہ اور تمام تر اخراجات وہ اپنی جیب سے ادا کرتے ہیں۔ ہم نے ڈاکٹر سعید اختر جیسے انسان کے ساتھ جو سلوک کیا وہ درست نہیں مگر حوصلہ ہے ان کا جو اب بھی کہہ رہے تھے کہ اللہ پاک جب مشکل دیتا ہے تو آسانی بھی عطا کرتا ہے۔ ڈاکٹر صاحب نے اور بھی کچھ کہا ہو گا مگر ان کے حوصلے کی تاب میں نہ لا سکا اور بس اتنا کہہ کر فون بند کر دیا کہ ڈاکٹر صاحب ان حالات سے پریشان ہو کر ملک نہ چھوڑ جائیے گا ۔ ہزاروں مستحق مریض ان نوٹسز سے بے خبر آپ کی راہ تکتے ہوں گے ۔ شفا کو ترستے ہوں گے۔ آپ کو ان غریب مریضوں کی قسم اب آپ یہ ملک چھوڑ کر جا نہیں سکتے۔ 

عمار مسعود
 


جنرل صاحب بالکل درست ہیں

$
0
0

ایسا شاید پہلی بار ہوا کہ عسکری تعلقاتِ عامہ کے ذمہ دار ایک فل میجر جنرل (آصف غفور) کو نام لے کر وضاحت کرنا پڑی کہ خاتون صحافی گل بخاری کو فوج نے اغوا نہیں کیا اور اس واقعے کی تحقیقات ہونی چاہیے۔ گذشتہ ہفتے میجر جنرل آصف غفور نے پریس بریفنگ میں ایک چارٹ پر آویزاں کچے کانوں والے کچھ منہ پھٹ صحافیوں کی چسپاں تصاویر کی جھلک کراتے ہوئے کہا تھا کہ ہم ان کی سوشل میڈیا سرگرمیوں سے واقف ہیں۔ بعد ازاں جنرل صاحب نے وضاحت کی کہ اس چارٹ کا مقصد صحافیوں کو موردِ الزام ٹھہرانا نہیں ہے۔ یہ محض حسنِ اتفاق ہے کہ جنرل صاحب کی سوشل میڈیا سرگرمیوں پر نگاہ رکھنے والی پریس بریفنگ کے اگلے روز ہی گل بخاری چند گھنٹے کے لیے غائب ہو گئیں۔ چونکہ گل بخاری بھی جارحانہ ٹویٹ کاری کے لیے جانی جاتی ہیں لہذا برطانوی ہائی کمیشن سمیت کئی یار لوگوں نے اس کے ڈانڈے جنرل صاحب کی پریس بریفنگ سے ملا دیے۔

جنرل صاحب کا بیان مزید جامع اور آئینے کی طرح شفاف ہو جاتا اگر وہ ہم جیسے موٹے دماغ والے صحافیوں کو بس سمجھانے کی غرض سے یہ وضاحت بھی کر دیتے کہ صرف فوج ہی نہیں بلکہ اس سے متعلقہ آئی ایس آئی اور ایم آئی سمیت کوئی بھی حساس ادارہ آئین و ملکی قوانین کے دائرے میں ہی کام کرتا ہے اور گل بخاری سمیت کسی بھی پاکستانی شہری کو جبری طور پر اٹھانے یا غائب کرنے پر یقین نہیں رکھتا۔ اس حوالے سے اندرونی و بیرونی ذرائع ابلاغ میں جو تاثر ہے وہ سراسر بے بنیاد ہے۔ جعلی نمبر یا بغیر نمبر پلیٹ یا کالے شیشے والی ایک ہی رنگ و نسل کی ویگو گاڑیوں سے ہمارا کوئی تعلق نہیں۔ اگر آئندہ کسی علاقے میں ایسی گاڑیاں مشکوک گھومتی یا کسی دستاویزی ثبوت کے بغیر کسی شہری کو سڑک، گھر یا دفتر سے جبراً اٹھاتی نظر آئیں تو فلاں فلاں ایمرجنسی نمبر پر فوری اطلاع دیں۔

اگر مقامی تھانیدار ایسے واقعات کی رپورٹ درج کرنے میں آنا کانی کرے تو مجھے (جنرل صاحب کو) براہِ راست اس ای میل ایڈریس اور اس ٹویٹر ہینڈل پر مطلع کریں تاکہ ایسے قانون شکن واقعات کو بروقت روکنے میں بحیثیت ایک قومی ادارہ ہم سے جو ممکن ہو کر پائیں۔ اس بارے میں کوئی بھی شہری فوج یا نیم فوجی یا حساس اداروں سے تعاون کرنے سے نہ ہچکچائے کیونکہ ایسے عناصر کی نشاندہی اور سرکوبی ہم سب کا قومی فرض ہے جن کی حرکتوں کی وجہ سے کسی بھی قومی یا حساس ادارے کی شہرت پر سوال اٹھے۔

ویسے تو جنرل صاحب کئی بار ہم جیسے کوڑھ مغز لکھاریوں کی سہولت کے لیے دہرا چکے ہیں کہ ان کا ادارہ تعمیری تنقید اور ملکی قوانین کے تحت حاصل اظہار کی آزادی کا احترام کرتا ہے مگر آج کل کے حالات میں ایک بار پھر ایک باضابطہ یقین دہانی کی اشد ضرورت ہے۔ کیونکہ کچھ نیم محبِ وطن عناصر ایسی بے پر کی زیادہ ہی اڑا رہے ہیں کہ فلاں چینل کے اینکر، زید میڈیا گروپ یا سرکردہ میڈیا سیٹھ حاجی اللہ دتہ کی پشت پر فلاں حساس ادارے کا ہاتھ ہے، بکر کیبل گروپ کو نامعلوم نمبروں سے کوئی حساس افسر بن کے ڈراتا ہے کہ اگر تم نے فلاں چینل کو ایک گھنٹے میں نہیں اتارا تو کوئی تمہیں نہ اتار دے۔

بحیثیت شہری کم ازکم میں نہیں چاہوں گا کہ کوئی نامعلوم نمبروں کا استعمال کر کے بطور مسٹر فلاں فلاں پاکستانی میڈیا اور شہریوں کو ڈراتا پھرے اور پھر غیر محبِ ڈھنڈورچی اس کی آڑ میں پاکستان کے ایسے کلیدی اداروں کو چار دانگِ عالم بدنام کرتے پھریں کہ جو پہلے ہی اس ملک کے جغرافیائی و نظریاتی تحفظ کے لیے دن رات چومکھی لڑ رہے ہیں اور سب سے زیادہ قربانیاں دے رہے ہیں۔ بلکہ میں تو یہ تجویز دوں گا کہ فوج اور متعلقہ سول ادارے میجر جنرل آصف غفور یا انہی کے ہم پلہ کسی باصلاحیت افسر کی سربراہی میں تمام ضروری سہولتوں سے لیس ایک ایسا ادارہ بھی تشکیل دیں جو پاکستانی شہریوں کو نامعلوم گاڑیوں میں ڈال کر لے جانے والی ’خلائی مخلوق‘ نیز میڈیا اور کیبل آپریٹرز کو دھمکیاں دینے والے عناصر کی بروقت شناخت کر کے انھیں انصاف کے کٹہرے میں لا سکے۔ 

