↧
یورپی یونین کا فیس بک کی اجارہ داری ختم کرنے پر زور
↧
امریکی بحری جہازوں کی موجودگی چین کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی
چین نے امریکہ پر الزام عائد کیا ہے کہ اس نے متنازع جزائر کے قریب دو جنگی بحری جہاز بھیج کر چین کی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی کی ہے۔ چین کی وزارتِ دفاع کا کہنا ہے کہ جنوبی بحیرۂ چین میں اس کے بحری اور فضائی جہازوں نے امریکی جہازوں کو علاقے سے نکالنے کے لیے انھیں خبردار کیا ۔ امریکی بحری جہازوں نے جنوبی بحیرہ چین کے چار مقامات پر نقل و حرکت کی ہے جس میں ووڈی جزیرہ بھی شامل ہے جہاں پر چین نے میزائل نصب کر رکھے ہیں۔ ٹرکوں پر نصب ان میزائلوں کے بارے میں انکشاف مصنوعی سیارے سے حاصل کردہ تصاویر سے ہوا تھا۔ ان معلومات کے بعد امریکہ نے چین کو ہوائی کے قریب بحری جنگی مشقوں میں شرکت کا دعوت نامہ واپس لے لیا تھا ۔
بحرالکاہل میں امریکی بحری بیڑے کی جانب سے جاری کیے جانے والے بیان میں کہا ہے کہ اس علاقے میں نقل و حرکت کی آزادی کے حوالے سے معمول کی فوجی مشقیں کرتا رہتا ہے اور آئندہ بھی ان کو جاری رکھا جائے گا۔ خیال رہے کہ تقریباً دو ہفتے پہلے ہی چینی فضائیہ نے کہا تھا کہ اس کے بمبار طیاروں کو پہلی بار جنوبی بحیرہ چین میں بھجوایا ہے جس کی وجہ امریکہ کا اس خطے کے حوالے سے نیا انتباہ ہے۔ دور تک ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت کا حامل بمبار H-6K ان طیاروں میں شامل تھے جنھوں نے جزیروں پر مشقیں کیں تاکہ چین کی تمام علاقوں تک رسائی کی صلاحیت کو بہتر بنایا جا سکے۔ یہ سمندر اہم تجارتی گزرگاہ ہے اور جس پر چھ ممالک اپنے حق کا دعویٰ کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ چین جنوبی بحیرۂ چین پر اپنی ملکیت کا دعویٰ کرتا ہے اور اس کا بعض ایسے جزیروں پر بھی دعویٰ ہے جن پر کئی دوسرے ملک بھی ملکیت کا دعویٰ کرتے ہیں۔ چین پر الزام ہے کہ وہ اس کے وسیع حصے پر اپنے حق کے دعوے کو ثابت کرنے کے لیے وہاں فوجی نقل و حرکت کرتا ہے۔ چین اس سے پہلے بھی متنازع جزائر کے قریب امریکی بحری جہازوں کی موجودگی کے واقعات پر اپنا شدید ردعمل دیتے ہوئے اسے سنگین سیاسی اور فوجی اشتعال انگیزی قرار دے چکا ہے۔ چین نے جنوبی بحیرہ چین کے علاقوں پر اپنے حق کو ملک کی'ناقابل اعتراض خودمختاری'قرار دیتے ہوئے ٹرمپ انتظامیہ کے اس بیان کو سختی سے مسترد کرتا ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکہ چین کی خطے کے متنازع علاقوں پر عملداری کو روکے گا۔
بشکریہ بی بی سی اردو
↧
↧
پیرس میں چار سالہ بچے کو بچانے والے ’’مسلم اسپائیڈر مین‘‘ کو فرانسیسی شہریت دینے کا اعلان
افریقی ملک مالی سے تعلق رکھنے والے ایک تارک وطن نوجوان نے بہادری کا مظاہرہ کرتے ہوئے ایک اپارٹمنٹ عمارت کی چوتھی منزل کی بالکونی سے گر کر لٹکنے والے چار سالہ کم سن بچے کو بچا لیا. اس تارکِ وطن کو اس دلیرانہ کارنامے پر مسلم اسپائیڈر مین کا خطاب دیا گیا ہے اور فرانسیسی صدر عمانوایل ماکروں نے اس کو شہریت اور ملازمت کی پیش کش کر دی ہے۔ اس واقعے کی فوٹیج ریکارڈ کی گئی تھی اور اس کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کر دیا تھا، جس کو لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے دیکھا ہے۔ اس مالی تارک وطن نوجوان کی شناخت مامودو قساما کے نام سے کی گئی ہے۔ اس کی عمر بائیس سال بتائی گئی ہے۔
پیرس کی میئر این ہائیڈرلگو نے مامودو قساما سے ملاقات کی ہے اور ان کا بچے کی جان بچانے پر شکریہ ادا کیا ہے۔ انھوں نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ یہ تارکِ وطن چند ماہ قبل ہی مالی سے پیرس میں آیا تھا۔ انھوں نے یہ عبارت ٹویٹ کی ہے :’’ اس نے مجھے بتایا کہ وہ مالی سے چند ماہ قبل ہی بہتر مستقبل کی تلاش میں یہاں آیا تھا۔ میں نے اس کو یہ جواب دیا ہے کہ اس کا دلیرانہ کارنامہ تمام شہریوں کے لیے ایک مثال ہے۔ پیرس شہر یقینی طور پر اس کی فرانس میں مقیم ہونے کے لیے کوششوں کی حمایت کرے گا‘‘۔
فرانسیسی صدر عمانو ایل ماکروں نے سوموار کو ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نوجوان تارکِ وطن کو فرانس کی شہریت دی جائے گی۔ انھوں نے مامودو قساما کی ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہونے کے بعد اس سے ملاقات کی ہے اور کہا ہے کہ اس کو محکمہ فائر بریگیڈ میں کوئی مناسب ملازمت کی پیش کش کی جائے گی۔
فرانس کے میڈیا ذرائع کے مطابق پولیس نے اس بچے کے والد کو غفلت اور غیر ذمے داری کا مظاہرہ کرنے پر گرفتار کر لیا ہے۔ وہ اپنے کم سن بیٹے کو گھر میں اکیلا چھوڑ کر بازار میں سودا سلف لینے چلا گیا تھا۔ وہ ایک کثیر منزلہ عمارت کی چوتھی منزل پر واقع اپنے فلیٹ کی بالکونی سے پھسل کر نیچے لٹک گیا تھا۔ اس کو نیچے سے دیکھ کر مامودو قساما نے عمارت کی نچلی منزلوں سے لٹک کر تیزی سے اوپر چڑھنا شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اس نے بچے کو جا لیا۔
مامودو قساما نے بعد میں فرانسیسی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’’اللہ کا شکر ہے، میں نے اس بچے کو بچا لیا ہے۔ میں بچوں سے بہت پیار کرتا ہوں اور انھیں کسی بھی مشکل صورت حال میں نہیں دیکھ سکتا‘‘۔ انھوں نے مزید بتایا کہ اس عمارت کے نزدیک سے گاڑیاں تیزی سے گزر رہی تھیں، لوگ کھڑے تماشا دیکھ رہے تھے اور صرف آوازے کس رہے تھے لیکن میں نے جونھی اس بچے کو دیکھا تو اس کو بچانے کی ٹھا ن لی اور ہمت کر کے ہاتھوں اور بازوؤں کے بل پر اوپر چڑھ گیا اور چوتھی منزل پر اس بچے کو بہ حفاظت بچا لیا۔
