Quantcast
Channel: Pakistan Affairs
Viewing all 4738 articles
Browse latest View live

فیس بک نے ڈان نیوز کی پوسٹ بلاک کر دی

$
0
0

پاکستان کے ایک موقر انگریزی اخبار سے منسلک ویب سائیٹ نے دعویٰ کیا ہے کہ سماجی رابطوں کے معروف پلیٹ فارم فیس بک نے ڈان داٹ کام کی اس خبر کی پوسٹ تک رسائی کو بلاک کر دیا جس میں پاکستان کے ایک سینیئر سیاستدان جاوید ہاشمی نے مبینہ طور پر ملک کی عدلیہ پر سخت تنقید کی تھی۔ فیس بک کی طرف سے خود کار طریقے سے جاری ہونے والے ایک پیغام کے مطابق "آ پ کے ملک میں قانونی پابندیوں کی وجہ سے ہم نے فیس بک پر آ پ کی پوسٹ تک رسائی کو محدود کر دیا ہے۔" تاہم ملک کے اندر ویب سائٹ کی ذریعے اس خبر تک رسائی حاصل کی جا سکتی ہے۔

ڈان ڈاٹ کام میں شائع ہونے والی رپورٹ کے مطابق فیس بک نے اس مواد تک رسائی ایک مقامی قانونی کے بنیاد پر روک دی ہے ۔ رپورٹ کے مطابق یہ ایک ایسا اقدام ہے جو عموماً ایک غیر شفاف معاہدے کے بیناد پر ریاست کے اداروں کی درخواست کے تحت کیا جاتا ہے اور ماضی میں انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے اس پر تنقید کی جاتی رہی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ کہ فیس بک نے اس بات کی وضاحت نہیں کی کہ ڈان ڈاٹ کام کی پوسٹ نے کس قانونی کی خلاف ورزی کی اور ناہی اس بات کی وضاحت کی گئی ہے کہ اس پوسٹ تک رسائی کو روکنے کی درخواست کہاں سے آئی ہے۔ ڈان ڈاٹ کام نے سماجی رابطوں کا پلیٹ فارم فیس بک جس کے دنیا بھر میں ایک ارب 90 کروڑ صارفین ہیں کی طرف سے مواد تک رسائی کو روکنے کو ایک متنازع اقدام قرار دیا ہے۔

سوشل میڈیا یا سماجی رابطوں کی ویب سائٹس پر صارفین کے حقوق کے لیے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ معلومات اور خبروں تک رسائی کے لیے سوشل میڈیا کا کردار نہایت اہم ہے اور فیس بک کی طرف سے کسی بھی نیوز پوسٹ تک رسائی کو محدود کرنے کے اقدام سے آزادی اظہار اور معلومات تک رسائی کے بنیادی حق متاثر ہو گا۔ فیس بک کی طرف سے گزشتہ سال جاری ہونے والی ٹرانسپرینسی رپورٹ کے مطابق حکومت پاکستان نے جنوری سے جون 2017ء کے درمیان فیس بک کو ایک ہزار سے زائد صارفین سے متعلق معلومات کی فراہم روکنے کی درخواست کی تھی جبکہ 2016ء میں اسی عرصے کے دوران ایسی درخواستوں کی تعداد صرف 718 تھی۔

بشکریہ وائس آف امریکہ


 


Turkey holds EFES military drill with allied countries

$
0
0
Turkish troops take part in live fire drills as part of the EFES-2018 Military Exercise near the Aegean port city of Izmir.










شمالی کوريا کا جوہری تجربات کی تنصيبات کے خاتمے کا اعلان

$
0
0

شمالی کوريا نے اپنے جوہری تجربات کے ليے زير استعمال مقام اور وہاں موجود تنصيبات کو اس ماہ کے اواخر ميں منہدم کرنے کا اعلان کر ديا ہے۔ رياستی ميڈيا کے مطابق پيونگ يانگ اپنی جوہری سرگرمياں ترک کرنے کے عزم پر عمل پيرا ہے۔ شمالی کوريا نے اپنے متنازعہ جوہری تجربات کے ليے استعمال کی جانے والی تنصیبات کے خاتمے کا اعلان کر ديا ہے۔ یہ بات پيونگ يانگ میں سرکاری ميڈيا نے بتائی۔ ان تنصیبات کو تئیس اور پچيس مئی کے درميانی عرصے میں منہدم کر دیا جائے گا۔ رياستی ميڈيا کے مطابق يہ اعلان اس امر کا ثبوت ہے کہ پيونگ يانگ اپنی متنازعہ جوہری سرگرمياں ترک کرنے کے عزم پر عمل پيرا ہے۔

شمالی کوريا کی جانب سے يہ اعلان ايک ايسے وقت پر سامنے آيا ہے جب امريکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چند روز قبل ہی اس امر کی تصديق کی تھی کہ ان کی شمالی کوريائی رہنما کم جونگ ان کے ساتھ ملاقات بارہ جون کو سنگا پور ميں ہو گی۔ يہ کسی بھی برسر اقتدار امريکی صدر کی کسی شمالی کوريائی رہنما کی ساتھ پہلی ملاقات ہو گی۔ جزيرہ نما کوريا پر سالہا سال سے جاری کشيدگی ميں اس سال کے آغاز سے حيرت انگيز طور پر کمی کا سلسلہ جاری ہے۔ اپريل کے اواخر ميں شمالی اور جنوبی کوريائی رہنماؤں کی بھی ایک تاریخی ملاقات ہوئی تھی جب کہ دونوں ممالک کے اعلیٰ اہلکاروں کی آئندہ چند دنوں ميں متعدد امور سے متعلق ملاقاتيں بھی متوقع ہيں۔

پيونگ يانگ کے اعلان کے مطابق امريکی اور جنوبی کوريائی صحافيوں کو جوہری تجربات کے ليے استعمال کی جانے والی تنصیبات کے خاتمے کی رپورٹنگ کی دعوت بھی دی جائے گی۔ سرکاری نیوز ایجنسی KCNA کے مطابق بين الاقوامی صحافيوں کو چينی دارالحکومت بيجنگ سے شمالی کوريا کے مشرقی حصے کے بندرگاہی شہر وونسان تک بذريعہ ہوائی جہاز پہنچايا جائے گا۔ بعد ازاں ان صحافیوں کو ايک خصوصی ٹرين کے ذريعے اس زير زمين مقام تک لے جايا جائے گا، جہاں ایٹمی تجربات کے لیے استعمال ہونے والی تنصیبات کو مہندم کیا جائے گا۔

شمالی کوريا کی نيوز ايجنسی کے مطابق ايٹمی تجربات کے ليے زير استعمال مقام پر موجود تمام سرنگوں، تحقيق کے ليے مختص دفاتر، عمارات، سکيورٹی پوسٹوں اور ديگر تنصيبات کو دھماکوں کی مدد سے ختم کر ديا جائے گا۔ ذرائع ابلاغ پر نشر کردہ رپورٹوں اور دستياب معلومات کے مطابق شمالی کوريا اب تک چھ جوہری تجربات کر چکا ہے۔ يہ سب ملک کے شمال مشرقی حصے ميں پنجی ری کے مقام پر منتپ نامی پہاڑ کے نیچے زمين میں کيے گئے تھے، جہاں سرنگوں کا ايک پيچيدہ نظام موجود ہے۔ ماہرين کا کہنا ہے کہ اس تنصيبات کو منہدم کرنے کا عمل واقعی ايک بڑی پيش رفت ہو گا۔

بشکریہ DW اردو
 

ایران اور اسرائیل کا مسئلہ ہے کیا ؟

$
0
0

اسرائیل نے شام میں ایرانی تنصیبات کو نشانہ بنایا ہے جس کے بعد سے دونوں طاقتور حریف ممالک کے درمیان جنگ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔ آئیے جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ یہ جو کچھ ہو رہا ہے اس کا پس منظر کیا ہے۔ ایران اور اسرائیل دشمن کیوں ہیں؟ سنہ 1979 کے ایرانی انقلاب جب سخت گیر مذہبی اقتدار میں آئے، کے بعد سے ایرانی رہنما اسرائیل کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ ایران اسرائیل کے ہونے کو مسترد کرتا ہے، اور اسے مسلمانوں کی زمین کا غیر قانونی قابض سمجھتا ہے۔ اسرائیل ایران کو اپنے لیے خطرہ سمجھتا ہے اور اس نے ہمیشہ کہا ہے کہ ایران کو جوہری ہتھیار نہیں بنانے چاہیے۔ اسرائیلی رہنما مشرق وسطی میں ایرانی موجودگی بڑھنے سے خوفزدہ ہیں۔