یوں ہم سب ڈٹ کر اس ملک دشمن غلیظ پروپیگنڈے کا ایمنسٹی، ہیومین رائٹس واچ اور اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کے فورم پر نگاہیں نیچی کیے بغیر مدلل جواب دے سکیں کہ ہمارے ادارے بالخصوص حساس ادارے آئین و قانون سے ماورا ہیں۔

وسعت اللہ خان
تجزیہ کار

بشکریہ بی بی سی اردو
 

ہندوستانی آبی جارحیت پر ورلڈ بینک کی معنی خیز خاموشی

$
0
0

 کشن گنگا ہائیڈرو الیکٹرک پاور پلانٹ کے مسائل حل کرنے میں ناکامی اس وقت عیاں ہوئی جب ہندوستانی وزیرِ اعظم نریندرا مودی نے 19 مئی 2018 کو ہندوستان کے زیرِ انتظام کشمیر میں کشن گنگا پراجیکٹ کا افتتاح کیا۔ اقدام کے ردِ عمل میں پاکستانی حکام فوراً واشنگٹن میں ورلڈ بینک کے ہیڈ کوارٹرز پہنچے اور کم اونچائی کے اسپل ویز اور پلانٹ آپریشنز سے متعلق تکنیکی اعتراضات حل کرنے کے بغیر ہندوستان کی جانب سے منصوبے کی تکمیل پر اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا۔

ورلڈ بینک نے دسمبر 2016 میں پاکستان کی درخواست پر ثالثی عدالت کے چیئرمین کی تقرری اور ہندوستان کی ایک غیر جانبدار ماہر کی تعیناتی کی درخواست کو بظاہر "سندھ طاس معاہدے کے دونوں ممالک کے مفاد میں تحفظ کے لیے"'روک'دیا تھا تاکہ دونوں ممالک کشن گنگا پراجیکٹ اور رتلے ہائیڈرو الیکٹرک پلانٹ پر اپنے مسائل حل کر سکیں۔ اس دوران ہندوستان نے وقفے کا فائدہ اٹھا کر اور ڈیڈ لاک کے اختتام میں ہونے والے التوا کا فائدہ اٹھا کر منصوبہ تبدیلیاں کیے بغیر مکمل کر لیا جس کی وجہ سے تنازع شدت اختیار کر گیا ہے۔

ورلڈ بینک کے سندھ طاس معاہدے کا ضامن ہونے کی جو عمومی غلط فہمی پائی جاتی ہے وہ اس لیے غلط ہے کیوں کہ بینک کا معاہدوں سے متعلق کوئی کردار متعین نہیں ہے سوائے اس صورت کے کہ جب فریقین تصفیے پر پہنچنے میں ناکام رہیں تو وہ یا تو غیر جانبدار ماہر کی تقرری کرے، یا پھر یہ کہ ورلڈ بینک کے صدر کی جانب سے ثالثی عدالت کے چیئرمین کی تقرری کی جائے۔ دونوں ممالک کی جانب سے تنازعے کے حل کے لیے مختلف آپشنز کی خواہش پر پیدا ہونے والا مسئلہ سمجھنا اس لیے مشکل ہے کیوں کہ ثالثی عدالت کی جانب سے کشن گنگا پارشل ایوارڈ میں اس سوال پر بحث ہوچکی ہے اور اسے نمٹا دیا گیا ہے۔

پاکستان کی جانب سے اٹھائے گئے مسائل پر کس طریقہ کار کا اطلاق ہو گا، اس پر ہندوستانی مؤقف دو ٹوک نہیں ہے۔ پہلے ہندوستان نے تکنیکی مسائل کے مستقل انڈس کمیشن کی سطح پر غیر جانبدار ماہر کی اہلیت تسلیم کرنے سے انکار کیا کیوں کہ ہندوستان کے مطابق کشن گنگا منصوبہ سندھ طاس معاہدے کے عین مطابق ہے۔ پھر اس نے کہا کہ ڈراڈاؤن فلشنگ (ریت جمع ہونے کو کنٹرول میں رکھنے کی ایک تکنیک) کا سوال ثالثی عدالت کے سامنے پیش نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ یہ ان تکنیکی سوالوں میں سے ہے جو غیر جانبدار ماہر طے کریں گے۔ پارشل ایوارڈ میں عدالت نے کہا کہ "کمیشن میں مستقلاً یہ مؤقف اختیار کرنے کی وجہ سے کہ فریقین میں فرق موجود نہیں ہے، ہندوستان اب یہ نہیں کہہ سکتا کہ دوسرا تنازع واقعی ایک فرق ہے۔"

فریقین کا معاندانہ تعلق سندھ طاس معاہدے کی ڈرافٹنگ کے وقت مدِ نظر رکھا گیا تھا چنانچہ دیباچے میں زور دیا گیا ہے کہ "تمام شقوں پر اتفاق کے بعد ان کی تشریح یا ان کے اطلاق پر کوئی بھی سوال پیدا ہوں تو باہمی تعاون کے جذبے کے تحت تصفیے کے حل کے لیے گنجائش"پیدا کی جانی چاہیے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے معاہدہ تنازعات کے حل کے لیے ایک جامع فریم ورک فراہم کرتا ہے جس میں تیز تر حل کے لیے دقیق شقوں سے پہلوتہی کی گئی ہے۔ تنازعات کے حل کے لیے دونوں طریقہ کار پر جامع اور باریک بینی سے بحث ہوئی ہے اور عدالت نے پایا کہ معاہدے میں ایسا کچھ نہیں جو عدالت کو تکنیکی نوعیت کے سوالات پر غور کرنے سے روکے۔ اب جبکہ ثالثی عدالت قائم کرنے کا مرحلہ تقریباً مکمل ہو چکا ہے تو ہندوستان کی جانب سے غیر جانبدار ماہر کی تقرری کی درخواست کو صرف مرحلے میں ایک طریقہ کار کی رکاوٹ اٹکا کر تعطل کا شکار کرنے کی کوشش کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