العربیہ ڈاٹ نیٹ
↧
فلسطینی شہیدوں کے جوتے یورپین یونین میں
↧
بریگزٹ سے برطانیہ کی داخلی مشکلات میں اضافے کا خدشہ
بلجیم میں قائم ایک تھنک ٹینک نے خبردار کیا ہے کہ برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے نتیجے میں اس ملک کو الیکٹرک کاروں کی کمی کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔ برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج یا بریگزٹ کے بعد کار بنانے والی کمپنیاں برطانیہ میں اپنی کاریں فروخت کرنے میں دلچسپی کھو سکتی ہیں۔ بلجیم کے دارالحکومت برسلز میں قائم تھنک ٹینک ’ٹرانسپورٹ اینڈ انوائرمنٹ‘ نے اس بارے میں خبردار کیا ہے۔ اس ادارے کے مطابق بریگزٹ کے بعد کار بنانے والوں کے لیے برطانیہ میں مضر صحت کاربن ڈائی آکسائڈ گیسوں کے اخراج کے حوالے سے یورپی یونین کے اہداف بے معنی ہو جائیں گے اور اسی کے نتیجے میں مقابلتاً کم اخراج والی ماحول دوست الیکٹرک کاروں کی برطانیہ میں فروخت میں دلچسپی گھٹ سکتی ہے۔
خبر رساں ادارے اے ایف پی کو موصول ہونے والی اس تھنک ٹینک کی ایک رپورٹ کے مطابق ’زیرو امیشن‘ یا بغیر اخراج والی گاڑیوں کی فروخت میں برطانیہ یورپی یونین میں پچھلے سال تیسری بڑی مارکیٹ تھی اور ’پلگ ان ہائبرڈ‘ کاروں کے لیے سب سے بڑی مارکیٹ۔ ’پلگ ان‘ کاروں کے ایک ایسے نظام کا نام ہے، جس میں کار ایک مخصوص رفتار کے اندر اندر سفر کرتے وقت تک بجلی سے چلتی ہے اور اسی لیے یہ ماحول دوست تصور کی جاتی ہے۔ ٹی اینڈ ای سے وابستہ سیسل ٹوبیو نے کہا کہ کاریں بنانے والے مقابلتاً کم معیاری ماڈلز برطانوی مارکیٹ میں فروخت کرنے کو ترجیح دے سکتے ہیں۔ لندن حکومت بریگزٹ کے عمل کو زیادہ سے زیادہ ماحول دوست بنانا چاہتی ہے اور الیکٹرک کاروں کی کمی اس سلسلے میں بڑی رکاوٹ ثابت ہو سکتی ہے۔
ٹی اینڈ ای نے خبردار کیا ہے کہ بریگزٹ کے نتیجے میں برطانیہ کی اپنی کار ساز صنعت پر بھی منفی اثرات مرتب ہوں گے۔ ایک اندازے کے مطابق بریگزٹ کی تکمیل پر کسی باقاعدہ معاہدے کی عدم موجودگی کی صورت میں برطانوی آٹو سیکٹر سے وابستہ 6700 افراد کی ملازمتوں کو خطرہ لاحق ہو سکتا ہے۔ برطانیہ کے یورپی یونین سے اخراج کے بعد کاریں بنانے والی برطانوی صنعت کا مستقبل وزیر اعظم تھریسا مے کے لیے ایک ایسا مشکل سوال ہے، جس کا جواب ابھی تک نہیں مل سکا ہے۔ دوسری جانب برطانیہ میں اسکاٹ لینڈ کی حکومتی سربراہ فرسٹ منسٹر نکولا سٹرجن نے کہا ہے کہ لندن سے اپنی آزادی کی سیاسی جدوجہد کرنے والا اسکاٹ لینڈ ایک آزاد اور خود مختار ریاست بن کر بھی یورپی مشترکہ کرنسی یورو نہیں اپنائے گا۔
نیوز ایجنسی رائٹرز کے مطابق نکولا سٹرجن نے کہا کہ ایسے کوئی عوامل ممکن ہی نہیں ہیں کہ آزاد اسکاٹ لینڈ کسی بھی وجہ سے اپنے موجودہ پاؤنڈ کو ہی آیندہ اپنی کرنسی نہ رکھے۔ اسکاٹش فرسٹ منسٹر نکولا سٹرجن نے برسلز میں ’پولیٹیکو‘ نامی نیوز ویب سائٹ کی طرف سے اہتمام کردہ ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ اسکاٹ لینڈ برطانیہ سے اپنی آزادی کی کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ میری اور میری پارٹی کا یہ موقف ہے ہی نہیں کہ اسکاٹ لینڈ اپنا پاؤنڈ ترک کر کے یورو اپنا لے۔ مجھے مستقبل میں بھی یہ موقف تبدیل ہوتا نظر نہیں آتا۔ اور پھر یورپی یونین کی رکنیت کے لیے یہ کوئی لازمی شرط تو ہے ہی نہیں کہ کوئی بھی نیا ملک اس یورپی اتحاد کا رکن بنتے ہوئے ہر حال یورپی مالیاتی اتحاد (یورو زون) کا رکن بھی بنے۔
نکولا سٹرجن نے کہا کہ اس وقت اسکاٹ لینڈ کی کرنسی پاؤنڈ ہے۔ اسکاٹ لینڈ میں پاؤنڈ ہی وہ قانونی ذریعہ ادائیگی ہے، جسے ہر کوئی جانتا ہے اور پاؤنڈ مکمل طور پر ایک قابل تجارت بین الاقوامی کرنسی بھی ہے۔ اس لیے مستقبل میں ایسا ہو ہی نہیں سکتا کہ اسکاٹ لینڈ میں بطور کرنسی پاؤنڈ رائج نہ رہے۔ برطانیہ کی طرف سے بریگزٹ کے فیصلے کے بعد اس وقت یورپی یونین اور لندن حکومت کے مابین مذاکرات ہو رہے ہیں، جن کی تکمیل پر اس بارے میں تصفیہ ہو جائے گا کہ برطانیہ یورپی یونین میں اپنی رکنیت کیسے اور کن شرائط کے تحت ختم کرے گا۔ ساتھ ہی یہ امکان بھی ہے کہ جمہوریہ آئرلینڈ چوں کہ یورپی یونین کی رکن ہے اور برطانیہ کے ایک صوبے شمالی آئرلینڈ کی سرحدیں جمہوریہ آئرلینڈ سے ملتی ہیں، اس لیے بریگزٹ کے فیصلے پر حتمی عمل کے وقت شمالی آئرلینڈ کے حوالے سے کچھ ایسے یورپی فیصلے کیے جا سکتے ہیں، جن سے بیلفاسٹ میں شمالی آئرلینڈ کی حکومت اور اس برطانوی صوبے کے عوام کو فائدہ پہنچے گا۔
اسکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نکولا سٹرجن نے برسلز میں کہا کہ جس طرح بریگزٹ کے بعد بھی شمالی آئرلینڈ کے لیے ممکنہ استثنائی یورپی فیصلوں کی بات کی جا رہی ہے، اسی طرح اسکاٹ لینڈ بھی مستقبل میں اپنے لیے یورپی مشترکہ منڈی تک رسائی چاہتا ہے۔ سٹرجن نے کہا کہ یورپی یونین کے بریگزٹ سے متعلق اعلیٰ ترین مذاکرات کار میشل بارنیئر کو پتا ہونا چاہیے کہ اسکاٹ لینڈ بھی آیندہ یورپی یونین کی کسٹمز یونین اور مشترکہ منڈی کا حصہ رہنا چاہتا ہے اور یہی بات میں نے میشل بارنیئر پر ملاقات میں واضح بھی کر دی ہے۔ یورپی یونین شمالی آئر لینڈ کو برطانیہ کا حصہ ہونے کے باوجود بریگزٹ کے بعد بھی یورپی اقتصادی ضابطوں کے تحت جو مراعات دینے کی پیشکش کر چکی ہے، اس کی وجہ آئرلینڈ کے جزیرے پر شمالی آئرلینڈ کی جمہوریہ آئرلینڈ کے ساتھ بہت طویل مشترکہ سرحد بھی ہے۔
