Quantcast
Channel: Pakistan Affairs
Viewing all 4738 articles
Browse latest View live

سو روپے کے کارڈ سے 40 روپے جاتے کہاں ہیں ؟

$
0
0

پاکستان دنیا بھر میں موبائل فون کے صارفین کے اعداد و شمار کے اعتبار سے نواں سب سے بڑا ملک ہے اور دیکھا جائے تو پاکستان میں ہر سو میں سے تقریباً 70 افراد کے پاس موبائل فون موجود ہے۔ پاکستانی ٹیلی کام اتھارٹی کے اعداد و شمار کے مطابق دسمبر 2017 تک ملک میں 14 کروڑ 45 لاکھ موبائل فون صارفین موجود تھے اور یقیناً اس تعداد میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ ہو رہا ہے۔
ان صارفین کو ملک میں چار بڑی کمپنیاں موبائل فون سروس فراہم کر رہی ہیں اور گذشتہ ہفتے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس ثاقب نثار کے ازخود نوٹس کے بعد ملک میں ایک مرتبہ پھر یہ بحث گرم ہے کہ ان کمپنیوں کے 100 روپے کے کارڈ کے ریچارج پر 40 کے قریب روپے کیوں کاٹ لیے جاتے ہیں؟ بی بی سی سے گفتگو میں صارفین نے اس حوالے سے مشکلات کا ذکر کیا اور ہم نے یہ کوشش بھی کی کہ گمشدہ 40 روپے کا سراغ لگایا جائے۔ 

40 روپے جاتے کہاں ہیں؟

100 روپے کا موبائل کارڈ لوڈ کروانے پر کٹنے والے 40 روپے آخر کہاں جاتے ہیں۔ یہ سوال جب بی بی سی نے پاکستان ٹیلی کام اتھارٹی کے عہدیدار محمد عارف سرگانہ سے پوچھا تو انھوں نے بتایا کہ 100 روپے کے بیلنس پر حکومت کے ٹیکسز 25 روپے 62 پیسے ہیں جبکہ باقی رقم موبائل کمپنیوں کو ملتی ہے۔ ان کے مطابق ان ٹیکسوں میں ساڑھے 19 فیصد جنرل سیلز ٹیکس ہے تو ساڑھے 12 فیصد ود ہولڈ نگ ٹیکس۔ اس کے علاوہ دس فیصد نیٹ ورک کمپنی خدمات کی مد میں وصول کرتی ہے اور ایک کٹوتی نیٹ ورک کی جانب سے کال سیٹ اپ کے نام پر کی جاتی ہے وہ یوں کہ کال ملتے ہی پندرہ پیسے بیلنس میں سے منہا کر لیے جاتے ہیں۔

صارفین کا کہنا ہے کہ کٹوتیوں کی بدولت مہینے کے لیے مختص فون کے پیسے ایک ہفتے میں ہی خرچ ہو جاتے ہیں۔ مسز فیض ایک گھریلو خاتون ہیں، بی بی سی سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ نیٹ ورک کمپنیوں کا اتنے پیسے کاٹنا زیادتی اور دھوکہ ہے اور فون کے اخراجات کے باعث گھر کا بجٹ ضرور آؤٹ ہوتا ہے۔ سکندر ایک ٹیکسی ڈرائیور ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ دیہاڑی میں سے پہلے ہی ایک بڑا حصہ ٹیکسوں میں جاتا ہے اور پھر فون کے کارڈ میں مفت کے چالیس روپے کٹوائیں تو دکھ تو ہوتا ہے۔ ٹیکسوں کی یہ کٹوتی طلبہ کی جیب پر بھی بھاری پڑتی ہے۔ شہناز نامی طالبہ کے خیال میں بھی یہ کٹوتی ناانصافی ہے۔ انھوں نے کہا ’شروع شروع میں یہ دو، تین روپے سے شروع ہوا تھا اور اب دس بیس روپے تک جا رہا ہے، یہ تو بہت ناانصافی ہے۔‘

صارفین وہ قرض بھی چکا رہے ہیں جو ان پر واجب نہیں!
40 روپے کے اس حساب میں پی ٹی اے اور صارفین کا اعتراض یہ ہے کہ ود  ہولڈ نگ ٹیکس ان سے بھی وصول کیا جا رہا ہے جن کی آمدنی انکم ٹیکس دائرے میں نہیں آتی۔ ٹیکس ریٹرن فائل کرنے والا شحض فائل کرنے کے وقت ود ہولڈنگ ٹیکس کی مد میں لیے گئے پیسے واپس وصول کر سکتا ہے لیکن 80 فیصد صارفین ایسے ہیں جن پر انکم ٹیکس لاگو ہی نہیں وہ بھی ود ہولڈ نگ ٹیکس کٹوا رہے ہیں۔ ایک دوسرا اعتراض یہ ہے کہ پوری معیشت میں جنرل سیلز ٹیکس کی شرح 16 فیصد ہے جبکہ موبائل فون نیٹ ورکس کے لیے یہ شرح ساڑھے 19 فیصد کیوں مقرر کی گئی ہے۔ دوسری جانب ٹیکس اور منی لانڈرنگ کے حوالے سے نگران ادارہ ایف بی آر سیلولر کمپنیوں پر یہ اعتراض کرتا رہا ہے کہ وہ جتنے ٹیکس صارفین سے جمع کرتی ہیں اتنے حکومت کو جمع نہیں کرواتیں۔

نازش ظفر
بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد
 


دولتِ مشترکہ کیا ہے ؟

$
0
0

دولت مشترکہ 53 ممالک پر مشتمل ایک تنظیم ہے۔ اس میں زیادہ تر وہی ممالک شامل ہیں جو ماضی میں سلطنت برطانیہ کی نوآبادی رہے۔ دولت مشترکہ کے معاملات کو ممبر ممالک کی مشاورت سے چلایا جاتا ہے۔ دولت مشترکہ کی بنیادیں اس وقت پڑیں جب بیسیوں صدی کے آغاز کے بعد برطانوی سامراج کا سورج غروب ہونے لگا اور نوآبادیاں آزاد ہونے لگیں۔ موجودہ دولت مشترکہ کی بنیاد 1949ء کی لندن ڈیکلئریشن ہے جس میں تمام ممبر ممالک کو مساوی اور آزاد تصور کیا گیا ہے۔

دولت مشترکہ کے ممالک کا رقبہ دنیا کی خشکی کا 20 فیصد ہے اور یہ ممالک چھ براعظموں میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان کی آبادی دنیا کی آبادی کا تقریباًایک تہائی ہے۔ لندن ڈیکلئریشن کے مطابق ملکہ الزبتھ دولت مشترکہ کی سربراہ ہیں۔ 16 ممبر ممالک کوئین کو اپنی ملکہ تسلیم کرتے ہیں۔ تنظیم میں یہ عہدہ علامتی ہے۔ فیصلہ ساز ادارہ دولت مشترکہ کے ممبر ممالک کے سربراہان کی میٹنگ ہے۔ بھارت کے بعد آبادی کے لحاظ سے دولت مشترکہ کا سب سے بڑا ملک پاکستان ہے۔ دولت مشترکہ کی رکنیت رضاکارانہ ہے اور اسے کسی بھی وقت چھوڑا جا سکتا ہے۔ 30 جنوری 1972ء کو پاکستا ن نے بنگلہ دیش کو تسلیم کرنے پر احتجاج کرتے ہوئے اس کی رکنیت ترک کر دی تھی۔ دو اگست 1989ء کو پاکستان دوبارہ اس کا ممبر بنا۔

وردہ


 

دنیا کے تین قدیم تجارتی راستے

$
0
0

تجارتی راستے زمانہ قدیم سے پیداوار کے مقام سے کاروبار کی جگہ تک مال لے
جانے کا وسیلہ رہے ہیں۔ کم یاب اجناس جو مخصوص علاقوں ہی میں دستیاب ہوتی تھیں، جیسا کہ نمک اور مسالہ جات، نے تجارتی نیٹ ورکس کی تشکیل میں اہم ترین کردار ادا کیا۔ لیکن جب یہ راستے تشکیل پا گئے تو ان سے ثقافتی تبادلے بھی ہوئے۔ مذہب، خیالات، علم اور بعض اوقات بیکٹیریا ایک سے دوسرے خطے تک پہنچے۔ آئیے چند اہم قدیم راستوں کا جائزہ لیں۔

شاہراہِ ریشم
شاہراہِ ریشم سب سے معروف قدیم تجارتی راستہ ہے جس نے چین اور روم جیسی اپنے وقت کی بڑی تہذیبوں کو ایک دوسرے سے جوڑا۔ چین سے سلطنت روم کو ریشم کی تجارت پہلی صدی قبل مسیح میں شروع ہوئی۔ اس کے بدلے میں یورپ سے اون، چاندی اور سونا آتا تھا۔ سامان کے ساتھ شاہراہِ ریشم علم، ٹیکنالوجی، مذہب اور فن کے تبادلے کا بھی سبب بنی۔ اس تجارتی راستے میں کئی مراکز قائم تھے ۔ مثال کے طور پر سمرقند جو اب ازبکستان کا حصہ ہے، علم و دانش کے تبادلے کا بھی مرکز بن گیا۔ شاہراہِ ریشم کا آغاز چین میں ژی آن سے ہوتا تھا۔ یہ عظیم دیوار چین کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے پامیر کے پہاڑوں کو عبور کر کے افغانستان پہنچتی اور پھر لیوانٹ (مشرقی بحیرہ روم، جس میں اب قبرص، مصر، عراق، اردن، لبنان، فلسطین اور ترکی شامل ہیں۔) جاتی۔ 4000 میل کا فاصلہ کسی ایک گروہ کے لیے طے کرنا ممکن نہ تھا اس لیے زیادہ تر ایک حصے تک سفر کرتے۔ چوتھی صدی قبل مسیح میں سلطنت روم کے زوال کے بعد شاہراہ ریشم غیر محفوظ ہو گئی اور تیرہویں صدی تک اس کا استعمال نہ ہوا۔ تب منگولوں نے اس شاہراہ کی تجدید کی۔ تیرہویں صدی میں اطالوی سیاح مارکو پولو نے شاہراہ ریشم پر سفر کیا۔ وہ ان اولین یورپیوں میں سے تھا جنہوں نے چین کی سیاحت کی۔ کچھ سائنس دانوں کا خیال ہے طاعون کا بیکٹیریا اسی راستے سے پھیلا تھا۔

