Quantcast
Channel: Pakistan Affairs
Viewing all 4738 articles
Browse latest View live

شمالی کوریا کی ٹرمپ سے ملاقات ختم کرنے کی دھمکی

$
0
0

شمالی کوریا نے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات ختم کرنے کی دھمکی دے دی ہے. شمالی کوریا اورامریکا کے درمیان جمی برف پگھلنے لگی تھی لیکن اب ایک بار پھر شمالی کوریا کی جانب سے امریکی صدرڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ ملاقات ختم کرنے کی دھمکی دے دی گئی ہے۔ اس سے متعلق شمالی کوریا کا کہنا ہے کہ وہ اپنے جوہری ہتھیاروں کے پروگرام کوختم کرنے کے لیے تیار ہے لیکن اگر امریکا نے جوہری ہتھیاروں کو ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا تو وہ ٹرمپ کے ساتھ اگلے ماہ 12 جون کو طے شدہ ملاقات کو منسوخ کرنے کے بارے میں سوچ سکتے ہیں۔

دوسری جانب امریکی محکمہ خارجہ نے کہا ہے کہ وہ صدرٹرمپ اور کم جانگ ان سے ملاقات کی تیاریاں جاری رکھے ہوئے ہیں اور انہیں شمالی کوریا کے موقف میں کسی تبدیلی کا کوئی علم نہیں ہے۔ شمالی کوریا کے سرکاری میڈیا نے ملک کے نائب وزیر خارجہ کم گیگوان کے حوالے سے کہا ہے کہ اگر امریکا نے ہمیں دیوارسے لگایا اور یکطرفہ طور پر جوہری ہتھیاروں کو ختم کرنے کا کہا تو ہمیں مذاکرات میں کوئی دلچسپی نہیں رہے گی۔ اس سے قبل مارچ میں امریکی صدر ٹرمپ نے اپنے شمالی کوریا کے ہم منصب کی ملاقات کی دعوت کو قبول کرلیا تھا جس سے دنیا حیران رہ گئی تھی۔ واضح رہے کہ شمالی کوریا جنوبی کوریا کی امریکی افواج کے ساتھ مشترکہ مشقوں پرناراض ہے جب کہ شمالی کوریا نے فوجی مشق کو اشتعال انگیزقرار دیا ہے۔
 


وسط ایشیا کیسا ہے؟

$
0
0

وسط ایشیا براعظم ایشیا کا ایک وسیع، خوبصورت اور نسبتاً کم گنجان آباد خطہ ہے۔ اس کی سرحدیں سمندر سے نہیں لگتیں۔ اس خطے کی تعریف میں قدرے اختلاف ہے۔ روسیوں کے مطابق ازبکستان، ترکمانستان، تاجکستان اور کرغزستان اس میں شامل ہیں مگر قازقستان نہیں ہے۔ عمومی جدید تعریف میں قازقستان کو وسط ایشیا ہی میں شمار کیا جاتا ہے۔ اگر ان پانچ ممالک کو وسط ایشا تصور کیا جائے تو خطے کی کل آبادی سات کروڑ ہو گی۔ خطے کا سب سے بڑا ملک قازقستان ہے جو سارا ایشیا میں نہیں اور اس کا کچھ حصہ یورپ میں ہے۔ یہ علاقہ تاریخ عالم میں اہم حیثیت رکھتا ہے۔ 

براعظم ایشیا کے وسط میں یہ خشک صحراؤں اور بلند پہاڑوں کی سر زمین ہے۔ یہ اس قدیم و اہم تجارتی شاہراہ ’’شاہراہ ریشم‘‘ کی وجہ سے شہرت رکھتا ہے جو صدیوں تک یورپ اور چین کے درمیان تجارت کا اہم راستہ تھی۔ اس کی دوسری وجہ شہرت یہاں کی خانہ بدوش زندگی رہی جو اب بہت کم ہو چکی ہے۔ کبھی کبھار افغانستان کو بھی وسط ایشیا میں شمار کیا جاتا ہے لیکن عموماً اسے جنوبی ایشیا کا حصہ مانا جاتا ہے۔ اس خطے کے ممالک 1920ء کی دہائی سے 1991ء تک سوویت یونین کا حصہ رہے۔ سوویت یونین کے انحطاط کے بعد انہوں نے آزادی حاصل کی تاہم زیادہ تر حکمرانوں کا تعلق پرانی کمیونسٹ پارٹی ہی سے ہے۔ علاقے کے عوام کی اکثریت کا ذریعہ معاش چونکہ زراعت ہے اس لیے بیشتر آبادی دریائی وادیوں اور نخلستانوں میں رہتی ہے۔ 

علاقے میں متعدد بڑے شہر بھی واقع ہیں۔ ابھی تک روایتی خانہ بدوشوں کا طرز زندگی بھی پایا جاتا ہے جو اپنے جانوروں کے ساتھ ایک سے دوسری چراگاہ میں نقل مکانی کرتے رہتے ہیں۔ خطے میں غیر آباد علاقے بھی ہیں۔ وسط ایشیا کے مغربی حصے کے بیشتر علاقے پر دنیا کے دو عظیم صحرا کاراکم اور کیزل کم پھیلے ہوئے ہیں۔ مشرق میں بلند و بالا پہاڑی سلسلے ہندو کش، تین شان اور پامیر ہیں۔ چند دریا صحرا میں سے گزرتے ہیں جن میں آمو دریا بھی شامل ہے جو پامیر میں سے نکلتا ہوا سکڑتے ہوئے بحیرہ ارال میں جا گرتا ہے۔

بحیرہ ارال جو کسی زمانے میں دنیا کی چوتھی سب سے بڑی جھیل تھا اب 1960ء کے مقابلے میں صرف 40 فیصد رہ گیا ہے۔ اس کی بڑی وجہ اس میں گرنے والے دریاؤں میں سے نہروں کو نکال کر بڑے پیمانے پر زمینوں کو قابل کاشت بنانا تھا جس سے اس جھیل میں پانی کے ذرائع ختم ہو کر رہ گئے اور یہ روز بروز سکڑتی چلی گئی۔ اب عالمی توجہ کے بعد اس قدرتی ورثے کی حفاظت کا منصوبہ تشکیل دیا گیا ہے جس سے اس عظیم جھیل میں، جو اپنے وسیع حجم کے باعث سمندر بھی کہلاتی ہے، دوبارہ پانی بھرنا شروع ہو گیا ہے۔ کاراکم کا عظیم صحرا ترکمانستان کا 70 فیصد علاقے پر پھیلا ہوا ہے۔ اس صحرا کی سطح ہواؤں سے تشکیل پانے والے ٹیلوں اور گھاٹیوں پر مشتمل ہے۔ انسانی آبادیاں اس صحرا کے کناروں تک ہی محدود ہیں۔ سطح زمین پر دباؤ پر کھنچاؤ سے وادی فرغانہ تشکیل پائی جو بلند و بالا پہاڑوں کے درمیان ایک گہری وادی ہے۔ 

یہ وادی اپنی زرخیز زمین کے باعث انتہائی گنجان آباد ہے اور وسط ایشیا کے بڑے صنعتی مراکز میں سے ایک ہے۔ یہاں کی زمین سیر دریا اور دیگر زیر زمین آبی ذخائر سے فیض یاب ہوتی ہے۔ یہ خطہ قدرتی معدنیات سے مالا مال ہے۔ یہ دنیا کے ان خطوں میں شامل ہے جہاں گیس اور تیل کے مزید ذخائر کی دریافت کی توقع کی جاتی ہے کیونکہ ابھی بہت سے علاقوں کا سروے نہیں ہوا۔ کوئلہ قدرتی گیس اور تیل اس خطے کے کئی علاقوں میں نکالا جاتا ہے۔ زراعت کی صنعت غذائی اور پارچہ بافی کی صنعت کے علاوہ چمڑے کی صنعت کے لیے بھی خام مال فراہم کرتی ہے۔ یہ خطہ اپنے رنگین روایتی قالینوں کے باعث بھی عالمی شہرت رکھتا ہے جو قراقل بھیڑ سے حاصل کردہ اون سے تیار کیے جاتے ہیں۔

محمد ریاض


 

اقوام متحدہ کا غزہ میں اسرائیلی جنگی جرائم کی تحقیقات کیلیے وفد بھیجنے کا فیصلہ

$
0
0

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل نے فلسطین میں اسرائیلی جارحیت اور جنگی جرائم میں ملوث ہونے کی تحقیقات کے لیے فوری طور پر عالمی ماہرین پر مشتمل وفد کو غزہ بھیجنے کا فیصلہ کیا ہے۔ بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی کونسل نے جنگی جرائم کے عالمی تحقیق کاروں پر مشتمل ایک وفد کو غزہ بھیجنے کے حق میں ووٹ دے دیا ہے جس کے بعد اقوام متحدہ فوری طور ماہرین کے ایک وفد کو غزہ بھیجے گی جو اسرائیلی فوج کی جانب سے فلسطینیوں کے قتل عام پر تحقیقات کرے گی۔

اقوام متحدہ کی عالمی کونسل کی جانب سے جنگی جرائم کی تحقیقات کے لیے ماہرین کو غزہ بھیجنے کے لیے قرارداد کی 29 اراکین نے حمایت کی جب کہ امریکا اور آسٹریلیا نے مخالفت کی اور 14 ممالک نے ووٹنگ میں حصہ نہیں لیا۔ غزہ جانے والا وفد ایک ماہ کے اندر اپنی تحقیقاتی رپورٹ جمع کرانے کا پابند ہو گا جس کی روشنی میں اقوام متحدہ راست قدم اُٹھائے گی۔ واضح رہے کہ فلسطین میں امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے یروشلم منتقلی کے موقع پر اسرائیلی فوجوں نے ظلم کی انتہا کرتے ہوئے فلسطینی مظاہرین کو براہ راست گولیوں کا نشانہ بنایا اور خواتین، بچوں، بزرگوں اور معذور افراد پر ظلم و تشدد کا نشانہ بنایا جس کے نتیجے میں 60 سے زائد فلسطین شہید اور تین ہزار سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔
 

فلسطینیوں پر اسرائیلی مظالم - استنبول میں پانچ لاکھ افراد کی ریلی

$
0
0

ترک صدر رجب طیب اردگان کی تجویز پر فلسطین میں ہونے والی اسرائیل کی حالیہ کارروائیوں کے نتیجے میں 60 سے زائد افراد کی شہادت پر او آئی سی کا ہنگامی اجلاس طلب کر لیا گیا۔ استنبول میں فلسطین کے حق میں ریلی نکالی گئی جس میں فلسطینی وزیراعظم رامی حمداللہ اور ترک صدر رجب اردگان نے شرکت کی اور خطاب بھی کیا۔ ریلی کے شرکا نے پلے کارڑ اٹھا رکھے تھے جن میں ‘ القدس اسلام کی عزت ہے’ کے الفاظ درج تھے، ریلی میں شریک نوجوانوں نے اسرائیلی پرچم کو نذر آتش کیا اور اسرائیل مخالف نعرے لگائے۔








ٹام اینڈ جیری

$
0
0

ٹام اینڈ جیری بلا شعبہ دنیا کے مقبول ترین کارٹو ن ہیں جنہیں دنیا کے کروڑوں بچے روزانہ شوق سے دیکھتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ ان کارٹونز میں صرف بچوں کی تفریح ہی نہیں بلکہ بڑوں کے لیے زندگی کے چند اہم ترین سبق بھی ہیں۔ اگر آپ نے کبھی ان پہلوؤں پر توجہ نہیں دی توآپ ان باتوں کو غور سے پڑھئے۔

سائز کی کو ئی اہمیت نہیں آپ نے دیکھا ہو گا کہ ننھا جیری بڑی سی بلی ٹام کو کیسے تگنی کا ناچ نچاتا ہے۔ بظاہر چھوٹا اور کمزور نظرآنے والا مخالف بہت مشکل ثابت ہو سکتا ہے لہٰذا کسی کی ظاہری حالت وصورت کو دیکھ کر غلط اندازہ نہ لگائیں۔ 

اتفاق ضروری ہے اگرچہ ٹام اورجیری آپس میں ہمہ وقت لڑتے رہتے ہیں لیکن جب بھی کوئی تیسر ا دشمن سامنے آئے تو وہ متحد ہو جاتے ہیں. 