↧
↧
ارسطو کے اقوال : غصہ ہمیشہ حماقت سے شروع ہو کر ندامت پر ختم ہوتا ہے
٭ غصہ ہمیشہ حماقت سے شروع ہو کر ندامت پر ختم ہوتا ہے۔
٭ انسان کے اسباب ظاہری میں عزت کا مرتبہ سب سے بلند ہے۔
٭ کسی بات سے نا امید مت ہو کہ اس سے عمر گھٹ جاتی ہے۔
٭ اگر کوئی تیرے حق میں بدی کرے یا تو کسی سے نیکی کرے تو دونوں بھول جا۔
٭ زندگی کی سب سے بڑی فتح نفس پر فتح پانا ہے۔
٭ لگن کے بغیر کسی میں بھی ذہانت پیدا نہیں ہوتی۔
٭ جو شخص حصول علم کی مشکلات نہیں جھیلتا اسے جہالت کی سختیاں عمر بھر جھیلنا پڑی ہیں۔
٭ شر کو شر سے رفع کرنا اگرچہ صحیح بات ہے مگر شرکو خیر سے رفع کرنا نسبتاً احسن ہے۔
↧
غزہ پر اسرائیلی طیاروں کے حملے
اسرائیل کی دفاعی افواج نے کہا ہے کہ انہوں نے جنوبی اسرائیل کے کئی مقامات پر کم ازکم 25 مارٹر گولے فائر کیے جانے کے کئی گھنٹوں کے بعد غزہ میں عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں پر فضائی حملے کیے ہیں۔ گزشتہ دو مہینوں سے سرحدی علاقوں میں صورت حال بہت کشیدہ ہے جب فلسطینیوں نے اس سرزمین پر واپسی کے حق کے لیے مظاہرے شروع کیے تھے، جہاں سے وہ 1948 میں اسرائیل کے قیام کے وقت نکل گئے تھے یا انہیں علاقہ چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ مظاہرین غزہ کی ناکہ بندی کے خلاف بھی جلوس نکال چکے ہیں، جسے اب دس سال سے زیادہ کا عرصہ ہو گیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے یروشلم منتقلی کے خلاف بھی مظاہرے کیے ہیں۔
فلسطینیوں کے ایک گروپ نے غزہ کے محاصرے کے خلاف مظاہروں کے لیے کشتیوں کے ذریعے روانہ ہوئے۔ اسرائیل کے اس بارے میں پابندیاں لگا رکھی ہیں کہ لوگ ساحل سے کتنے فاصلے تک سفر کر سکتے ہیں۔ اور یہ واضح نہیں ہے کہ مظاہرین نے پابندی کی حدود کے کتنے قریب تک جانے کا فیصلہ کیا ہے۔ اسرائیلی فورسز مارچ کے اختتام سے اب تک کم از کم 115 فلسطینیوں کو شہید کر چکی ہیں جس سے طاقت کے بے دریغ استمال کے خلاف نکتہ چینی بڑھ رہی ہے۔
↧
فرانس کا قومی ہیرو مالی کا ایک مہاجر
فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے مالی سے تعلق رکھنے والے مہاجر محمدو گوساما سے ملاقات میں انہیں فرانسیسی شہریت کی پیشکش کر دی ہے۔ گوساما نے بہادری کی اعلیٰ مثال پیش کرتے ہوئے ایک چار سالہ بچے کی جان بچائی تھی۔ خبر رساں ادارے اے ایف پی نے بتایا کہ فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے پیرس میں واقع صدارتی محل میں محمدو گوساما سے ملاقات میں ان کی بہادری کی تعریف کی اور انہیں فرانسیسی شہریت کی پیشکش کر دی۔ مالی سے تعلق رکھنے والے اس بائیس سالہ مہاجر نے ہفتے کے دن ’سپائڈر مین‘ کی طرح چار منزلوں پر چڑھتے ہوئے بالکونی میں لٹکے ہوئے ایک بچے کو محفوظ طریقے سے بچایا تھا۔
اس موقع پر پیرس کے رہائشیوں نے ویڈیوز بھی بنائیں، جو بعد ازاں سوشل میڈیا پر جاری کر دی گئی تھیں۔ دیکھتے ہی دیکھتے ان میں سے ایک ویڈیو وائرل بھی ہو گئی اور لاکھوں لوگوں نے گوساما کی بہادری کی تعریف شروع کر دی۔ صارفین نے کہا کہ اس مہاجر نے اپنی جان خطرے میں ڈال کر بچے کی جان بچائی ہے۔ اس کارنامے کی وجہ سے ملکی میڈیا گوساما کو فرانس کے ایک ’قومی ہیرو‘ کے طور پر پیش کر رہا ہے۔ صدر ماکروں نے گوساما سے ملاقات میں کہا کہ ان کے پناہ کے کاغذات پر کارروائی کی جائے گی۔ مختلف نشریاتی اداروں پر براہ راست نشر کی جانے والی اس ملاقات میں ماکروں نے گوساما کو بہادری کے تمغے سے بھی نوازا اور کہا کہ وہ فرانس کی فائر سروس میں ملازمت اختیار کریں۔
اس موقع پر گوساما نے فرانسیسی صدر کو بتایا کہ جب انہوں نے ایک عمارت کی چوتھی منزل کی ایک بالکونی پر ایک بچے کو لٹکتے ہوئے دیکھا تو انہوں نے کچھ سوچے سمجھے بغیر اسے بچانے کا ارادہ کر لیا تھا۔ بہادری کا میڈل وصول کرنے پر گوساما نے کہا کہ وہ بہت خوش ہیں کیونکہ پہلی مرتبہ انہیں اس طرح کا کوئی انعام دیا گیا ہے۔ وہ ستمبر سن دو ہزار سترہ میں فرانس پہنچے تھے۔ فرانسیسی صدر کے علاوہ پیرس کے میئر اور دیگر اعلیٰ حکام نے بھی گوساما کی بہادری کی تعریف کی ہے۔ میڈیا رپورٹوں کے مطابق ہفتے کے دن جب یہ بچہ بالکونی کی بیرونی طرف لٹکا تو اس وقت اس بچے کے والدین گھر میں نہیں تھے۔ بتایا گیا ہے کہ پولیس نے اس بچے کے والد کو پوچھ گچھ کے لیے حراست میں لے لیا ہے۔ پولیس کے مطابق تب اس بچے کی والدہ پیرس شہر سے باہر گئی ہوئی تھیں۔
ع ب / م م / خبر رساں ادارے
↧
NATO's new headquarters
↧
↧
تتلی : خوبصورت اور نازک کیڑا
شاعروں، ادیبوں اور فنکاروں نے کئی جگہوں پر اپنی جذبات کی عکاسی کے لئے تتلیوں کو بطور تشبیہ استعمال کیا۔ یہ خوبصورت کیڑا بے حد نازک ہوتا ہے۔ ان کی عمر بہت مختصر ہوتی ہے۔ تتلیوں کی ہزاروں قسمیں ہیں۔ اس کی عمر ایک ہفتے سے ایک سال تک طویل ہوتی ہے۔ تتلیوں کی ہر قسم کا اپنا عرصۂ حیات ہوتا ہے۔ سخت سردیوں میں یا تو یہ مر جاتی ہیں یا پھر سازگار علاقوں کی جانب ہجرت کر جاتی ہیں۔ جن علاقوں میں موسم معتدل ہوتا ہے، وہاں تتلیوں کی زیادہ اقسام افزائش پاتی ہیں۔ تتلیوں کی کچھ اقسام آب وہوا کی مناسبت سے اپنی ظاہری شکل تبدیل کر لیتی ہیں۔ جس کی بدولت تتلیاں موسمی تبدیلوں کا مقابلہ کر پاتی ہیں۔ تتلی کے پروں کی خوبصورتی اس کے پروں پر موجود نظر نہ آنے والے ’’کرسٹلز‘‘ کی بدولت ہوتی ہے۔