گرم مسالوں کا راستہ
مسالوں کو مشرق سے مغرب تک پہنچانے والا راستہ سمندر سے ہو کر جاتا تھا۔ یورپ میں مرچ، لونگ، دار چینی اور جائفل کی بہت مانگ تھی۔ پندرہویں صدی میں مشرقی تجارتی راستوں پر شمالی افریقی اور عرب مڈل مینوں کا کنٹرول تھا، جس کی وجہ سے یہ مسالہ جات یورپ میں بہت کم یاب اور مہنگے تھے۔ پندرہویں سے سترہویں صدی تک جب مختلف خطوں کی دریافتوں کو عروج حاصل ہوا، اور بحری ٹیکنالوجی نے ترقی کی، تو طویل سفر کرنا نسبتاً آسان ہوا۔ تب یورپیوں نے انڈونیشیا، چین اور جاپان سے براہِ راست تجارتی تعلقات قائم کیے۔ بعض ماہرین کا خیال ہے کہ تیز رفتار کشتیوں کی تعمیر اور نئی سرزمین تلاش کرنے کی حوصلہ افزائی مسالہ جات کی تجارت نے کی اور مشرق اور مغرب کے درمیان نئے سفارتی تعلقات کو نمو ملی۔ ولندیزیوں اور انگریزوں نے خاص طور پر ایسٹ انڈیز میں مسالہ جات پر کنٹرول پا کر بہت منافع کمایا۔ یہ وہ علاقہ ہے جواب انڈونیشیا میں شامل ہے۔ تب یہ لونگ اور جائفل کا ذریعہ تھے۔ اس تجارتی راستے کو تحفظ دینے کے لیے جنگیں ہوئیں اور دوسرے علاقوں پر قبضے کیے گئے ۔

بخُور راستہ
یہ راستہ بنیادی طور پر بخور اور ایک خاص گوند کی تجارت کے لیے استعمال ہوتا تھا جس کی پیداوار صرف جزیرہ نما عرب کے جنوب میں (جہاں اب یمن اور اومان ہیں) میں ہوتی تھی۔ ان دونوں اشیا کو درختوں سے لیا جاتا اور دھوپ میں سکھایا جاتا۔ انہیں مذہبی و ثقافتی تقریبات میں جلایا جاتا جس سے خوشبو پیدا ہوتی۔ اونٹوں کو انسان نے ایک ہزار قبل مسیح میں سدھا لیا تھا۔ اس کی وجہ سے عرب اس قابل ہوئے کہ وہ ان قیمتی اشیا کو بحیرہ روم تک لے جائیں جہاں اہم تجارتی مراکز قائم تھے۔ یہ اشیا رومیوں، یونانیوں اور مصریوں کے لیے بہت اہم تھیں۔ کہا جاتا ہے کہ رومی بادشاہ نیرو نے پورے سال کی بخور کی فصل کو اپنی محبوبہ کے جنازے پر جلایا تھا۔ اپنے عروج کے دور میں تین ہزار ٹن بخور کی سالانہ تجارت ہوتی تھی۔ ایک رومی تاریخ دان کے مطابق راستہ 62 دنوں میں مکمل ہوتا تھا۔

ترجمہ : ر۔ع
 

کیا عدالت کا بحریہ ٹاؤن کے خلاف فیصلہ تاریخ ساز ہے؟

$
0
0

زمین کی زبردست لوٹ مار کا معاملہ، کسی حد تک ملک کی سب سے بڑی عدالت میں ظاہر کیا گیا ہے۔ سپریم کورٹ کی 3 رکنی بینچ نے الگ الگ فیصلے سنائے، اکثیریتی فیصلے کے مطابق ریئل اسٹیٹ ڈیولپرز میں بڑا نام رکھنے والے بحریہ ٹاؤن نے غیرقانونی طور پر زمینیں حاصل کیں اور فیصلے میں اُن کی منتقلیوں کو کالعدم قرار دیا گیا ہے۔ بحریہ ٹاؤن کراچی کے کیس پر عدالتی فیصلے کے مطابق ’پلاٹ، عمارت، اپارٹمنٹ وغیرہ‘ کی خرید و فروخت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ اطلاعات کے مطابق ریئل اسٹیٹ کی یہ زبردست اسکیم اب تک 30 ہزار ایکڑ تک پھیلی ہے۔ ایک دوسرے فیصلے میں عدالت نے بحریہ ٹاؤن اور محکمہ جنگلات کے درمیان ہونے والی ڈیل کو غیر قانونی ٹھہرایا، جس کے نتیجے میں اسلام آباد کی تقریباً 2 ہزار کنال جنگل کی زمین پر قبضہ کیا گیا۔ اسی طرح، عدالت عالیہ کے فیصلے کے مطابق نیو مری ڈیولپمنٹ اسکیم کے لیے حاصل کی گئی زمین کو قانون کے منافی بتایا گیا۔

اس فیصلے میں ان سرکاری محکموں کی سرزنش کی گئی ہے جن محکموں نے خاموشی کے ساتھ بحریہ کو بڑے بڑے فوائد دیکھ کر سرکاری زمین کو تھوک کے حساب سے ناجائز طور پر فراہم کرنے میں سہولت فراہم کی۔ بحریہ ٹاؤن کراچی کیس میں، ملیر ڈیولپمنٹ اتھارٹی کے کردار کی مذمت کی گئی اور کہا گیا کہ ’ریاست اور عوام کے اعتماد کو انتہائی ٹھیس پہنچایا‘ جبکہ حکومت سندھ کو اس سب میں ’مددگار‘ قرار دیا۔ منافع بخش بحریہ کو کم قیمت والی ہاؤسنگ اسکیم کی قیمت کے برابر جس قدر کم ترین داموں میں سرکاری زمین فروخت کی گئی ہے اسے دیکھ کر اسکینڈل میں شامل افراد کی رشوت خوری کا اندازہ کیا جا سکتا ہے۔

دوسری طرف بحریہ ٹاؤن کراچی کیس میں جن کئی اہم نکات پر بات کی گئی ہے، ان میں سے چند تشویش کا باعث ہیں۔ اربوں روپے کے اس تعمیراتی منصوبے نے اس زمین پر واقع چھوٹے چھوٹے گاؤں میں نسلوں سے آباد لوگوں کی زندگی عذاب کر دی ہے۔ اس ظلم میں شریک اسٹیبلشمنٹ، سیاسی اشرافیہ اور سرکاری افسران میں شامل بااثر افراد نے پہلے سے دیوار سے لگے حقیقی رہائیشیوں کو ان کی جگہوں سے جبری طور پر ہٹانے کے لیے اپنے ریاستی جابرانہ اختیارات کو استعمال کیا۔

تاہم مقامی لوگوں کے ساتھ ہونے والی اس ناانصافی میں شامل افراد کے خلاف کارروائی کے لیے نیب کو حکم تو دیا گیا ہے، مگر اس کے ساتھ فیصلے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ، بحریہ ٹاؤن کراچی میں پیدا ہونے والے تھرڈ پارٹی انٹرسٹ کو تسلیم کرتے ہوئے، کوئی ایسا راستہ نکالا جائے جس سے سرمایہ کاری کرنے والوں کا تحفظ ممکن ہو سکے۔ اس طرح غیر قانونی طریقوں پر محیط منصوبے کو قانونی صورت مل جائے گی۔ یہ سوال بھی کیا جا سکتا ہے کہ اگر یہ اقدام پہلے سے طے کر دیا گیا تو ان مقامی رہائشیوں کو کیا ریلیف ملے گا جن کا زمین پر پہلا حق ہے؟ اس کے علاوہ اس معاملے پر نیب کا خراب ٹریک ریکارڈ بھی تشویش کا باعث ہے، مگر اس کے باوجود ایک بار پھر اس معاملے پر تحقیقات کا کام اسی ادارے کو سونپا گیا ہے۔ آخری لیکن اہم، اس پورے معاملے پر میڈیا کے کردار کی بات ہے، جنہوں نے اپنا فرض نبھانے اور عوامی مفاد کا محافظ بننے کے بجائے ملک کے زیادہ تر میڈیا ادارے ایک بزنس ٹائیکون کی دشمنی سے بچنے کے لیے اس پورے معاملے پر خاموش تماشائی بنے رہے۔ انہوں نے بھی عملی طور پر عوامی اعتماد کو ٹھیس پہنچائی ہے۔

یہ اداریہ 6 مئی 2018ء کو ڈان اخبار میں شائع ہوا۔
 

ایران کا جوہری معاہدہ : صدر ٹرمپ کے فیصلے کے بعد کیا ہو گا ؟

$
0
0

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے قلم کی ایک ہی جنبش سے اس معاہدے کو خطرے میں ڈال دیا ہے جو چاہے اچھا تھا یا برا لیکن ایران کو اس کے جوہری عزائم سے باز رکھے ہوئے تھا۔ انھوں نے اس معاہدے کی حامیوں کو نشانہ بنایا۔
تاہم انھوں نے اس کی جگہ کوئی دوسری پالیسی پیش نہیں کی۔ انھوں نے امریکہ کی سفارت کاری کو اس کے بعض قریبی اتحادیوں سے تصادم کے موڑ پر لا کھڑا کیا ہے۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ وہ مشرق وسطیٰ میں ایک تباہ کن علاقائی جنگ کو مزید قریب لے آئے ہیں۔ 2015 میں طے پانے والا ایران کا جوہری معاہدہ ابھی مرا نہیں تاہم یہ آخری دموں پر ہے اب سب کچھ ایران کے ردِعمل پر منحصر ہے۔