اسرائیل اپنے پڑوسی ملک شام پر 2011 سے جاری جنگ کے بعد سے گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ شامی حکومت اور باغیوں کے درمیان جنگ سے اسرائیل دور ہی رہا ہے۔ لیکن ایران اس دوران شامی حکومت کی حمایت کرنے اور دفاعی مشیروں سمیت جنگجو بھیج کر بڑا اہم کردار ادا کرتا رہا ہے۔ اسرائیل کو ایک خوف یہ بھی لاحق ہے کہ ایران خفیہ طور پر لبنان میں جو کہ اسرائیل کا پڑوسی ملک ہے اور اسے اس سے خطرہ بھی ہے جنگجوؤں کو ہتھیار مہیا کر رہا ہے۔
اسرائیل کے وزیراعظم بار بار یہ بات کہہ چکے ہیں کہ ان کا ملک ایران کو شام میں فوجی اڈہ بنانے نہیں دیں گے۔ لہذا اب جب کہ ایران شام میں کافی مظبوط ہو گیا ہے تو اسرائیل نے ایرانی تنصیبات کو بڑے پیمانے پر نشانہ بنانا شروع کر دیا ہے۔

کیا ایران اور اسرائیل کے درمیان کبھی جنگ ہوئی ہے؟
نہیں۔ اسرائیل کو نشانہ بنانے والی تنظیموں جیسے کہ حزب اللہ اور حماس کو ایران کی حمایت حاصل رہی ہے۔ لیکن دونوں ممالک کے درمیان براہ راست جنگ ایک بڑی تباہی کا باعث بن سکتی ہے۔ ایران کے پاس طویل فاصلے تک مار کرنے والے میزائل اور اسرائیل کی سرحد پر بڑے پیمانے پر مسلح اتحادی موجود ہیں۔
اسرائیل کے پاس ایک طاقتور فوج ہے اور کہا جاتا ہے کہ اس کے پاس جوہری ہتھیار بھی ہیں، اور اسے امریکہ کی زبردست حمایت بھی حاصل ہے۔

بشکریہ بی بی سی اردو
 

Al Nakba : The most catastrophic day in the history of Palestine

$
0
0
For the Palestinian people, the past 12 months have presented dispiriting reminders of the enduring nature of their struggle for justice. Last year saw the centenary of the Balfour Declaration, which laid the foundations for Palestinian dispossession;  50 years since the start of the ongoing occupation of Gaza, The West Bank and East Jerusalem; and a decade since the imposition of the blockade of Gaza.
Now, in 2018, we mark the 70th anniversary of the Nakba, the catastrophic process of ethnic cleansing leading to the establishment of the state of Israel. 750,000 people, including my grandparents, were expelled from their homes and over 500 Palestinian towns and villages were destroyed. Adding more weight to the historical narrative of injustice that defines the Palestinian people’s sense of nationhood is the pressing reality of the continuing Nakba being wrought by Israel every day.

2017 saw the highest level of unlawful settlement building in the West Bank since the Oslo Accords in 1993. Destruction of villages on both sides of the Green Line has continued, clearing way for Jewish-only settlements. The siege on Gaza continues to deprive Palestinians of the basic services required for a decent life, and the UN has declared that Gaza will be uninhabitable by 2020 unless the siege is lifted.

Meanwhile, Netanyahu’s coalition of right wing groups has brought forward legislation that has further evidenced the widely accepted analysis that Israel is practicing a form of apartheid. The ‘nation-state’ bill, which passed its first reading in the Knesset in March of this year, confirms that Israel is not the state of all its citizens but of the Jewish people only; and entrenches various discriminatory policies including an existing law that allows 43% of Israeli towns to remain Jewish-only, denying access to Palestinian citizens of Israel.

Emboldened by the election of Donald Trump, Israel has continued its war on all forms of Palestinian and international civil society resistance. Any group advocating any form of sanction in response to Israel’s many violations of international human rights and humanitarian laws is defined as a threat to Israel’s security. In 2017, Israel passed a law prohibiting entry to individuals and organisations advocating boycott, divestment or sanctions.

Earlier this month, Israel denied entry to Vincent Warren, the Executive Director and Chair of the Center for Constitutional Rights, a New York-based civil rights organisation. Warren later stated that “the abusive treatment I received at Ben Gurion airport ironically illustrates how the state of Israel refuses to respect the political and civil rights of its own citizens, of Palestinians, and of human rights defenders globally.”

This week it was the turn of Human Rights Watch’s Israel and Palestine Director, Omar Shakir, to be deported.  Earlier this year, Amnesty International’s launch of a campaign to ban the import of Israeli settlement goods was met with a threat from Israeli officials to financially penalise any Israeli citizen caught giving funding to Amnesty International.

Most horrifically, peaceful protests inside Gaza since March 30 have resulted in the mass shooting of several thousand Palestinians by Israeli snipers stationed on the Israeli side of the border. The bullets were fired from hundreds of metres away at journalists, children, and people in prayer; targeted to maim and kill. To date, over 45 Palestinians have been killed.


These scenes were broadcast across the world via social media. I have been unable to remove one image from my mind; that of a young woman walking in solitary protest towards the border fence while waving a Palestinian flag, only to be felled by a bullet from a sniper. Since then, Israel has asked the world to pay no heed to the actions of its soldiers, but rather to question the motivations of the protesters. The truth is, these protesters are driven by an obligation to assert their rights in the face of a system of power that would deny them their most basic and fundamental rights on the basis of their ethnicity and national or cultural identity. It is the weight of this history that is addressed so eloquently by the Palestinian poet Mahmoud Darwish:

 “I dream of us no longer being heroes or victims; we want to be ordinary human beings. When a man becomes an ordinary being and pursues his normal activities, he can love his country or hate it, he can emigrate or stay. However, for this to apply there are objective conditions that are not in place. As long as the Palestinian person is deprived of his homeland, he is obliged to be a slave [to] that homeland.”

On Tuesday 15th May, Palestinians and solidarity activists around the world will mark Nakba Day. In Gaza, thousands of protesters will, like that young woman whose moment of death is frozen in my mind, demonstrate at the border fence with the understanding that Israel intends again to meet them with a hail of live ammunition. Israeli forces will do so because the lesson of the last 70 years is that Israel can act with impunity. The world’s failure to respond to the mass shooting and killing of people at the Great Return March over the last six week speaks to this reality. No UN resolution has been passed; no sanctions have been imposed; no independent investigations have been announced.

And yet the last 70 years of Palestinian resistance to occupation, siege, colonisation, ethnic cleansing, and apartheid has told us another story; one manifest in Darwish’s words and in the simple courage of the young Palestinian woman walking calmly towards the border. It is the story of all those who are committed to the belief that peace can only be built on a foundation of respect for the equal rights of all; to stand with others in solidarity and to build a global movement for justice. Not only today, as we mark the Nakba in 1948, but every day until the ongoing Nakba is ended.

Ben Jamal is the Director of the Palestine Solidarity Campaign, the largest UK civil society organisation dedicated to securing Palestinian human rights.



نواز شریف نے بڑا ظلم کر دیا

$
0
0

بھارتی میڈیا کیا پورا بھارت میاں نواز شریف کے ممبئی حملہ سے متعلق بیان سے جھوم اُٹھا۔ پاکستان دشمنوں کو میاں نواز شریف نے اپنے انتہائی غیر ذمہ دارانہ اور قابل مذمت بیان سے پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ کرنے کے لیے وہ کچھ دے دیا جس کی وہ تمنا ہی کر سکتے تھے۔ نجانے نواز شریف کو کیا سوجھی کہ ایک ایسے وقت میں پاکستان مخالف بیان دے دیا جس کا ہمیں صرف اور صرف نقصان اور ہمارے دشمنوں کو فائدہ ہی ہو سکتا ہے۔ زرا بھارتی میڈیا کو سنیں وہ کیا کچھ کہہ رہا ہے۔ بھارتی میڈیا میاں نواز شریف کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے اپنی شہ سرخیوں میں کہہ رہا ہے’’Biggest ever terror admission from Pakistan‘‘ (پاکستان کی طرف سے دہشتگردی کرنے کا سب سے بڑا قبول نامہ).  وہ کہہ رہے ہیں کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم نے تسلیم کر لیا کہ ممبئی حملوں کے لیے دہشتگردوں کو پاکستان سے بھیجا گیا۔