تتلی کے پروں میں سیاہ اور براون رنگ کچھ پگمنٹس کی بدولت ہوتا ہے جبکہ باقی سات رنگ درحقیقت ان کرسٹلز پر روشنی پڑنے کی وجہ سے وجود میں آتے ہیں، جو تتلیوں کے پروں کو بے بہا خوبصورتی بخشتے ہیں اور دیکھنے والے کی آنکھ کو بہت بھلے سات رنگ کے پیٹرن دکھائی دیتے ہیں۔ یہ کرسٹل اس قدر نرم ہوتے ہیں کہ چھونے پر ریشم کا احساس ہوتا ہے۔ تتلیاں آسانی سے اپنے پروں کا بوجھ اٹھاتی ہیں اور ہوائوں میں لہراتی ہیں۔ تتلیوں کی 15000 سے 20,000 قسمیں پوری دنیا میں اب تک دریافت کی گئی ہیں اور ابھی بھی اس حوالے سے تحقیق جاری ہے۔ ان میں سے زیادہ اقسام وافر تعداد میں نظر آتی ہیں جبکہ کچھ قسمیں بہت نایاب ہیں اور ان کی زندگی کے دورانیے کا مطالعہ کیا جا رہا ہے۔
کچھ تتلیاں آب و ہوا کے لحاظ سے اپنی ظاہری شکل تبدیل کرتی ہیں جس کی بدولت یہ ناسازگار حالات سے محفوظ رہتی ہیں۔ تتلی کے حوالے سے کئی ضرب المثل بھی ہیں۔ تتلی کی موجودگی کو تبدیلی کی علامت کے طور پر ظاہر کیا جاتا ہے۔ اس کے علاوہ تتلی کو جوان محبت، جشن اور پاکیزہ روح یا فرشتے کی علامت کے طور پر بھی کہانیوں، کہاوتوں اور ناولوں میں استعمال کیا جاتا ہے۔ تتلی کو زندگی کی خوبصورتی گردانا جاتا ہے۔ درحقیقت تتلیاں بے حد نازک ہیں جس کی بقا بدلتے موسموں میں ناممکن نظر آتی ہے۔ لیکن یہ خدا کی قدرت ہے کہ تتلیاں نہ صرف اپنا عرصہ حیات مکمل کرتی ہیں بلکہ اس کائنات کو ایک الگ رعنائی اور دلکشی بخشتی ہیں۔ جب بہار دبے پائوں آتی ہے تو یہ رنگ برنگی تتلیاں ہی سب سے پہلے بڑھ کر اس کا استقبال کرتی ہیں اور پھر گلی گلی کوچے کوچے بسنت کی خبر سناتی ہیں۔
تتلی کا پھولوں کے گرد منڈلانا، رس چوسنا اور ہوا میں اڑنا سبھی کو بے حد لبھاتا ہے۔ کئی افراد گھنٹوں ان تتلیوں کے تعاقب ہیں رہتے ہیں تا کہ ان کو اپنی مٹھی میں بند کر لیں یا قریب سے اس کی خوبصورتی کو جی بھر کر دیکھ سکیں۔ چونکہ یہ سمجھا جاتا ہے کہ تتلیاں زہریلی نہیں ہوتیں اس لئے اکثر افراد کی اس قسم کی خواہشات کی نذر ہو جاتی ہیں۔ لیکن اب تحقیق نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ تتلیوں کی کچھ اقسام بے حد زہریلی اور خطرناک بھی ہیں، اس لئے تتلیوں کے تعاقب کی مہم جان لیوا بھی ثابت ہو سکتی ہے۔ لہٰذا تتلیوں کی خوبصورتی کو دور سے ہی دیکھنا چاہئے تاکہ کوئی ناگوار واقعہ نہ پیش آئے۔
تسکین آفاق
↧
حضرت رابعہ بصریؒ کے اقوال
حضرت رابعہ بصریؒ ولی خاتون تھیں، اچھی شاعرہ بھی تھیں۔
* دل کو قابو میں رکھنا اور اختیار ہونے پر ناجائز خواہشوں سے بچنا ہی مردانگی ہے۔
* جس طرح موم اپنے آپ کو جلا کر دوسروں کو روشنی پہنچاتی ہے اسی طرح تم بھی اپنے آپ کو جلاؤ۔
* آپؒ نے فرمایا کہ مجھے رحمٰن کی دوستی سے فرصت نہیں ملتی کہ شیطان سے دشمنی کروں۔
* اچھے کاموں میں مشغول رہنا جن سے لوگوں کی بھلائی ہو، بزرگی ہے۔
* عورتوں کی فضیلت کے ایک مباحثے میں فرمایا کہ کوئی عورت نبی نہیں ہوئی تو کسی عورت نے خدائی کا دعویٰ بھی نہیں کیا، پھر انبیا، اولیا، صدیق شہید اسی کی گود میں پرورش پا کر بڑے ہوئے۔
↧
دنیا کے نصف بچے غربت، صںفی امتیاز، جنگ کا شکار ہیں
برطانیہ کے ایک غیر سرکاری ادارے ‘سیو دی چلڈرن’ نے دعویٰ کیا ہے کہ دنیا بھر میں نصف سے زائد بچے غربت، صنفی امتیاز اور جنگ کے اثرات کا شکار ہیں۔ الجزیرہ کے مطابق یکم جون ‘بچوں کا عالمی دن’ کے حوالے سے شائع کردہ رپورٹ بعنوان ‘دی مینی فیس آف اکسکلوژن’ میں انکشاف کیا کہ تقریباً 15 کروڑ 30 لاکھ بچے غربت، صنفی تفریق اور جنگی اثرات سے دوچار ہیں جبکہ ایک ارب 20 کروڑ بچوں کو لازمی طورپر کسی ایک مسئلے کا سامنا ہے۔ سیودی چلڈرن کی چیف ایگزیکٹو افسر (سی ای او) ہیلے تھرونی نے کہا کہ ہنگامی اقدامات کے بغیر، ہم کبھی وہ ان وعدوں کی پاسداری نہیں کر سکیں گے جو 2015 میں اقوام متحدہ میں ہر ملک نے کیا تھا کہ 2030 تک دنیا کے ہر بچے کو امراض سے محفوظ، تعلیم کی فراہمی اور سازگار ماحول کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے گا۔
پریس ٹی وی یو کے مطابق رپورٹ میں بتایا گیا کہ جنوب اور وسطیٰ افریقہ کے 10 میں سے 8 ممالک میں بچوں کی حالت زار بدترین قرار دی گئی۔ اس حوالے سے بتایا گیا کہ نائیجر میں بچوں کو سب سےزیادہ خطرہ ہے۔ اس کے برعکس سنگا پور اور سولوینیا میں بچوں کے ساتھ صنفی امتیاز، غربت اور جنگ و جدل کے سب سے کم کیسز منظر عام پر آئے۔ رپورت کے مطابق غربت زدہ ممالک میں تقریباً 1 ارب بچے، 24 کروڑ بچے سورش زدہ علاقوں میں رہنے پر مجبور ہیں جبکہ صںفی امتیاز کا معاملہ عام ہے۔ سروے کے مطابق گزشتہ برس کے مقابلے میں رواں تازہ سروے میں شامل 175 ممالک میں سے 58 ملک میں بچوں کی تعلیم، آزادی، تحفظ، اور صحت کے امور گزشتہ 12 ماہ میں تنزلی کا شکار رہے۔
سیو دی چلڈرن کا کہنا ہے کہ جنوبی سوڈان، سومالیا، یمن اور افغانستان سمیت دیگر 20 مملک بچوں کے رہنے کے لیے بدترین مقامات ہیں۔ ادارے کے مطابق ہر 6 سے ایک یعنی 35 کروڑ 70 لاکھ بچے سورش زدہ علاقے میں رہتے ہیں اور انہیں موت اور تشدد کا سامنا رہتا ہے۔ خراب کارکردگی کے حوالے سے سب سہارن افریقی ممالک (32واں)، جنوبی یورپ اور وسطیٰ ایشیا (34ویں) نمبر آئے۔