اس سے بھی اہم یہ بات ہے کہ معاہدے کی شق 9 (الف) واضح انداز میں بتاتی ہے کہ ایک باقاعدہ قائم کی گئی ثالثی عدالت ایسے کسی بھی سوال پر غور کر سکتی ہے جو کہ "معاہدے کی تشریح یا اطلاق سے متعلق ہو، یا کسی ایسی حقیقت سے متعلق جو اس معاہدے کی خلاف ورزی کا سبب بنے۔" ورلڈ بینک کی نیت شاید درست ہو مگر اس مخصوص موقع پر اس کے رویے نے یقیناً اس مرحلے اور معاہدے کی اثر انگیزی کو نقصان پہنچایا ہے۔ اس کے علاوہ اس بات کی کوئی توجیہہ پیش نہیں کی جا سکتی کہ ہندوستان کی جانب سے منصوبے پر تمام تنازعات کے حل تک کام روک دینے کی ضمانت نہ ہونے کے باوجود اس مرحلے کو 18 ماہ تک کیوں تعطل میں رکھا گیا۔

کشن گنگا منصوبے میں دریائے کشن گنگا/نیلم کے پانیوں کو 23.24 کلومیٹر طویل سرنگ کے ذریعے ایک اور کینال میں لے جانے اور وہاں سے دریائے جہلم میں چھوڑنے کا منصوبہ شامل ہے۔ پاکستان کو یہ پانی تب ملے گا جب یہ لائن آف کنٹرول سے چکوٹھی کو پار کے، مگر بہاؤ کا وقت اور اس کی مقدار اس منصوبے اور جہلم پر ہندوستان کے دیگر منصوبوں کی وجہ سے متاثر ہو سکتی ہے۔ مگر رخ موڑنے کی وجہ سے بنیادی طور پر متاثر ہونے والوں میں وادیءِ نیلم کے لوگ اور اس کا ماحول ہے۔ اس وادی کے لوگوں کی اقتصادی فلاح اور ترقی دریائے نیلم پر ہے جو کہ پائیدار معاشی ترقی کو سہارا دینے میں ناکام ہو جائے گا۔ 

اس قدرتی وسیلے میں کمی کی وجہ سے عدم مساوات میں اضافہ ہو گا، غربت بڑھے گی اور تنازعات پیدا ہوں گے۔ اخباری رپورٹس سے اندازہ ہوتا ہے کہ لائن آف کنٹرول کے دوسری جانب بھی ایسے ہی خدشات اور عدم اطمینان پایا جاتا ہے کیوں کہ کشن گنگا سے پیدا ہونے والی 88 فیصد بجلی قومی گرڈ میں جائے گی۔
ویسے تو ہندوستانی ماہرین کے مطابق کشن گنگا منصوبہ معاشی طور پر فائدہ مند نہیں ہے، مگر یہ ہندوستان کے لیے اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے کیوں کہ اس سے جموں کشمیر کی زمین اور وسائل پر ہندوستانی کنٹرول کا اعادہ ہوتا ہے۔ نیت چاہے جو بھی ہو اور چاہے یہ کتنا ہی اخلاقی کیوں نہ ہو، مگر ہندوستان بین الاقوامی قانون کے تحت پابند ہے کہ وہ اپنے پلانٹس ایسے ڈیزائن اور آپریٹ کرے کہ ان سے پاکستان کو نقصان یا ضرر نہ پہنچے۔

کہہ سکتے ہیں کہ پاکستان بروقت اقدام نہ اٹھانے کے لیے ذمہ دار ہے مگر اس کا شور بے جا نہیں ہے کیوں کہ مغربی دریاؤں پر ہندوستان کے ڈیم خاصی مقدار میں پانی کا بہاؤ روکیں گے۔ زمینی تنازع بہت ہی باریکی سے دو طرفہ تعلقات میں گندھا ہوا ہے جس کی وجہ سے معاہدے کے مسائل پر جامع تصفیے کی راہ نہیں نکلتی، چنانچہ یہ بیرونی شراکت داروں کے لیے ضروری ہے کہ وہ دونوں ممالک کو تعاون تک لانے کے لیے مخلصانہ کوششیں کریں۔ معاہدے کے دیباچے میں موجود مقاصد کے حصول کے لیے دونوں فریقوں کے عزمِ مصمم کی اتنی ضرورت کبھی نہیں رہی جتنی کہ آج ہے۔ موسموں کی شدت اور پانی کی کمی کی وجہ سے دونوں ممالک کے لوگوں کی زندگیاں اور سماجی و اقتصادی فلاح اور ترقی خطرے کا شکار ہے۔ قدرت دونوں پڑوسی ممالک کو امن پر غور کرنے کے لیے مجبور کر رہی ہے کہ اگر یہ دونوں ساتھ مل کر کام کریں گے تو موسمیاتی تبدیلی سے ہونے والے نقصان سے بچ پائیں گے۔

ورلڈ بینک کو بھی جانبدار تصور کیا جا سکتا ہے؛ ورلڈ بینک کے اداروں میں ووٹنگ پاور کے حساب سے ساتویں نمبر پر موجود ہندوستان پالیسی اور فیصلہ سازی میں پہلے نمبر پر موجود امریکا کے ساتھ بے پناہ سیاسی اثر و رسوخ رکھتا ہے۔ ورلڈ بینک کو اس کے اسٹاف کی سیاسی وابستگیوں اور اس کے وسیع تر کاروباری مفادات سے آگے بڑھ کر اس مشکل کے اختتام کے لیے حل نکالنا ہوگا ورنہ اسے اس تکلیف دہ ورثے کے لیے یاد رکھا جائے گا۔

شامیلہ محمود

یہ مضمون ڈان اخبار میں 8 جون 2018 کو شائع ہوا۔

لکھاری دی ہیگ میں ثالثی عدالت میں کشن گنگا معاملے پر حکومتِ پاکستان کی قانونی مشیر تھیں۔
 

ٹرمپ اور کِم سربراہ ملاقات کے لیے سنگاپور پہنچ گئے

$
0
0

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ شمالی کوریا کے لیڈر کِم جونگ اُن سے ملاقات کیلئے  سنگاپور پہنچ گئے۔ توقع ہے کہ اس ملاقات سے شمالی کوریا کے خلاف اُس کے جوہری ہتھیاروں سے متعلق تنازعے کو کم کرنے میں مدد ملے گی۔ ​صدر ٹرمپ کینیڈا کے شہر کوبیک میں جی سیون سربراہ اجلاس میں شرکت کے بعد وہاں سے براہ راست ایئر فورس ون جہاز میں سنگاپور کے پایا لیبار ایئر بیس پہنچے۔ سنگاپور کے وزیر خارجہ ویوین بالاکرشنن نے اُن کا استقبال کیا۔ ایک رپورٹر نے جب اُن سے پوچھا کہ شمالی کوریا کے لیڈر کے ساتھ ہونے والی ملاقات کے حوالے سے وہ کیا محسوس کر رہے ہیں تو صدر ٹرمپ نے جواب دیا، ’’بہت اچھا۔‘‘