بھارتی میڈیا چیخ چیخ کے کہہ رہا ہے کہ ممبئی دھماکوں کے متعلق جو دعوے بھارت کے تھے کہ ان دھماکوں کے پیچھے پاکستان تھا اُس کی آج پاکستان کے تین مرتبہ منتخب ہونے والے وزیر اعظم نواز شریف نے تصدیق کر دی۔ نہ صرف یہ میاں صاحب نے تو اس بھارتی الزام کہ پاکستان ممبئی حملوں کے متعلق عدالتی کارروائی کو چلنے نہیں دیتا کو بھی سچ بنا کر پیش کیا اور پاکستان کو ہی اس کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ میاں نواز شریف نے یہ سب کچھ انگریزی اخبارکے اُسی رپورٹر کو اپنے انٹرویو میں کہا جس نے نیوز لیکس والی خبر شائع کی تھی۔ اگر نیوز لیکس پاکستان کے مفاد کے خلاف تھی تو میاں صاحب کا یہ انٹرویو اُس سے کہیں زیادہ نقصان دہ ہے اور پاکستان کے لیے خطرناک ہے۔ 

سوشل میڈیا کے ذریعے ن لیگ اور میاں صاحب کے بہت سے ہمدرد کبھی مشرف، کبھی عمران خان، کبھی جنرل درانی اور کبھی کسی دوسرے کی ماضی میں دیے گئے متنازعہ بیانات کے حوالے دے دے کر نواز شریف کے اس تازہ بیان کے اثرات کو کم کرنے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں اور کہہ رہے ہیں کہ نواز شریف نے کون سی نئی بات کر دی۔ ایسے تمام حضرات سے میری گزارش ہے کہ زرا بھارتی چینلز اور اخبارات کو دیکھیں تو معلوم پڑ جائے گا کہ نواز شریف نے کیا نئی بات کی اور اس کا پاکستان کو کس قدر نقصان پہنچ رہا ہے۔ نواز شریف کا موازنہ کسی دوسرے سیاستدان یا کسی جرنیل سے نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ وہ تین مرتبہ پاکستان کے وزیر اعظم رہ چکے ہیں۔

میاں نواز شریف جو بات کریں گے اُسے دنیا غور سے سنے گی اور اُسے اہمیت بھی دے گی۔ ڈان لیکس کے ذریعے جو بات سامنے آئی اُس کے لیے ذرائع پر انحصار کیا گیا لیکن اب تو نواز شریف نے انٹرویو میں یہ باتیں کر دیں۔ نجانے کیوں اس موقع پر نواز شریف نے ایسی بات کی جو نہ صرف پاکستان کی پالیسی کے خلاف ہے بلکہ حقیقت سے بھی دور ہے۔ ممبئی حملوں کے متعلق عدالتی کارروائی کا آگے نہ بڑھنے کی وجہ بھارت کا عدم تعاون اور شہادتوں کا پاکستان کو مہیا نہ کرنا ہے لیکن میاں صاحب نے اس کا قصور پاکستان کو ہی ٹھہرا دیا۔ 

پاکستان نے ہمیشہ اس بات سے انکار کیا کہ پاکستان کی ریاست یا اس کا کوئی بھی ادارہ ممبئی حملوں کی سازش میں شامل تھا لیکن میاں صاحب کے بیان کے بعد بھارتی میڈیا کو یہ کہنے کا موقع مل گیا کہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم نے تسلیم کر لیا کہ ممبئی حملوں کے لیے دہشتگردوں کو پاکستان نے بھیجا تھا۔ سیکورٹی معاملہ اور خارجہ امور کے متعلق اگر میاں صاحب کی کوئی رائے مختلف تھی تو اُس رائے کا اظہار بند کمرے میں آپس میں بیٹھ کر ہی کیا جا سکتا تھا ۔ یہ کیسی سیاست ہے کہ اخباری انٹرویو کے ذریعے پاکستان کو ہی ملزم بنا کر پیش کر دیا۔ وزارت عظمیٰ سے رخصت کیے جانے پر میاں صاحب اپنی تلخی کو اس حد تک لے جائیں گے اس کا شاید کسی نے سوچا بھی نہ ہو گا۔ 

اُن کی وزارت عظمیٰ کے دوران ممبئی حملوں کے متعلق پاکستان کی جو پالیسی رہی اُس کے بالکل برعکس نواز شریف نے بیان دیا۔ اس بیان سے پاکستان کی سالمیت کے لیے شدید خطرات پیدا کر دیے گئے ہیں۔ امریکا و بھارت اور پاکستان کے دوسرے دشمن جو پاکستان کی فوج کو کمزور کرنے کے لیے طرح طرح کے پروپیگنڈہ کر رہے ہیں اُنہیں نواز شریف کے اس بیان نے بہت تقویت دی ہے اور نقصان صرف اور صرف پاکستان کا ہوا ہے۔ خارجہ امور اور سیکورٹی معاملات پر بات کرنے کے لیے بہت احتیاط کی ضرورت ہوتی ہے اور خصوصاً جو افراد اہم حکومتی عہدوں پر فائز ہوں یا فائز رہے ہوں اُن سے کسی بھی غیر ذمہ دارانہ بیان کی توقع نہیں رکھی جاتی کیوں کہ ایسے افراد کی طرف سے کوئی ایک غیر ذمہ دارانہ بیان کسی بھی ملک کی سالمیت اور اُس کے مفاد کو سخت نقصان پہنچا سکتا ہے۔ نواز شریف نے اپنے آپ کو ایسے ہی افراد کی فہرست میں لا کھڑا کر دیا ہے۔ اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے۔ 

آمین

انصار عباسی
 

کانگو میں ایک بار بار پھر مہلک ایبولا وائرس پھیل گیا

$
0
0

افریقی ملک ڈیموکریٹک ریپبلک کانگو میں ایک بار پھر انتہائی مہلک ایبولا وائرس کی وبا پھوٹ پڑنے کے نتیجے میں حکام نے کم ازکم سترہ انسانی ہلاکتوں کی تصدیق کر دی ہے۔ زیادہ تر ہلاکتیں شمال مغربی شہر بیکورو میں ہوئیں۔ کانگو کے دارالحکومت کنشاسا سے ملنے والی نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ ملکی حکام نے تصدیق کر دی ہے کہ یہ وائرس، جو ماضی میں بھی بہت زیادہ شہری ہلاکتوں کی وجہ بنا تھا، اب تک ایک بار پھر قریب ڈیڑھ درجن انسانوں کی جان لے چکا ہے۔

ملکی محکمہ صحت کے دو اعلیٰ حکام کے حوالے سے بتایا گیا تھا کہ شروع میں شمال مغربی کانگو کے شہر بیکورو میں یہ ہلاکتیں صرف دو تھیں اور مشتبہ طور پر اس وائرس کی وجہ سے بیمار ہونے والے شہریوں کی تعداد دس تھی۔ لیکن پھر چند گھنٹے بعد ہی حکام کے حوالے سے یہ تصدیق بھی کر دی گئی کہ ایبولا وائرس کے ہاتھوں مرنے والوں کی تعداد اب سترہ ہو گئی ہے۔ شروع میں اس وائرس کی نئی وبا کی وجہ سے دو افراد کے ہلاک ہو جانے کی تصدیق ڈیموکریٹک ریپبلک کانگو کے نیشنل بائیولوجیکل ریسرچ انسٹیٹیوٹ نے بھی کر دی تھی۔ بعد میں سترہ ہلاکتوں کی اطلاع ملکی وزارت صحت کے اعلیٰ حکام کے حوالے سے دی گئی۔ اے ایف پی نے لکھا ہے کہ ڈیموکریٹک ریپبلک کانگو میں مجموعی طور پر یہ نواں موقع ہے کہ وہاں ایبولا وائرس کی وجہ سے شہری ہلاکتیں ریکارڈ کی گئی ہیں۔ پہلی بار اس وائرس کا پتہ 1970 کی دہائی میں چلا تھا اور تب اس انتہائی ہلاکت خیز جرثومے کو مشرقی کانگو میں دریائے ایبولا کی نسبت سے اس کا نام دے دیا گیا تھا۔ تب اس وائرس کے پھیلاؤ نے زیادہ تر اسی دریا کے ساتھ ساتھ واقع علاقوں کو متاثر کیا تھا۔