رپورٹ کے مطابق سب 51 فیصد سہارن افریقی ممالکی میں بچوں کے حالات کار میں بہترین دیکھنے میں آئی ہے اسی طرح مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ میں 47 فیصد بہتری کے اثرات نمایاں رہے۔
رپورٹ میں تمام حکومتوں کو 10 بڑے مسائل بشمول بچوں سے جبری مشقت، ان کی جبری شادی اور نقل مکانی کے خلاف فوری اقدامات اٹھانے پر زور دیا۔ واضح رہے کہ اقوام متحدہ نے گزشتہ سال تسلیم کیا تھا کہ 16 کروڑ 80 لاکھ بچے جبری مشقت میں کا شکار ہیں۔ اس حوالے سے سیو دی چلڈرن نے بتایا کہ 2030 تک 15 کروڑ لڑکیاں 18 سال کی عمر تک پہچنے سے قبل ہی شادی کے بندھن سے بند جائیں گی جبکہ لاطینی امریکا، کیریبین اور سب سہارن افریقہ میں چائلڈ میرج کی روک تھام میں مثبت اشاریے دیکھنے میں آئے ہیں۔
↧
Razan Al-Najar, grief and pain for slain 'angel of mercy' paramedic
Israeli forces killed a Palestinian nurse as she tried to help a wounded protester at the Gaza border, according to health officials and a witness. Razan Al-Najar’s death brought to 119 the number of Palestinians killed in weekly demonstrations launched on March 30 in the Gaza Strip, an enclave controlled by the Islamist group Hamas and long subject to grinding Israeli and Egyptian embargoes. Najar, a 21-year-old volunteer medic, was shot as she ran toward the fortified border fence, east of the south Gaza city of Khan Younis, in a bid to reach a casualty, a witness said. Wearing a white uniform, “she raised her hands high in a clear way, but Israeli soldiers fired and she was hit in the chest,” the witness, who requested anonymity, told Reuters.
An Israeli military spokeswoman had no immediate comment on Najar’s killing. Israeli officers have previously said that army snipers target only people posing a threat, but that the bullets can sometimes run through them or ricochet, hitting bystanders. Gazan medical officials said at least 100 Palestinians were wounded by army gunfire during Friday’s mass demonstrations. In a separate statement, the Israeli military said its troops had acted to disperse “thousands of rioters” at five locations. It said that “an IDF (Israel Defense Forces) vehicle was fired upon and a suspect was identified crossing the security fence in the northern Gaza Strip and planting a grenade which exploded as he returned to the Strip.”
There have been no Israeli casualties during the border confrontations. The surge in violence at the border crescendoed this week to the most intensive shelling exchanges between Israel and Hamas and another Palestinian armed faction since a 2014. But the violence, which caused no fatalities, was reined in with Egyptian cease-fire mediation. In the protests, billed as the “Great March of Return,” Palestinians have been calling for the right to return to lands lost to Israel during the 1948 war of its creation. Israel calls them a ploy to breach its border and deflect scrutiny from Hamas’ governance problems. Israel’s lethal response has drawn international censure.
Friday’s turnout of protesters was less than in previous weeks, but is expected to grow next week as Palestinians mark the anniversary of Israel’s capture of the Gaza Strip and West Bank and East Jerusalem in the 1967 war. Israel quit Gaza in 2005, but has elsewhere deepened settlements on occupied land. The demonstrations come at a time of growing frustration over the prospects for an independent Palestinian state or even a revival of peace talks, stalled since 2014. At her house in Khan Younis, Najar’s mother collapsed in grief as she was handed her daughter’s blood-stained uniform. A statement from Gaza’s Health Ministry mourned Najar as a “martyr.” Interviewed by Reuters interview in April, she said she would see the border protests through until their end. “I am returning and not retreating,” Najar’s last Facebook post said. “Hit me with your bullets. I am not afraid.”
↧
↧
Razan al-Najjar : A Woman Dedicated to Saving Lives Loses Hers
She had become a fixture at the weekly protests along the fence dividing the Gaza Strip from Israel, a young woman in a white paramedic’s uniform rushing into harm’s way to help treat the wounded. As a volunteer emergency medical worker, she said she wanted to prove that women had a role to play in the conservative Palestinian society of Gaza. “Being a medic is not only a job for a man,” Razan al-Najjar, 20, said in an interview at a Gaza protest camp last month. “It’s for women, too.”