ایران صدر حسن روحانی اس معاہدے کے بڑے حامی تھے۔ وہ یورپی ممالک کے ساتھ بات کر کے اسے باقی رکھنے کے راستے تلاش کرنے کے حامی دکھائی دیتے ہیں۔ لیکن انھیں ملک کے اندر سخت گیروں کی سخت مخالفت کا سامنا ہے جو نہ صرف اس جوہری معاہدے کا خاتمہ چاہتے ہیں بلکہ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے سے بھی دستبرداری کے خواہشمند ہیں۔ امریکی صدر ٹرمپ نے بظاہر اپنے ایرانی ہم منصب کے پیروں تلے سے زمین کھینچ لی ہے۔

ایک نامکمل معاہدہ جو کام کر رہا تھا
یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ ہم کس بارے میں بات کر رہے ہیں۔ ایران کا جوہری معاہدہ بے شک متنازع تھا۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ مسلسل اس کی مخالفت کرتے رہے جس کی بظاہر اس کے علاوہ کوئی اور منطق نہیں تھی کہ یہ سابق صدر نے طے کیا تھا۔ یہ معاہدہ بہترین نہیں تھا۔ یہ ایران کی تمام تر پریشان کن سرگرمیوں کا احاطہ نہیں کرتا تھا جس میں اس کا میزائل پروگرام اور علاقائی رویّہ شامل تھا۔
اس نے اس چیز کا احاطہ کیا جس کی اس میں بات ہوئی یعنی ایران کا نفیس اور متاثر کن جوہری پروگرام۔ اس میں ایران کے جوہری پروگرام پر تمام طرح کی پابندیاں عائد کیں اور تصدیق کا نظام وضح کیا تاکہ یہ یقینی بنایا جائے کہ ایران اپنے وعدہ پر عمل پیرا ہے یا نہیں۔

ان میں سے کچھ پابندیاں وقت کے ساتھ ساتھ ختم ہو جائیں گے۔ یعنی اچھی بات کو آپ کہہ سکتے ہیں کہ یہ معاہدہ ایران کو اس مقام تک پہچنے سے روکتا ہے جہاں سے آگے وہ جب چاہے جوہری بم بنا سکے۔ اور بری بات یہ کہ ممکنہ بحران میں محض تاخیر کر رہا ہے۔ یعنی یہ معاہدہ نہ ہوتا تو ایران اور اسرائیل میں جنگ کا خطرہ تھا اس لیے یہ اتنا برا نہیں۔ ڈونلڈ ٹرمپ کے لیے تکلیف دہ سچ تو یہ ہے کہ جب تک یہ تھا تو جوہری معاہدہ کام تو کر رہا تھا۔ معاہدے میں شامل دیگر ممالک کا خیال ہے کہ ایران معاہدے کی شرائط پر پورا اتر رہا ہے۔ اور عالمی جوہری ادارہ آئی اے ای اے بھی ایسا ہی سمجھتا ہے۔ حتٰی کہ ٹرمپ انتظامیہ کے اہم ارکان بھی خاص طور پر نئے وزیر خارجہ مائیک پوم پےاو اور نیشنل انٹیلیجنس کے ڈائریکٹر ڈین کوٹس۔ اس کے باجود ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے جوہری معاہدے کی مذمت کی کیونکہ ان کے بقول اس میں بہت سی چیزیں موجود نہیں تھیں جنھیں پہلے ہی دیکھا جانا چاہیے تھا۔

تو اب ہم یہاں سے کہاں جائیں گے؟
آگے خطرناک راستہ
اب تہران میں ایک لڑائی جاری ہے جس میں جیتنے والا یہ فیصلہ کرے گا کہ یہ معاہدہ بچے گا یا نہیں۔ اگر اعتدال پسند حاوی ہوتے ہیں تو یورپی ممالک اس میں اہم کردار ادا کریں گے۔ اس میں جو چیز داؤ پر ہے وہ ایران کے خلاف امریکی پابندیاں نہیں بلکہ اضافی پابندیاں ہیں جو غیر امریکی عالمی کمپنیوں کو تہران کے ساتھ کام کرنے سے روکتی ہیں۔ صدر ٹرمپ کے اس فیصلے سے یورپی واضح طور پر خوفزدہ ہیں۔ وہ بظاہر اس معاہدے سے منسلک رہنا چاہتے ہیں۔ لیکن ہم ایک بے مثال صورتحال سے دوچار ہیں جس کے خطرناک نتائج بھی ہو سکتے ہیں۔ اگر ایران کا جوہری معاہدہ ٹوٹ جاتا ہے تو ایران پھر سے جوہری سرگرمیاں شروع کر دے گا.

پھر کیا ہو گا ؟
امریکہ، یورپ اور نیٹو جہاں پہلے ہی روس کے جارحانہ موقف کی وجہ سے پریشان ہیں اس کی وجہ سے مزید کشیدگی بڑھے گی اور خود مشرق وسطیٰ میں جنگ کا خطرہ ہے۔ ایران اور اسرائیل پہلے ہی شام میں چھوٹی موٹی جھڑپوں میں ملوث ہیں اور براہ راست لڑائی کا خطرہ ہے۔ ایران پہلے ہی اپنے اتحادی اور تنصیبات پر فضائی حملوں کی وجہ سے تکلیف میں ہے اور بدلے کے لیے بے تاب ہے۔ اسرائیلی وزیرِ اعظم بنیامن نتن یاہو امریکی صدر کو یہ جوہری معاہد ختم کروانے کے لیے اکسانے والوں میں سرِ فہرست تھے۔

پلان بی کیا ہے؟
جوہری معاہدے کا لازمی جز ایران کو جوہری بم بنانے سے دور رکھنا تھا۔ اس سے یہ ہوتا کہ ایران کی جانب سے اس پابندی کو توڑے جانے کی صورت میں عالمی دباؤ بڑھانے کا وقت مل جاتا۔ لیکن اگر جوہرے معاہدہ ٹوٹ جاتا ہے اور ایران اپنا جوہری پروگران دوبارہ شروع کر دیتا ہے تو؟ ایران کا جوہری بم بنا لینا سعودی عرب سمیت دوسرے ممالک کی بھی حوصلہ افزائی کرے گا کہ وہ بھی جوہری طاقتیں بنیں۔ ہم اس وقت غیر معمولی دور میں ہیں اور یہ فیصلہ 18 ماہ سے عہدے پر فائز ڈونلڈ ٹرمپ کی خارجہ پالیسی کا حقیقی آغاز ہے اور ناقدین کے بقول یہ فیصلہ ان کے جذبات اور چھٹی حس پر مبنی ہے ناکہ عملی حقائق کے تحت۔ حتیٰ کہ ڈونلڈ ٹرمپ سے اتفاق کرنے والے بھی کئی بنیادی سوالات کے جواب کے منتظر ہیں۔ اب دوسرا راستہ یا پلان بی کیا ہے؟ اب ایران کو کیسے پابند کیا جائے گا ؟ اور اس مقصد کے لیے بین الاقوامی اتفاقِ رائے کیسے حاصل کیا جائے گا ؟

جوناتھن مارکس
تـجزیہ نگار، دفاعی و سفارتی امور

بشکریہ بی بی سی اردو
 

کس کس نے آئی ایس آئی سے پیسے لیے، تحقیقات شروع

$
0
0

پاکستان کے وفاقی تحقیقاتی ادارے نےاصغر خان کیس میں تحقیقات شروع کر دی ہیں جس میں نواز شریف اور شہباز شریف سمیت کئی سیاستدانوں پر آئی ایس آئی سے پیسے لینےکا الزام ہے۔ ملک کی سیاست سے متعلق اس اہم مقدمے میں وفاقی تحقیقاتی ادارے نے ممتاز سیاست دان اور پاکستانی فضائیہ کے سابق سربراہ ائرمارشل ریٹائرڈ اصغر خان کا بیان ریکارڈ کر لیا ہے۔ تفتیشی ٹیم کو دیے جانے والے بیان میں اصغر خان کا کہنا تھا کہ اُنھوں نے پاکستان پیپلز پارٹی کے سابق وزیر داخلہ نصیراللہ بابر کے بیان کو بنیاد بناتے ہوئے سپریم کورٹ میں ایک درخواست دائر کی تھی۔

سابق وزیر داخلہ نصیر اللہ بابر کے مطابق سابق صدر غلام اسحاق خان کے دور میں ایوان صدر میں اس ضمن میں ایک خصوصی سیل قائم کیا گیا تھا جو اسلامی جمہوری اتحاد میں شامل جماعتوں کو رقوم کی تقسیم سے متعلق معاملات کی نگرانی کرتا تھا۔ سابق وزیر داخلہ کے بیان میں کہا گیا تھا کہ سنہ اُنیس سو نوے کے انتخابات میں پاکستانی فوج کے خفیہ ادارے انٹرسروسز انٹیلی جنس یعنی آئی ایس آئی نے پاکستان پیپلز پارٹی کے خلاف بننے والے اسلامی جمہوری اتحاد میں شامل جماعتوں کے رہنماؤں کو کروڑوں روپے ادا کیے تھے۔ یہ رقم حاصل کرنے والوں میں ملک کے موجودہ وزیر اعظم میاں نواز شریف اور پنجاب کے وزیر اعلٰی میاں شہباز شریف کے علاوہ جماعت اسلامی اور اس اتحاد میں شامل دیگر جماعتوں کے رہنما بھی شامل ہیں۔