امریکی ریاست ٹیکساس میں ایک نرس کے ابیولا وائرس سے متاثر ہونے کے بعد پولیس نے اس کے گھر کی ناکہ بندی کر دی تھی۔ یہ مغربی افریقی ممالک سے باہر ایبولا کا دوسرا واقعہ تھا۔ ہسپانوی دارالحکومت میڈرڈ میں بھی ایک نرس ایبولا سے متاثرہ ایک مریض کے علاج کے دوران اس وائرس کا شکار ہو گئی تھی۔ افریقہ میں پچھلی مرتبہ ایبولا وائرس کی وبا کانگو ہی میں ایک سال سے بھی کم عرصہ قبل دیکھی گئی تھی، جب اس وسطی افریقی ملک میں آٹھ شہری اس سے متاثر ہوئے تھے ، جن میں سے چار انتقال کر گئے تھے۔ ایبولا وائرس کے پھیلاؤ میں چمگادڑیں بھی اہم کردار ادا کرتی ہیں، جو خود بیمار ہوئے بغیر دور دراز کے علاقوں تک اس وائرس کو دوسرے پرندوں، حیوانات اور انسانوں تک پہنچا دیتی ہیں۔ اس وائرس کی پچھلی بہت ہلاکت خیز وبا دو برس قبل وسطی افریقہ میں دیکھنے میں آئی تھی، جب یہ جان لیوا جرثومہ قریب ساڑھے گیارہ ہزار افراد کی ہلاکت اور قریب انتیس ہزار کے بیمار ہو جانے کی وجہ بنا تھا۔ تب اس وائرس کی وبا کا سب سے زیادہ سامنا گنی، سیرا لیئون اور لائبیریا جیسے ممالک کو کرنا پڑا تھا۔

م م / ع ا / اے ایف پی
 

امریکی سفارتخانہ تل ابیب سے مقبوضہ بیت المقدس منتقل

$
0
0

امریکی سفارتخانے کی القدس منتقلی آج ہو گی، سفارتخانہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے احکامات پر تل ابیب سے منتقل ہو گا، مقبوضہ بیت المقدس میں کھلنے والے نئے امریکی سفارت خانے میں ابتدائی طور پر کم از کم 50 اہل کاروں کا عملہ تعینات ہو گا۔ یروشلم میں سفارتخانہ کھولنے پر امریکا کے خلاف فلسطینیوں کی جانب سے شدید احتجاج کا امکان ہے دوسری جانب ترکی کے وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ امریکا کا فیصلہ غلط ہے، ترکی فلسطین اور القدس کے معاملے پر خاموش نہیں رہے گا۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ بات ٹرمپ انتظامیہ کے اعلیٰ اہلکاروں نے بتائی جنہوں نے انتظام کا جائزہ لیا۔

قوی امکان ہے کہ سفارتخانے کا افتتاح آج ہو گا۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق افتتاحی تقریب میں 800 مہمان شریک ہوں گے۔ یہ تقریب اسرائیل کے قیام کی 70ویں سالگرہ پر منعقد کی جارہی ہے۔ غیرملکی ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ عرب لیگ کیلیے سعودی عرب کے نئے سفیر اسامہ اسرائیلی سفارتخانے کی تقریب میں شریک ہونگے جبکہ عرب لیگ میں تعینات سعودی سفیر اسامہ نے اپنی شرکت کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ اطلاع مکمل طور پر من گھڑت ہے۔ یورپی چینل کا یہ افواہ اپنے خبر نامے کا حصہ بنانا افسوسناک ہے۔ 

دریں اثنا اسرائیلی قبضے کے 70 سال پورے ہونے پر فلسطینیوں کے احتجاجی مظاہرے جاری ہیں، گزشتہ روز بھی صہیونی فوج کی مظاہرین پر سیدھی فائرنگ سے 2 فلسطینی شہید اور شیلنگ اور تشدد سے 460 زخمی ہو گئے جبکہ فلسطینی عوام نے 15 مئی کو وسیع پیمانے پر سرحدی باڑ کے ساتھ احتجاج کا اعلان کیا ہے۔ علاوہ ازیں ترکی کے وزیر خارجہ میولود چاوش اولو نے کہا ہے کہ فلسطی اور القدس کے معاملے میں ترکی چپ نہیں رہے گا۔ ترک نشریاتی ادارے کے مطابق استنبول میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے امریکا کے اسرائیل میں سفارتخانے کو القدس منتقل کیے جانے کے فیصلے پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ’’امریکا کا یہ فیصلہ غلط ہے، جس کے خلاف ہمیں مشترکہ موقف کا مظاہرہ کرنا ہو گا‘‘۔ حالیہ ایام میں مسلم امہ اور بالخصوص عرب لیگ اس معاملے میں ہچکچاہٹ کا شکار ہے۔
 


Stand for Gaza : At least 41 Palestinians martyred in Gaza protests

$
0
0
Israeli soldiers killed 41 Palestinians demonstrating along the border fence and wounded more than 1,600 in the bloodiest day in Gaza since the 2014 war with Israel, according to the Gaza Health Ministry. Thousands of Palestinians gathered on the edges of Gaza as the U.S. Embassy opened in Jerusalem, fanning out along the fence in what appeared to be some of the largest demonstrations yet. At a gathering point east of Gaza City, organizers urged demonstrators to burst through the fence, telling them Israeli soldiers were fleeing their positions, even as they were reinforcing them. At the barrier, young men threw stones and tried to launch kites carrying flames in hopes of burning crops on the other side. Most of the crowd, though, were peaceful, demonstrating against the loss of their homes and villages and the embassy move. Occasional sporadic gunfire could be heard over the noise of the crowd and a constant stream of ambulances roared back and forth from the fence, ferrying away the wounded.










فلسطینی شہدا کے لیے ترکی میں 3 روزہ سوگ کا اعلان

$
0
0

ترکی نے فلسطینی شہدا کے لیے ملک میں تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ نائب وزیر اعظم و حکومتی ترجمان بیکر بوزداع کا کہنا ہے کہ اسرائیل کی جانب سے امریکی سفارتخانے کو بیت المقدس منتقل کیے جانے کے دوران قتل و عام کردہ فلسطینیوں کے لیے تین روزہ سوگ منانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ کابینہ کے اجلاس کے بعد اعلانات کرنے والے بیکر بوزداع نے کہا کہ "فلسطینی عوام کے ساتھ اظہار یکجہتی اور شہدا کے احترام میں ترکی میں تین روزہ سوگ منایا جائیگا۔ " بوزداع کا کہنا ہے کہ ترک قومی اسمبلی میں القدس کے حوالے سے ایک خصوصی نشست کا بھی اہتمام کیا جائیگا، جبکہ ترکی کے امریکہ اور اسرائیل میں سفیروں کو صلاح مشورے کے لیے انقرہ طلب کیا گیا ہے۔ ترجمان نے بتایا ہے کہ ترکی اسلامی تعاون تنظیم کا ہنگامی اجلاس بھی طلب کرے گا۔
 

فلسطینیوں کا قتل، امریکا نے سلامتی کونسل کی تحقیقات روک دی

$
0
0

غزہ میں فلسطینیوں کےقتل عام کی سلامتی کونسل کی تحقیقات کی درخواست امریکا نے روک دی جس پر برطانیہ نے تشویش کا اظہار کیا ہے جبکہ فرانس نے طاقت کے استعمال سے گریز کا مطالبہ کر دیا۔ ترکی نے مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل انسانیت کے خلاف جرائم کے مرتکب ہیں، ترکی نے اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کی تنظیم کی خون ریزی روکنے اور ذمے داروں کو انصاف کے کٹہرے میں لانے کی اپیل کی ہے۔ جنوبی افریقا نے تل ابیب اور ترکی نے اسرائیل اور امریکا سے سفیر واپس بلا لیے، سعودی عرب نے بھی اس اقدام کی شدید مذمت کی ہے۔

ادھر کویت نے آج سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس بلانے کی درخواست کی تاہم اسے منظوری نہ مل سکی، یہ اجلاس اب جمعرات کو ہو گا۔ امریکا غزہ میں اسرائیلی فوجیوں کے ہاتھوں فلسطینیوں کے قتل عام کی اقوام متحدہ کی تحقیقات میں رکاوٹ بن گیا، غزہ میں فلسطینیوں کے قتل عام کی سلامتی کونسل کی تحقیقات کی درخواست امریکا نے بلاک کر دی۔ سلامتی کونسل نے اسرائیل غزہ سرحد پر شہریوں کے قتل عام کی تحقیقات کا مطالبہ کیا تھا، تاہم غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی پر اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کا اجلاس بھی تاخیر کا شکار ہو گیا۔