اُدھر شمالی کوریا کے لیڈر کِم جونگ اُن بھی صدر ٹرمپ سے پہلے سنگاپور پہنچے۔ اپنی آمد کے کچھ ہی دیر بعد شمالی کوریا کے لیڈر نے سنگاپور کے وزیر اعظم لی سئینگ لون سے ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران کِم جونگ اُن نے امریکی صدر سے ملاقات کی میزبانی کرنے اور اس کیلئے شاندار انتظامات کرنے پر سنگاپور کے وزیر اعظم کا شکریہ ادا کیا۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ اگر یہ ملاقات کایاب رہی تو اس کا انعقاد کرنے کے حوالے سے سنگاپور کا نام تاریخ میں جلی حروف کے ساتھ لکھا جائے گا۔

اُدھر سنگاپور کی وزارت خارجہ کی طرف سے جاری ہونے والے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ وزیر اعظم لی نے ملاقات کا دلیرانہ اور قابل تعریف فیصلہ کرنے پر کِم اور امریکی صدر ٹرمپ کی تعریف کی اور اُمید ظاہر کی کہ اس ملاقات کے نتیجے میں جزیرہ نما کوریا اور پورے خطے میں قیام امن کے سلسلے میں مدد ملے گی۔
سنگاپور کے وزیر اعظم کل پیر کے روز صدر ٹرمپ سے بھی ملاقات کریں گے۔
صدر ٹرمپ اور چیئرمین کِم جونگ اُن منگل کے روز سنگاپور بندرگاہ کے قریب واقع ریزارٹ جزیرے سین توسا میں تاریخی ملاقات کریں گے۔ یہ جزیرہ سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہے اور یہاں یونیورسل اسٹوڈیو کا تھیم پارک اور کئی مصنوعی ساحل موجود ہیں۔
 

شمالی کوریا کے سربراہ کی گاڑی کے گرد دوڑتے باڈی گارڈز

$
0
0

سنگاپور میں شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ اُن کی گاڑی کے گرد دوڑتے 12 باڈی گارڈز توجہ کا مرکز بن گئے ۔ شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان ملاقات کے لیے اپنی لیموزین میں ٹرمپ سے پہلے ہوٹل پہنچے، گاڑی کے گرد ایک جیسے سوٹ پہنے، دوڑتے بارہ باڈی گارڈز توجہ کا مرکز بن گئے۔ شمالی کوریا میں مسٹر کِم کے قریبی باڈی گارڈ ان کے گرد تین حصاربناتے ہیں، سنگاپور میں سب کی نگاہیں سیاہ سوٹ میں ملبوس انہی افراد پر ٹکی ہیں. 

ان گارڈز کا انتخاب کورین پیپلز آرمی سے کیا جاتا ہے۔ ان کی اسکواڈ میں بھرتی کے لئے چند باتوں کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ حکام ان گارڈز کو ترجیح دیتے ہیں جن کا قد کم جونگ اُن کے برابر ہو،ان کی نظر شاندار ہو۔ نشانہ بازی اور مارشل آرٹ کے ماہر ہوں، یہ ہی نہیں ان کے ماضی کو بھی اچھی طرح پرکھا جاتا ہے۔
سفر کے دوران کم کی خوراک کی ذمےداری بھی ان ہی پر ہوتی ہے، یہ گارڈزکم کے پاس جانے والی ہر کھانے پینے والی چیز کو پرکھتے ہیں۔
 

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور جی سیون

$
0
0

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اپنی انتخابی مہم میں جس نوعیت کے اشتعال انگیز بیانات دے رہے تھے بعض مبصرین کا خیال تھا کہ صدر بننے کے بعد زمینی حقیقتوں کا ادراک کرتے ہوئے وہ اپنے فیصلوں میں لچک پیدا کریں گے لیکن یہ گمان عملی صورت اختیا ر نہ کر سکا۔ برسر اقتدار آنے کے بعد ٹرمپ عالمی و علاقائی سطح پر مسلسل غیر ذمہ دارانہ طرز عمل اپنا کر امریکہ جیسی سپر طاقت کیلئے مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ اور اب حالیہ دنوں صدر ٹرمپ کا جی سیون اعلامیے پر دستخط سے انکار اور کینیڈین وزیراعظم کیلئے غیر سفارتی اور سخت الفاظ کا چنائو ان کے تسلسل سے اپنائے گئے غیر دانشمندانہ رویے کی ہی ایک کڑی ہے جس سے یقیناً امریکی مفادات بھی متاثر ہوں گے۔

تفصیلات کے مطابق کینیڈا میں ہونے والے سات ترقی یافتہ ممالک گروپ کے 44 ویں اجلاس میں تجارتی معاملات کے علاوہ روس اور ایران کے معاملات زیر غور آئے۔ امریکی صدر کانفرنس کے اختتام سے قبل ہی سنگا پور روانہ ہو گئے جہاں سے انہوں نے ٹوئٹر کے ذریعے مشترکہ اعلامیے پر دستخط سے یہ کہتے ہوئے انکار کر دیا کہ ہم دیگر ممالک کو امریکی کمپنیوں اور کسانوں پر بے جا ٹیکس نہیں لگانے دیں گے۔ امریکی صدر نے مطالبہ کیا کہ تمام تجارتی پابندیاں، ٹیکس ، سبسڈیز ختم ہونی چاہئیں، جو ممالک امریکی تجارتی پالیسی کی مخالفت کر رہے ہیں وہ غلطی پر ہیں۔

اس کے ساتھ ہی ٹرمپ نے کینیڈین وزیراعظم کے بارے میں بھی سخت زبان استعمال کی جس پر وزیراعظم ٹروڈو نے کہا کہ امریکی ٹیرف کے ردعمل میں کینیڈا بھی جولائی سے امریکی مصنوعات پر محصولات عائد کرے گا۔ امریکی صدر کے اس غیر متوازن اور غیر یقینی طرزعمل کی تمام یورپی ممالک نے مذمت کی ہے اورکئی اخبارات میں ٹرمپ کو ضدی بچے سے تعبیر کرتے ہوئے کارٹون بھی شائع ہوئے ہیں۔ دیکھا جائے تو صدر ٹرمپ کے یہ اقدامات عالمی سطح پر امریکہ کیلئے بھی جگ ہنسائی کا سبب بن رہے ہیں اس پہلو پر امریکی اداروں اور عوام کوبھی توجہ دینا ہو گی ۔

اداریہ روزنامہ جنگ
 

میزائل سسٹم گودام میں رکھنے کیلئے نہیں لیں گے : ترک صدر اردوان

$
0
0

ترک صدر رجب طیب اردوان نے اعلان کیا ہے کہ ہم روس سے ایس 400 میزائل سسٹم گودام میں رکھنے کے لیے نہیں لے رہے ضرورت پڑی تو طیارہ شکن میزائل سسٹم کا استعمال کریں گے ۔ ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ ہم دفاعی نظام کے لیے امریکا پر انحصار نہیں کریں گے ہم کئی سالوں سے امریکا سے دفاعی نظام کا مطالبہ کر رہے ہیں لیکن ان کا جواب ہے کہ کانگریس اجازت نہیں دے رہی اس جواب سے ہمیں سخت تکلیف ہوئی ہے ۔ انہوں کے کہا کہ روس نے ہماری پیش کش کا بہت خوبصورت جواب دیا اور اس نظام کے لیے آسان قرضوں کی پیش کش بھی کی۔