اس مقدمے کی تحققیات کرنے والی ٹیم نے اصغر خان سے جن سیاست دانوں کو رقوم فراہم کی گئی ہیں اُن کے بارے میں ثبوت اور دیگر دستاویزات بھی فراہم کرنے کا کہا ہے۔ اصغر خان کا کہنا تھا کہ یہ انتہائی اہم مقدمہ ہے جس کی غیر جانبدارانہ تفتیش ہونا ضروری ہے۔ وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان کے حکم پر اس مقدمے کی سماعت کے لیے ایف آئی اے کی ٹیم تشکیل دی گئی ہے۔ سپریم کورٹ میں اس درخواست کی سماعت کے دوران اُن رقوم کے بارے میں بھی بتایاگیا تھا جو سیاست دانوں میں تقسیم کی گئی تھیں۔

ایف آئی اے کی ٹیم مہران بینک کے سابق سربراہ یونس حبیب کو بھی بیان ریکارڈ کروانے کے لیے طلب کیا ہے جبکہ پاکستانی فوج کے سابق سربراہ مرزا اسلم بیگ اور آئی ایس آئی کے سابق سربراہ لیفٹینٹ جنرل ریٹائرڈ اسد درانی کے بیانات بھی ریکارڈ کیے جائیں گے۔ یاد رہے کہ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی سربراہی میں تین رکنی بینچ نے اصغر خان کیس میں دیے جانے والے فیصلے میں کہا تھا کہ اُس وقت کے فوج کے سربراہ جنرل مرزا اسلم بیگ اور ڈی جی آئی ایس آئی نے رقم کی تقسیم کے معاملے میں اپنے اختیارات سے تجاوز کیا ہے اور اُن کے خلاف قانون کے مطابق کارروائی ہونی چاہیے۔ آئی ایس آئی کے سابق سربراہ اسد درانی کا کہنا ہے کہ اُنھوں نے سیاست دانوں میں رقوم اُس وقت کے بری فوج کے سربراہ اسلم بیگ کے کہنے پر دی تھی جبکہ مرزا اسلم بیگ اس کی تردید کرتے ہیں۔

شہزاد ملک،
بی بی سی اردو ڈاٹ کام اسلام آباد
 

شی جن پنگ کا نظریہ اور چینی خواب

$
0
0

’چین کی ترقی‘ کے عنوان سے ڈی ڈبلیو کی اس سیریز میں عالمی افق پر چین کے ایک سپر پارو بننے کے سفر کے مختلف پہلوؤں پر نظر ڈالی جا رہی ہے۔ اس آرٹیکل میں اس ’چینی تصور‘ کا جائزہ لیا گیا ہے، جس کا تعلق صدر شی کے نظریات سے ہے۔ باقی دنیا حیرت سے اپنی آنکھیں مل رہی ہے۔ تقریباً تین دہائیوں کے دوران چین نے بہت تیزی سے اقتصادی ترقی کی اور ایک غریب ترقی پذیر ملک سے ایک بڑی صنعتی طاقت بن گیا۔ آج کل چین اپنی نظریں ’ورلڈ پاور‘ بننے پر جمائے ہوئے ہے۔ 

تاہم موجودہ حالات میں چین کی صنعتی ترقی اور بڑھتے ہوئے اثر و رسوخ کے حوالے سے خوف اور ستائش کے ملے جلے جذبات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ چینی عوام اور خاص طور پر بیجنگ میں سیاسی حلقے اپنے ملک کی اس ترقی کو تاریخی غلطیوں کا ازالہ بھی قرار دیتے ہیں۔ اس سوچ کو بیجنگ کے شعبہ پروپیگنڈا نے پروان چڑھایا ہے اور اس کا تعلق صدر شی جن پنگ کے سیاسی فلسفے سے بھی ہے۔ 2012ء میں شی جن پنگ کے صدر بننے کے ساتھ ہی کمیونسٹ پارٹی اور ریاستی رہنماؤں نے چینی عوام سے ماضی کی شہنشاہیت جیسی عظمت و شان کی واپسی کا وعدہ کیا تھا۔

ذلت و رسوائی کے سو سال
1842ء میں اسلحے کے زور پر چینی بندرگاہوں کو برطانوی ’افیون‘ کے لیے کھول دیا گیا۔ اسے ’افیون کی جنگ‘ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ اس دوران چین کے ساتھ نام نہاد ’غیر منصفانہ معاہدے‘ کیے گئے اور اس طرح چین کو مجبور کیا گیا کہ وہ ہانگ کانگ کا نظم و نسق برطانیہ کے حوالے کر دے۔ اس ’ذلت آمیز‘ صدی کا رسمی طور پر اختتام 1949ء میں کمیونسٹ پارٹی کی جانب سے عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے ساتھ ہوا تھا۔

2049ء گلوبل سپر پاور
چینی قوم کو دوبارہ عظیم الشان بنانے کے منصوبے 2049ء تک جاری رہیں گے اور اس طرح عوامی جمہوریہ چین اپنے قیام کی ایک سو ویں سالگرہ تک عالمی طاقت بن چکا ہو گا۔ جب بات چینی قوم کے عظیم الشان ماضی کی ہو تو شہری حقوق یا پیچیدہ آئینی مقدمے راستے کی رکاوٹ نہیں بن سکیں گے۔ ناقدین، انسانی حقوق کے کارکنوں اور ان کے وکلاء کو بھی جیل بھیجا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی ذرائع ابلاغ کی وہ آزادیاں بھی چھینی جا سکتی ہیں، جو انہوں نے بہت جدوجہد کے بعد حاصل کی ہیں۔ چینی تصور یا خواب کا نظریہ نہایت مبہم بھی ہے اور ساتھ ہی اس قدر جامع بھی ہے کہ اس سے کئی طرح کے پیغامات اخذ کیے جا سکتے ہیں۔

شاہراہ ریشم سے دنیا کے مرکز میں
چینی نظریے کے تحت شی جن پنگ کے متعدد منصوبے آتے ہیں اور ’ون بیلٹ، ون روڈ‘ کا منصوبہ بھی اسی کا حصہ ہے۔ اس کے تحت یورپ، افریقہ اور ایشیا میں بنیادی ڈھانچوں اور سڑکوں کے جال بچھانے کی خاطر بڑے پیمانے پر سرمایہ کاری کی جا رہی ہے۔ آج کے دور میں اس منصوبے کے ساتھ چین دنیا کا وہ واحد ملک ہے جو کسی عالمگیر نظریے پر کام کر رہا ہے۔ اور یہ کوئی اتفاق بھی نہیں ہے کہ ’ون بیلٹ، ون روڈ‘ منصوبے کو جدید شاہراہ ریشم بھی کہا جا سکتا ہے۔ چین سرمایہ کاری کی اپنی ماہرانہ پالیسیوں کے تحت اس اقتصادی طاقت کو سیاسی اثر و رسوخ بڑھانے کے لیے استعمال کر سکتا ہے۔ نقل و حمل کا نیا جال اور نئے اقتصادی رابطے یقینی طور پر چینی نظریے کے ترقی میں کردار ادا کریں گے۔

بشکریہ DW اردو

 

​شامی بچوں کی ایک پوری نسل معذور

$
0
0

شام میں فضائی حملوں میں اندازہ ہے کہ ہزارہا بچے اپنے بازوؤں یا ٹانگوں سے محروم ہو چکے ہیں۔ یہ معصوم ایک ایسی جنگ کا شکار ہیں، جسے یہ سمجھنے سے قاصر ہیں۔ ان میں سے ایک مشرقی حلب کی ماجدہ بھی ہے۔ ماجدہ العمر پانچ برس کی تھی، جب ایک بیرل بم نے اس کی دائیں ٹانگ کے پرخچے اڑا دیے تھے۔ اسے وہ دن اور وہ حملہ اب بھی یاد ہے، ’’ہم ایک چھوٹی سی گاڑی میں دس دیگر فراد کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ اچانک ایک جہاز نے ہم پر بم برسائے۔‘‘ ماجدہ کی عمر اب دس برس ہے۔ یہ کہانی سناتے ہوئے اس نے زمین پر دیکھنا شروع کر دیا، ’’پھر سب کچھ جل گیا، سب کچھ سیاہ رنگ کا ہو گیا۔‘‘

یہ واقعہ فروری 2013ء کا ہے، جب ماجدہ اپنے والدین اور دیگر چار بہن بھائیوں کے ساتھ مشرقی حلب میں جاری لڑائی کی وجہ سے نقل مکانی پر مجبور ہوئی تھی۔ ماجدہ کی والدہ صالحہ کے بقول، ’’اس حملے کے بعد جب مجھے ہوش آیا، تو میں نے ماجدہ کو زمین پر دیکھا، اس کی ایک ٹانگ غائب تھی۔ ہر جانب لاشیں بکھری ہوئی تھیں، جل کر راکھ ہو چکی لاشیں۔ مجھے ایسا لگا جیسے میں دوزخ میں ہوں۔‘‘ ماجدہ کو فوراً ایک عارضی ہسپتال میں پہنچایا گیا کیونکہ اس کی متاثرہ ٹانگ کے بقیہ حصے کو جسم سے علیحدہ کرنا ضروری تھا۔