کویت نے ہنگامی اجلاس بلانےکی درخواست دی تھی، 60 کے قریب فلسطینیوں کی شہادت کے باوجود سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس آج نہ بلایا جا سکا، اب یہ  اجلاس جمعرات کو ہو گا۔ ادھر ترک صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ اسرائیل غزہ میں فلسطینیوں کی نسل کشی او ریاستی دہشت گردی کر رہا ہے، اسرائیل ایک دہشت گرد ملک ہے۔ ان کا مزید کہنا ہے کہ مقبوضہ بیت المقدس کا مشرقی حصہ فلسطینیوں کا اٹوٹ انگ دارالحکومت ہے۔ روس، مصر، ترکی، قطر اور اردن نے بھی امریکی سفارت خانے کی مقبوضہ بیت المقدس منتقلی کی سخت مذمت کی ہے۔

ان ملکوں کا کہنا ہے کہ صدر ٹرمپ نے یہ فیصلہ کر کے امن عمل کو تباہ کر دیا، سعودی عرب ، فرانس اور برطانیہ نے بھی فلسطینیوں کی ہلاکتوں کی مذمت کی ہے۔ اقوام متحدہ کی انسانی حقوق تنظیم کا کہنا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی فائرنگ سے فلسطینیوں کے جانی نقصان کا عالمی برادری نوٹس لے اور ذمہ داروں کو انجام تک پہنچانا چاہیے۔ ادھر غزہ سرحد پر احتجاج کے دوران شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد 58 ہو گئی ہے، یہ ہلاکتیں اسرائیلی فوج کی فائرنگ سے ہوئی ہیں، ان ہلاکتوں کے حوالے سے گزشتہ روز کو 2014ء میں غزہ اور اسرائیل جنگ کے بعد سب سے ہلاکت خیز دن قرار دیا جا رہا ہے، فلسطینی صدر محمود عباس نے سانحے پر تین روزہ سوگ کا اعلان کیا ہے۔ خبر رساں ادارے اے پی نے فلسطینی طبی ذرائع کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس دوران 1200 سے زائد فلسطینی زخمی ہوئے ہیں اور ان میں سے تقریباً ساڑھے چار سو براہ راست فائرنگ کی زد میں آ کر زخمی ہوئے ہیں، جن میں سے 86 کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے اور ہلاکتوں میں اضافے کا امکان ہے۔ بتایا گیا ہے کہ شہید ہونے والوں میں 16 سال سے کم عمر 8 بچے بھی شامل ہیں۔

 

Eight-month-old baby girl martyred by Israel

$
0
0
Eight-month-old Palestinian infant Laila al-Ghandour died after inhaling tear gas during a protest against the U.S. embassy move to Jerusalem, at the Israel-Gaza border. Her funeral was held in Gaza City.





اسرائیلی سنائپرز کے ہاتھوں معذور فلسطینی فادی ابو صالح بھی شہید

$
0
0

بڑے پیمانے پر اسرائیل مخالف مظاہروں میں شریک ایک معذور فلسطینی فادی ابو صالح کو بھی شہید کر دیا گیا تھا۔ تیس سالہ فادی کی دونوں ٹانگیں ماضی میں اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں ضائع ہو گئی تھیں۔ فلسطین کے مقامی میڈیا اور متعدد عرب نشریاتی اداروں کے مطابق اسرائیلی فورسز کی فائرنگ سے شہید ہونے والے 60 فلسطینیوں میں معذور فادی ابو صالح بھی شامل ہے۔ فادی حسن ابو صالح کی دونوں ٹانگیں سن دو ہزار آٹھ میں غزہ پر اسرائیلی بمباری کے دوران ضائع ہو گئی تھیں۔ فادی ابو صالح وہیل چیئر پر بیٹھ کر اسرائیل مخالف مظاہروں میں شریک تھا۔ یہ مظاہرے امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے یروشلم منتقلی کے خلاف کیے جا رہے تھے۔  سینکڑوں فلسطینیوں نے ابو صالح کی نماز جنازہ میں شرکت کی۔

فلسطینی طبی ذرائع کے مطابق اسرائیلی دستوں کی طرف سے کی گئی فائرنگ کے نتیجے میں ساٹھ فلسطینی شہید اور دو ہزار سے زائد زخمی ہو گئے تھے۔ اسرائیلی کی طرف سے کی جانے والی ان کارروائیوں کو بین الاقوامی برادری اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اسرائیل کے خلاف حالیہ احتجاجی سلسلے کے دوران ایک سو سے زائد فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ گزشتہ برس دسمبر میں اسرائیلی فورسز نے وہیل چیئر پر بیٹھے ایک فلسطینی ابراہیم ابو طرایہ کو بھی شہید کر دیا تھا۔ دریں اثناء ترکی نے آج اسرائیلی سفیر کو ملک چھوڑ دینے کی ہدایات دے دیں۔ قبل ازیں ترکی نے غزہ میں ہلاکتوں کے بعد امریکا اور اسرائیل میں تعینات اپنے سفیروں کو مشاورت کے لیے واپس طلب کر لیا تھا۔ ترک صدر ایردوآن کے بقول اسرائیل ایک دہشت گرد ریاست ہے۔ ایردوآن نے مزید کہا کہ اسرائیل نے جو کچھ کیا ہے، وہ نسل کُشی ہے۔ 

دریں اثناء جرمنی نے غزہ کے ہلاکت خیز واقعات کی آزادانہ تحقیقات کے مطالبے کی حمایت کا اشارہ دیا ہے۔ برلن حکومت کے ترجمان اشٹیفن زائبرٹ کے مطابق ایک غیر جانبدار کمیشن ہی غزہ کی سرحد پر اس خون خرابے کی تہہ تک پہنچ سکتا ہے۔ اس سے قبل امریکا نے سلامتی کونسل میں غزہ میں ہلاکتوں سے متعلق قرارداد کو ویٹو کر دیا تھا۔ برطانیہ بھی غزہ سے ملنے والی اسرائیلی سرحد پر ان خونریز واقعات کی آزادانہ تفتیش کا مطالبہ کر چکا ہے۔ یورپی ملک بیلجیم نے بھی غزہ میں ہونے والی ہلاکتوں کے بعد اقوام متحدہ سے ان کی تفتیش کرانے کا مطالبہ کیا ہے۔ بیلجیم نے ملک میں تعینات اسرائیلی سفیر کو طلب کرتے ہوئے ان کے اس بیان پر بھی احتجاج کیا، جس میں انہوں نے تمام فلسطینی متاثرین کو ’دہشت گرد‘ قرار دیا تھا۔ بلیجیم کے وزیر اعظم شارل میشل کا کہنا تھا کہ اسرائیل کی طرف سے عام شہریوں کے خلاف طاقت کا غلط استعمال کیا گیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین پر براہ راست فائرنگ شرمناک ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل ماکروں نے بھی اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کو ٹیلی فون کال کرتے ہوئے غزہ میں ہونے والی ان ہلاکتوں کی مذمت کی ہے۔

 

فلسطینیوں کا قتل، عالمی ضمیر کے لئے چیلنج

$
0
0

پیغمبروں کی سرزمین فلسطین کے شہر غزہ کی سرحد پر ایک خونریز ترین دن تھا جب دنیا بھر کی مخالفت کے باوجود مقبوضہ بیت المقدس میں امریکی سفارت خانے کے افتتاح کے موقع پر اسرائیلی فوج نے احتجاج کرنے والے ہزاروں نہتے فلسطینیوں پر توپ خانے اور ڈرون طیاروں سے اندھا دھند فائرنگ اور گولہ باری کر کے تین ہزار سے زائد مسلمانوں کو شہید اور زخمی کر دیا اور امریکہ اور اسرائیل نے اس وحشیانہ عمل کو ’’امن‘‘ کا پیغام قرار دیتے ہوئے فتح اور خوشی کے شادیانے بجائے۔ افتتاح کی تقریب مغربی طاقتوں کی جانب سے عالم اسلام میں اسرائیل کا خنجر گھونپنے کی 70ویں سالگرہ کے دن منعقد کی گئی جسے فلسطینیوں نے یوم سیاہ کے طور پر منایا۔ 