ایک ٹی وی پروگرام میں بات چیت کرتے ہوئے اردوان نے کہا کہ ہم ضرورت پڑنے پر اس نظام کا استعمال کریں گے۔ واضح رہے کہ روس اور ترکی کے درمیان میزائل شکن نظام ایس 400 کی فروخت کے لیے دسمبر میں مذاکرات ہوئے تھے، ترکی نیٹو کا ممبر بھی ہے اس معاہدے سے نیٹو ممالک نے اپنی تشویش کا اظہار کیا ہے ۔ ترکی نے میزائل سسٹم کے لیے پہلے مغربی ملکوں اور امریکا سے رابطہ کیا تھا لیکن ان کے انکار پر روس سے رابطہ کیا گیا اور یہ معاہدہ عمل میں آیا ۔
 

ٹرمپ کِم ملاقات ہاتھ ملانے سے زیادہ کچھ نہیں

$
0
0

پاکستان کے سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا کہنا ہے کہ سنگاپور میں امریکی صدر اور شمالی کوریا کے رہنما کی ملاقات ہاتھ ملانے سے زیادہ کچھ نہیں اور صدر ٹرمپ کو لگتا ہے کہ اوباما کی طرح نوبیل امن انعام مل جائے۔ بی بی سی اردو کے پروگرام سیربین سے بات کرتے ہوئے ڈاکٹر قدیر خان نے کہا ’دونوں چور ایک دوسرے کو ہاتھ لگا رہے ہیں۔‘ انھوں نے کہا کہ ’شمالی کوریا کو چین اور روس سے کہا گیا ہو گا کہ مل لو دکھاوے کے لیے کوئی حرج نہیں ہے اور دوسری طرف ٹرمپ کو ہو گا کہ اوباما کی طرح کی نوبیل امن انعام مل جائے۔‘

انھوں نے کہا کہ نہ تو شمالی کوریا اپنی صلاحیت سے ہاتھ دھونے کو تیار ہو گا اور نہ ہی امریکہ کوئی ایسی چیز دے گا جس کی امید شمالی کوریا کو ہے۔ ایک سوال کے جواب میں ڈاکٹر عبدالقدیر نے کہا کہ شمالی کوریا امریکہ کے کسی وعدے پر اعتبار نہیں کرے گا۔  دونوں ہاتھ بھی ملائیں گے، مسکرائیں گے بھی اور ہو سکتا ہے کہ بغل گیر بھی ہو جائیں لیکن اعتبار نہیں کرے گا۔ بس دکھاوا ہے کہ علاقے میں کشیدگی کم ہو گئی ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کے کوریائی جزیرہ نما میں اگر حالات بہتر ہونے پر پیش رفت ہو گی تو وہ شمالی اور جنوبی کوریا کے درمیان ملاقاتوں کے نتیجے میں ہو گی۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ اگر کوریائی جزیرہ نما جوہری ہتھیاروں سے پاک ہو جاتا ہے تو کیا اس کے بعد جنوبی ایشیا میں بھی ایسا ہو سکتا ہے تو ڈاکٹر قدیر نہ کہا کہ نہیں ایسا نہیں ہو سکتا کیونکہ کوئی ملک اپنے جوہری ہتھیار نہیں دے گا۔
’قزاقستان نے یہ کیا کہ اپنے جوہری ہتھیار امریکہ کو دے دیے اور امداد لے لی۔ لیکن اسی ملک کے وزیر خارجہ بعد میں کہتے رہے کہ صدر نے بڑی بیوقوفی کی۔‘ ان کا کہنا تھا کہ شمالی کوریا کبھی بھی جوہری ہتھیاروں سے دستبردار نہیں ہو گا اور بعد میں امریکی رحم و کرم پر رہے۔

’امریکہ تو چاہتا ہی یہ ہے کہ عراق، شام اور افغانستان کی طرح شمالی کوریا بھی اس کے رحم و کرم پر ہو۔ پاکستان پر بھی دباؤ ڈالا تھا لیکن ہم شکر ہے کافی آگے نکل چکے تھے۔‘ آخر امریکہ کیوں اس خطے میں اتنی دلچسپی لے رہا ہے کہ جواب میں پاکستانی سائنسدان نے کہا کہ جنوبی کوریا میں 50 ہزار امریکی فوج ہے اور جاپان بھی بڑا عزیز ہیں امریکہ کو۔ ’امریکہ کو معلوم ہے کہ تھوڑی سے گڑ بڑ پر نہ جنوبی کوریا رہے گا اور نہ ہی جاپان۔ 

چین شمالی کوریا کو ایک ڈراؤنے بھوت کے طور پر استعمال کر رہا ہے کیونکہ وہ خود تو یہ کہہ نہیں سکتا کہ میں جوہری ہتھیار استعمال کروں گا۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ شمالی کوریا کو جو فائدہ پہنچے گا وہ جنوبی کوریا کے ساتھ مذاکرات میں پہنچے گا کیونکہ ہو سکتا ہے جنوبی کوریا شمالی کوریا کو امداد دے۔ ’کئی سال قبل جنوبی کوریا کے ایک افسر سے ملاقات ہوئی تو میں نے کہا کہ آپ دونوں ممالک کو مصنوعی طور پر علیحدہ کیا گیا ہے۔ اگر آپ دونوں مل جائیں تو شمالی کوریا کی فوجی قوت اور جنوبی کوریا کی معیشت خطے کی سپر پاور بنا دے گا۔‘

بشکریہ بی بی سی اردو
 


شمالی کوریا کے رہنما کو دعوت قبول، ٹرمپ شش و پنج کا شکار

$
0
0

شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان نے صدر ٹرمپ کی جانب دی گئی دورہ امریکا کی دعوت قبول کر لی ساتھ ہی انہوں نے امریکی صدر کو بھی دورہ ٔشمالی کوریا کی دعوت بھی دے ڈالی جس پر ٹرمپ شش و پنج کا شکار ہو گئے۔ سرکاری اعلان کے مطابق کم جونگ ان نے صدر ٹرمپ کو دورہ شمالی کوریا کی دعوت دی ہے جس پر غور جاری ہے ، صدر کم جونگ نے کہا ہے کہ ایک دوسرے کے خلاف فوجی اقدامات کو بند ہونا چاہئے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ میں صدر کم کا شکر گزار ہوں کہ انہوں نے عوام کے روشن مستقبل کے لیے ایک بولڈ اسٹیپ اٹھایا اور ہماری ملاقات ممکن ہوئی ہمار ی ملاقات بے مثال تھی ۔
انہوں نے کہا کہ اس ملاقات سے ثابت ہوتا ہے کہ تبدیلی ممکن ہے اس کے لیے دونوں ملکوں کو مل کر کام کرنا ہو گا۔
 