مل بانٹ کر کھائیں محبت کرنے والوں میں لڑائیاں بھی ہو جاتی ہیں لیکن ان کی وجہ سے روٹھ کر منہ نہ پھیریں بلکہ اکھٹے رہیں اور ملکر لطف اندوز ہوں. 

اظہار محبت ٹام کا انداز اظہار محبت کے لئے بھی بہترین رہنمائی کرتا ہے کہ کیسے دوسروں سے اظہار محبت کرنا چاہیے۔ 

ناکامی کامیابی کی بنیاد ہے جیری ننھا ضرور ہے اور کمزور بھی لیکن کوئی ناکامی اسے مایوس نہیں کرتی اور بالا ٓخر وہ کامیاب ضرور ہوتا ہے. 

 پر اعتماد رہیں چاہے حالات کیسے بھی سخت اورمشکل ہوں اپنی ذات پر اعتما د رکھئے۔ 

 دوستی انمول تحفہ ہے اگرچہ ٹام اور جیری کی لڑائیاں مثال بن چکی ہیں لیکن ان کی دوستی بھی ساتھ ساتھ چلتی ہے اور ان کے لیے حقیقی خوشی کا باعث بنتی ہے۔ 

خوش رہئے لڑائی جھگڑے اور نوک جھونک کے ساتھ خوش رہنا بھی ضروری ہے۔ 

اعتبار کیجئے اپنے پیاروں سے اختلاف اور ناراضگی کی وجہ سے ان پر اعتبار کبھی ختم نہ کریں۔ 

 پر عزم رہیں مسائل سے گھبرا کر دلبرداشتہ نہ ہوں بلکہ ہمیشہ توانائی سے بھرپور رہیں اور ہر موقع اور ہر لمحے کی خوشی سے لطف اندوز ہوں۔

شاہ رخ طارق


 

وینزوریلا : مادروو کی کامیابی، کیا بحران حل ہو سکے گا ؟

$
0
0

وینزویلا کی حزب اختلاف پہلے ہی کہہ چکی تھی کہ صدارتی انتخابات میں نکولاس مادورو ہی کامیاب ہوں گے اور ہوا بھی ایسا ہی ہے۔ مادورو کے حریف ہینری فیلکن نے نتائج کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ شدید بحرانی حالات کے شکار لاطینی امریکی ملک وینزویلا کے صدارتی انتخابات موجودہ سوشلسٹ سربراہ مملکت نکولاس مادورو نے جیت لیے ہیں۔ سرکاری ذرائع کے مطابق مادورو کے حق میں 5.8 ملین شہریوں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا، جو کل ڈالے گئے ووٹوں کا تقریباً اڑسٹھ فیصد بنتا ہے۔

مادورو کے حریف ہینری فیلکن صرف 1.8 ملین ووٹرز کی تائید حاصل کر پائے ۔  ملکی الیکش کمیشن کے مطابق ووٹنگ کی شرح 46 فیصد کے لگ بھگ تھی جبکہ ملکی حزب اختلاف کا دعوی ہے کہ اہل ووٹرز کے صرف تیس فیصد تعداد نے انتخابی عمل میں حصہ لیا۔ اپوزیشن سے تعلق رکھنے والی مختلف تنظیموں نے انتخابات کے بائیکات کا اعلان کیا ہوا تھا۔ گزشتہ انتخابات میں ووٹنگ کا تناسب تقریباً 80 فیصد تھا۔

مادرو نے نتائج کے سامنے آنے پر دارالحکومت کاراکس میں اکھٹے ہونے والے اپنے حامیوں سے کہا، ’’انہوں نے میرے بارے میں غلط اندازے لگائے تھے۔‘‘ ان کے بقول اب اگلے دو برسوں میں مزید کوئی انتخابات نہیں ہوں گے، ’’ووٹنگ کی کم شرح کے باوجود یہ تاریخی فتح ہے اور حزب اختلاف اگر ان انتخابات میں حصہ لیتی بھی تو میں ہی کامیاب ہوتا۔‘‘ مادورو کے مخالفین کا موقف ہے کہ حکومت نے شہریوں میں رقم اور راشن کی تقسیم کے حوالے سے خوف پھیلا کر انتخابات میں کامیابی حاصل کی ہے۔ وینزویلا کو آج کل تاریخ کے اپنے شدید ترین بحران کا سامنا ہے۔ تیل کی دولت سے مالا مال اس ملک میں اشیاء ضرورت اور ادویات کی شدید قلت ہے۔

بشکریہ DW اردو
 

مہاتر محمد کی حیران کن واپسی

$
0
0

ساٹھ برس سے حکمرانی کے مزے لینے والی جماعت کو ایوان اقتدار سے کیسے نکال باہر کیا جاتا ہے؟ ملائشیا میں ہونے والے حالیہ انتخابات اس سوال کا بہترین جواب ہیں۔ اسی ایک سوال اور جواب کو ملائشیا کی پوری تاریخ قرار دیا جا سکتا ہے۔ گزشتہ ہفتے تک کی حکمران جماعت یونائیٹڈ مالائز نیشنل آرگنائزیشن (امنو) کو عشروں پہلے اقتدارجس شخص نے دلایا تھا، اس کا نام مہاترمحمد تھا ، اور اس سے اقتدار چھیننے والے شخص کا نام بھی مہاتر محمد ہے۔ اس نے ایک حیران کن کارنامہ سر انجام دیا ہے اور ثابت کر دیا کہ 92 برس کی عمر میں بھی کسی مضبوط پارٹی کا دھڑن تختہ کیا جا سکتا ہے۔ اسی مہاترمحمد نے دوعشرے قبل اپنے نائب وزیراعظم اور پارٹی سربراہ انورابراہیم کو گرفتار کر کے جیل میں ڈالا تھا، موخرالذکر پرانتہائی سنگین الزامات عائد کر کے اسے بدترین سزائیں دیں، اب اسی مہاترمحمد نے اسی انورابراہیم کی مدد سے وزیراعظم نجیب رزاق کو بدترین شکست سے دوچار کیا۔

انسانی تاریخ کے سب سے بوڑھے وزیراعظم مہاترمحمد جون 1981ء سے اکتوبر 2003ء تک، 22 برس ’امنو‘ کے سربراہ بھی رہے ہیں۔ 1964ء سے 1999ء تک، اسی جماعت کا پرچم لہراتے ہوئے مسلسل ہر عام انتخابات میں اپنے مخالفین کو شکست دیتے رہے، گزشتہ ہفتے انھوں نے ’امنو‘ کے امیدوار کو بھی شکست دی اور اپنی دیرینہ مخالف جماعت ’پاس‘ کے نمائندے کو بھی۔ نومئی کو ہونے والے عام انتخابات میں مہاترمحمد اور ان کے اتحادیوں نے 124 نشستیں حاصل کیں، یاد رہے کہ ملائشیا میں حکومت سازی کے لئے 222 نشستوں کی پارلیمان میں 112 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے۔ انتخابی نتائج سامنے آتے ہی بدعنوانی اور اقربا پروری کے الزامات سے لتھڑے ہوئے نجیب رزاق نے اعلان کیا کہ وہ عوامی فیصلے کو قبول کریں گے۔

تازہ انتخابات میں نجیب رزاق کا ’نیشنل فرنٹ‘ محض 79 حلقوں میں کامیابی حاصل کر سکا، 2013ء کے عام انتخابات میں اس کی سیٹیں 133 تھیں۔ اب کی بار مہاترمحمد اور انورابراہیم کی قیادت میں ’الائنس فار ہوپ‘ نے مجموعی طور پر 113 نشستیں حاصل کیں، گزشتہ انتخابات میں ان کے 67 نمائندے پارلیمان میں پہنچے تھے۔ کامیابی حاصل کرنے والا اتحاد انورابراہیم کی پیپلز جسٹس پارٹی، مہاتر محمد کی ملائشین یونائیٹڈ انڈیجینئس پارٹی، تان کوک وائی کی ڈیموکریٹک ایکشن پارٹی اور محمد صابو کی نیشنل ٹرسٹ پارٹی کا مجموعہ ہے، پیپلزپارٹی جسٹس پارٹی نے 48، ڈیموکریٹک ایکشن پارٹی نے 42 ،’ملائشین یونائیٹڈ انڈیجینئس پارٹی‘ نے 12 جبکہ نیشنل ٹرسٹ پارٹی (امانہ) نے 11 نشستیں حاصل کیں۔

دو جماعتوں نے اس اتحاد کی حمایت کرتے ہوئے انتخابات میں حصہ لیا تھا، ان میں سے ایک ’صباح ہیریٹیج پارٹی‘ نے 8 نشستیں حاصل کیں۔ ملائشیا کی اسلامی تحریک ’ملائشین اسلامک پارٹی‘(پاس) نے بھی 18 نشستیں حاصل کیں۔ گزشتہ عام انتخابات میں اس کی نشستیں 21 تھیں۔ اگر انتخابات میں حصہ لینے والی تمام پارٹیوں کی انفرادی کارکردگی کا جائزہ لیا جائے تو انورابراہیم کی جماعت سب سے آگے رہی، اس نے 71 نشستوں، مہاتر محمد کی پارٹی نے 52 نشستوں جبکہ نجیب رزاق کے شکست خوردہ اتحاد نے222 نشستوں پر انتخاب لڑاتھا۔ نجیب رزاق کے لئے یہ انتخابات سیاسی زندگی اور موت کی حیثیت رکھتے تھے۔ پانچ برس قبل ہی رائے عامہ کے جائزے اشارے دے رہے تھے کہ انور ابراہیم اور ان کے اتحادی غیرمعمولی طور پر مقبولیت حاصل کر رہے ہیں، مئی 2013ء میں سامنے آنے والی ایک سروے رپورٹ میں بتایا گیا کہ انورابراہیم کے اتحاد ’الائنس فار ہوپ‘ کو 50.87 فیصد لوگوں کی حمایت حاصل ہے جبکہ نجیب رزاق کا اتحاد 47 فیصد پر پہنچ چکا ہے۔ اگست 2016ء کے ایک جائزے میں ’الائنس فار ہوپ‘ کی عوامی حمایت 59 فیصد تک پہنچ گئی جبکہ نجیب رزاق کا گراف 29 فیصد تک گر گیا۔