امریکہ کا صدر منتخب ہوتے ہی اسلامی ممالک کے خلاف انسانیت دشمن پابندیاں لگانے کا آغاز کرنے والے ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ سال جب تل ابیب سے امریکی سفارتخانہ القدس منتقل کرنے کا اعلان کیا تھا تو اس کے مغربی اتحادیوں، یورپی یونین اور اسلامی ملکوں نے اس کی شدید مخالفت کی تھی لیکن امریکہ نے کسی کی پروا نہ کرتے ہوئے اپنے فیصلے پر عملدرآمد کر کے دم لیا۔ افتتاحی تقریب میں دنیا کے 86 ملکوں کو شرکت کی دعوت دی گئی تھی جن میں سے صرف ان چھوٹے چھوٹے 33 ممالک نے شریک ہونے کی بدنامی مول لی جو عملاً امریکہ کے حواری اور غلام بن کر رہ گئے ہیں۔

کوئی خود دار ملک اس تقریب میں شریک نہیں ہوا۔ روس، چین، برطانیہ، فرانس، پاکستان، سعودی عرب، جنوبی افریقہ، مصر، اردن، ایران، لبنان، مراکش اور یورپی یونین سمیت دنیا کے تمام اہم ممالک نے فلسطینیوں کے خون سے ہولی کھیلنے پر اسرائیل کی شدید ترین الفاظ میں مذمت کی ہے۔ اب تک کی اطلاع کے مطابق اسرائیل کی بہیمانہ کارروائی میں عورتوں اور بچوں سمیت 60 افراد شہید اور تین ہزار کے قریب شدید زخمی ہو گئے۔ 8 کم سن بچوں کے علاوہ زیادہ تر شہدا کی عمریں 16 سے 35 سال کے درمیان بتائی گئی ہیں۔ فلسطین کے صدر محمود عباس نے فلسطینیوں کے قتل عام پر تین روزہ سوگ جبکہ حریت پسندوں کی تنظیم حماس نے اسرائیل کے خلاف انتفادہ تحریک دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔

ترکی اور جنوبی افریقہ نے امریکہ اور اسرائیل سے اپنے سفیر واپس بلا لئے ہیں۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے فلسطینیوں کے قتل عام میں امریکہ کو برابر کا شریک قرار دیا اور کہا کہ اس اقدام کا واضح مطلب یہ ہے کہ امریکہ اس تنازع میں ثالث کی حیثیت کھو بیٹھا ہے۔ صورت حال پر غور کرنے کے لئے سلامتی کونسل کا اجلاس بلا لیا گیا ہے جبکہ عرب لیگ کا بھی اجلاس ہو گا پاکستان، سعودی عرب اور ایران سمیت اسلامی ممالک نے فلسطینیوں کے ساتھ کھڑے رہنے کے عہد کی تجدید کی ہے۔ فلسطین اور جموں و کشمیر کی آزادی اس وقت عالم اسلام کے دو سب سے بڑے مسائل ہیں اور دونوں کے عوام ایک طرف یہود اور دوسری طرف ہنود کے مظالم کا شکار ہیں۔

جموں و کشمیر کے عوام کے حق خود ارادیت کی حمایت میں اقوام متحدہ کی ایک سے زائد قراردادیں موجود ہیں جبکہ اقوام متحدہ نے جہاں اسرائیل کی ناجائز ریاست کو قبول کیا وہاں فلسطینیوں کے لئے بھی الگ مملکت کا حق تسلیم کیا تھا جس کا دارالحکومت بیت المقدس ہی بنتا ہے مگر اسرائیل نے اس پر غاصبانہ قبضہ کر رکھا ہے اور تل ابیب سے اپنا دارالحکومت وہاں منتقل کرنا چاہتا ہے۔ اسی لئے دنیا بھر کے ملکوں پر دبائو ڈال رہا ہے کہ وہ اپنے سفارتخانے القدس لے جائیں امریکہ نے سب سے پہلے اس کی خواہش پوری کر کے مسلم دشمنی کا کھلا ثبوت فراہم کیا ہے۔ عالم اسلام میں انتشار کی وجہ سے کشمیر اور فلسطین کے مسائل سات عشروں سے حل طلب ہیں اور بھارت اور اسرائیل کشمیریوں اور فلسطینیوں کا خون بہا رہے ہیں۔ وقت آگیا ہے کہ اسلامی ممالک باہمی اختلافات ختم کر کے امت مسلمہ کے مفاد میں متحد ہو جائیں او آئی سی کو مضبوط بنائیں اور اس کے پلیٹ فارم سے امریکہ سمیت بڑی طاقتوں پر دبائو ڈال کر اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ان مسائل کو حل کرائیں۔

اداریہ روزنامہ جنگ


 

فلسطینی بےدخلی کی برسی، امریکی سفارتخانہ، تباہ کن ٹرمپ : تبصرہ

$
0
0

دھوئیں اور شعلوں میں لپٹی ہوئی دنیا، غزہ پٹی سے ملنے والی تصویریں محض کسی خبر کی تصویریں نہیں ہیں۔ یہ تصویریں ان خطرات کی علامت ہیں، جن کی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ ہیں۔ ڈی ڈبلیو کی چیف ایڈیٹر اینس پوہل کا لکھا تبصرہ۔ ایک سیاستدان کے طور پر ٹرمپ نے یہ فیصلہ کیسے کیا کہ ان علاقوں میں، جو سات عشرے قبل فلسطینیوں کو جبری طور پر بے دخل کر کے حاصل کیے گئے تھے اور جن پر آج اسرائیلی ریاست قائم ہے، امریکی سفارت خانے کی تل ابیب سے یروشلم منتقلی کی علامتی تقریب عین اسی دن منعقد کی جائے، جب فلسطینی اپنی بے دخلی کی ستّرویں سالگرہ منا رہے ہوں۔ یروشلم میں امریکا کے نئے سفارت خانے کی عمارت کا نصف حصہ شہر کے اس مشرقی حصے میں تعمیر کیا گیا ہے، جسے فلسطینی مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے دو ریاستی حل کی صورت میں اپنی آزاد اور خود مختار ریاست کا دارالحکومت بنانا چاہتے ہیں۔

یہ بات فلسطینیوں کے منہ پر ایک سفارتی تھپڑ کے مترادف ہے۔ اس کے خلاف احتجاج کا پرتشدد رنگ اختیار کر جانا بھی قابل افسوس ہے لیکن ساتھ ہی یہ بھی دیکھا جانا چاہیے کہ یہ دانستہ اقدام کیا ہی اس طرح گیا تھا کہ اس کے بعد پیدا ہونے والی بہت مشتعل صورت حال میں احتجاج کرنے والے فلسطینیوں کو بھی مورد الزام ٹھہرایا جا سکے۔ مطلب یہ کہ غزہ پٹی میں اس احتجاج کے دوران بہت سے فلسطینیوں کی ہلاکت اور بہت سے دیگر کے زخمی ہو جانے کی ذمے داری امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ پر عائد ہوتی ہے۔

ٹرمپ چاہتے کیا ہیں آخر؟
ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ کئی برسوں کی انتھک سفارت کاری کے نتیجے میں طے پانے والے بین الاقوامی جوہری معاہدے کو اپنے دستخطوں کے ساتھ یکدم تباہ و برباد کر دیا۔ اس کے لیے انہوں نے یورپ میں اسی معاہدے پر دستخط کرنے والے اپنے اتحادی ممالک کے ساتھ مشاورت تک کی تکلیف نہ کی۔ اس طرح مشرق وسطیٰ میں پہلے سے پائی جانے والی کشیدگی مزید بڑھا دی گئی اور وہ بھی اس طرح کہ امریکا کے ساتھ تعاون سے یورپ میں پائے جانے والے سات عشرے پرانے اس نظام امن کو بھی خطرے میں ڈال دیا گیا، جس کا دراصل تحفظ کیا جانا چاہیے تھا۔

ایک سوال یہ بھی ہے کہ ٹرمپ آخر چاہتے کیا ہیں؟ جواب یہ ہے کہ وہ اپنے پیش رو امریکی صدور کی تمام کامیابیوں کو تباہ کرنے پر تلے ہوئے ہیں، اور وہ بھی اول تو کسی بھی طرح کے ’پلان بی‘ کے بغیر اور پھر یہ بھی سوچے سمجھے بغیر کہ ان کے ان اقدامات کے نتائج کتنے تباہ کن ہوں گے۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے بطور صدر آج تک اپنا کام ایسے نہیں کیا کہ یہ پتہ چل سکے کہ وہ ایک جمہوری طور پر منتخب شدہ صدر ہیں۔ وہ اپنی سیاست ’کچھ لو اور کچھ دو‘ کی بنیاد پر کرتے ہیں۔ ان کے فیصلے اسی دن کو مد نظر رکھ کر کیے جاتے ہیں، جس دن وہ یہ فیصلے کر رہے ہوتے ہیں۔ ان میں آنے والے کل کا کوئی خیال نہیں رکھا جاتا۔ ٹرمپ کی اس سیاست کو سمجھنے کے لیے یہ دیکھنا بھی لازمی ہے کہ وہ طاقت اور اقتدار کی صرف انہی علامات کا پیچھا کرتے ہیں، جو انہوں نے خود اپنے لیے منتخب کر رکھی ہوتی ہیں۔