شمالی کوریا جوہری ہتھیاروں کی تلفی پر راضی نہیں ہو گا

$
0
0

صدر ٹرمپ شمالی کوریا کے لیڈر کم جونگ اُن سے ملاقات کے بعد بہت پر اُمید اور خوش دکھائی دیئے ہیں۔ ملاقات کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیہ میں اگرچہ جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے پر اتفاق کر لیا گیا ہے تاہم ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ سمجھوتہ محض علامتی ہے اور کم جونگ اُن کبھی بھی اپنے جوہری اور میزائل پروگرام کو ختم کرنے پر سنجیدہ نہیں ہوں گے۔
یونائیٹڈ اسنٹی ٹیوٹ آف پیس میں جنوبی ایشیا پروگرام کے شریک صدر ڈاکٹر معید یوسف نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس بات کا کوئی امکان نہیں ہے کہ شمالی کوریا مکمل طور پر جوہری ہتھیاروں کو تلف کر دے گا۔

معید یوسف کہتے ہیں کہ شمالی کوریا کے سامنے بھارت اور پاکستان کی واضح مثالیں موجود ہیں جن میں دونوں ممالک جوہری ہتھیار تیار کرنے کے باوجود امریکہ کے قریبی حلیف رہے ہیں۔ لہذا شمالی کوریا کے لیڈر کوئی ایسا راستہ اختیار کر لیں گے جس کے ذریعے امریکہ کو مطمئن بھی رکھا جائے اور اپنا جوہری پروگرام بھی جاری رکھا جائے۔ تاہم معید یوسف کہتے ہیں کہ اس اعلیٰ ترین سطح پر علامتی سمجھوتہ بھی ایک بڑی کامیابی ہے اور اس میں مزید پیش رفت بعد میں ہونے والے رابطوں سے ہی ظاہر ہو گی۔

امریکہ کے ایک معروف تھنک ٹینک بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کی سینئر فیلو اور کوریائی اُمور کی ماہر جنگ پاک کہتی ہیں کہ وہ گذشتہ تیس برس سے کم جونگ اُن کو بڑا ہوتے ہوئے دیکھ رہی ہیں۔ اُن کے مطابق کم اپنے اقتدار کے پہلے چھ برسوں کے دوران امریکہ اور دیگر ممالک کے ساتھ محاذ آرائی اور جوہری اور میزائل پروگرام کو فروغ دینے پر پوری طرح کاربند رہے ہیں۔ تاہم حالیہ دنوں میں اُنہوں نے جس یو ٹرن کا مظاہرہ کیا ہے اُس سے ظاہر ہوتا ہے کہ 34 سالہ کم نے اپنے والد اور دادا کی طرح زیادہ سے زیادہ دباؤ بڑھانے اور سفارتکاری دونوں میں یکساں مہارت حاصل کر لی ہے۔

جنگ پاک کہتی ہیں کہ اُنہوں نے علاقے میں دلچسپی رکھنے والے تمام ممالک کے ساتھ دو طرفہ رابطوں میں مہارت حاصل کر لی ہے۔ مثال کے طور پر وہ چین سے رابطوں میں چین سے اقتصادی تعلقات کو فروغ دینے اور چین کی سائنٹفک اور ٹکنالوجیکل پیش رفت سے فائدہ اُٹھانے کی بات کرتے ہیں جس کی چین اُن سے توقع رکھتا ہے۔ اسی طرح جب وہ جنوبی کوریا کے ساتھ رابطے کرتے ہیں تو دونوں ملکوں کے عوام کے درمیان موجود خونی رشتوں، امن اور اتحاد کی بات کرتے ہیں جس کا تاثر جنوبی کوریا میں انتہائی مقبول ہے۔

جنگ پاک کے مطابق کم امریکہ کے ساتھ رابطوں کو عمومی سطح پر نہیں دیکھ رہے ہیں بلکہ اُن کی تمام تر توجہ صدر ٹرمپ کے ساتھ رابطے پر ہے۔ یوں وہ اُنہی باتوں پر توجہ دے رہے ہیں جن میں صدر ٹرمپ کو خاص طور پر دلچسپی ہے۔ جنگ پاک کہتی ہیں کہ کم جونگ اُن نے ان ملکوں کی قومی ترجیحات کا بھرپور فائدہ اُٹھانے میں بھی مہارت حاصل کر لی ہے۔ بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے فیلو اور مشرقی ایشیائی اُمور کے ماہر رائن ہس کا کہنا ہے کہ اگرچہ صدر ٹرمپ ایک غیر روایتی لیڈر ہیں، اُنہوں نے شمالی کوریا کے حوالے سے سفارتی آداب کو محوظ خاطر رکھتے ہوئے بات چیت کی ہے۔ رائن ہس کہتے ہیں کہ مشترکہ اعلامیے میں جزیر نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے کے عزم کا اظہار کیا گیا ہے۔ تاہم اس کیلئے کوئی ٹائم فریم موجود نہیں ہے۔ لہذا آئندہ ہونے والے رابطوں میں یہ دیکھا جائے گا کہ دونوں ملکوں کے لیڈر اپنے اس عزم کو عملی جامہ پہنانے میں کس حد تک سنجیدہ ہیں۔

بشکریہ وائس آف امریکہ

 

اقوامِ متحدہ میں امریکی مطالبہ مسترد، فلسطینیوں کے حق میں قرار داد منظور

$
0
0

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطینیوں کی حمایت میں پیش کی جانے والی قرارداد کو منظور کرتے ہوئے اسرائیل کو غزہ میں جاری پُرتشدد واقعات کا ذمہ دار ٹھہرا دیا اور طاقت کے استعمال کو افسوس ناک قرار دے دیا۔ فرانسیسی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق قرارداد پیش ہونے سے قبل امریکا نے مطالبہ کیا تھا کہ اس قرار داد میں اسرائیلی فورسز پر ہونے والے حملے کی بھی مذمت شامل کی جائے تاہم اس امریکی درخواست کو مسترد کر دیا گیا۔ عرب ممالک کی جانب سے الجزائر اور ترکی نے اقوامِ متحدہ میں قرار داد پیش کی جس میں مطالبہ کیا گیا تھا کہ غزہ اور مغربی کنارے میں فلسطینیوں کی حفاظت کے لیے اقدامات کیے جائیں۔

اقوامِ متحدہ کی 193 ممبران پر مشتمل جنرل اسمبلی میں 120 ووٹ کی بھاری اکثریت کے ساتھ فلسطینیوں کے حق میں پیش کی جانے والی یہ قرارداد منظور ہوئی جبکہ 8 ووٹ اس قرار داد کی مخالفت میں آئے۔ خیال رہے کہ رواں برس مارچ میں شروع ہونے والے نئے مظاہروں میں اب تک سیکڑوں فلسطینی جاں بحق جبکہ بڑی تعداد میں زخمی ہوئے ہیں جبکہ اس دوران ایک بھی اسرائیلی زخمی نہیں ہوا۔ اقوامِ متحدہ میں امریکی مندوب نکی ہیلی نے شکست خوردہ انداز میں اس قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے اسے یک طرفہ قرار دیا اور الزام عائد کیا کہ عرب ممالک اپنے خطے میں سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کرنا چاہتے ہیں، اسی لیے یہ قرارداد پیش کی گئی۔