اس کے بعد سامنے آنے والے دیگر جائزے بھی نجیب رزاق کے لئے خوفناک تھے، بالآخر تقریباً وہی کچھ ہوا جس کے اشارے دئیے جارہے تھے۔ مہاترمحمد اور انورابراہیم کے اتحاد کو 55.86 فیصد نشستیں ملیں جبکہ نجیب رزاق کے اتحاد کا حصہ 35 فیصد رہا۔ یہ ایک ایسے حکمران اتحاد کے خلاف غیرمعمولی نتائج تھے جس نے ملک میں سول مارشل لا قائم کر رکھا تھا۔ عدالتیں اس کے اشارہ ابرو پر ناچتی تھیں اور حکومتی مخالفین پر شرمناک الزامات ’’ثابت‘‘ کرتیں اور بدترین سزائیں دیتی رہیں۔

نتائج سامنے آنے کے اگلے ہی روز مہاترمحمد نے وزیراعظم جبکہ عزیزہ اسماعیل نے نائب وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔ عزیزہ اسماعیل مہاتر محمد کے دیرینہ رفیق اور بعدازاں ان کے انتقام کا نشانہ بننے والے انورابراہیم کی اہلیہ ہیں۔ دو عشرے قبل مہاترمحمد نے بعض پارٹی لیڈروں کی کانا پھوسی سے اثر لیتے ہوئے اپنے ممکنہ جانشین انور ابراہیم کو حکومتی اور پارٹی عہدوں سے فارغ کر دیا تھا۔ ’امنو‘ کے بعض لوگ انور ابراہیم کو پسند نہیں کرتے تھے کیونکہ وہ پارٹی اور ملک میں اصلاحات کی سوچ رکھتے تھے۔ یہ مہاتر محمد ہی تھے جنھوں نے انور ابراہیم کو انتہائی سنگین اور شرمناک الزامات کے تحت جیل بھیجا، انھیں بدترین تشدد کا نشانہ بنایا، ان کے لئے انصاف کے سارے دروازے بند کر دئیے۔

بعد ازاں مہاتر محمد نے وزیراعظم ہاؤس خالی کر دیا تو کانا پھوسی کرنے والے پارٹی لیڈر اقتدارپر قابض ہوئے، انھوں نے چند برسوں ہی میں ملائشیا کو اس قدر بُرے بحران کا شکار کر دیا کہ مہاترمحمد سوچ بھی نہیں سکتے تھے۔ نجیب رزاق جیسے لوگ پوری طرح کُھل کھیل رہے تھے کہ مہاترمحمد سیاست سے ریٹائر ہو چکے ہیں۔ انھوں نے کرپشن اور اقربا پروری کے اگلے پچھلے تمام ریکارڈ توڑ دئیے، ایسے میں مہاترمحمد اپنے کئے پر پشیمان ہوئے، بالخصوص انھیں وہ لمحات خوب یاد آئے جب کچھ لوگ انورابراہیم کے خلاف ان کے کان بھرتے تھے۔ اب مہاترمحمد کے پاس کوئی چارہ نہیں تھا کہ وہ سیاست سے ریٹائرمنٹ کا فیصلہ واپس لیں۔

سن 2015ء میں نجیب رزاق کا ایک بڑا سکینڈل سامنے آیا، ان پرالزام تھا کہ انھوں نے700 ملین ڈالر کے برابر دولت سرکاری خزانے سے اپنے ذاتی خزانے میں منتقل کی۔ اس پر مخالفت کا ایک شدید طوفان اٹھ کھڑا ہوا، ان سے استعفیٰ کا مطالبہ ملک کے ہرگلی کوچے سے ہونے لگا۔ ان پر سخت تنقید کرنے والوں میں اپوزیشن لیڈر انورابراہیم بھی شامل تھے اور گھر میں بیٹھے مہاترمحمد بھی اس غبن پر تڑپ اٹھے۔ چنانچہ انھوں نے فوری طور پر سیاست میں واپس آنے کا اعلان کیا۔ انھوں نے بھی باربار نجیب رزاق سے استعفیٰ کا مطالبہ کیا۔ وہ 30 اگست 2015ء کو اپنی اہلیہ ہاشمہ کے ساتھ لاکھوں افراد کے ایک مظاہرے میں شریک ہوئے۔ آنے والے برسوں میں بھی وہ حکومت مخالف سرگرمیوں کا حصہ بنتے رہے۔

دوسری طرف وزیراعظم نجیب رزاق نے اقتدار پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لئے غیر معمولی اقدامات شروع کر دئیے، نائب وزیراعظم کو ہٹا دیا، دو اخبارات پر پابندی عائد کر دی، پارلیمان کے ذریعے ’نیشنل سیکورٹی کونسل بل‘ متعارف کرایا جس نے انھیں بے پناہ اختیارات سے نوازا۔ سن 2016ء کے ضمنی انتخابات میں مہاتر محمد نے اپوزیشن جماعت ’امانہ‘ کے امیدواروں کی حمایت کی جبکہ 2017ء میں انھوں نے نئی سیاسی جماعت قائم کی اور اپوزیشن اتحاد میں شمولیت اختیار کر لی۔ اتحاد ’ الائنس فار ہوپ‘ کے چئیرمین مہاترمحمد بنے، انورابراہیم قائد کے منصب پر فائز ہوئے جبکہ ان کی اہلیہ عزیزہ اسماعیل صدر ہیں۔ اسی صف بندی کے ساتھ وہ تازہ انتخابات جیتے ہیں۔

یوں محسوس ہوتاہے کہ مہاتر محمد کی سیاست میں واپسی اور انتخابی کامیابی انور ابراہیم کے ساتھ ہونے والے برے سلوک کی تلافی کے لئے ہے۔ یاد رہے کہ انور ابراہیم کے ساتھ ہونے والے سلوک پر اقوام متحدہ کے ادارے بھی چیخ اٹھے تھے۔ اقوام متحدہ کے ایک ورکنگ گروپ نے ملائشیا کے سابق قائد حزب اختلاف کو سنائی گئی جیل کی سزا کو غیر قانونی قرار دیا تھا اور ان کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا تھا۔ ’امنو‘ کی حکومت کے دوران میں انورابراہیم کے خلاف مسلسل شرمناک الزامات پر مبنی مقدمات قائم کئے گئے تاہم انورابراہیم مسلسل ایسے الزامات کی تردید کرتے رہے ۔ 

اقوام متحدہ کے ورکنگ گروپ کا کہنا تھا کہ انور ابراہیم کو منصفانہ ٹرائل کا موقع نہیں دیا گیا تھا اور انھیں سیاسی وجوہ کی بنا پر پابند سلاسل کر دیا گیا تھا۔ ورکنگ گروپ نے کہا کہ مسٹر ابراہیم کی غیر قانونی حراست کا یہ ازالہ ہو سکتا ہے کہ انھیں فوری طور پر جیل سے رہا کر دیا جائے اور ان کے سلب کردہ سیاسی حقوق کو بحال کیا جائے۔ اس نے مزید کہا کہ انور ابراہیم سے جیل میں کیا جانے والا سلوک بھی تشدد یا دوسرے ظالمانہ طریقوں کی ممانعت سے متعلق بین الاقوامی قواعد وضوابط کی صریحاً خلاف ورزی ہے۔ ملائشیا کے سابق نائب وزیراعظم کے خاندان نے ورکنگ گروپ سے یہ شکایت کی تھی کہ انھیں گندگی سے اٹی ایک کوٹھڑی میں رکھا جارہا ہے اور ان کی کمر میں دائمی تکلیف سمیت دیگر بیماریوں میں مبتلا ہیں مگر اس کے باوجود انھیں فوم کا بالکل پتلا بچھونا دیا گیا۔ یہی انورابراہیم اب اصل حکمران بن چکے ہیں، وزیراعظم مہاترمحمد نے کابینہ کے ارکان کا فیصلہ بھی انور ابراہیم کے ساتھ مکمل مشاورت کے بعد کیا۔ یاد رہے کہ قیدی انور ابراہیم آج کل ہسپتال میں زیرعلاج ہیں، مہاترمحمد ، حکمران اتحاد کے دیگرمرکزی رہنماؤں کے ساتھ مل کر ہسپتال پہنچے ۔

نئے وزیراعظم نے اقتدارسنبھالتے ہی اعلان کر دیا کہ ملائشیا کے شاہ ’محمد پنجم‘ انور ابراہیم کو مکمل معافی دینے پرآمادہ ہیں، جیسے ہی معافی کا عمل مکمل ہوا، وہ فوری طور پر رہا ہو جائیں گے، جس کے بعد مہاتر محمد وزرات عظمیٰ انور ابراہیم کے لئے چھوڑ دیں گے۔ ظاہر ہے کہ اس سے پہلے انھیں ضمنی انتخاب لڑنا پڑے گا۔ جب یہ سطور لکھی جارہی تھیں، معافی بورڈ کا اجلاس منعقد ہونے کی تیاریاں ہو رہی تھیں۔ اجلاس شاہی محل میں ہو گا، اس میں بادشاہ اور وزیراعظم دونوں اجلاس میں شریک ہوں گے۔ قوی امکانات ہیں کہ انورابراہیم بہت جلد رہا ہو جائیں گے، ممکن ہے کہ یہ سطورشائع ہونے سے قبل ہی۔ انور ابراہیم کی بیٹی نورالعزہ کا کہنا تھا کہ ان کے والد اجلاس کے خاتمے کے بعد اسی روز رہا ہو جائیں گے۔ بظاہر یہی نظر آرہا ہے کہ مہاترمحمد اور ان کے اتحادیوں کی کامیابی کے ساتھ ہی ملائشیا میں انور ابراہیم کا دور شروع ہو چکا ہے، وہ ایک وژنری سیاست دان ہیں، کہا جاتا ہے کہ ڈاکٹر مہاترمحمد کی بعض کامیاب پالیسیوں کے پیچھے انورابراہیم تھے۔

تادم تحریر سابق وزیراعظم نجیب رزاق کی بدعنوانیوں کے خلاف قانونی کارروائی شروع ہو چکی ہے، پہلے مرحلے پر انھیں ملک سے باہر جانے سے روک دیا گیا ہے۔ یاد رہے کہ وہ اپنی اہلیہ کے ہمراہ چھٹیوں پر انڈونیشیا جانا چاہتے تھے۔
وزیر اعظم مہاتر محمد نے تصدیق کی کہ ان کے حکم پر ہی سابق وزیراعظم پر پابندی عائد کی گئی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نجیب رزاق کے خلاف کافی ثبوت موجود ہیں جس کی بنیاد پر یہ کارروائی عمل میں لائی گئی ہے۔ ان کے خلاف شکایات کا انبار ہے، جن کی تحقیقات ضروری ہیں۔ ڈاکٹرمہاتر محمد نے 700 ملین ڈالر کے غبن کے حوالے سے رپورٹ منگوالی ہے، اس کا مطالعہ کر کے وہ مزید کارروائی کا فیصلہ کریں گے۔ وزیراعظم نے عندیہ دیا ہے کہ ایسے تمام افراد کے خلاف بھی کارروائی ہو گی جو بدعنوانیوں میں ملوث تھے یاان سے متعلقہ فیصلوں میں شریک تھے۔ دوسری طرف نجیب رزاق انتخابات میں شکست کی ذمہ داری قبول کرتے ہوئے پارٹی اور سیاسی اتحاد کی سربراہی سے مستعفی ہوگئے ہیں۔