دنیا کے کئی ممالک میں ان کی ملکیت آسمان سے باتیں کرتی عمارات اور اداروں کے صدر دروازوں پر ان کا چمکتا ہوا نام، وہ اسی نام کی بلندی کو پیش نظر رکھتے ہیں اور پھر وہی کرتے ہیں جو وہ چاہتے ہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کی سیاست میں ’سب سے پہلے امریکا‘ نہیں بلکہ ’سب سے پہلے ٹرمپ‘ نظر آتا ہے۔ یہ کہنا بھی کوئی نئی بات نہیں ہو گی کہ ٹرمپ ان دنوں اپنی جس تباہ کن طاقت کا استعمال کر رہے ہیں، اس کا سرچشمہ بھی یہی طرز فکر ہے۔ اپنے کسی بھی فیصلے کے ممکنہ اثرات کے لحاظ سے ان کے پاس کوئی متبادل منصوبہ یا ’پلان بی‘ نہیں ہوتا۔ ان کے لیے یہ بات بھی اہم نہیں ہے کہ مختلف ممالک کے بارے میں ان کے فیصلوں اور ان ممالک کی قیادت پر ان کے زبانی حملوں کے اثرات امریکا سے باہر کی دنیا کو بھی کس حد تک متاثر کرتے ہیں۔

یہی ان امور کی وجوہات ہیں کہ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری ڈیل سے امریکا کے اخراج کا فیصلہ کیا اور پھر یروشلم میں نئے امریکی سفارت خانے کے علامتی افتتاح کے لیے بھی ایک ایسی تاریخ منتخب کی، جو سفارتی سطح پر فلسطینیوں کے منہ پر مارا جانے والا ایک تھپڑ تھا، ایک ایسا فیصلہ جس کے بارے میں یہ سوچا ہی نہیں گیا تھا کہ اس کے بعد کیا کچھ دیکھنے میں آ سکتا ہے۔ جرمنی اور یورپ کے لیے ٹرمپ کی اس سیاست کا واضح مطلب یہ ہے کہ اب جرمنی اور یورپ دونوں کو جاگنا ہو گا۔ دوسری عالمی جنگ کے سات عشروں بعد برلن اور برسلز کو اب تو جاگ ہی جانا چاہیے۔ یورپ کو خارجہ تعلقات اور سلامتی کے امور سے متعلق اپنی سیاست بالآخر اب اپنے ہی ہاتھوں میں لینا ہو گی۔

جرمنی کو اپنی فوج اور اس کی دفاعی صلاحیت میں اضافے کے لیے زیادہ مالی وسائل خرچ کرنا ہوں گے، برطانیہ کو بھی یہ بات مد نظر رکھنا ہو گی کہ بریگزٹ کے بعد کی صورت حال میں لندن کی سوچ اور فیصلے کیا ہوں گے اور جرمنی اور فرانس کو مل کر یورپی دفاع اور یورپی اتحاد کے لیے بھی اور زیادہ کوششیں کرنا ہوں گی۔ یورپ کو اب ایک ایسا راستہ تلاش کرنا ہو گا کہ وہ اپنی داخلی شکست و ریخت سے بچتے ہوئے اپنے لیے باہمت فیصلوں کی جرأت کر سکے اور یہ واضح ہو سکے کہ یورپ اقوام عالم کی برادری میں آئندہ کس طر‌ح رہنا چاہتا ہے۔ یہ سب بہت بڑے چیلنجز ہیں۔ لیکن ساتھ ہی یہ بھی طے ہو چکا ہے کہ ایک ایسا ملک جس پر ڈونلڈ ٹرمپ جیسے سیاستدان کی حکومت ہو، اس پر اب انحصار نہیں کیا جا سکتا۔ اس لیے کہ ایسا کرنا بالکل غلط ہو گا۔ غزہ سے ان دنوں جس طرح کی تصویریں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ میں دیکھنے میں آ رہی ہیں، وہ اس امر کا ایک بہت اداس کر دینے والا ثبوت ہیں کہ کچھ نہ کچھ تو لازمی طور پر اور فوراﹰ کیا جانا چاہیے۔

ڈوئچے ویلے کی چیف ایڈیٹر اینس پوہل
 


اسرائیلی دہشت گردی نے غزہ میں آٹھ ماہ کی شیر خوار بچی کی جان لے لی

$
0
0

فلسطین کے علاقے غزہ کی پٹی کی مشرقی سرحد پر حق واپسی کے حصول کے لیے احتجاجی مظاہرے کرنے والے فلسطینیوں پر اسرائیلی فوج کے طاقت کے اندھا دھند استعمال سے ہرعمر کے شہری شہید ہوئے ہیں ان میں کم سن بچے بھی شامل ہیں۔ دو روز قبل غزہ کی سرحد پر مظاہروں کے دوران اسرائیلی فوج کے وحشیانہ تشدد سے شہید ہونے والوں میں ایک آٹھ ماہ کی شیر خوار لیلیٰ الغندور بھی شامل ہیں۔ لیلیٰ کی ماں نے بتایا کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے نہتے مظاہرین کے سروں پر زہریلی آنسوگیس کی بارش برسا دی جس کے نتیجے میں شہری دم گھٹنے سے متاثر ہوئے۔ متاثرین میں اس کی بچی بھی شامل تھی جو بعدا ازاں اسپتال میں دم توڑ گئی۔

غزہ وزارت صحت نے بتایا تھا کہ اسرائیلی فوج کی آنسوگیس کی شیلنگ سے متاثر ہونے والی ایک بچی بھی دم توڑ گئی جس کے بعد غزہ میں شہید ہونے والے فلسطینیوں کی تعداد ساٹھ تک جا پہنچی ہے۔ شہید ہونے والی ننھی لیلیٰ کی ماں مریم الغندور نے کہا کہ لیلیٰ ان کی اکلوتی بیٹی تھیں۔ آنکھوں سے جاری آنسو پونچھتے ہوئے انہوں نے خبر رساں ادارے ’اناطولیہ‘ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ صہیونی دشمن نے ان سے ان کی زندگی کی خوشی چھین لی۔ ایک سوال کے جواب میں مریم نے کہا کہ وہ احتجاجی مظاہروں میں شریک نہیں تھیں۔ اسرائیلی فوج کی طرف سے مظاہرین کے ساتھ ساتھ شہریوں کے گھروں پر بھی آنسوگیس کی شیلنگ کی۔ ان کی بچی گھر پر شیلنگ کے نتیجے میں متاثر ہوئی اور بالآخر دم توڑ گئی۔ مریم کا ایک بھائی جس کی عمر تیرہ سال اور دادی بھی زخمی ہوئی ہیں۔ زخمی لڑکے عمار کی عمر 13 سال بتائی جاتی ہے۔ شہید ہونے والی بچی کی دادی ھیام عمر نے کہا کہ اسرائیلی فوج کی طرف سے مظاہرین اور شہریوں کے گھروں پر خوفناک اور انتہائی مہلک آنسوگیس کی شیلنگ کی۔

ایجنسیاں


 

Eight-month-old Leila Martyred İn Gaza City

$
0
0
According to her family, the eight-month-old was killed after inhaling a cloud of Israeli tear gas during Monday's bloody protests on the border. Leila was one of 63 Palestinians martyred at the border this week, Palestinian officials said. And she was the youngest. A Palestinian baby died as a result of inhaling tear gas during terrorist Israel's attacks on demonstrators, the health ministry in the enclave announced Tuesday. Eight-month-old Leila al-Ghandour was exposed to the gas east of Gaza City during major protests on Monday, in which the health ministry said 63 Palestinians were martyred most of them by sniper fire. Monday's protests were against the opening of the US embassy to Israel in Jerusalem. Tens of thousands of Palestinians rallied near the border fence. Terrorist Israeli forces on the border used tear gas and real sniper bullets on the crowds. 