An hour before dusk on Friday, the 10th week of the Palestinian protest campaign, she ran forward to aid a demonstrator for the last time. Israeli soldiers fired two or three bullets from across the fence, according to a witness, hitting Najjar in the upper body. She was pronounced dead soon after. Najjar was the 119th Palestinian killed since the protests began in March, according to Gaza health officials. Hers was the only fatality registered on Friday. On Saturday, a group of United Nations agencies issued a statement expressing outrage over the killing of “a clearly identified medical staffer,” calling it “particularly reprehensible.” The Israeli military has provided no explanation for the shooting but said Saturday that the case would be examined.
↧
اگر اسرائیل اور ایران میں جنگ ہوئی تو کون جیتے گا ؟
سنہ 1979ء میں ایران میں برپا ہونے والے اسلامی انقلاب میں ایران نے ’مقبوضہ بیت المقدس‘ کو آزاد کرانے کا نعرہ لگایا اور پوری قوت سے قضیہ فلسطین کی حمایت اور اسرائیل کے ساتھ دشمنی کی پالیسی اپنائی گئی۔ اسی عرصے میں ایران نے پاسداران انقلاب کے بیرون ملک عسکری ونگ ’فیلق القدس‘ قائم کی۔ آج اس کےسربراہ جنرل قاسم سلیمانی ہیں۔ یہ تنظیم اس وقت عراق، شام، یمن اور لبنان میں دوسرے عسکری گروپوں کے ساتھ مل کر لڑ رہی ہے۔ سنہ 1985ء میں امریکا میں صدرریگن کے دور میں ایران نے امریکا کے ساتھ ایک ڈیل کے تحت اسرائیل کا تیار کردہ اسلحہ حاصل کیا۔ معاہدے کے تحت امریکا نے اسرائیلی میزائل ڈیفنس سسٹم ’ٹاؤ‘ ایران کو دیا اور اس کے بدلے میں لبنان میں یرغمال بنائے گئے پانچ امریکیوں کو بازیاب کرایا۔
تہران اور تل ابیب میں جاری محاذ آرائی کے جلو میں فارسی ویب سائیٹ ’سپوٹنیک‘ کے فارسی ایڈیشن پر ایک رپورٹ شائع کی گئی جس میں خدشہ ظاہر کیا گیا ہے کہ ایران اور اسرائیل جنگ کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ شام کا محاذ دونوں ملکوں کے درمیان جنگ کا نیا اکھاڑا بن سکتا ہے۔ حالیہ کچھ عرصے کے دوران اسرائیل نے اعلانیہ اور غیر اعلانیہ انداز میں شام میں ایرانی اہداف پر بمباری کی ہے۔ اس بمباری نے ایران اور صہیونی ریاست کے درمیان جنگ کے خطرات کو مزید بڑھا دیا ہے۔ ویب سائیٹ کی رپورٹ کے مطابق روسی صدر ولادی میر پیوتن بہ خوبی اس تشویش سے آگاہ ہیں جو انہیں شام میں ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے امکانات کی صورت میں لاحق ہے۔ ایران اور اسرائیل کی باہمی لڑائی کے امکانات اس لیے بھی بڑھ رہے ہیں کہ بعض علاقائی قوتیں اور امریکا بھی مشرق وسطیٰ میں ایران کے بڑھتے اثر ونفوذ پر تہران پر دباؤ میں مسلسل اضافہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ العربیہ ڈاٹ نیٹ نے ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ کے منڈلاتے خطرات کے تناظر میں دونوں ملکوں کی جنگی صلاحیت کا جائزہ لیا ہے جس کی تفصیلات درج ذیل ہے۔
اسرائیلی بری فوج کی ایران تک رسائی ناممکن
روسی خبر رساں اداروں کے مطابق ایران اور اسرائیل کے درمیان جنگ چھڑتی ہے تو ایسی صورت میں اسرائیل کی بری فوج کا ایران تک پہنچنا بہت مشکل ہے۔ ایسے میں جنگ فضائی حملوں اور میزائل حملوں تک محدود رہے گی۔ تاہم اس میں اسرائیلی نیوی شامل ہو جائے گی۔ ویب سائیٹ ’ Global Firepower‘ کی ایک رپورٹ کے مطابق ایران اور تل ابیب کے درمیان جنگ کے امکانات اور دونوں ملکوں کی دفاعی صلاحیت کا تقابلی جائزہ لیا ہے۔
ویب سائیٹ کی رپورٹ کے مطابق ایران کی آبادی 8 کروڑ 20 لاکھ جب کہ اسرائیل کی آبادی 83 لاکھ یعنی ایک کروڑ سے بھی کم ہے۔ ایران کا دفاعی بجٹ 6 ارب 30 کروڑ ڈالر جب کہ صہیونی ریاست کا دفاعی بجٹ 20 ارب ڈالر ہے۔ ایران کی باضابطہ فوج 5 لاکھ 34 ہزار اہلکاروں پر مشتمل ہے جب کہ اسرائیل کی فوج کے اہلکاروں کی تعداد ایک لاکھ 70 ہزار ہے۔ ایران کے پاس 1650 ٹینک اور اسرائیل کے پاس 2760 ٹینک ہیں۔ فضائی قوت کا تقابل کریں تو ایران کے پاس 505 جنگی طیارے اور اسرائیل کے پاس 596 جنگی جہاز ہیں۔ ایران کے پاس 398 نیول اسکواڈ ہیں جب کہ اسرائیل کے پاس 65 ہیں۔
ایران کے لیے اسرائیل کے خلاف زمینی جنگ شروع کرنا بھی مشکل ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان عراق حائل ہے۔ اس طرح ایران کے لیے اسلحہ، بری فوج اور دیگر جنگی سازو سامان براہ راست بری لڑائی کے لیے پہنچانا مشکل ہے۔ دوسری جانب اسرائیل بھی اپنی بری فوج ایران میں داخل نہیں کر سکتا۔ جنگ کی صورت میں اسرائیل ایران کے اندر گہرائی تک میزائل اور فضائی حملوں پر توجہ مرکوز کرے گا۔ دوسری طرف ایران خطے میں اپنے اتحادیوں حزب اللہ اور حماس سمیت دیگر تنظیموں کو اسرائیل پر راکٹ حملوں کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ اسرائیل کو بہت سے ممالک اپنی فضائی حدود کے استعمال کی اجازت دیں گے جب کہ ایران کے لیے ایسا کرنا مشکل ہو گا۔ ایران کے بیشتر جنگی طیارے زیادہ بلندی پر اڑنے کی صلاحیت بھی نہیں رکھتے۔
ایران کی دفاعی پیداوار
ایران اپنے ہاں کئی جنگی ہتھیار تیار کرتا ہے۔ اس کے اپنے اسلحہ میں ’آذرخش‘ جنگی طیارے، ’صاعقہ‘ اور ‘تذرو‘ جیسے جہاز ہیں۔ یہ سنہ 1980ء اور 1990ء کے پرانے ماڈل کے مطابق تیار کیے گئے ہیں۔ اسرائیل کے پاس ایک سو سے 500 تک وار ہیڈز موجود ہیں جن 50 ہزار میگاٹن طاقت رکھتے ہیں۔ اس کے علاوہ اسرائیل نے سنہ 1989ء میں ’جریکو b2‘ نامی ایک بیلسٹک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا اور اس کے بعد یہ ہتھیار اس کے اسلحہ میں شامل ہے۔
سپوٹنیک ویب سائیٹ کے مطابق اسرائیل نے ’جریکو بی ٹو‘ میزائلوں سے ایران میں متعدد بار اہداف کو نشانہ بنایا گیا تاہم ان اہداف اور حملوں کی تاریخ واضح نہیں۔ حالیہ چند برسوں کے دوران ایران میں بعض حساس نوعیت کی تنصیبات پر حملوں کی خبریں آتی رہی ہیں۔ ایران نے ان حملوں کی ذمہ داری اسرائیل پر عائد کی مگر اسرائیل نے اس پر خاموشی اختیار کیے رکھی۔ اسرائیل کے پاس جوہری وارہیڈ لے جانے کی صلاحیت کے حامل جنگی طیارے اور ’ائرن ڈوم‘ جیسا میزائل ڈیفنس سسٹم موجود ہے جو حزب اللہ اور حماس کے راکٹوں کے بچاؤ کے لیے تیار کیا گیا ہے۔
دبئی ۔ مسعود الزاھد
بشکریہ العربیہ اردو
↧
Who was Razan al-Najjar 'angel of mercy' ?