وزیراعظم منتخب ہونے کے بعد مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ آج ملائیشیا میں تاریخی فتح حاصل کی گئی ہے، وہ صرف قانون کی بحالی چاہتے ہیں، اس لئے انتقامی کارروائی پر یقین نہیں رکھتے۔ تاہم امکانات ہیں کہ ’امنو‘ پر پابندی عائد کر دی جائے کیونکہ انتخاب جیتنے کے بعد مہاترمحمد نے ایک جملہ کہا تھا کہ ’امنو‘ کی قانونی حیثیت کا فیصلہ عدالت کرے گی۔ وزیراعظم نے اعلان کیا ہے کہ وہ سابقہ حکومت کی تمام پالیسیوں پر نظر ثانی کریں گے۔ مہاتر محمد اور انور ابراہیم اتحاد کے حکومت بنانے کے فوری بعد سٹاک مارکیٹوں میں حیرت انگیز استحکام دیکھنے کو مل رہا ہے۔

عبید اللہ عابد

بشکریہ ایکسپریس اردو
 

بحیرہ ارال وسط ایشیا کی عظیم جھیل

$
0
0

بحیرہ ارال وسط ایشیا کی ایک بہت بڑی جھیل تھی جو اب بہت سکڑ چکی ہے۔ یہ قازقستان اور ازبکستان کے درمیان واقع ہے۔ اس جھیل کے چاروں طرف زمین ہے لیکن اپنے وسیع حجم کے باعث اسے بحیرہ یا سمندر کہا جانے لگا۔ تاریخ میں اس جھیل کو بحیرہ خوارزم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس جھیل کا نام کرغز زبان کے لفظ سے نکلا ہے جس کا مطلب ’’جزائر کا سمندر‘‘ ہے۔ لیکن اب اس جھیل کو قائم رہنے کے لیے مشکلات کا سامنا ہے۔ 1960ء کی دہائی سے اس جھیل کے پانی میں مسلسل کمی واقع ہو رہی ہے۔

اس کی بہت سی وجوہات ہیں جن میں ایک بڑی وجہ اس میں گرنے والے اہم دریاؤں سیر دریا اور آمو دریا کے پانی کی آمد میں کمی ہے۔ یہ کمی ان دریاؤں سے نہریں نکال کر اس کے پانی کو وسیع پیمانے پر زراعت کے لیے استعمال کرنے سے ہوئی ہے۔ اس سے جھیل کے لیے پانی مطلوبہ مقدار میں نہیں آتا تھا اور یہ روز بروز سکڑتی چلی گئی۔ بحیرہ ارال جو کسی زمانے میں دنیا کی چوتھی سب سے بڑی جھیل تھا جو 60ء کے بعد نصف صدی میں کم ہو کر صرف 40 فیصد رہ گیا ۔ یہ خطے کے ماحول کے لیے اچھی علامت نہیں اس لیے عالمی سطح پر ایسی کوششیں کی جانے لگیں جن کا مقصد اس عمل کو روکنا تھا۔

اسے عالمی ورثہ قرار دے کر اس میں پانی کی کمی کو دور کرنے کی کوشش کی گئی۔ یہ کوششیں جاری ہیں اور جھیل کی سطح قدرے بلند ہوئی ہے لیکن جھیل کے حجم میں قابل قدر اضافہ دیکھنے میں نہیں آیا۔ دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ جھیل آلودہ بھی ہو چکی ہے۔ اس کی وجہ سوویت یونین کے دور میں اپنائی گئی وہ پالیسیاں ہیں جن میں ماحولیات کا خیال نہیں رکھا گیا۔ دراصل اس دور میں صنعت کاری میں ماحول پر اثرات کے عنصر کو نظر انداز کر دیا جاتا تھا۔ اس خطے میں ہتھیاروں کے تجربات، صنعتی منصوبہ جات اور کھاد سازی کی صنعت نے ماحول پر منفی اثرات مرتب کیے۔ 

ولادیمیر لینن اور بالشویکوں کی حکومت کے دوران 1918ء میں فیصلہ کیا گیا کہ آمو دریا اور سیر دریا، جو بحیرہ ارال کی زندگی کا سبب ہیں، کو صحراؤں کو سیراب کرنے کے لیے استعمال کیا جائے تاکہ چاول، تربوز، اناج اور خصوصاً کپاس کی کاشت کو بڑھایا جا سکے۔ بعد ازاں 1930ء کی دہائی میں وسیع پیمانے پر نہروں کی تعمیر کا آغاز کیا گیا لیکن بیشتر نہروں کی تعمیر ناقص طریقے سے کی گئی جس سے بڑے پیمانے پر پانی کا ضیاع ہوا جس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ قراقم نہر، جو وسط ایشیا کی سب سے بڑی نہر ہے، کا 70 فیصد پانی ضائع ہو جاتا ہے۔ 1960ء تک 20 سے 50 مکعب کلومیٹر پانی بحیرہ ارال میں گرنے کی بجائے زمینوں کو سیراب کرنے لگا۔

جس کی وجہ سے یہ عظیم جھیل تیزی سے سکڑنا شروع ہو گئی۔ اس تیزی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ 1961ء سے 1970ء تک کے عرصے میں جھیل کی سطح آب میں 20 سینٹی میٹر سالانہ کے حساب سے کمی ہونے لگی، 1970ء کی دہائی میں اس میں سالانہ 50 سینٹی میٹر کمی ہونے لگی۔ 1980ء کی دہائی میں سطح آب کے گرنے میں مزید تیزی واقع ہوئی اور اب 80 سے 90 سینٹی میٹر سالانہ کے حساب سے پانی کی سطح گرنے لگی۔ لیکن اس کے باوجود دونوں مذکورہ بالا دریاؤں کے پانی کے استعمال میں کمی نہ کی گئی بلکہ 1960ء سے 1980ء تک ان دریاؤں کے پانی کے استعمال میں دگنا اضافہ دیکھا گیا جس کے باعث اس عرصے میں کپاس کی کاشت بھی دگنی ہو گئی۔ 

جھیل کی آبی سطح میں تقریباً 60 فیصد اور حجم کے حساب سے 80 فیصد کمی آئی ہے۔ 1960ء میں جب یہ دنیا کی چوتھی سب سے بڑی جھیل تھی تو اس کا رقبہ 68 ہزار مربع کلومیٹر تھا اور حجم 1100 مکعب کلو میٹر تھا لیکن 1998ء تک اس کا حجم گر کر صرف 28 ہزار 687 مربع کلو میٹر رہ گیا۔ اس طرح یہ دنیا کی آٹھویں سب سے بڑی جھیل تھی۔ اس عرصے کے دوران جھیل میں نمکیات کا بھی اضافہ ہوا۔ مسلسل سکڑتے رہنے کے باعث 1987ء میں جھیل ارال دو حصوں میں تقسیم ہو گئی جن میں شمالی بحیرہ ارال نسبتاً چھوٹی ہے جبکہ جنوبی جھیل ارال حجم میں بڑی ہے۔

دونوں جھیلوں کو ملانے کے لیے ایک مصنوعی نہر بھی کھودی گئی لیکن مسلسل سکڑنے کے باعث 1999ء میں یہ نہر بھی بند ہو گئی۔ 2003ء میں جنوبی بحیرہ ارال مزید دو حصوں مشرقی اور مغربی میں تقسیم ہو گیا۔ شمالی بحیرہ ارال میں پانی کو بحال کرنے کے لیے سیر دریا کے نہری نظام کی بہتری کے لیے منصوبے پر کام کیا جا رہا ہے۔ 2003ء میں قازق حکومت نے ارال کے دو حصوں کو الگ کرنے کے لیے ایک بند تعمیر کرنے کا اعلان کیا۔ 2005ء میں اس کی تعمیر کے بعد شمالی بحیرہ ارال کی سطح آب میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

ساجد علی


 


البانیہ کا ماضی

$
0
0

البانیہ جس کا پورا نام جمہوریہ البانیہ ہے، جنوب مشرقی یورپ میں واقع ہے۔ اس کے شمال مغرب میں مونٹی نیگرو، مشرق میں مقدونیہ، شمال مشرق میں کوسووا اور جنوب میں یونان واقع ہیں۔ اس کے مغرب میں بحیرہ ایڈریاٹک اور جنوب مغرب میں بحر الایونی واقع ہیں۔ البانیہ یورپ کا مسلمان اکثریتی ملک سمجھا جاتا ہے۔ البانیہ یورپ کا واحد ملک ہے جس میں دوسری جنگِ عظیم کے دوران نازیوں (جرمنی کے ساتھی اطالیہ) کے قبضے کے باوجود یہودیوں کو قتل نہیں کیا گیا۔ البانوی مسلمانوں نے یہودیوں کو قتل عام سے بچائے رکھا۔ ملک کی 90 فی صد آبادی البانوی نسل سے تعلق رکھتی ہے۔

البانیہ میں زمانہ قبل از تاریخ میں بھی آبادیاں موجود تھیں۔ قدیم آبادی زیادہ تر ایلیریان قبائل پر مشتمل تھی۔ بعد میں یونانی تہذیب کے اثرو رسوخ کے زیادہ ہونے کے وقت یونانی قبائل بھی شامل ہو گئے۔ چوتھی صدی قبل مسیح میں البانیہ کے بادشاہ نے مقدونیہ سے ایک بڑی جنگ کی مگر مقدونیہ پر قبضہ کرنے میں ناکام رہا۔ اس کے بعد ایلیریان قبائل کے کئی بادشاہ گزرے جن میں آخری کو سکندر نے شکست دے دی۔ 229 قبل مسیح میں البانیہ کی ملکہ تیوتا نے رومی افواج سے جنگ شروع کی جو کئی جنگوں کا نقطہ آغاز ثابت ہوئی جس کے نتیجے میں 168 قبل مسیح میں رومی افواج نے انہیں مکمل شکست دے کر ایلیریان قبائل کے اقتدار کا خاتمہ کر دیا۔ 395ء تک یہ روم کے زیرِ نگیں تھا۔ 395ء میں روم دو ٹکڑوں میں مغرب و مشرق کی صورت بٹا تو البانیہ بازنطینی سلطنت کا حصہ بن گیا اور 461ء تک ایسے ہی رہا۔

اس کے بعد یکے بعد دیگرے مختلف اقوام مثلاً ہن، سلاو وغیرہ اس کو تاراج کرتے رہے اور انہیں 1460 میں اس وقت امن نصیب ہوا جب وہ سلطنت عثمانیہ کا حصہ بنا۔ سلطنت عثمانیہ جب اناطولیہ سے بلقان تک پھیلی تو البانیہ بھی اس کا حصہ تھا۔ سلطنت عثمانیہ کی توسیع میں سب سے زیادہ رد عمل البانیہ کے لوگوں کی طرف سے تھا جنہوں نے سب سے بڑھ کر ان کا مقابلہ کیا اور بازنطینی سلطنت کے تمام علاقوں کے آخر میں سلطنت عثمانیہ کا حصہ بنا مگر دلچسپ بات یہ ہے کہ یہی وہ خطہ ہے جس نے اسلام کا سب سے زیادہ اثر قبول کیا اور آج یہ بوسنیا کی طرح یورپ کا مسلم اکثریتی ملک ہے۔ 1912ء میں استعماری سازشوں اور اندرونی تضادات کے نتیجے میں سلطنت عثمانیہ کے ٹکرے ہو گئے تو پانچ سو سال کے بعد 28 نومبر 1912ء کو البانیہ ایک آزاد ملک بن گیا۔ 