As Trump celebrates his embassy in Jerusalem, a massacre in Gaza

$
0
0

Imagine the outrage western governments would express if terrorists were to kill more than 50 Israelis on the streets of Tel Aviv in a single day. Yet when it comes to the killing that Israeli forces carried out on Monday at the gates of Gaza – and have been doing for the past several weeks – the silence from most western ministers is deafening. Worse still, there are attempts to justify the deaths as legitimate self-defence. The Israeli government argues that the crowds of mostly young Palestinians at the Gaza fence offer a lethal threat to peaceful Israelis. The claim is as ludicrous as it is cynical. Even if one or two protesters broke through the fence they would have nowhere to go except into the arms of the Israeli security forces, who could easily detain them. The Palestinian interlopers have no allies on the Israeli side of the fence, nor any transport to take them to populated parts of Israel. Nor are they armed. It is clear from video footage that they have no suicide belts round their waists, or guns in their hands. Occasional stones were the only weapons.


Normal police methods of arrest and trial would be perfectly adequate to handle the issue. Yet instead, Israeli snipers used live ammunition against demonstrators, wounding thousands in the legs but also killing dozens. In spite of the outrage from international human rights groups on Monday, matched by a few courageous Israeli groups also, there was no sign on Tuesday that Israeli commanders had given their troops any new rules of engagement. With tensions raised as the funerals of victims got underway, the risk of new deaths remained high. A chief cause of the protests is the misery and despair created by 11 years of blockade that the people of Gaza have had to suffer – because they had the temerity to vote in a Hamas government in 2006.

Egypt shares some of the blame for the collective punishment inflicted on Gazans. So too does the Palestinian authority, which held back the payment of civil servants’ salaries in Gaza. But the lion’s share of the blame rests with Israel, which initiated and orchestrated the embargo and has repeatedly refused to end or even relax it significantly. Offers by Hamas to declare a ceasefire or truce with Israel in return for an end to the embargo have been spurned. The result is the hopelessness that encourages young Palestinians to risk their lives at the border fence. Hamas certainly encourages the protests, seeking to highlight Israeli intransigence and cruelty; but to dismiss the young demonstrators as though they were robots being manipulated to act as “Hamas’s human shields” – as official Israeli spokespeople do – is to minimise the genuine frustration and agony that many Gazans feel.

Jonathan Steele is a former chief correspondent for the Guardian.

Source : The Guardian

جس کے ٹرمپ جیسے دوست ہوں، اسے دشمن کی ضرورت نہیں

$
0
0

یورپی یونین کے صدر ڈونلڈ ٹسک نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا ہے کہ ’ان جیسے دوستوں کے ہوتے ہوئے ہمیں دشمنوں کی کیا ضرورت ہے؟' انھوں نے بلغاریہ میں ایک اجلاس کے دوران یورپی رہنماؤں پر زور دیا کہ وہ امریکہ کی ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے سے دستبرداری اور یورپ کے خلاف تجارتی محصولات عائد کرنے کے خلاف مشترکہ محاذ بنائیں۔ ٹسک نے بلغاریہ کے شہر صوفیہ میں یورپی یونین کے 28 ملکوں کے رہنماؤں کے اجلاس کے دوران امریکہ کا موازنہ یورپ کے روایتی حریفوں روس اور چین سے کیا۔ انھوں نے نامہ نگاروں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ 'صدر ٹرمپ کے حالیہ فیصلوں کو دیکھتے ہوئے کوئی یہ بھی سوچ سکتا ہے کہ ایسے دوستوں کی موجودگی میں دشمنوں کی کیا ضرورت ہے؟' یورپی یونین 15 سال کے بعد بلقان کے خطے میں پہلا سربراہی اجلاس منعقد کر رہی ہے۔ اس علاقے کے چھ ملک یورپی یونین کا حصہ بننا چاہتے ہیں۔ یورپی رہنماؤں نے اتفاق کیا کہ امریکہ کی جانب ایران کے ساتھ ایٹمی معاہدے ختم کیے جانے کے باوجود یہ معاہدہ اور ایران کے ساتھ تجارتی تعاون جاری رہے گا۔

ڈونلڈ ٹسک نے اس موقعے پر مزید کہا: 'یورپ کو صدر ٹرمپ کا شکرگزار ہونا چاہیے کیوں کہ ان کی وجہ سے ہمارے تمام اوہام دور ہو گئے ہیں۔ انھوں نے ہمیں باور کروا دیا ہے کہ اگر آپ کو مدد کی ضرورت ہے تو اپنی مدد آپ کرنا پڑے گی۔'
انھوں نے کہا کہ 'چین کی نمود اور روس کے جارحانہ رویے جیسے روایتی چیلنجوں کے علاوہ ہمیں آج ایک نئے مقابلے کا سامنا ہے. اجلاس کے بعد یورپی یونین کے ایک عہدے دار نے اے ایف پی کو بتایا کہ ایران ایٹمی معاہدے کے بارے میں یورپی رہنماؤں نے 'متحدہ حکمتِ عملی'پر اتفاق کیا ہے۔ اس کے علاوہ انھوں نے امریکی فیصلے کے نتیجے میں متاثر ہونے والی یورپی کمپنیوں کے تحفظ کے لیے مل کر کام کرنے پر بھی اتفاق کیا۔
 

ترکی اور اسرائیل میں ’لفظی اور سفارتی جنگ‘

$
0
0

ترکی اور اسرائیل اس وقت ’اینٹ کا جواب پتھر‘ سے دینے کی پالیسی پر گامزن ہیں۔ دونوں ملکوں نے ایک دوسرے کے سفیروں کو ملک چھوڑنے کے احکامات دیے ہیں اور دونوں ممالک میں لفظوں کی ’شدید جنگ‘ جاری ہے۔ غزہ میں اسرائیلی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں ساٹھ سے زائد فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد ترکی اور اسرائیل کے تعلقات مزید کشیدہ ہو گئے ہیں۔ گزشتہ روز ترکی نے ملک میں تعینات اسرائیلی سفیر کو ملک چھوڑنے کے احکامات دیے تھے۔ اس سے قبل ترکی نے تل ابیب میں تعینات اپنے سفیر کو بھی مشاورت کے لیے واپس بلا لیا تھا۔ اس کے جواب میں اسرائیل نے یروشلم میں موجود ترک قونصل کو غیرمعینہ مدت کے لیے ملک چھوڑنے کا حکم دیا ہے۔

دریں اثناء اسرائیل نے آج ترک سفیر کے قائم مقام نمائندے کو طلب کرتے ہوئے اپنے سفیر کے ساتھ ’غیر مناسب رویہ‘ اختیار کرنے پر احتجاج کیا ہے۔ ترک میڈیا پر اسرائیلی سفیر کی ایک ایسی ویڈیو جاری کی گئی ہے، جس میں ملک چھوڑنے سے پہلے ان کی سخت انداز میں تلاشی لی جا رہی ہے۔ اسرائیل نے الزام عائد کرتے ہوئے کہنا تھا کہ وہاں میڈیا کے لوگ پہلے سے ہی موجود تھے اور یہ سب کچھ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ہے۔ اس سے پہلے ترک صدر رجب طیب ایردوآن اور اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو بھی ٹوئٹر پر سخت الزامات اور الفاظ کا تبادلہ کر چکے ہیں۔

ترک صدر ایردوآن کا کہنا تھا، ’’اسرائیل ایک دہشت گرد ریاست ہے۔ اسرائیل نے جو کچھ کیا ہے، وہ نسل کُشی ہے۔’’ دوسری جانب اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو نے ترک صدر کے اس بیان کو مسترد کرتے ہوئے کہا تھا، ’’ایردوآن حماس کے ایک بڑے حامی ہیں اور اس میں کوئی شک نہیں کہ وہ دہشت گردی اور قتل و غارت میں مہارت رکھتے ہیں۔‘‘ رجب ایردوآن غزہ کے حوالے سے اسرائیلی پالیسیوں کے بڑے ناقدین میں سے ایک ہیں۔ انہوں نے آئندہ جمعے کے روز اسلامی تعاون کی تنظیم (او آئی سی) کا ایک ہنگامی اجلاس بھی بلایا ہے، جس میں دنیا کو غزہ کے حوالے سے ایک ’طاقتور پیغام‘ دیا جائے گا۔

بشکریہ DW اردو
 

Viewing all 4738 articles
Browse latest View live


<script src="https://jsc.adskeeper.com/r/s/rssing.com.1596347.js" async> </script>