اس موقع پر اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے فلسطینی مندوب ریاض منصور کا کہنا تھا کہ ’ہم صرف ایک ہی چیز کا مطالبہ کر رہے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ ہمارے شہری محفوظ ہوں‘۔ خیال رہے کہ اسرائیل اور غزہ میں موجود تنظیم حماس کے درمیان ماضی میں بھی جنگیں ہو چکی ہیں، تاہم اب اقوامِ متحدہ کی جانب سے مزید ایک جنگ کے خدشے کا اظہار کیا جارہا ہے۔ خیال رہے کہ فلسطینیوں کی جانب سے 30 مارچ سے 1948 سے ان کی سرزمین چھن جانے اور انہیں اپنی زمین سے بے دخل کیے جانے کے 70 سال مکمل ہونے پر رواں برس 30 مارچ سے اسرائیل کے ساتھ سرحد پر احتجاجی مظاہرہ جاری ہے، جہاں وہ اپنی زمین کی واپسی کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

اسی روز غزہ کی پٹی میں سرحدی باڑ پر احتجاج کے دوران اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے 15 فلسطینی شہید اور 1400 زخمی ہو گئے تھے جو 2014 کے بعد ایک روز میں پیش آنے والے بدترین واقعات میں سے ایک ہے۔ اس سے قبل فلسطین میں امریکی سفارتخانے کو تل ابیب سے بیت المقدس منتقل کرنے اور اس کے افتتاح کے خلاف احتجاج کرنے والے نہتے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کی وحشیانہ فائرنگ اور تشدد سے 58 افراد جاں بحق اور 2400 سے زائد زخمی ہوئے تھے۔ اے ایف پی کے مطابق 30 مارچ سے جاری مظاہروں کے دوران اسرائیلی شیلنگ سے اب تک غزہ میں 129 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
 

افغانستان میں طیارہ حادثے کے تیس سال بعد روسی ہوا باز زندہ نکلا

$
0
0

سابق سوویت یونین کے دور میں افغانستان میں بمباری کے دوران تباہ ہونے والے ایک جنگی جہاز کے پائلٹ کو 30 سال تک مردہ شمار کیے جانے کے بعد آج اس کے زندہ ہونے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق روس میں پرانے فوجیوں کی ایک تنظیم کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ روسی ہوا باز کو طیارہ تباہ ہونے کے بعد نہیں دیکھا گیا۔ اس لیے اسے مرنے والوں میں شامل کیا گیا تھا۔ روسی چھاتہ بردار اتحاد کے چیئرمین فالیری فوسزٹرٹین نے خبر رساں ایجنسی ’ریانوفسٹی‘ کو بتایا کہ ’یہ ناقابل یقین ہے کہ وہ پائلٹ  زندہ ہے۔ اب اسے مدد کی ضرورت ہے‘۔

فوسٹروٹٰین جو جنگ میں قید بنائے گئے فوجیوں کی تلاش کے لیے بنائی گئی روسی، امریکی کمیٹی کے چیئرمین ہیں نے تیس سال کے بعد منظرعام پر آنے والے اس ہوا باز کی شناخت ظاہر نہیں کی۔ تنظیم کے ایک دوسرے عہدیدار فیلاشیسلاو کالینین نے بتایا کہ ہوا باز کا طیارہ 1987ء میں افغانستان میں گر کر تباہ ہوگیا تھا۔ اس وقت اس کی عمر غالبا ساٹھ سال تھی۔ اب وہ وطن لوٹنا چاہتا ہے۔ انہوں نے اشارہ کیا کہ کئی سال تک افغانستان میں قید رہنے کے بعد لاپتا ہوا باز پاکستان میں موجود ہے۔

خیال رہے کہ سنہ 1979ء سے 1989ء تک افغانستان میں چڑھائی کے دوران سوویت یونین کے 125 جنگی طیارے مار گرائے گئے تھے۔ جنگ کے اختتام پر سوویت یونین نے 300 فوجیوں کےلاپتا ہونے کی تصدیق کی تھی جن کے زندہ یا مردہ ہونے کا کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ملا تھا۔ روسی اخبار ’کومرسنٹ‘ کے مطابق حال ہی میں منظرعام پرآنے والے روسی پائلٹ کی شناخت سیرگی پانٹلیوک کے نام سے کی گئی ہے جس کا تعلق جنوبی روس کے علاقے روسٹوف سے ہے۔ بگرام ہوائی اڈے سے پرواز کے بعد اس کا طیارہ مار گرایا گیا تھا۔ بعد ازاں اس اڈے کو امریکا نے جیل میں تبدیل کر دیا تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ


 

یورپ میں بڑھتی مسلم نفرت اور اس کا حل

$
0
0

’’مسلمانوں کا رمضان میں کام کرنا ہمارے لیے خطرناک ہے، اگر مسلمانوں کو روزے رکھنے ہیں تو کام سے چھٹیاں لیں وگرنہ معاشرے پر رمضان کا منفی اثر ہو گا اور ہم سب کا نقصان ہو گا۔ 1400 سالہ پرانی یہ روایت 2018 کی ہماری جاب انڈسٹری میں فٹ نہیں بیٹھتی۔‘‘ ڈنمارک کی انٹگریشن کی وزیر کا یہ بیان صرف ایک جھلک ہے اس اینٹی مسلم سیاست کا جو پچھلے چند سالوں سے یورپ کی سیاست کا محور بننا شروع ہوئی۔ موافق ہو یا مخالف لیکن آج یورپ کی ہر سیاسی جماعت کی سیاست اسی ایشو کے گرد گھوم رہی ہے۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ مذکورہ منسٹر کے اس بیان کو گارجین سمیت معتبر یورپین اخبارات نے جلی سرخیوں میں شائع کیا۔ 

ناروے جیسے تہذیب و اخلاقیات کے چیمپئین نے تمام تعلیمی اداروں میں بُرقعے اور نقاب پر مکمل پابندی عائد کی ہے۔ کل پاس ہونے والے پارلیمنٹ کے اس قانون کے مطابق کسی بھی تعلیمی ادارے میں طالبات اور ٹیچرز کسی بھی شخص کو اپنا چہرہ جزوی یا کلی طور پر ڈھانپنے کی اجازت نہیں ہو گی۔ ڈے کیئر سینٹرز میں کام کرنے والی خواتین پر اس قانون کا اطلاق ہو گا۔ اگرچہ پورے یورپ میں یہی صورتحال ہے لیکن فرداً فرداً ہر ملک کی تفصیل لکھنا یہاں ممکن نہیں۔ راقم الحروف چونکہ ڈنمارک میں مقیم ہے تو میں یہاں کے حالات کی تصویر کشی کر کے یورپ کی جھلک دکھاتا ہوں۔ ڈنمارک میں بھی نقاب پر پابندی کا بل منظور ہو چکا ہے اور یکم اگست سے لاگو ہونے والا ہے۔