ایک زخمی نسل
ماجدہ کا خاندان ترکی پہنچنے میں کامیاب ہو گیا۔ وہ آج کل غازی انتپ میں رہ رہا ہے، جو شامی سرحد سے ساٹھ کلومیٹر کے فاصلے پر ہے۔ اس علاقے میں تقریباً ڈھائی لاکھ شامی ہیں۔ ماجدہ اپنے گھر والوں کے ہمراہ ایک چھوٹے سے گھر میں رہتی ہے۔ اس گھر میں کوئی تصویر یا پرانی زندگی کی کوئی ایسی چیز نہیں، جو انہیں ان کے آبائی گھر کی یاد دلائے۔ ماجدہ کہتی ہے، ’’ہم کچھ عرصے بعد جب ہسپتال سے باہر آئے، تو وہاں کئی لاشیں دکھائی دیں۔ ان میں سے ایک لاش ڈھکی ہوئی نہیں تھی۔ میری بہن نے تو آنکھیں بند کر لی تھیں لیکن میں نے لاش کو دیکھ لیا۔ کاش کہ میں ایسا نہ کرتی۔ وہ تصویر آج بھی میرے ذہن میں نقش ہے۔‘‘
مشرقی غوطہ میں طبی امداد فراہم کرنے والی تنظیم سیرئین سول ڈیفنس نے الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ صدر اسد کی حامی فورسز نے بمباری کے دوران کلورین گیس کا استعمال کیا ہے، جس کی وجہ سے وہاں بچے ہلاک ہو رہے ہیں اور متاثرہ افراد کو سانس لینے مین دشواری کا سامنا ہے۔

ماجدہ اب چل سکتی ہے
دس سالہ ماجدہ اب ایک مصنوعی ٹانگ اور بہت زیادہ تربیت کے بعد دوبارہ سے چلنے پھرنے کے قابل ہو چکی ہے۔ اس کا کہنا ہے کہ وہ اب بہت خوش ہے۔ لیکن عام زندگی میں اسے مشکلات کا سامنا ضرور ہے، ’’دوسرے بچے صبح اٹھ کر بستر سے اچھل کر باہر نکلتے ہیں۔ وہ تیار ہوتے ہیں اور اسکول کی راہ لیتے ہیں لیکن مجھے کم از کم ایک گھنٹہ لگتا ہے اپنے مصنوعی ٹانگ جوڑنے میں۔ کبھی کبھار والدہ میری مدد کرتی ہیں۔‘‘ ماجدہ کو باقاعدگی سے نفسیاتی ڈاکٹر کے پاس بھی جانا پڑتا ہے۔ 

ماجدہ ترکی کے ایک سرکاری اسکول میں چوتھی جماعت میں پڑھ رہی ہے۔ ریاضی اس کا پسندیدہ مضمون ہے اور وہ ایک ڈاکٹر بننا چاہتی ہے، ’’اکثر بچوں کو جب میری مصنوعی ٹانگ کے بارے میں پتہ چلتا ہے تو وہ مجھ سے دور ہو جاتے ہیں اور میرے ساتھ نہیں کھیلتے۔ میری کہانی سننے کے بعد صرف بچوں کا ہی نہیں بلکہ بڑوں کا رویہ بھی میرے ساتھ بدل جاتا ہے۔ تاہم میرے اساتذہ میرا بہت زیادہ خیال کرتے ہیں۔‘‘ اقوام متحدہ کے مطابق شامی جنگ پندرہ لاکھ افراد کو معذور کر چکی ہے۔ ان میں سے اسّی ہزار کے جسمانی اعضاء کاٹنا پڑے۔ ان میں سے بہت سے ماجدہ کی طرح کے بچے ہیں۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے بہبود اطفال کا کہنا ہے کہ شام میں ’جسمانی اور نفسیاتی معذروں‘ کی ایک پوری نسل موجود ہے۔

جولیا ہان کی رپورٹ

بشکریہ DW اردو
 


اسرائیل میں جاپانی وزیراعظم کو 'جوتے'میں میٹھا پیش کرنے پر تنازع

$
0
0

جاپان کے وزیراعظم شن زو آبے کو اسرائیلی وزیراعظم کے گھر پر جوتے میں میٹھا پیش کرنے کی تصاویر نے نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے ۔ بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جاپانی تہذیب وثقافت میں جوتے کو انتہائی ہتک آمیز تصور کیا جاتا ہے ، تو کیا اسرائیلی وزیر اعظم نے جاپانی ہم منصب سے سفارتی آداب سے ہٹ کر رویہ برتا ہے؟ 

برطانوی نشریاتی ادارے کی رپورٹ کے مطابق گزشتہ ہفتے جاپانی وزیراعظم آبے اور ان کی اہلیہ کو اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نتن یاہو نے اپنی رہائش گاہ پر عشائیے پر مدعو کیا، جس کے آخر میں دھات کے بنے جوتوں میں میٹھا پیش کیا گیا ، شن زو آبے نے یہ میٹھا بغیر کسی ہچکچاہٹ کے کھا لیا لیکن اس بات کو جاپان کے سفیروں نے پسند نہیں کیا۔ جاپان کے امور پر نظر رکھنے والے تجزیہ نگاروں اور سفارتکاروں نے اس اقدام پر حیرت کا اظہار کیا اور ساتھ ہی اسے اسرائیل کا انتہائی غیر حساس اور احمقانہ فعل قرار دیا ہے کیونکہ جاپان میں جوتے سے کم اہمیت کی کوئی چیز کا تصور بھی موجود نہیں، جاپانی اپنے گھروں بلکہ اپنے دفاتر میں بھی جوتے اتار کر داخل ہوتے ہیں۔

اس حوالے سے مزید یہ بھی کہا جا رہا ہے کہ جاپانی وزیراعظم و دیگر وزرار اور اراکین پارلیمان بھی اپنے دفاتر میں جوتے پہن کر نہیں جاتے، اسرائیلی وزیراعظم کے عشائیے میں کیا گیا اقدام بالکل ایسا ہی ہے کہ کسی یہودی مہمان کو خنزیر کی شکل کے برتن میں کھانا پیش کیا جائے۔ ایک جاپانی سفارتکار نے يدیوٹ اخرانوٹ سے بات کرتے ہوئے کہا 'کسی بھی ثقافت میں جوتے کو میز پر نہیں رکھا جاتا، اس عمل کو انجام دینے والے کے ذہن و دل میں کیا تھا ؟ اگر یہ مذاق تھا تو ہمیں یہ اچھا نہیں لگا، ہم اپنے وزیر اعظم کے ساتھ ہونے والی اس بدسلوکی پر ناراض ہیں۔ اسرائیلی وزیراعظم اور جاپانی ہم منصب کے عشائیے کی تصاویر اور غیر سفارتی رویہ سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر زیر بحث ہے، اب دیکھنا یہ ہے کہ دنیا بھر کے ممالک کو بیت المقدس میں اپنے سفارتی دفاتر کھولنے پر راضی کرنے میں کوشاں اسرائیلی وزیراعظم کے اس اقدام کے نتائج کیا نکلتے ہیں۔
 

ملائیشیا الیکشن : مہاتیر محمد نے تاریخی فتح حاصل کر لی

$
0
0

ملائیشیا میں ہونے والے عام انتخابات سابق وزیراعظم مہاتیر محمد اور ان کے اتحادیوں نے جیت کر تاریخی فتح حاصل کر لی۔ ملائیشیا کے عام انتخابات میں 92 سالہ سابق وزیراعظم مہاتیر محمد اور ان کے اتحادی جیت گئے ہیں۔ مہاتیر محمد نے بریسن نیشنل اتحادی جماعت کو شکست دی جو کہ 60 سالوں سے اقتدار میں ہے۔ مہاتیر محمد اور ان کےاتحادیوں نے 115 نشستیں حاصل کیں جب کہ حکومت سازی کے لئے 112 نشستوں کی ضرورت ہوتی ہے۔

مہاتیر محمد کی حلف برداری کی تقریب جمعرات ہو گی جس کے بعد وہ دنیا کے معمر ترین منتخب رہنما بن جائیں گے۔ اس موقع پر مہاتیر محمد کا کہنا تھا کہ آج ملائیشیا میں تاریخی فتح حاصل کی، انتقامی سیاست کا روادار نہیں، ہم قانون کی بحالی چاہتے ہیں اور انتقامی کارروائی پر یقین نہیں رکھتے۔ واضح رہے کہ مہاتیر محمد سیاست سے ریٹائرمنٹ لے چکے تھے تاہم انہوں نے سیاست میں واپس آ کراپنے مخالف نجیب رزاق کو شکست دی۔
 

آسٹریلوی سائنسداں آج خود کشی کر لیں گے

$
0
0

104 سالہ مشہور آسٹریلوی سائنسدان ڈاکٹر ڈیوڈ گوڈال خودکشی کرنے سوئزرلینڈ پہنچ گئے ہیں۔ چند روز قبل انہوں نے آج کے دن اپنی زندگی کا خاتمہ کرنے کا اعلان کیا تھا۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق مشہور آسٹریلوی ماہر نباتات و ماحولیات ڈاکٹر ڈیوڈ گوڈال آسٹریلیا سے سوئٹزرلینڈ کے شہر باسل اس لیے پہنچے ہیں کیونکہ یہاں پر خودکشی میں مدد دی جاتی ہے۔ طبی امداد دے کر خودکشی میں ایسی مدد دینے کو یوتھنیزیا کہا جاتا ہے۔ انہوں نے گزشتہ روز نیوز کانفرنس میں اس بات سے آگاہ کیا ۔ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ موت کا وقت معین ہے مگر موت کو منتخب کرنے کے لئے انسان کو آزاد ہونا چاہئے۔