Razan al-Najjar was a 21-year-old Palestinian nurse volunteering in the health ministry. On June 1, 2018, Razan was shot and martyred in the chest by Israeli snipers while she was trying to save the injured protesters at the eastern borders of Gaza. Thousands of Palestinians have attended her funeral in Gaza. Her body was wrapped in a Palestinian flag in the streets of Gaza. Her father carried her blood-stained medical jacket, while other mourners demanded justice.
↧
ڈونلڈ ٹرمپ کی پالیسیوں سے امریکی غریب سے غریب تر ہو رہے ہیں
اقوام متحدہ کا ادارہ برائے انسانی حقوق نے خبردار کیا ہے کہ امریکا کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ معاشی پالیسیوں کی وجہ سے امریکا میں غربت کا تناسب تیزی سے بڑھ رہا ہے جبکہ غریب مسلسل غریب اور دولت مندوں کو نوازنے کا سلسلہ جاری ہے۔ ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق اقوام متحدہ کی خصوصی ایلچی برائے انتہائی غریب فلپ ایلسٹن نے متعلقہ حکام پر زور دیا کہ امریکا کے غریب طبقوں کو‘ مزید دیوار سے لگانے کے بجائے’ انہیں سیفٹی نیٹ میں شامل کرکے سماجی تحفظ فراہم کیا جائے اور ان کے مسائل کے سدباب کےلیے موثر حکمت عملی واضع کی جائے۔
فلپ ایلسٹن کی رپورٹ کے مطابق ڈونلڈ ٹرمپ کی حالیہ ٹیکس پالیسی فنانشنل وینڈ فال کے باعث لاکھوں امریکی سماجی بہبود پر مشتمل مراعات اور ہیلتھ انشورنس سے محروم ہو گئے ہیں اور مذکورہ پالیسی سے متمدل اور امیر طبقہ ہی فائدہ اٹھا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی نے بتایا کہ ‘امریکا میں انتہائی غربت نئی بات نہیں اور 1960 میں اس وقت کے صدر کی غربت کے خلاف جنگ میں اٹھائے گئے اقدامات‘ قطعی طور پر نظر انداز’ کیے جارہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ‘ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گزشتہ چند برسوں سے جان بوجھ کر غریب مخالف پالیسیاں مرتب کی جارہی ہیں جس سے شہری کو بنیادی حقوق سے محروم کر دیا جائے، بے روزگار افراد کو سزا دی جائے، صحت کی بنیادی سہولیات کو شہری حقوق سے نکال کر ایسی مراعات بنا دی جائے جس کی قیمت ہو۔
↧
↧
افغان بچوں کی نصف آبادی تعلیم سے محروم ہے
افغانستان میں بچوں کی کل آبادی کی تقریباً نصف تعداد اسکولوں سے باہر ہے جس کی وجہ لڑائی، غربت، کم عمری کی شادی اور لڑکیوں سے متعلق امتیازی رویہ ہے۔ یہ بات اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال، یو ایس ایڈ اور ایک غیر جانبدار تھنک ٹینک 'سیمیوئل ہال'کی جاری ہونے والی مشترکہ رپورٹ میں کہی گئی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ تشدد کے بڑھتے واقعات کے باعث بہت سے اسکولوں کو بند کرنا پڑا اور ایک ایسا ملک جہاں لاکھوں بچوں نے کبھی اسکول میں قدم نہیں رکھا وہاں بچیوں کی تعلیم کے لیے کی جانے والی کوششوں کو نقصان پہنچایا۔
افغانستان کے وزیرتعلیم میر واعظ بلخی نے اس رپورٹ سے متعلق ایک سیمینار میں تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ سات سے 17 سال کی عمر کے 37 لاکھ بچے اسکول سے باہر ہیں جن میں 27 لاکھ بچیاں بھی شامل ہیں۔ بلخی نے کہا کہ بچوں کے اسکول نہ جانے کی بہت سی وجوہات ہیں۔ "انسانی سماج میں بچوں کی تعلیم سب سے اہم پہلو ہے، یہ غربت، جنگ اور بے روزگاری ختم کرنے کے لیے اہم ترین ہتھیار ہے۔"رپورٹ میں بتایا گیا کہ لڑائی سے شدید متاثرہ علاقوں میں 85 فیصد بچیاں اسکول نہیں جاتیں۔ رپورٹ میں یونیسف کے ایڈیل کھوڈر کا کہنا تھا کہ "اگر افغانستان ہر بچے کے حق حصول تعلیم کی پاسداری کو یقینی نہیں بنایا تو اس کے لیے یہ کوئی راستہ نہیں ہے کہ چیزیں ایسی ہی چلتی رہیں۔ جب بچے اسکول نہیں جاتے تو ان کے لیے خطرات یا استحصال کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔"
↧
کیا امریکی صدر خود کو معافی دینے کا اختیار رکھتا ہے ؟
صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے وکیل کے اس بیان کے بعد کہ وہ بحیثیت صدر خود کو بھی معافي دینے کا اختیار رکھتے ہیں، امریکہ میں ایک نئی دلچسپ بحث شروع ہو گئی ہے۔ صدر ٹرمپ کے وکیل روڈی جولیانی نے یہ بات ایک امریکی ٹیلی وژن چینل اے بی سی کو اپنے انٹرویو میں کہی۔ ان کا کہنا تھا کہ صدر کے پاس معاف کرنے کی طاقت ہے، لیکن ان کا اس طرح کا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ صدر کے اختیارات اور معافي کی کہانی کا تعلق ان الزامات سے ہے کہ ٹرمپ کی صدارتی انتخابات میں کامیابی روس کی مبینہ مداخلت سے جڑی ہے۔ خصوصی کونسل رابرٹ مولر ان دنوں صدارتی میں مبینہ روسی مداخلت اور صدر ٹرمپ کی جانب سے انصاف کی رہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کے الزامات کی تفتیش کر رہے ہیں اور یہ مسئلہ دن بدن اہمیت حاصل کرتا جا رہا ہے۔