ڈنمارک میں آج سے پچاس سال قبل پہلی مسجد قائم ہوئی، یہاں تین لاکھ مسلمان آباد ہیں جن کی آبادی میں پچھلے دس سال میں چالیس فیصد اضافہ ہوا؛ ان میں سے ستر فیصد ڈینش نیشنلٹی رکھتے ہیں۔ 151 مساجد رجسٹرڈ ہیں لیکن مسلمانوں کا عملی کردار معاشرے میں بہت کم ہے۔ ترکی اور عربی مسلم اگرچہ کچھ نہ کچھ لوکل سیاست میں موجود ہیں۔ یہاں کی قومی سیاست میں بہت دیر تک صرف تین یا چار پاکستانی سرگرم رہے۔ اگرچہ اب نوجوان اس طرف آرہے ہیں اور یہاں کی پارلیمنٹ میں حالیہ الیکشن میں آٹھ پاکستانی نوجوان اور دو نوجوان خواتین جیت کر ایوان اقتدار میں پہنچے ہیں لیکن ابھی اس میدان میں بہت کام کرنا باقی ہے۔

اگر میڈیا کا معاملہ دیکھیں تو یہاں بہت ویکیوم ہے، اگرچہ چار مقامی ایف ایم اردو ریڈیو کام کر رہے ہیں لیکن قومی مباحث میں اور ٹی وی چینلز پر مسلم نمائندگی نہ ہونے کے برابر ہے۔ پاکستانی تنظیمات کو دیکھیں تو سماجی تنظیمات کافی ہیں لیکن وہ مساجد اور اپنی کمیونٹی تک محدود ہیں۔ پرنٹ میڈیا میں بھی یہی حالات ہیں، لیکن ایک پاکستانی نژاد ڈاکٹر نے مذکورہ منسٹر کو اسی اخبار میں تفصیلی مضمون لکھ کر منہ توڑ جواب دیا ہے، جس بیان کا ذکر اس مضمون کے شروع میں کیا گیا۔ ڈاکٹر عرفان ظہور احمد نہ صرف ایک ماہر معالج ہیں، کوپن ہیگن یونیورسٹی میں لیکچرار ہیں اورمنہاج القرآن انٹرنیشنل ڈنمارک کے صدر بھی ہیں۔ انہوں نے اپنے مضمون میں میڈیکل ریسرچ سے ثابت کیا کہ انسانی جسم اور معاشرے پر روزے کے اثرات مثبت ہیں اور اس سے ڈینش معاشرے کو خوف زدہ ہونے کی چنداں ضرورت نہیں۔

یاد رہے کہ یہ وہی ڈاکٹر ہیں جو 2005 میں کشمیر زلزلے کے بعد پاکستانی ڈاکٹرز کی پوری ٹیم کے ساتھ ڈنمارک سے زلزلہ زدگان کی مدد کو آئے تھے، ان کی ٹیم نے یہاں فنڈز بھی اکٹھے کیے تھے اور ڈنمارک کی ملکہ نے بھی اس ٹیم کو عطیات دیئے تھے، بعد ازاں ان کو ڈینش حکومت نے اس انسانی ہمدردی پر ایوارڈ بھی دیا تھا، وزیر موصوفہ کے بیان کے واقعے کے بعد ان کی تنظیم نے حالات کا درست ادراک کرتے ہوئے ڈینش معاشرے میں مساجد اور مسلمانوں کے کردار کے موضوع پر ایک مباحثے کا اہتمام کیا، جس میں ڈنمارک کے تمام سیاسی مسلمان راہنماؤں، سیاسی جماعتوں اور چیدہ چیدہ سماجی شخصیات کو مدعو کیا گیا تھا۔

اس مباحثے میں ڈینش معاشرے میں مسلمانوں کے زوال کے اسباب پر بحث ہوئی، وجوہ کا تعین کیا گیا اور آئندہ حکمت عملی ترتیب دی گئی۔ اس میں خصوصی طور پر نومسلم ڈینش نوجوان کیسپر مچھیسن نے شرکت کی جو ڈنمارک کی آرہوس یونیورسٹی میں ڈینش معاشرے میں مسلمانوں کے کردار پر ڈاکٹریٹ کر رہے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یورپ اور ڈنمارک کا سب سے بڑا مسئلہ مسلمانوں کے خلاف بڑھتی نفرت ہے، سنگاپور کی ایک مسجد کو بطور ماڈل پیش کرتے ہوئے انہوں نے اس کا حل مساجد کو صرف عبادات تک محدود رکھنے کے بجائے سوشل سینٹرز بنانا بتایا۔ انہوں نے کہا کہ اپنے آپ کو کھولو، یورپین لوگوں کو اپنی سینٹرز میں آنے دو تاکہ ان کا خوف اور تجسس ختم ہو، پھر یہ تمہارے سفیر ہونگے اور یورپ میں مسلمانوں کے خلاف نفرت کا پراپیگنڈا اپنی موت آپ مر جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ انٹگریشن کا بہترین حل یہ حدیث ہے کہ اچھا بولو یا چپ رہو اپنے پڑوسی کے ساتھ حلیم بنو اور اچھا سلوک رکھو۔

واضح کرتا چلوں کہ سنگاپور کی یہ مسجد ایسا کمیونٹی سینٹر ہے جہاں ہر وقت چائے کافی کے لوازمات مفت موجود ہیں جن کی بنا پر غیر مسلم لوگ اپنی میٹنگز بھی یہاں کرتے ہیں اور اکثر مسلم ممالک کے سفیر نماز جمعہ بھی یہیں ادا کرتے ہیں۔ میرے خیال میں اس نوجوان مسلم نے درست حل بتایا ہے کہ مسلمان اپنی اقدار کو زندہ رکھتے ہوئے معاشرے میں انٹیگریٹ ہو جائیں تو یورپ کی اینٹی مسلم سیاست کا خاتمہ ممکن ہے۔ کیونکہ انٹگریشن کا یہ ماڈل ہمارے نبی کریم ﷺ دے چکے ہیں جب انہوں نے مدینہ کو مسلمانوں و یہود کی ریاست کا نام دیتے ہوئے ان کی مذہبی اقدار کے تحفظ کا اعلان فرمایا تھا۔

محمد منیر طاہر
بشکریہ ایکسپریس نیوز 
 

Viewing all 4738 articles
Browse latest View live


<script src="https://jsc.adskeeper.com/r/s/rssing.com.1596347.js" async> </script>