ڈیوڈ گڈال کی نظر کمزور اور کان اونچا سنتے ہیں مگر ان کا ذہن اب بھی بیدار ہے۔ ایک ماہر نباتات کی حیثیت سے وہ دنیا بھر میں گھومتے اور گھر سے باہر جا کر تحقیق کرتے تھے لیکن اب وہ چلنے پھرنے کے لیے وھیل چیئر کے محتاج ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ پچھلے پانچ دس سال سے وہ زندگی کا لطف نہیں اٹھا رہے۔ ان کا کہنا ہے کہ بیس سال پہلے جب ان کا ڈرائیونگ لائسنس منسوخ کر دیا گیا تھا تو تب انھیں مر جانا چاہیے تھا چناچہ میں اب اپنی زندگی جاری نہیں رکھنا چاہتا آج مجھے اسے ختم کرنے کا موقع ملا ہے۔

واضح رہے سوئزر لینڈ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں انتہائی علیل، ذہنی و جسمانی طور پر معذور طویل العمر اور لاغر بوڑھے افراد کو آسان موت یعنی رضاکارانہ موت فراہم کی جاتی ہے تاکہ وہ اپنی بے قرار اور تنگ زندگی کا خاتمہ آسانی سے کر سکیں۔ یورپی یونین کے ایک مشہور ملک سوئزرلینڈ میں 1940 سے رضا کارانہ خودکشی کا یہ قانون نافذ ہے، یہاں قانونی طور پر اس بات کی اجازت دی گئی ہے کہ اگر کوئی شخص خود کشی کرنا چاہے تو کر سکتا ہے۔ سوئزرلینڈ میں ایسے کلینک بھی موجود ہیں جو کسی کو بھی اس کی مرضی اور رضامندی سے موت کی نیند سلانے کی سہولت فیس کے عوض فراہم کرتے ہیں۔

اس سہولت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے آسٹریلوی سائنسدان مشہور ماہر نباتات اور ایکلوجسٹ ڈاکٹر ڈیوڈ گوڈال نےآج رضاکارانہ طور پر موت کو گلے لگانے کا اعلان چند روز قبل کیا تھا۔ دوسری جانب آسٹریلیا میں ایسا کوئی قانون موجود نہیں تھا تاہم ریاست وکٹوریا کی پارلیمان نے گزشتہ برس اس طرح کا ایک قانون منظور کیا ہے جس پر اگلے برس جون تک عملدرآمد شروع ہو گا ۔ ڈاکٹر گُوڈال نے آسٹریلیا کے سرکاری خبررساں ادارے کو اپنی ممکنہ موت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا تھا کہ وہ قطعی طور پر سوئٹزرلینڈ جانے کے خواہشمند نہیں ہیں تاہم آسٹریلین نظام میں رضاکارانہ طور پر موت اپنانے کی سہولت کے موجود نہ ہونے کی وجہ سے انہیں آخری سفر کرنا پڑا اور وہ اگلے سال کا انتظار نہیں کر سکتے۔

سوئزر لینڈ میں اس قسم کے کلینکس میں دو طرح موت کی نیند سلایا جاتا ہے۔ ایک طریقہ موت کا انجیکشن لگانا ہے۔ اور دوسرا طریقہ زہر کا گھونٹ پینا ہے۔ ان دونوں طریقوں میں بظاہر مرنے والے کو کوئی تکلیف ہوتی نظر نہیں آتی مثلا آدھا کپ ایک خاص قسم کا زہر خود کشی کرنے والے کو اس کی فیملی کی موجودگی اور ویڈیو کیمروں کے سامنے دیا جاتا ہے اور دینے سے قبل پوری طرح اس سے بیان حلفی لیا جاتا ہے کہ آپ اپنی مرضی سے اور خوشی سے خود کر رہے ہیں آپ پر کسی کا کوئی دباو ٔنہیں ہے۔

زہر کا گھونٹ پینے والا زہر کا پیالہ اپنے ہاتھ میں پکڑتا ہے اور پھر اپنی بیوی بچوں کی طرف دیکھتے ہوئی الوداعی ہاتھ ہلاتا یا بوسہ لیتا ہے اور پھر وہ زہر پی لیتا ہے۔ زہر کا پیالہ پینے کے فورا بعد بظاہر ایسا ہی لگتا ہے جیسے پانی کا گلاس پیا یعنی خود کشی کرنے والا بالکل نارمل ہوتا ہے۔ پھر اسے ایک دو بسکٹ دیے جاتے ہیں اور پھر وہ باتیں کرتے کرتے آہستہ آہستہ غنودگی کی حالت میں چلا جاتا ہے اور سخت نیند آنی شروع ہو جاتی ہے، اور پھر بیٹھے بیٹھے آرام سے سو جاتا ہے، لیکن یہ نیند عام نیند نہیں ہوتی کہ جس کے بعد بیداری بھی ہو، بلکہ اسی نیند میں وہ مر جاتا ہے۔ ڈاکٹر ڈیوڈ گوڈال کو سوئٹرلینڈ کے ایٹرنل اسپرٹ کلینک میں آج ایک انجیکشن لگا کر یا زہر کا گھونٹ پی کر ابدی نیند سلایا جائے گا۔

بشکریہ روزنامہ جنگ ٓ
 

What's Going On With the Hawaii Volcano?

$
0
0

Smoke rises from Kilauea volcano as dozens of structures, including at least nine homes, have been destroyed by scorching lava flows following a massive volcano eruption on Hawaii's Big Island, U.S.The 2018 lower Puna eruption is an ongoing volcanic event on the island of Hawaii on Kīlauea volcano's East Rift Zone that began on May 3, 2018. Outbreaks of lava fountains up to 300 feet (90 m) high, lava flows and volcanic gas in the Leilani Estates subdivision were preceded by earthquakes and ground deformation that created cracks in the roads. The next day, May 4, a 6.9 magnitude earthquake hit Puna. As of May 9, 2018 the eruption has resulted in the destruction of 27 houses in Leilani Estates, with 1,700 residents evacuated.


The volcanic event is the 62nd episode of Kīlauea’s ongoing east rift zone eruption that began in January 1983, forming Puʻu ʻŌʻō, which became a prominent volcanic cone over the years. Puʻu ʻŌʻō produced lava flows that destroyed the nearby Royal Gardens subdivision and the settlement of Kapa’ahu. In 1990, lava flows from the Kūpaiʻanahā vent of Kīlauea, downrift from Puʻu ʻŌʻō, destroyed and partly buried most of the nearby town of Kalapana. 

On April 30, 2018, a few miles from the summit caldera of Kīlauea, the crater floor of the cone of Puʻu ʻŌʻō collapsed, and in the first two days of May 2018, hundreds of small earthquakes were detected on Kīlauea’s East rift zone, leading officials to issue evacuation warnings for some residents of the Puna District. On May 2, 2018, the US Geological Survey reported that ground deformation resulting from magma intruding beneath the Leilani Estates subdivision had caused ground cracks to form on roads in and around the subdivision.


 On May 3, 2018, after a 5.0 earthquake earlier in the day, steaming ground cracks opened in Leilani Estate and began to spew lava, causing evacuations of the Leilani Estates and Lanipuna Gardens subdivisions. The outbreak marked the beginning of the 62nd episode of the current east rift zone eruption, which began in January 1983. That evening, Hawaii Governor David Ige activated the state National Guard to help with the evacuation process. 


The next day, May 4, the first two homes were reported destroyed in Leilani Estates from three erupting vents. The Hawaii County Civil Defense Agency reported high levels of toxic sulfur dioxide gas in the area, and Talmadge Magno, the Civil Defense Administrator for Hawaii County, stated that power lines had melted off the poles due to heat. The Puna Geothermal Venture, a geothermal power station, was shut down, and a Temporary Flight Restriction area was put in place by the FAA to place restrictions on flights below 3,000 feet AGL over the eruption area.







شام میں تعینات ایرانی فوج کا اسرائیل پر حملہ

$
0
0

شام میں موجود ایرانی فورسز نے گولان ہائیٹس کے علاقے میں واقع اسرائیلی چوکیوں پر راکٹ فائر کیے ہیں جس کے جواب میں اسرائیلی فوج نے شام میں کئی فوجی تنصیبات پر بمباری کی ہے۔ اسرائیل کے مطابق شام میں تعینات ایرانی فورسز نے سرحدی علاقے گولان ہائیٹس میں قائم اسرائیلی چوکیوں پر بعد 20 سے زائد 'گرد'اور 'فجر'راکٹ فائر کیے۔ یہ پہلا موقع ہے کہ شام میں تعینات ایرانی فوج نے اسرائیل پر کوئی حملہ کیا ہے۔ البتہ اسرائیل گزشتہ سات سال سے جاری شام کی خانہ جنگی کے دوران درجنوں بار شام میں ایرانی فوج یا اس کی اتحادی ملیشیاؤں کے زیرِ استعمال تنصیبات، چوکیوں اور ان کے قافلوں کو نشانہ بنا چکا ہے۔ اسرائیلی حکام کا کہنا ہے کہ ایران اور اس کی حامی لبنانی ملیشیا 'حزب اللہ'شام کو ایران کے لیے ایک نئے محاذ میں تبدیل کرنے میں مصروف ہیں اور اس کے شام میں حملوں کا مقصد ایسا ہونے سے روکنا ہے۔

اسرائیل نے الزام لگایا ہے کہ بدھ کی شب فائر کیے جانے والے راکٹ ایرانی فوج 'پاسدارانِ انقلاب'کی القدس فورس نے فائر کیے جو بیرونِ ملک آپریشنز کی ذمہ دار ہے۔ اسرائیلی فوج کے ایک ترجمان لیفٹننٹ کرنل جوناتھن کون ریکس نے صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں دعویٰ کیا ہے کہ راکٹ حملے قدس فورس کے سربراہ جنرل قاسم سلیمانی کی ہدایت پر فائر کیے گئے۔ ترجمان نے بتایا کہ راکٹ حملوں کے فوری بعد اسرائیلی جنگی طیاروں نے شام میں ایک درجن سے زائد ان فوجی تنصیبات پر میزائل برسائے جو ایران کے زیرِ استعمال ہیں۔ ترجمان نے بتایا کہ حملے کے دوران شام کے اینٹی ایئرکرافٹ یونٹس نے اسرائیلی طیاروں کو مار گرانے کی کوشش بھی کی جس میں وہ ناکام رہے۔ 

شام کے سرکاری ذرائع ابلاغ نے دعویٰ کیا ہے کہ شام کے میزائل دفاعی نظام نے دمشق، حمص اور السویدہ کی حدود میں کئی اسرائیلی میزائلوں کو فضا میں ہی نشانہ بنا کر تباہ کر دیا۔ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کے ساتھ جوہری معاہدہ ختم کرنے کے اعلان کے بعد کئی حلقوں کو خدشہ ہے کہ شام، ایران اور اسرائیل کے درمیان کسی بڑی محاذ آرائی یا جنگ کا میدان بن سکتا ہے۔  صدر ٹرمپ کی جانب سے معاہدہ ختم کرنے کے اعلان کے چند گھنٹے بعد ہی اسرائیل نے دمشق کے نزدیک ایک شامی فوجی اڈے پر میزائل حملہ کیا تھا.