استعمار نے 1912ء میں البانیہ کی حدود کو اس طرح سے قائم کیا کہ بہت بڑی تعداد میں البانوی لوگ البانیہ کے پڑوسی ممالک بشمول مونٹی نیگرو اور سربیا و بوسنیا کا حصہ بنے۔ 1920ء میں البانیہ نے خود کو ایک جمہوریہ قرار دے دیا۔اطالیہ نے اپنا اثر و رسوخ البانیہ میں البانیہ کے بادشاہ زوگ کی مدد سے قائم کرنا شروع کیا اور یہ سلسلہ 1939ء میں اطالیہ کے البانیہ پر قبضہ کی صورت میں منتج ہوا۔ اطالیہ کے فسطائی رہنما مسولینی نے البانیہ میں نہایت غیر انسانی سلوک کا مظاہر کیا جس میں ایسے قوانین بھی تھے جن کے مطابق البانیہ کی زبان کو مدرسوں اور دانش گاہوں سے ختم کر دیا گیا۔ 1940ء میں مسولینی نے البانیہ کی سرزمین سے یونان پر حملہ کیا جو ناکام ہوا اور البانیہ کے ایک حصہ پر یونان نے قبضہ کر لیا اور اسے اپنا حصہ قرار دے دیا۔ 

روس بھی پیچھے نہ رہا اور اپنا اثر قائم کرنے کی کوشش کی۔ مسولینی کے اقتدار کے کمزور پڑنے پر جرمنی نے 1943ء البانیہ پر قبضہ کر لیا اور پیش کش کی کہ وہ البانیہ کو ایک آزاد مگر غیر جانبدار ملک قرار دینے پر تیار ہے۔ 28 نومبر 1944ء تک البانوی گوریلا افواج نے البانیہ کے بیشتر حصوں کو جرمنی سے آزاد کروا لیا اور یہ اس واحد مشرقی یورپی قوم کا قصہ ہے جس نے روس کی افواج کی مدد کے بغیر آزادی حاصل کی تھی۔ روس کے بڑھتے ہوئے اثر کی وجہ سے البانیہ ایک اشتراکی ملک بن گیا اور اس کا بڑا جھکاؤ روس کی طرف رہا مگر 1960ء سے البانیہ نے چین کے ساتھ بھی تعلقات بڑھانا شروع کیے۔

معروف آزاد


 

کیا ڈاکٹر عافیہ صدیقی زندہ ہیں ؟

$
0
0

دم گُھٹتا جارہا ہے افسردہ دلی سے یارو!
کوئی افواہ ہی پھیلا دو کہ کچھ رات کٹے

امریکی قید میں مظلوم ڈاکٹر عافیہ صدیقی کا معاملہ کئی برس سے حکمرانوں کی بےحسی کی چادر تانے پڑا تھا۔ کل سوشل میڈیا پر اچانک ہی ان کی موت کی افواہ نے ہل چل پیدا کر دی۔ انٹرنیٹ اب ہماری زندگیوں کا لازمی اور غالب جزو بن چکا ہے۔ ہم اس کی اطلاعات کی تصدیق کیے بِنا ہی متاثر ہو جاتے ہیں۔ پھر یہ متاثر ہونا لائک، کمنٹ اور شیئر کے ذریعے دیکھتے ہی دیکھتے وائرل ہو جاتا ہے۔ کل ڈاکٹر عافیہ کی موت کی خبر بھی ایک غیرمستند سائٹ پر سامنے آئی، اور چونکہ عافیہ قوم کی دُکھتی رگ ہے‘ لہٰذا یہ خبر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔ لوگ بےچین ہو کر اپنی مظلوم بہن کی خیریت معلوم کرنے ان کی فیملی کی جانب لپکے 

فیملی ترجمان ڈاکٹر فوزیہ صدیقی کے مطابق :

ڈاکٹر عافیہ کی زندگی اور صحت سے متعلق ہمیں حکومتِ پاکستان، وزارت خارجہ اور امریکی جیل حکام کی جانب سے کوئی باضابطہ اطلاع نہیں ملی، اور کوشش کے باوجود پاکستانی اور امریکی حکام سے رابطہ نہیں ہو سکا۔ جبکہ دو سال سے زائد عرصہ گزر گیا، اہلِ خانہ رسمی رابطے سے بھی محروم ہیں۔ اس لیے عوام کسی افواہ پر یقین نہ کریں اور دعا کریں کہ اللّٰہ تعالیٰ جلد ہماری بہن کو مکمل عافیت کے ساتھ وطن واپس لانے والے حکمران عطا فرما دے۔ انہوں نے مزید کہا کہ امریکی پروٹوکول یہ ہے کہ سب سے پہلے فیملی کو اطلاع دی جاتی ہے، اور اس کے بعد جس ملک کا باشندہ ہوتا ہے اس ملک کے قونصلیٹ یا سفارتخانہ کو اطلاع دی جاتی ہے۔

امریکہ میں پاکستانی قونصلیٹ عائشہ فاروقی سے بذریعہ ای میل رابطہ کرنے پر جواب آیا ہے کہ وہ پیر کے دن کنفرم کر سکیں گی۔ سوشل میڈیا پر ڈاکٹر عافیہ کے انتقال کی افواہ کے بعد اندرون و بیرونِ ملک سے ٹیلی فون کالوں کا تانتا بندھ گیا۔ ہزاروں کی تعداد میں لوگ ٹیلی فون، ایس ایم ایس اور سوشل میڈیا کے ذریعے عافیہ کی خیریت دریافت کر رہے ہیں، عوام مظلوم عافیہ کی واپسی کے بغیر امریکی قاتل کرنل جوزف کو چھوڑ دینے پر شدید غم و غصے اور افسوس کا اظہار کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ عافیہ سے متعلق افواہیں پھیلانے کا مقصد امریکی قاتل کرنل جوزف کی شرمناک واپسی پرشدید عوامی تنقید کا رخ موڑنا بھی ہو سکتا ہے۔

واضح رہے، ڈاکٹرعافیہ صدیقی کو 2003 میں مبینہ طور پر اس وقت کے حکمران پرویز مشرف کی اجازت پر کراچی سے تین چھوٹے بچوں سمیت اغوا کر کے بگرام ایئربیس افغانستان لے جایا گیا تھا۔ یہاں پانچ سال تک امریکی عقوبت خانے میں انسانیت سوز مظالم توڑے گئے۔ برطانوی نَو مسلم صحافی ایوون ریڈلے نے یہاں موجود قیدی نمبر 650 کے ڈاکٹر عافیہ ہونے کا انکشاف عالمی میڈیا کے سامنے کیا۔ اس کے بعد اس خاتون کے خلاف ایک عجیب و غریب مقدمہ تیار کیا گیا۔ جس کے مطابق یہ کمزور اور زخموں سے چُور خاتون M_4 گن اٹھا کر امریکی فوجیوں پر حملے کی مرتکب ہوئی ہے۔ ایک فوجی قریب سے گولی مار کر عافیہ کو زخمی کر دیتا ہے۔ وہ بچ جاتی ہے اور 2009 میں امریکہ منتقل کر دی جاتی ہے۔

امریکی قیدیوں پر حملہ کرنے اور مارنے کے الزام میں مقدمہ چلایا گیا۔ فرضی اور رسمی عدالتی کارروائی کے بعد چھیاسی (86) سال قید کی سزا سنا دی جاتی ہے۔ قید کی سزا کے طور پر انہیں 6×6 کی تنگ و تاریک کوٹھری میں رکھا گیا ہے۔ جسمانی تشدد اور برہنگی کی اذیت، قرآن کی بےحرمتی پر لباس دینے کی شرط، مظالم کا حصہ ہونے کے باوجود اس خاتون کا عزم مضبوط ہے۔ دوسری جانب اس کے اہلِ خانہ اس مظلوم بیٹی کے لیے انصاف کی تلاش میں مسلسل کوشاں ہیں۔ عدالتی فیصلے میں ان کو دی جانے والی سزا کو سیاسی سزا کہا گیا ہے۔ اس لیے اس معاملے کو سیاسی کیس کے طور پر ڈیل کیا جانا چاہیئے تھا۔ مگر افسوس! سیاست کے ایوانوں میں اس کیس کے لئے کوئی ڈیل نہ کی جا سکی۔

مبینہ طور پر، پرویز مشرف نے اس کی گرفتاری کے عوض ڈالرز وصول کیے اور اپنی کتاب میں اس کا شرمناک تذکرہ بھی کیا۔ آصف زرداری نے امریکہ سے آئی ہوئی کیس کی اہم دستاویز پر دستخط صرف اس وجہ سے نہیں کیے کہ یہ عافیہ کو بھیجنے والوں کا کام ہے۔ اس طرح پیپلز پارٹی کی حکومت نے عافیہ کی رہائی کے سلسلے کی اہم ترین کوشش کو ناکام بنا دیا۔ شائد یہی وجہ ہے کہ ڈاکٹر عافیہ کے اہل خانہ اور ان سے محبت کرنے والے اس معاملے میں حسین حقانی کے کردار کوسفاکانہ سمجھتے ہیں۔ انہوں نے بیوہ اور غمزدہ ماں کے ساتھ ان کی بیٹی کو واپس لانے کا جھوٹا مذاق کیا۔ حکومت سے پیسے بٹورنے کے باوجود عافیہ کو ٹارچر سیل کے حوالے کیا۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف اپنی مدت کے ابتدائی 100 دنوں میں عافیہ کو وطن لانے کا اپنا وعدہ کیا بھولے، گویا اپنی نااہلی کے سفر کا آغاز کر بیٹھے اور بجا طور نفرت کے حقدار ٹھہرے۔ ڈاکٹر عافیہ پاکستانی قیدی ہے۔ اس کے کیس کو ریاستی طور پر حل کیا جانا چاہیے تھا۔ لیکن ہماری نام نہاد مصلحت کیش سیاسی پالیسیاں اس کی متحمل نہ ہو سکیں۔ ماضی اور حال میں امریکی سفارتکار، حادثاتی طور پر پاکستانیوں کے قتل کے مرتکب ہوئے۔ چیف جسٹس صاحبان کے بلند و بانگ دعووں کے باجود حکومت ہر بار امریکی غلامی کے آگے بےبسی کی تصویر بن گئی، نتیجتاََ دونوں قاتل سفارتکاروں کو باعزت ان کے وطن رخصت کیا گیا۔

