Quantcast
Channel: Pakistan Affairs
Viewing all articles
Browse latest Browse all 4736

ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث گرین ہاؤس گیسز کا اخراج بلند ترین سطح پر جا پہنچا

$
0
0

موقر امریکی اداروں کی رپورٹ کے مطابق کرہ ارض میں ماحولیاتی تبدیلیوں کے باعث گرین ہاؤس گیسس کا اخراج بلند ترین سطح پر پہنچ گیا جس سے پوری دنیا کے درجہ حرارت میں غیر معمولی طور پر اضافہ ہوا، جس سے آرکٹک میں برف پگھلنے کی رفتار میں بے پناہ اضافہ ہوا ہے۔ ماحولیاتی تبدیلی پر یہ جائزاتی رپورٹ دنیا کے 60 ممالک کے 450 سائنسدانوں نے مشترکہ طور پر مرتب کی، جس میں گزشتہ سال دنیا بھر میں ماحول کی بگڑتی صورتحال کے بارے میں بتایا گیا ہے، جبکہ گزشتہ برس ہی امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیرس کلائمیٹ ڈیل سے دستبرداری کا اعلان کیا تھا۔

فرانسیسی خبررساں ادارے اے ایف پی کے مطابق چین کے بعد امریکا دنیا بھر میں سب سے زیادہ فضائی آلودگی پھیلاتا ہے، لیکن اس کے باوجود امریکا ڈونلڈ ٹرمپ کے اقتدار میں آنے کے بعد تحفظ ماحولیات کے معاہدے سے دستبردار ہو گیا تھا. امریکی صدر نے ماحولیاتی تبدیلی کو چینی پروپیگنڈا کہتے ہوئے، پیرس معاہدہ سے علیحدگی اختیار کی تھی، جس پر 190 ممالک نے دستخط کر کے فضا میں نقصان دہ اخراج کم کرنے پر زور دیا تھا۔ واضح رہے کہ دنیا میں تک ریکارڈ کردہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت پورٹو مدرائین ارجنٹینا میں ریکارڈ کیا گیا جو تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے 110.1 ڈگری فارن ہائیٹ 43.3 ڈگری سیلسئس تک جا پہنچا تھا۔

اس کے ساتھ صرف مئی کے مہینے میں پوری دنیا کا زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت پاکستان کے علاقے تربت میں ریکارڈ کیا گیا جو 128.3 ڈگری فارن ہائیٹ یعنی 53 ڈگری سینٹی گریڈ تھا۔ 3 سو صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ امریکی میٹرولوجیکل سوسائٹی اور نیشنل اوشینک اینڈ ایٹموسفیرک ایڈمنسٹریشن (این او اے اے) کی جانب سے جاری کی گئی، جس میں ’غیر معمولی ‘ کا لفظ درجن سے زائد مرتبہ استعمال کیا گیا جبکہ اس کے ساتھ طوفانوں، خشک سالی، انتہائی شدید درجہ حرات اور برف باری میں کمی کا ذکر بھی کیا گیا۔ رپورٹ میں جن باتوں کا ذکرکیا گیا ان میں کہا گیا کہ گزشتہ برس دنیا بھر میں 3 خطرناک گیسوں کے اخراج کے خطرناک حد تک کا اضافہ ہوا، ان خطرناک گیسوں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ، میتھین اور نائٹرو آکسائیڈ شامل ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ کرہ ارض پر کاربن ڈائی آکسائیڈ کی عالمی سالانہ شرح 4 سو 5 پارٹ فی ملین کی ریکارڈ سطح تک پہنچ گئی، جو نہ صرف موجودہ دور میں ریکارڈ کردہ بلند ترین سطح ہے بلکہ 8 لاکھ سال قبل کے آئس کور ریکارڈ کے مطابق بھی سب سے زیادہ ہے۔ خیال رہے کہ فضا میں کاربن ڈائی آکسائید کی عالمی شرح 1960 کے مقابلے میں اب تک 400 گنا بڑھ چکی ہے۔ اس سلسلے میں سب سے گرم ترین سال 2016 قرار دیا گیا ، لیکن 2017 بھی کچھ بہتر نہیں رہا اور اس میں بھی دنیا کے بیشتر علاقوں میں درجہ حرارت معمول کی صورتحال سے زائد ریکارڈ ہوا۔ رپورٹ کے مطابق عالمی طور پر سالانہ زیادہ سے زیادہ درجہ حرارت ارجنٹینا، بلغاریہ، اسپین، اور یوراگئے میں رہا اور میکسکو میں مسلسل چوتھی مرتبہ سالانہ درجہ حرارت کا ریکارڈ ٹوٹا۔
 


Viewing all articles
Browse latest Browse all 4736

Trending Articles