بشکریہ وائس آف امریکہ

 

Israel attacks Iranian targets in Syria

$
0
0

Israel said it attacked nearly all of Iran's military infrastructure in Syria after Iranian forces fired rockets at Israeli-held territory for the first time. Israel has launched one of the heaviest barrages against Iranian targets in neighbouring Syria since the civil war there began in 2011, after Iranian forces in the country bombarded Israeli army bases with rockets. The attack on the Israeli-occupied Golan Heights marks the first time Iranian forces have hit Israel from Syria, where they are supporting the country’s president, Bashar al-Assad. Israel said its targets included weapons storage, logistics sites and intelligence centres used by elite Iranian forces in Syria. It also said it destroyed several Syrian air-defence systems after coming under heavy fire and that none of its warplanes were hit. It was the most intensive Israeli action in Syria since civil war broke out there in 2011.








ایرانی کرنسی کی قدر میں تاریخی گراوٹ ایک ڈالر کی قیمت 80 ہزار ریال

$
0
0

امریکا کی جانب سے جوہری معاہدے سے علیحدگی کے فیصلے کے بعد ایرانی کرنسی کو تاریخی خسارے کا سامنا ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مذکورہ فیصلے پر دستخط کے فورا ًبعد ایرانی ریال نئی تاریخی سطح تک نیچے آ گیا اور ایک ڈالر کی قیمت 80 ہزار ایرانی ریال ہو گئی، اس طرح ڈالر کی قدر میں یک دم 5000 ریال کے قریب اضافہ ہوا۔عرب ٹی وی کے مطابق اس صورت حال کے سبب بعض ایرانی ویب سائٹس نے ڈالر کے نرخ اعلان کرنے کا سلسلہ روک دیا۔ ذرائع کے مطابق ایرانی منڈی سے ڈالر تقریباً غائب ہو چکا ہے۔
 


مہاتیر محمد نے ملائیشیا کی قسمت کیسے تبدیل کی ؟

$
0
0

سن 1981ء اس حوالے سے عجیب سال تھا کہ اس سال قدرت ملائیشیا پر مہربان ہو رہی تھی اور پاکستان سے قدرت کی ناراضی کا سفر شروع ہو رہا تھا۔ اس سال ملائیشیا میں ایک ایسا شخص وزیراعظم بن رہا تھا جس نے اپنے ملک کی تقدیر کو بدلنا تھا، ترقی پذیر ملائیشیا کو ترقی یافتہ بنانا تھا، عین اسی سال پاکستان میں ایک ایسا شخص وزیر بن رہا تھا جس کے نزدیک قانون کی عملداری ضروری نہیں،’’ترقی ‘‘ کیلئے ہر حربہ جائز ہے، جیسے جیسے اس شخص کے اقتدار کا سورج بلند ہوا پاکستان کی تنزلی کا سفر شروع ہو گیا، پاکستان کے لوگوں کی زندگیاں تلخ ہوتی گئیں جبکہ دوسری طرف ملائیشیا میں عوام کی زندگیوں میں آسانیاں آتی گئیں، ملائیشیا طاقتور بنتا گیا اور پاکستان کمزور ہوتا گیا، اسی لئے آج پاکستان کی معیشت تباہی کے کنارے پر ہے، ملائیشین ہم سے پھر اچھے کہ وہ پندرہ سال بعد ڈاکٹر مہاتیر محمد کو پھرسے لے آئے ہیں.

مہاتیر کے اجداد کا تعلق ہمارے ہی خطے سے تھا، ایم بی بی ایس کرنے والے مہاتیر نے زندگی کی مشکلات میں جوس بھی بیچا تھا، اب جب وہ ملائیشیا کے وزیر اعظم بن رہے تھے تو ان کے سامنے ایک ایسا ملک تھا جس میں ترقی نہیں تھی، جس میں کرپشن تھی، قانون بھی امیر اور غریب میں فرق کرتا تھا ، مہاتیر محمد نے ملائیشیا کو ایماندار قیادت فراہم کی، اس نے قانون کی نظر میں سب کو ایک کر دیا، اس نے کرپشن کو ختم کر کے رکھ دیا، لوگ رشوت کے بغیر کام کروانے لگے، ترقی پذیر ملائیشیا کی ترقی کو پہیے لگ گئے ڈاکٹر مہاتیر محمد بائیس سال وزیر اعظم رہے، اس بائیس سالہ دور میں مہاتیر نے ملائیشیا کو ترقی یافتہ بنا دیا۔

آپ کو یاد ہو گا مہاتیر نے 2003ء میں ریٹائرمنٹ لے لی تھی مگر اس کے جانے کے بعد ملائیشین چور پھر سرگرم ہو گئے، اس کے ملک میں پھر سے کرپشن آ گئی ، خاص طور پر نجیب رزاق کے چرچے عام ہوئے تو صرف 2 سال پہلے مہاتیر نے پارٹی بنائی اور آج اس کی پارٹی جیت چکی ہے، آج 92 سالہ شخص پھر سے وزیر اعظم بننے جا رہا ہے۔ ملائیشین مہاتیر محمد کو نہیں بھولے کیونکہ مہاتیر نے ترقی کے نام پر لوٹ مار نہیں کی تھی، اس نے مالے کے معاشرے میں ’’خاندان کے ادارے‘‘ کو قائم رکھا۔ مہاتیر نے ریاست میں آئین اور قانون کی پاسداری یقینی بنائی، وسائل کی تقسیم کا منصفانہ نظام بنایا، اس نے نظم وضبط میں جھول برداشت نہ کیا، اس نے انسانی حقوق و فرائض میں توازن معاشرے کا حصہ بنا دیا، مہاتیرمحمد نے ترقی کے اس سفر میں شاندار اسلامی روایات کو قائم رکھا. مجھے افسوس سے لکھنا پڑ رہا ہے کہ ہمارے ہاں ایسا نہ ہو سکا، ہمارے ملک پر حکومت کرنے والوں نے ملک کا نہ سوچا، وہ اپنا ملک لوٹ کر جائیدادوں کے انبار بیرون ملک لگاتے رہے، آج انہی کی وجہ سے پاکستان بہت پیچھے چلا گیا ہے، ان کے ’’کارناموں‘‘ کے باعث پاکستان کو بہت نقصان ہوا، یہی پاکستانِ کی داستان غم ہے. بقول سعدیہ بشیر

پرانے زخم تو اب فارغ التحصیل ٹھہرے ہیں
ابھی تعلیم جاری ہے، نئے کچھ داخلے بھی ہیں

مظہر بر لاس

 

پاکستان نے بھی امریکی سفارتکاروں پر پابندی لگا دی

$
0
0

امریکی سفارتی پابندیوں کے جواب میں پاکستان نے بھی امریکی سفارتکاروں پر پابندی لگا دی۔ وزارت خارجہ کی جانب سے جاری کردہ نوٹی فکیشن کے مطابق پاکستانی ایئر پورٹس پر امریکی سفارتخانے کے سامان کی ترسیل کو ویانا کنونشن کے مطابق دیکھا جائے گا، امریکی سفارتکاروں کو پاکستان میں نقل وحمل سے پہلے متعلقہ پاکستانی حکام سے اجازت لینا ہو گی۔ نوٹی فکیشن میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکی سفارتخانےکی اپنی یا کرائے پر لی گئی گاڑیوں پر کالا شیشہ لگانے کی اجازت نہیں ہو گی جب کہ زیر استعمال گاڑیوں پر اصلی نمبر پلیٹ لگانا لازمی ہو گا۔ 

امریکی سفارتخانے کی آفیشل گاڑیوں پر نان ڈپلومیٹک نمبر پلیٹ کی اجازت نہیں ہو گی۔ کرائے کی عمارتوں کے حصول اور تبدیلی کے لیے این او سی لینا ہو گا ، امریکی سفارتکاروں کے لیے بائیو میٹرک تصدیق کے بغیر فون سمز جاری نہیں کی جائیں گی۔ واضح رہے کہ امریکا نے پاکستان کے سفارتی عملے پر پابندیاں لگائی ہیں جن کا اطلاق آج سے ہو گیا ہے، ان پابندیوں کے تحت پاکستانی سفارتی اہلکار سفارتخانے سے 25 میل کے فاصلے کے اندر رہیں گے اور اگر اُنہیں 25 میل سے باہر جانا ہو تو امریکی محکمہ خارجہ سے خصوصی اجازت حاصل کرنا لازمی ہو گا۔