اب شکیل آفریدی کی صورت میں ایک اور موقع موجود ہے۔ اس پر الزام ہے کہ اس نے سی آئی اے (CIA) کو اسامہ بن لادن کا سراغ لگانے میں مدد کی تھی۔ ایک روسی خبر رساں ادارے کے مطابق امریکا نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو چھڑانے کے بدلے پاکستان کو ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کی پیشکش کی تھی، تاہم پاکستان نے ایسا کرنے سے انکار کر دیا۔ ڈاکٹر عافیہ کے معاملے میں ہر حکومت کی پسپائی اس بات کا اعلان ہے کہ اس معاملے کو کسی سیاسی پارٹی کی مکمل/ غیرمشروط حمایت حاصل نہیں۔ نئے انتخابات قریب ہیں، ان کی تیاریوں کے سلسلے میں سیاسی وفاداریوں کی تبدیلی، اتحاد اور جلسے جلوس سبھی کچھ ہو رہا ہے مگر دیکھنا یہ ہے کہ عافیہ کتنا، کہاں، کس کس کو یاد رہتی ہے؟

بے حسی کی اس گھمبیر فضا میں اگر اس کی موت کی افواہ وائرل ہوتی ہے تو یہ ایک جھنجھوڑ دینے والی یاد دہانی ہی ہے۔ افواہ بذاتِ خود بِلاتحقیق خبر اور ممکنہ شر ہے۔ مگر شر سے خیر کو نکالنے پر بھی اللّٰہ ہی قادر ہے۔ ڈاکٹر عافیہ کی آخری خبر گیری کا تذکرہ بھی یاد رہے۔ امریکہ میں پاکستانی قونصل جنرل عائشہ فاروقی عافیہ سے ملاقات کرنے جیل گئیں۔ ان کے مطابق جنیوا کنونشن کی شق 2047 کا حوالہ دینے پر انہیں ملاقات کے لیے اس بیرک تک لے جایا گیا جہاں عافیہ قید ہے۔ 

عائشہ فاروقی کے الفاظ ملاحظہ ہوں! کیا حکمران اور سیاستدان یہ الفاظ اپنے جگر گوشوں کے لیے پسند کریں گے؟ “سلاخوں کے پیچھے بیڈ پر ایک خاتون منہ پر چادر اوڑھے لیٹے ہوئے تھی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا جیسے ہڈیوں اور گوشت کا ڈھیر بیڈ پر دھرا ہے، بےحس و حرکت جیل حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ یہی عافیہ ہے۔” اس طرح عافیہ کے زندہ ہونے کی تصدیق ہو گئی، ورنہ ماضی میں تقریباََ گیارہ برس قبل صرف ایک مرتبہ پاکستانی سینیٹرز کے ایک وفد کو عافیہ سے ملاقات کی اجازت ملی تھی۔ جب کہ گذشتہ ڈھائی سال سے ٹیلی فون پر ہونے والی اہلِ خانہ سے چند منٹ کی گفتگو کا سلسلہ بھی منقطع ہے۔ 

اس کی صحت کی تشویش ناک اطلاعات کے بعد حکومت سے کئی بار نجی خرچ پر عافیہ سے ملاقات کروانے کی درخواست کی جا چکی ہے۔ ضعیف والدہ اپنی بیٹی، اور بچے اپنی ماں سے ملاقات کے لیے ساڑھے چودہ سال سے تڑپ رہے ہیں۔ ہمارے دفترِخارجہ کے ترجمان، ڈاکٹر محمد فیصل کے مطابق : “پاکستان کی جانب سے انسانی ہمدردی کا کام چودہ سو (1400) سال پہلے کی تعلیمات کی روشنی میں کیا جاتا ہے۔ ہمارے ہاں قیدیوں کی رہائی چودہ سو برس پرانی اسلامی روایات کی عکاس ہے۔ ” کتنے صدر، وزیر اعظم، چیف جسٹس اور آرمی چیف آئے اور چلے گئے… کیا عافیہ کو وطن واپس لانے کی سعادت کسی کو نہیں ملے گی؟

وقت کا مؤرخ سراپا انتظار ہے!

رضوانہ قائد
  

فلسطین کا اسرائیل کے خلاف عالمی فوجداری عدالت سے رجوع

$
0
0

فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المکی اسرائیل کے خلاف جنگی جرائم کے تحت تحقیقات کے لیے بین الاقوامی فوجداری عدالت سے رجوع کرنے ہالینڈ پہنچ گئے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے کے مطابق فلسطینی وزیر خارجہ ریاض المالکی گزشتہ روز دی ہیگ میں قائم بین الاقوامی فوجداری عدالت پہنچ گئے ہیں جہاں وہ عالمی عدالت سے فلسطین کے مقبوضہ علاقوں میں یہودی آباد کاری کے خلاف اور اسرائیلی جارحیت کی تحقیقات شروع کرنے کا مطالبہ کریں گے۔ اس حوالے آج وہ عالمی فوجداری قانون کی پراسیکیوٹر فاتو بینسوڈا سے بھی ملاقات کریں گے۔

فلسطینی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کیے گے بیان کے مطابق وزیر خارجہ ریاض المکی بین الاقوامی فوجداری قانون کی پراسیکیوٹر سے ہونے والی ملاقات میں فلسطین کی تازہ دم صورت حال سے آگاہ کریں گے اور بالخصوص فلسطینی علاقوں میں یہودی آبادکاری سے متعلق عالمی قوانین کے تناظر میں گفت و شنید بھی کریں گے۔ بعد ازاں وزیر خارجہ عالمی عدالت کے باہر میڈیا سے بھی گفتگو کریں گے۔ واضح رہے کہ عالمی فوجداری عدالت 2015 سے فلسطینی علاقوں میں مبینہ جرائم کے خلاف ابتدائی تحقیقات کا سلسلہ شروع کیے ہوئے ہے۔ تحقيقات میں اسرائیل کی آباد کاری پالیسی اور 2014 کے غزہ تنازعے میں فریقین کی طرف سے کیے جانے والے مبینہ جرائم کے معاملات بھی شامل ہیں۔
 

پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور نے عدالت میں اوبر کو شکست دیدی

$
0
0

ایک برٹش پاکستانی ٹیکسی ڈرائیور یٰسین اسلم نے برطانوی عدالت میں اوبر کے 19 ملازمین کی جانب سے اوبر کیخلاف ملازمت کے حوالے سے ایک مقدمے میں کامیابی حاصل کر لی، اوبر عدالت میں اپنے ڈرائیوروں کو سیلف امپلائیڈ ثابت کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی۔ یٰسین اسلم نے مقدمے میں یہ موقف اختیار کیا تھا کہ وہ اوبر کے اس دعوے کے برعکس کہ وہ سیلف ایمپلائیڈ ہیں، وہ فرم کے لمب بی ورکر ہیں۔ آزاد کشمیر کے ضلع میرپور کے گائوں سوالہ پیران سے پاکستان سے لیبر کی حیثیت سے کام کیلئے برطانیہ آنے والے یٰسین اسلم نے ایک انٹرویو میں بتایا کہ انھوں نے اپنے ٹریڈ یونین کی مدد سے اربوں ڈالر مالیت کی ٹیکسی کی بڑی فرم، جسکے پاس ایک درجن سے زیادہ ماہر وکلا کی ٹیم موجود ہے اوبر کیخلاف مقدمہ دائر کیا تھا۔ انھوں نے کہا کہ ٹیکسی کی ایک سب سے بڑی فرم کیخلاف دوبارہ مقدمہ جیتنا ایک سنگ میل ہے.

اگرچہ اوبر نے اصل فیصلے کیخلاف اپیل کی ہے لیکن انھیں یقین ہے کہ جج اوبر کے ڈرائیوروں کے حق میں فیصلہ دینگے۔ یٰسین اسلم اور انکے ساتھ یونائیٹڈ پرائیویٹ ہائیر ڈرائیورز قائم کرنے والے جیمز فرار نے پہلے اوبر کیخلاف مقدمہ 2015 میں ایمپلائمنٹ ٹریبیونل میں دائر کیا تھا اور یہ مقدمہ جیت لیا تھا۔ ٹریبیونل کے جج نےلکھا تھا کہ ادارے سے وابستہ ڈرائیور سیلف امپلائیڈ نہیں ہیں اور انھیں ملازمت کے بنیادی حقوق جس میں کم از کم قومی اجرت اور تعطیل کی تنخواہ شامل ہے دی جانی چاہئے۔ ٹریبیونل میں پہلی سماعت جولائی 2016 میں ہوئی تھی اور فیصلے کا اعلان اکتوبر 2016 میں کیا گیا تھا، اوبر نے اس کیخلاف ای اے ٹی میں اپیل کی اور ستمبر 2017 میں اس کی سماعت کی گئی اورنومبر 2017 میں اس کا فیصلہ سنایا گیا لیکن اوبر نے دسمبر 2017 میں سپریم کورٹ میں فیصلہ چیلنج کر دیا ۔ 

جنوری 2018 میں ان کی اپیل رد کر دی گئی، اب اس فیصلے خلاف اپیل کی سماعت کیلئے اکتوبر 2018 کی تاریخ مقرر کی گئی ہے یٰسین اسلم اور انکے ساتھیوں کا خیال ہے کہ سپریم کورٹ اگلے سال تک اپیل کا فیصلہ سنا دیگی۔ یٰسین اسلم کا کہنا ہے کہ لندن کے میئر، ٹرانسپورٹ فار لندن اور حکومت کو اس معاملے پر خاموشی اختیار کرنے اور چشم پوشی کا رویہ اختیار کرنے کے بجائے مداخلت کرتے ہوئے ورکرز کے حقوق کا دفاع کرنے کیلئے اپنا اثر ورسوخ استعمال کرنا چاہئے۔ انھوں نے کہا کہ اگر اوبر کو اسی طرح سے کام کرنے کا موقع مل گیا تو پھر ہائی اسٹریٹ، فاسٹ فوڈ اور ہر انڈسٹری میں یہی چلن اختیار کر لیا جائیگا۔ 

یٰسین اسلم نے کہا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ سپریم کورٹ میں یہ مقدمہ لڑینگے۔ انھوں نے کہا کہ دو مرتبہ قانونی جنگ میں فتح ورکرز کیلئے اچھی علامت ہے اور ججوں نے دونوں مرتبہ اس بات کی تصدیق کی ہے کہ اوبر غیر قانونی طورپر ہمیں ہمارے حقوق دینے سے گریز کر رہی ہے۔ انھوں نے کہا کہ اس بات کو یقینی بنانا ضروری ہے کہ پورے برطانیہ میں ورکرز کے حقوق کا تحفظ کیا جائے کیونکہ کمپنیاں غلط طریقے سے ٹیکنالوجی کے پیچھے چھپنے کی کوشش کرتی ہیں اور ورکرز کو کم از کم اجرت دینے سے بچنے کیلئے غلط طریقے سے ورکرز کو سیلف امپلائیڈ ثابت کرنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ انھوں نے کہا کہ ہمیں اپنی یونین اور کارکنوں کے اتحاد کی وجہ سے کامیابی ہوئی اور میں خود اور ہمارے دوسرے ساتھ یونینسٹ کے طور پر اپنا کردار ادا کرتے رہیں گے، کیونکہ دوسروں کا بھی ہم پر حق ہے۔