معافي کی بحث کا آٖٖغاز نیویارک ٹائمز میں صدر ٹرمپ کے شائع ہو نے والے ایک خط سے ہوا جو انہوں نے خصوصي کونسل کو لکھا تھا۔ خط میں انہیں باور کرایا گیا تھا کہ ملک کی سربراہ ہونے کی حیثیت سے ان کے پاس کسی بھی تفتیش کو ختم کرنے اور معاف کرنے کی طاقت اور اختیارات موجود ہیں۔ خصوصي کونسل یہ جاننے کی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا صدر ٹرمپ کی انتخابی مہم میں روسی مداخلت یا ساز باز شامل تھی یا نہیں۔ صدر ٹرمپ اور روس دونوں ہی اس الزام سے انکار کرتے ہیں۔ ان تحقیقات کا دوسرا پہلو یہ ہے کہ کونسل یہ تعین کرنے کی بھی کوشش کر رہے ہیں کہ آیا صدر نے انصاف کی راہ میں رکاوٹیں تو نہیں ڈالیں۔
جب کہ امریکی انٹیلی جینس پہلے ہی یہ کہہ چکی ہے کہ ماسکو نے امریکہ کے صدارتی انتخابات کے نتائج پر اثر انداز ہونے کی کوشش کی تھی۔
آیا امریکی صدر آئینی اور قانونی طور پر خود کو معافی دینے کا اختیار رکھتا ہے اور اگر کسی بھی مرحلے پر صدر ٹرمپ نے ایسا کرنے کی کوشش کی تو بحیثیت صدر ان پر اس اقدام کے کیا اثرات مرتب ہوں گے اور ملکی سیاست میں اسے کیسے دیکھا جائے گا۔ اس بارے میں نیویارک کے اٹارنی افضال سپرا نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ آئین کی سیکشن 2 کی شق ایک کے تحت ، صدر کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ کسی بھی مجرم کی سزا معاف کر دے سوائے اپنے مواخذے کے تحت سامنے آنے والی اپنی سزا کے ۔
انہوں نے کہا کہ امریکی تاریخ میں ایسی کوئی مثال موجود نہیں ہے جب کسی صدر نے خود اپنی کسی سزا پر معاف کیا ہو۔ افضال سپرا کا کہنا تھا کہ آئین میں اس بارے میں واضح طو ر پر کچھ نہیں کہا گیا ہے اس لیے اگر صدر نے کسی مرحلے پر ایسا کیا تو ان کا معاملہ سپریم کورٹ میں جائے گا جو یہ تعین کرے گی کہ آیا وہ خود کو معاف کر سکتے ہیں یا نہیں ۔ تاہم اٹارنی افضال سپرا کہتے ہیں کہ صدر نے اگر ایسا کیا تو اس کے ان کی ذاتی ساکھ بری طرح متاثر ہو گی ، کیوں کہ خود کو معاف کرنے کا مطلب یہ ہو گا کہ انہوں نے پہلے تو اپنے جرم کو تسلیم کر لیا اور اس کے بعد خود کو معاف کیا تو کوئی بھی صدر اگر کسی جرم کا مرتکب ہوتا ہے توصدر کے طور پر اس کی حیثیت پر سوال اٹھ سکتے ہیں اور اسے کانگریس کی جانب سے مواخذے کا سامنا ہو سکتا ہے۔
نیو یارک کی بفلو یونیورسٹی میں انٹر نیشنل ریلیشنز کے پروفیسر فیضان حق نے جو امریکی تاریخ اور آئین میں گہری دلچسپی رکھتے ہیں، کہا کہ امریکی تاریخ میں ایسی کوئی مثال موجود نہیں ہے ، ہاں البتہ ایسا ضرور ہوا ہے کہ صدر نکسن کی سزا کو ان کے مستعفی ہونے کے بعد ملک کے وائس پریذیڈنٹ نے معاف کر دیا تھا اور یوں وہ خود کو درپیش مشکل صورتحال سے باعزت نکالنے میں کامیاب ہو سکے تھے۔ فیضان حق نے کہا کہ اگرچہ بظاہر کوئی ایسی صورت نظر نہیں آتی کہ صدر ٹرمپ کسی ایسی مشکل میں گرفتا ر ہوں گے جب انہیں خود کو خود ہی معاف کرنا پڑے تاہم اگر ایسے حالات پیش آئے اور صدر نے اس قسم کے کسی اقدام کی کوشش کی تو یہ ان کے لیے اچھا نہیں ہو گا اور اس سے ایک اخلاقی بحران کے ساتھ ساتھ ایک آئینی بحران بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
یاسمین جمیل
بشکریہ وائس آف امریکہ
↧
ایٹمی ہتھیاروں کے بڑھتے ہوئے ذخائر
نیویارک میں امریکی سائنسدانوں کی تنظیم ’’فیڈریشن آف امریکن سائنس دانوں‘‘ نے دنیا میں ایٹمی ہتھیاروں کی تعداد کے حوالے سے نئی فہرست جاری کر دی ہے جس کے مطابق ایٹمی طاقت کے حامل ممالک کے پاس ہتھیاروں کی تعداد اس قدر بڑھ چکی ہے کہ دنیا میں کھلبلی مچ گئی ہے۔ بزنس انسائیڈر کی رپورٹ کے مطابق اس وقت دنیا میں سب سے زیادہ ایٹمی ہتھیار روس کے پاس ہیں جن کی تعداد 7 ہزار ہے۔ دوسرے نمبر پر امریکہ کے پاس 6800، فرانس کے پاس 300، چین کے پاس 270، برطانیہ کے پاس 215، پاکستان کے پاس 140، بھارت کے پاس 130، اسرائیل کے پاس 80 اور شمالی کوریا کے پاس 60 ایٹمی ہتھیار ہیں۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان ’’ٹیکٹیکل نیوکلیئر ہتھیار‘‘ بھی تیار کر رہا ہے جو سائز میں اس قدر چھوٹے ہیں کہ انہیں انتہائی آسانی سے میدان جنگ میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے برعکس روایتی ایٹمی ہتھیار صرف شہروں یا دیگر بڑے انفراسٹرکچر پر ہی گرائے جا سکتے ہیں۔ یہ ٹیکٹیکل ہتھیار جنگی جہازوں اور آبدوزوں کے ذریعے بھی انتہائی مختصر نوٹس پراستعمال کیے جا سکتے ہیں۔ اس کے علاوہ پاکستان ’’نیوکلیئر ٹرائی ایڈ‘‘ کی تیاری کے بھی قریب پہنچ چکا ہے جس سے وہ زمین، فضاء اور سمندر تینوں جگہوں سے ایٹمی میزائل لانچ کرنے کی صلاحیت حاصل کر لے گا۔ بھارت نے 1960ء کی دہائی میں اپنا ایٹمی پروگرام شروع کر دیا تھا اور 80 کی دہائی میں ایٹمی طاقت بن چکا تھا جس کی وجہ سے پاکستان کو مجبوراً اپنا ایٹمی پروگرام شروع کرنے کی ترغیب ملی اور آج اس کے پاس بھارت سے زیادہ ایٹمی ہتھیار موجود ہیں۔
محمد ابراہیم
↧