ٹرمپ اور کِم جونگ کے درمیان سنگاپور میں خصوصی ملاقات ہو گی

$
0
0

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے شمالی کوریا کے صدر کِم جونگ اُن کے ساتھ اپنی ملاقات کی تاریخ کا اعلان کر دیا ہے اور ایک ٹویٹ میں یہ اطلاع دی ہے کہ ان کے درمیان 12 جون کو سنگاپور میں یہ تاریخی ملاقات ہو گی۔ انھوں نے ٹویٹ کی ہے کہ ’’ ہم دونوں اس ملاقات کو عالمی امن کے لیے ایک خصوصی لمحہ ( موقع) بنانے کی کوشش کریں گے‘‘۔ توقع ہے کہ صدر ٹرمپ جزیرہ نما کوریا کو جوہری ہتھیاروں سے پاک کرنے اور شمالی کوریا کو جوہری ہتھیاروں اور بین البراعظمی میزائلوں کی تیاری سے باز رکھنے کے لیے کِم جونگ اُن سے تبادلہ خیال کریں گے، انھوں نے اس ملاقات کی تاریخ اور مقام کے انکشاف کے لیے وائٹ ہاؤس کے کسی ترجمان کے بجائے خود ہی بیان جاری کیا ہے۔

امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے گذشتہ دو ایک ماہ کے دوران میں اس ملاقات کی تیاریوں کے سلسلے میں شمالی کوریا کا دو مرتبہ دورہ کیا ہے۔ پہلے انھوں نے امریکا کی مرکزی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سربراہ کی حیثیت سے پیانگ یانگ کا دورہ کیا تھا اور اب کہ وزیر خارجہ کی حیثیت سے وہ وہاں گئے ہیں اور اپنے ساتھ وہاں قید تین امریکی شہریوں کو بھی چھڑا کر لے آئے ہیں ۔
ان کے امریکا لوٹنے کے بعد ہی صدر ٹرمپ نے شمالی کوریا کے لیڈر سے ملاقات کا اعلان کیا ہے۔ واضح رہے کہ یہ کسی امریکی صدر کی شمالی کوریا کے کسی لیڈر سے پہلی براہ راست ملاقات ہو گی۔ ابھی یہ واضح نہیں کہ شمالی کوریا امریکا کے مطالبے کے ردعمل میں کیا مانگ کرے گا۔ یہ قیاس آرائی کی گئی ہے کہ وہ جنوبی کوریا میں موجود امریکی فوج کے انخلا کا مطالبہ کر سکتا ہے۔
 

چین کی فوج کتنی طاقتور ہے ؟

$
0
0

دنیا میں چین دفاع پر خرچ کرنے والا دوسرا بڑا ملک ہے۔ چین تیزی سے اپنی فوج ’پیپلز لبریشن آرمی‘ کو جدید بنانے کی کوشش کر رہا ہے۔ یوں معلوم ہوتا ہے کہ چین امریکا کی دفاعی طاقت کے لیے ایک بڑا چیلنج بن سکتا ہے۔ 2017ء میں دفاع پر 150 ارب ڈالر خرچ کرنے والے اس ایشیائی ملک نے 2015ء کے بعد پہلی مرتبہ آبنائے تائیوان میں فوجی مشق کی۔ اس کا مقصد نیم خود مختار تائیوان کے سامنے اپنی فوجی قوت کا مظاہرہ کرنا تھا۔ صدر شی جن پنگ کی قیادت میں چین نے اپنے فوجی ساز وسامان اور اسلحے کو جدید کرنے کا منصوبہ بنایا ہوا ہے۔ گزشتہ اکتوبر میں کمیونسٹ پارٹی کی انیسویں قومی کانگریس میں شی جن پنگ نے کہا تھا کہ انہیں سن 2035 تک پیپلز لبریشن آرمی (پی ایل اے) کو موجودہ دور کی مناسبت سے جدید کرنا ہو گا اور اسے سن 2050 تک دنیا کی طاقت ور ترین افواج میں شامل کرنا ہو گا۔

فوج کے مختلف شعبوں میں ترقی تو ہو رہی ہے لیکن چین نے سب سے زیادہ ترقی فضائیہ اور بری افواج میں کی ہے۔ ان دونوں شعبوں میں چین نے تکنیکی صلاحیت اتنی بڑھا لی ہے کہ اب وہ امریکا سے پیچھے نہیں ہے۔ چین جے ٹوئٹی خفیہ جنگی طیاروں پر مبنی ایک یونٹ بنانے کی تیاری کر رہا ہے جس کے بعد وہ اسٹیلتھ ٹیکنالوجی میں امریکا کی اجارہ داری کو چیلنج کر سکے گا۔ اس کے علاوہ فضا میں ہی اپنے ہدف کونشانہ بنانے والے پی ایل 15 میزائل، 055 کروز  اور جدید ریڈاروں کے باعث چین کی کوشش ہے کہ امریکا یا اس کے اتحادی چینی سرحدوں یا ساحل کے قریب نہ آسکیں۔ رانڈ کارپوریشن کے ایک سینیئر سیاسی تجزیہ کار مائیکل چیز نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’چین نے کئی شعبوں میں متاثر کن ترقی کی ہے جس کی بدولت وہ اپنے دشمنوں کو دور رکھنے اور مستقبل میں جنگیں جیتنے میں کامیاب ہو سکتا ہے۔‘‘

سن 1927 میں قائم کی گئی چین کی ’پیپلز لبریشن آرمی‘ کے فوجیوں کی تعداد 2015 کے ورلڈ بینک ڈیٹا کے مطابق 2.8 ملین سے زیادہ ہے۔ انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز ’’آئی آئی ایس ایس‘‘ کے مطابق چین دفاع پر امریکا کے بعد سب سے زیادہ (145 بلین ڈالر) خرچ کرتا ہے۔ اپنی فوج کو جدید بنانے اور عسکری صلاحیتوں کو بڑھانے کے باوجود چین اب بھی مشترکہ جنگی آپریشنز کا تجربہ اور تربیت نہیں رکھتا۔ ان مسائل کے حل کے لیے چینی صدر نے بدعنوانی کے خلاف ایک اہم مہم کا آغاز کیا ہوا ہے اور پی ایل اے میں تنظیمی تبدیلیاں بھی کی جا رہی ہیں۔ انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز میں چین کی دفاعی پالیسی اور فوجی ترقی کی ریسرچر میائی نووینز کے مطابق، ’’شی جن پنگ کی قیادت میں چین ان مسائل کو حل کرنے کے لیے تیار ہے جو اس کے عسکری عزائم کی تکمیل میں ممکنہ طور پر خلل ڈال سکتے ہیں۔‘‘

ایک اور نقطے پر روشنی ڈالتے ہوئے نووینز کا کہنا ہے کہ چین نے ان ممالک میں اپنی سرمایہ کاری کافی بڑھا لی ہے جو غیر مستحکم ہیں۔ اس کے علاوہ اپنی سرمایہ کاری اور چینی شہریوں کے تحفظ کی خاطر چین یہ سمجھتا ہے کہ اسے اپنی فوجی طاقت کو دنیا بھر کو دکھانا ہو گا۔ نووینز کا کہنا ہے، ’’ یہ ایک سوچی سمجھی حکمت عملی ہے، بیجنگ محسوس کرتا ہے کہ اسے اب اپنی عسکری صلاحیتوں کو سرحد سے پار وسیع پیمانے پر دکھانا ہو گا۔‘‘ انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف اسٹریٹیجک اسٹڈیز کے ماہرین کی رائے میں چین اب فوجی ساز وسامان اور اسلحے کو دوسرے ممالک کو بھی برآمد کرنا چاہتا ہے لہذا مستقبل میں مغربی دفاعی پالیسی سازوں کو ایک پیچیدہ ماحول کے لیے تیار رہنا ہو گا۔ نووینز کی رائے میں چین اب امریکا اور اس کے اتحادیوں کے لیے براہ راست اور بالواسطہ چینلجز پیدا کر رہا ہے۔ نووینز کا کہنا ہے،’’عسکری محاذ پر چین اور واشنگٹن کے درمیان حقیقی معنوں میں عمل اور ردعمل دیکھا جا سکتا ہے۔‘‘ بحیرہء ہند، مشرق وسطیٰ اور افریقہ چین کی فہرست میں اوّلین درجے پر ہیں لیکن ان کے علاوہ بھی چین نے بحیرہ روم اور بالٹک میں بحریہ کے جہاز تعینات کیے ہوئے ہیں۔ نووینز کے مطابق،’’ یہ عسکری تعیناتیاں چین کے عزائم اور خود اعتمادی کو ظاہر کرتی ہیں۔‘‘

بشکریہ DW اردو
 

پاکستانی نوجوان کو کچلنے والے امریکی سفارتکار کی فرار کی کوشش ناکام

$
0
0

امریکی سفارتکار کرنل جوزف کو لینے کیلئے آنے والا امریکی طیارہ واپس لوٹ گیا۔ ایئرپورٹ ذرائع کا کہنا ہے کہ امریکی دفاعی اتاشی کرنل جوزف امریکا نہ جا سکے، انہیں وزارت داخلہ کا این او سی نہ مل سکا۔ ایئر پورٹ ذرائع کے مطابق کرنل جوزف کو لینے کیلئے امریکی طیارہ نور خان ائربیس پہنچا تھا۔ یاد رہے کہ اسلام آباد میں امریکی سفارتکار کرنل جوزف کی گاڑی کی ٹکر سے عتیق نامی نوجوان کچل کر جاں بحق ہو گیا تھا۔ گزشتہ روز اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا تھا کہ امریکی سفارتکار کو سفارتی استثنیٰ حاصل نہیں، لہٰذا حکام ان کا نام ای سی ایل ڈالنے یا نہ ڈالنے کے حوالے سے دو ہفتوں میں فیصلہ کریں۔
 


Viewing all 4738 articles
Browse latest View live


<script src="https://jsc.adskeeper.com/r/s/rssing.com.1596347.js" async> </script>