مرتضیٰ علی شاہ

بشکریہ روزنامہ جنگ
 

ملائشیا میں کیا تبدیلی رونما ہوئی ہے؟

$
0
0

ملائشیا میں منعقدہ حالیہ عام انتخابات کو ملک کی تاریخ میں تبدیلی کا ایک اہم نقطہ آغاز قرار دیا جارہا ہے۔ برطانیہ سے آزادی کے بعد پہلی مرتبہ ایک نئی جماعت حکمراں بن کر ابھری ہے اور گذشتہ کئی عشروں سے برسر اقتدار بیرسان نیشنل کو شکست سے دوچار ہونا پڑا ہے۔ یہ بالکل غیر متوقع طور پر ہوا ہے کیونکہ سابق حکمراں جماعت گذشتہ کئی عشروں سے تمام اختیار واقتدار کی مالک تھی اور اس نے پارلیمانی انتخابات میں اپنی جیت کو یقینی بنانے کے لیے انتخابی حلقوں میں بھی اپنی رعایت سے رد وبدل کیا تھا۔ وہ انتخابی نتائج میں بھی الٹ پھیر کر سکتی تھی کیونکہ یہ نجیب رزاق ہی کی حکومت تھی۔ وہی جن پر ملائشیا کے ترقیاتی فنڈ میں خردبرد کے الزامات ہیں ۔ شاید یہ ملکی تاریخ میں حکومت کی کرپشن کی سب سے بڑی مثال ہے۔

لیکن بالآخر جمہوریت سرخرو رہی ہے اور یہ ایک ایسے ملک میں کامیاب ہوئی ہے جس کے بارے میں یہ فرض کیا جاتا ہے کہ وہاں حقیقی معنوں میں جمہوریت موجود نہیں تھی۔ پارلیمانی انتخابات میں سابق وزیراعظم مہاتیر محمد کی قیادت میں حزبِ اختلاف کے اتحاد پاکتان ہراپان نے واضح اکثریت سے کامیابی حاصل کی ہے۔ ابھی سب کچھ قوس قزاح اور خوش نما نہیں ہے۔ ملائشیا کے نئے منتخب ساتویں وزیراعظم مہاتیر محمد کی عمر 92 سال ہے۔ وہ ملک کے 1981ء سے 2003ء تک چوتھے وزیراعظم بھی رہ چکے ہیں ۔اُس وقت موجودہ شکست خوردہ بیرسان نیشنل کی قیادت ان ہی کے ہاتھ میں تھی۔ ڈاکٹر مہاتیر محمد نے کرپشن کے خاتمے کے نام پر الیکشن لڑا ہے اور انھوں نے یہ انتخابی وعدہ بھی کیا تھا کہ وہ جیل میں قید سابق نائب وزیراعظم اور سب سے مقبول سیاست دان انور ابراہیم کو رہا کر دیں گے اور اقتدار بھی ان کے حوالے کر دیں گے۔ انور ابراہیم 1990ء کی دہائی میں سابق حکمراں جماعت بیرسان کے دور میں ڈاکٹر مہاتیر کے نائب وزیراعظم رہے تھے۔ ( ایک شاہی فرمان کے ذریعے ان کی رہائی عمل میں آچکی ہے)

سابق سیاسی سانچے سے ناتا ٹوٹ گیا؟
یہ دراصل سابق سیاسی سانچے سے ملک کا ناتا توڑنے ہی کا کیس نہیں بلکہ اس انتخابی عمل میں سابق قائدین کو خوش آمدید کہا گیا ہے لیکن سابق حکمراں جماعت کو جمہوری انداز میں مسترد کر دیا گیا ہے۔ ملائشیا میں انتخابات کے نتائج پر خوشی کا اظہار کیا گیا ہے، بین الاقوامی پریس اور میڈیا میں اس کی مثبت کوریج کی گئی ہے اور یہ کوئی ایسی بلا جواز بھی نہیں تھی۔ پہلی بات تو یہ کہ یہ خود ملائشین اور بین الاقوامی مبصرین کی جانب سے حقائق کو تسلیم کرنے کی طرف اشارہ ہے کیونکہ سابق وزیراعظم نجیب رزاق کی قیادت میں ملائشیا کرپشن کا گڑھ بن چکا تھا۔ عام ملائشین ووٹروں نے غیر مبہم انداز میں ان کی حکومت کو مسترد کرنے کے لیے پولنگ مراکز پر اپنا حق رائے دہی استعمال کیا ہے۔ انھوں نے حزبِ اختلاف کی مجموعی طور پر 20 فی صد سے زیادہ ووٹوں سے حمایت کا اظہار کیا اور نجیب رزاق کی قیادت میں اتحاد پر اس کو 14 فی صد سے زیادہ ووٹروں سے برتری دلا دی۔

ملائشیا کے نومنتخب لیڈر عمر رسیدہ ( اولڈ گارڈ) تو ہیں لیکن وہ ایک لحاظ سے بالکل واضح نئے مینڈیٹ کے ساتھ کرپشن کے استحصال کے لیے اس نئی جنگ میں’’ اولڈ گارڈ‘‘ ہیں کیونکہ بدعنوانیوں نے حالیہ برسوں کے دوران میں اس ملک میں ہر کہیں ڈیرے جما لیے تھے۔ اہم بات یہ ہے کہ مہاتیر محمد اور انور ابراہیم کا ریکارڈ نئے مینڈیٹ کے ساتھ کوئی عدم تسلسل والا نہیں ہے۔ انھوں نے ملائشیا کی اس وقت قیادت کی تھی جب 1980ء کے عشرے اور 1990ء کے عشرے کے اوائل میں وہ اپنی توانا معیشت کی بدولت ایک ایشین ٹائیگر بن گیا تھا۔اس کامیابی کے ثمرات کا تسلسل آج تک برقرار رہا ہے کیونکہ ملائشیا کو آج بھی جنوب مشرقی ایشیا کا سب سے پُرامن اور خوش حال بڑا ملک مانا جاتا ہے۔

پاکتان ہراپان کے یہ دونوں لیڈر ذاتی حیثیت میں کرپشن سے پاک رہے ہیں جبکہ بیرسان نیشنل میں شامل ان کے سابق بہت سے سیاسی ساتھی کرپشن سے آلودہ ہوگئے تھے۔ وہ دونوں نظم ونسق کے عشروں کے تجربے کے حامل ہیں۔ انھوں نے دو عشرے سے زیادہ عرصے تک ملائشین عوام کی خدمت کی اور ان کے ریکارڈ پر کہیں سیاہ دھبے نظر نہیں آتے ہیں۔ اس لیے اس تناظر میں 2018ء کے عام انتخابات کے نتائج ملائشیا کے لیے کوئی مکمل نقطہ آغاز نہیں بلکہ یہ عوام کے غیر متوقع مگر پُر اعتماد جمہوری انتخاب کا مظہر ہیں ۔عوام نے ماضی کے آزمودہ اور بااعتماد جوڑے کا ایک مرتبہ پھر انتخاب کیا ہے کہ وہ ایک مرتبہ پھر ان کے ملک کو درست خطوط پر استوار کرے۔ ان کی یہ توقع بے جا نہیں کہ نئی حکومت ڈلیور کرے گی۔ ملائشیا کا مستقبل تابناک نظر آرہا ہے اور یقینی طور پر انتخابی نتائج پر خوشیاں منانے کی یہی ایک بہت بڑی وجہ ہے۔

ڈاکٹر عظیم ابراہیم
 

Heatwave in Pakistan

$
0
0

Temperatures reached a high of 44 degrees Celsius (111 Fahrenheit) , according to the Pakistan Meteorological Department, way above the average daily high for May of 35 degrees Celsius (95 Fahrenheit). The situation was exacerbated by power outages citywide and ongoing fasting for the holy month of Ramadan, during which many Muslims abstain from eating and drinking during daylight hours. Faisal Edhi, from Edhi Foundation which runs Karachi's morgues, told CNN that 65 people had died, however the number was disputed by the director for the provincial disaster management authority in Sindh, where Karachi is located. Muhammad Ali Shaikh said that so far only one person had died. He added the heatwave is ongoing and advised people to stay inside and avoid the heat. 


This is not the first time people in Karachi have endured such intense heat. A 2015 heatwave in the city reached 45 degrees Celsius, killing at least 1,300 people, including many ill and elderly people. Temperatures are forecast to stay in the low 40s (105 to 110 Fahrenheit) for the next few days before cooling down to the upper 30s (upper 90s to low 100s Fahrenheit) at the end of the week. "The biggest issue is that there is no green cover in the city," said Suneela Ahmed, a Karachi based architect and urban designer. Normally Karachi has a high humidity level, during a heat wave there is a change in wind direction which brings in dry inland winds to the city instead of moisture from the sea, (and) there are no trees to provide the green cover." Due to a focus on housing, which has seen much of the green hinterland surrounding the city removed, "these lungs of the city have been demolished," Ahmed said. "With the extremity of these issues and no initiative to address them, in 15 years this city won't be livable."










وینزویلا میں نکولاس مادورو نے دوبارہ صدارتی انتخاب جیت لیا

$
0
0

وینزویلا کے صدر نکولاس مادورو نے دوبارہ صدارتی الیکشن میں فتح حاصل کر لی۔ الیکشن کمیشن کے مطابق نکولاس مادورو 67.7 فیصد ووٹ حاصل کر کے 6 سال کے لیے وینز ویلا کے صدر منتخب ہو گئے ہیں۔ مادورو کے حریف ہنری فالکن نے 21.2 فیصد ووٹ لیے۔ الیکشن میں ووٹ ڈالنے کی شرح 46.1 فیصد رہی۔ نکولاس مادورو کو 58 لاکھ جب کہ ہنری فالکن کو 18 لاکھ ووٹ ملے۔ عالمی مبصرین نے انتخابی نتائج کو متنازع قرار دے کر مسترد کردیا ہے۔ اپوزیشن نے بھی دھاندلی کا الزام لگاتے ہوئے الیکشن کا بائیکاٹ کر دیا اور دوبارہ انتخاب کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ اپوزیشن اتحاد دی ڈیموکریٹک یونیٹی راؤنڈ ٹیبل نے احتجاج کرتے ہوئے ووٹرز سے انتخابات میں بائیکاٹ کی اپیل کی۔

ادھر الیکشن میں فتح کے بعد حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے نکولاس مادورو نے کہا کہ آج تاریخی اور حسین فتح کا دن ہے، مخالفین نے مجھے کمتر سمجھا تھا، جبکہ اس سے پہلے کوئی امیدوار الیکشن میں 68 فیصد ووٹ حاصل نہیں کر سکا۔
نکولاس مادورو نے ملک کے مقبول ترین رہنما ہوگو شاویز کے انتقال کے بعد اقتدار سنبھالا تھا۔ شروع میں تو حالات ٹھیک رہے تاہم پھر تیل کی قیمتوں میں شدید کمی کے باعث وینزویلا میں مہنگائی کا طوفان آگیا۔ وینزویلا کی معیشت کا مکمل دارو مدار تیل کی برآمد پر ہے جس کے باعث مہنگائی و بے روزگاری بڑھنے پر حکومت کے خلاف شدید احتجاج شروع ہو گیا جس میں بہت لوگ ہلاک و زخمی ہو گئے۔
 


امریکا سے مذاکرات ناکام ہوئے تو ایٹمی طاقت کا مظاہرہ ہو گا، شمالی کوریا

$
0
0

شمالی کوریا نے امریکی نائب صدر مائیک پینس کو بیوقوف قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا سے مذاکرات کی بھیک نہیں مانگیں گے اور سفارتکاری کا طریقہ ناکام ہوا تو پھر ایٹمی جنگ کے میدان میں مقابلہ ہو گا۔ شمالی کوریا کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق سینئر خاتون مذاکرات کار چھوئے سن ہی نے امریکی نائب صدر مائیک پینس کے حالیہ بیانات کو احمقانہ قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا امریکا سے مذاکرات کی بھیک نہیں مانگے گا، اگر سفارتکاری ناکام ہوئی تو پھر جوہری قوت کا برملا مظاہرہ ہو گا۔

چھوئے سن ہی کا کہنا تھا کہ مائیک پینس نے میڈیا پر حال ہی میں بے لگام اور نامناسب بیانات دیے ہیں کہ شمالی کوریا کا حشر بھی لیبیا جیسا ہو گا، میں سمجھتی ہوں کہ مائک پنس محض ایک سیاسی کٹھ پتلی ہیں، مجھے شدید حیرت ہے کہ شمالی کوریا کا لیبیا سے موازنہ کرنے کے احمقانہ اور جاہلانہ بیانات وہ شخص دے رہا ہے جو امریکا کے نائب صدر کے منصب پر فائز ہے۔ چھوئے سن ہی نے مزید کہا کہ اس بات کا دار و مدار امریکی رویے اور فیصلے پر ہے کہ وہ ہمارے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھنا چاہتا ہے یا پھر ایٹمی جنگ کے میدان میں مقابلہ کرتا ہے۔ 

واضح رہے کہ حال ہی میں امریکا اور شمالی کوریا نے مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کیا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کم ہونا شروع ہوئی ہے۔ اس سلسلے میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ ان کے درمیان 12 جون کو سنگاپور میں ملاقات بھی طے ہوئی ہے، تاہم دونوں طرف سے جارحانہ بیانات کا سلسلہ پھر شروع ہو گیا ہے۔
 

Last journey of Sabika Sheikh

$
0
0

A Pakistani exchange student martyred in a mass shooting in Texas last week was buried in her home town of Karachi, her coffin draped with Pakistan's green and white flag. Sabika Sheikh, 17, was among eight students and two teachers killed in Texas when Santa Fe High School, southeast of Houston, on Friday. 







کیا پاکستان نے امریکیوں کو اسامہ بن لادن کے ٹھکانے کا بتایا تھا ؟

$
0
0

پاکستانی اور بھارتی خفیہ ایجنسیوں کے سابق سربراہان اسد درانی اور اے ایس دولت نے اپنی ایک مشترکہ کتاب میں کشمیر، ملکی سیاست اور مستقبل میں قیام امن جیسے موضوعات پر خیالات کا اظہار کیا ہے۔ بھارتی دارالحکومت نئی دہلی میں کتاب، ’سپائی کرونیکلز‘ کی تقریب رونمائی ہوئی۔ اس موقع پر بھارت کا ویزا نہ ملنے کے باعث اسد درانی دہلی نہیں پہنچ پائے تھے۔ تقریب میں بھارت کے سابق وزیر اعظم ڈاکٹر من موہن سنگھ، نیشنل کانفرنس کے رہنما ڈاکٹر فارق عبداللہ، بھارت کے سابق وزیر یشونت سنہا اور دیگر شخصیات موجود تھیں۔

اس کتاب کو درانی اور دولت نے مختلف ممالک میں ملاقاتوں کے دوران مرتب کیا، جسے بعد ازاں باقاعدہ طور پر بھارتی صحافی آدیتیا سنہا نے تحریر کیا۔ ’سپائی کرونیکلز‘ سے متعلق بھارتی صحافی برکھا دت نے امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے اپنے ایک کالم میں لکھا،’’ کتاب کا بنیادی بیانیہ یہ ہے کہ امن قائم کرنے کے لیے سابق سیاسی فارمولے ناکام ہو گئے ہیں، پاکستان کی سول حکومتیں خودمختار نہیں ہیں اور اب وقت آ گیا ہے کہ دونوں ممالک کی خفیہ ایجنسیاں آپس میں مذاکرات کریں۔‘‘

کتاب میں لیفٹیننٹ جرنل ریٹائرڈ اسد درانی لکھتے ہیں کہ سابق فوجی آمر پرویز مشرف کا کارگل آپریشن ایک بے وقوفانہ آپریشن تھا۔ درانی کے مطابق اس وقت کے وزیر اعظم نواز شریف کو اس بارے میں بہت کم معلومات تھیں لیکن انہوں نے مشرف کو اس آپریشن کی اجازت دی تھی، لہذا انہیں سیاسی طور پر اس کی ذمہ داری اٹھانا تھی۔ درانی اپنی کتاب میں مزید لکھتے ہیں کہ اس آپریشن کے بعد مشرف کو معلوم تھا کہ وہ آرمی چیف کے عہدے سے ہٹا دیے جائیں گے اور انہوں نے اس حوالے سے ایک منصوبہ بنایا، ’’ستمبر میں نواز شریف نے فیصلہ کر لیا تھا کہ وہ اس طاقت ور عہدے پر مشرف کو نہیں رکھنا چاہتے اور انہوں نے مشرف کو جوائنٹ چیف آف سٹاف بنانے کا فیصلہ کیا، مشرف نے یہ پیشکش ٹھکرا دی تھی اور وہ سمجھ گئے تھے کہ انہیں اس عہدے سے ہٹا دیا جائے گا۔‘‘

کتاب میں درانی یہ بھی دعویٰ کرتے ہیں کہ پاکستان نے امریکی فوجیوں کو سن 2011 میں اسامہ بن لادن کے ٹھکانے کا بتایا تھا۔ کشمیر کے معاملے پر درانی لکھتے ہیں کہ جب کشمیر میں مزاحمت کا آغاز ہوا تو پاکستان کو اندازہ نہیں تھا کہ یہ کہاں تک بڑھ سکتی ہے۔ وہ لکھتے ہیں،’’ہم نہیں چاہتے تھے کہ حالات قابو میں نہ رہیں اور بات جنگ تک پہنچ جائے جو نہ پاکستان چاہتا تھا نہ بھارت۔‘‘ درانی 1990 سے 1992 تک آئی ایس آئی کے سربراہ رہے جب کشمیر میں مزاحمت کا آغاز ہوا تھا۔

درانی اور دولت کے ساتھ اس کتاب کو تحریر کرنے والےآدتیا سنہا نے ’خلیج ٹائمز‘ میں شائع ہونے والے اپنے مضمون میں لکھا ہے کہ دولت بنیادی طور پر مثبت سوچ رکھتے ہیں جبکہ درانی حقیقیت پسند ہیں۔ دولت یقین رکھتے ہیں کہ دونوں ممالک میں اعتماد سازی جیسے ویزے کے حصول میں نرمی، بھارت اور پاکستان کے درمیان اعلیٰ سطحی ملاقاتیں اور آئی پی ایل میں پاکستانی کھلاڑیوں کو شامل کرنے جیسے اقدامات دونوں مالک میں امن قائم کرنے میں مدد فراہم کر سکتے ہیں۔ سنہا کہتے ہیں کہ دوسری جانب درانی سمجھتے ہیں کہ آہستہ آہستہ اور خاموشی کے ساتھ ایک منظم حکمت عمل کے تحت بھارت اور پاکستان میں امن قائم کیا جا سکتا ہے۔ درانی چاہتے ہیں کہ دونوں ممالک کی اسٹیبلشمنٹس سے ایک ایک شخص مذاکراتی عمل کو آگے لے کر چلے۔

بشکریہ DW اردو
 

اسد درانی کی کتاب پر فوج کو تحفظات

$
0
0

آئی ایس آئی کے سابق سربراہ، لیفٹینٹ جنرل (ر) اسد درانی کی کتاب پر فوج نے تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ سیکیورٹی ذرائع کے مطابق کتاب میں بہت سے موضوعات حقائق کے برعکس بیان کیے گئے ہیں، اسد درانی کو بیانات پر پوزیشن واضح کرنے کے لئے جی ایچ کیو طلب کیا جا رہا ہے۔ اسد درانی کو ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی پر پوزیشن واضح کرنی ہو گی۔ عسکری قیادت نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ اگر پاک فوج کا کوئی سابق افسر بھی ملکی مفاد کے خلاف کوئی بات کرے گا تو اس کے خلاف بھی ایکشن لیا جائے گا۔ دوسری جانب پاک فوج کے ترجمان نےسابق آئی ایس آئی چیف اسد درانی کی جی ایچ کیو طلبی کی تصدیق کر دی ہے۔

میجر جنرل آصف غفور نے سوشل میڈیا پر ایک بیان میں کہا ہے کہ اسد درانی کو  کو جی ایچ کیو طلب کر لیا گیا ہے، اسد درانی سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنی کتاب اسپائی کرونیکلز میں خود سے منسوب خیالات کی وضاحت کریں۔ پاک فوج کے ترجمان کے مطابق اسد درانی سے منسوب خیالات کو ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ کی خلاف ورزی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ترجمان کے مطابق ملٹری کوڈ آف کنڈکٹ فوج کے تمام حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین پر لاگو ہوتا ہے۔
 

جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کے سربراہان کی اچانک ملاقات

$
0
0

جنوبی کوریا کے صدر مون جے اِن اور شمالی کوریا کے رہنما کم جونگ اُن کے درمیان دوسری ملاقات میں شمالی کوریا کے جوہری پروگرام اور امریکا سے ہونے والے مذاکرات میں تعطل پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ غیرملکی خبررساں ادارے کے مطابق جنوبی کوریا اور شمالی کوریا کے سربراہان کی دوسری ملاقات کسی سرپرائز سے کم نہ تھی، یہ ملاقات طے شدہ نہیں تھی بلکہ اچانک کی گئی جسے نہایت خفیہ بھی رکھا گیا جب کے اس سے قبل پہلی ملاقات کے موقع پر میڈیا بھی موجود تھا۔ اس اچانک ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے کچھ وقت ساتھ گزارا اور باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا۔

جنوبی کوریا کے صدارتی ترجمان کی جانب سے جاری کردہ بیان میں کہا گیا ہے کہ دونوں رہنماؤں کے درمیان ’’ اچانک ملاقات ‘‘ شمالی کوریا کے غیر فوجی علاقے میں ہوئی جہاں دو طرفہ امور پر تبادلہ خیال کیا گیا، بالخصوص شمالی کوریا کے سربراہ کی امریکی صدر کے ساتھ ملاقات اور جوہری پروگرام کو ختم کرنے سے متعلق امور زیر بحث لائے گئے۔ واضح رہے کہ 1953ء کے بعد شمالی کوریا اور جنوبی کوریا کے سربراہان کے درمیان پہلی ملاقات رواں برس گزشتہ ماہ ہی ہوئی تھی۔ اس تاریخی ملاقات کے بعد شمالی کوریا کے سربراہ کی امریکی صدر سے 12 جون کو ملاقات طے تھی تاہم امریکا ملاقات سے قبل کچھ شرائط پر عمل درآمد کرانا چاہتا تھا جس کے باعث ملاقات تعطل کا شکار ہے۔
 

Viewing all 4738 articles
Browse latest View live


<script src="https://jsc.adskeeper.com/r/s/rssing.com.1596347.js" async> </script>