↧
دنیا کی نصف آبادی صحت کی سہولیات سے محروم
↧
قندوز کے شہید میڈیا کے کیمرہ سے اوجھل کیوں؟؟
جنوری 2015 میں فرانس کے میگزین چارلی ایبڈو (جو گستاخانہ خاکے شائع کرنے کی وجہ سے مشہور تھا) کے دفتر پر ایک دہشتگرد حملہ کیا گیا جس کے نتیجے میں بارہ افراد ہلاک ہوئے ۔ اس واقعہ کی عالمی میڈیا نے اس انداز میں کوریج کی کہ پوری دنیا اس واقعہ کی مذمت کے لیے اُٹھ کھڑی ہوئی۔ یہاں تک کے پاکستان کے صدر ممنوں حسین نے ایک تعزیتی خط فرانسیسی حکومت کو فوری لکھ دیا، ہمارے دفتر خارجہ نے بھی اس واقعہ کی مذمت کی، کئی سیاستدانوں نے بھی اپنا اپنا احتجاج ریکارڈ کروایا، ہمارا میڈیا بھی عالمی میڈیا کے زیر اثر اس واقعہ کو خوب فوکس کرتا رہا اور اس کے ساتھ ساتھ ہمارے بہت سے سیکولرز اور لبرلز نے سوشل میڈیا کے ذریعے فرانس اور چارلی ایبڈو کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کیا اور کئی روز تک سوشل میڈیا بشمول ٹویٹر کے ذریعے "I am Charlie Hebdo" (میں چارلی ہیبڈو ہوں) کی عالمی مہم کا حصہ بنے رہے۔
گزشتہ ہفتہ افغانستان کے علاقہ قندوز میں ایک مدرسہ پر فضائی حملہ کیا گیا جس میں ڈیڑھ سو سے افراد جن میں اکثریت بچوں کی تھی کو شہید کیا گیا۔ ابتدا میں میڈیا کے ذریعے کہا گیا کہ حملہ دہشتگردوں پر کیا گیا لیکن جب حقیقت کھلی کہ اس بربریت کا شکار معصوم بچے تھے جو قرآن پاک کاحفظ مکمل ہونے پر وہاں دستاربندی کے لیے جمع ہوے تھے تو میڈیا پر خاموشی طاری ہو گئی۔ شہادت پانے والے بچوں کی تصاویر سوشل میڈیا پر دیکھیں تو دل دہل گئے کہ اتنا بڑا ظلم لیکن دوسری طرف مجرمانہ خاموشی۔ عالمی میڈیا سے تو کوئی توقع رکھنا ہی فضول تھا، ہمارے لوکل میڈیا نے بھی اس ظلم و بربریت پر کوئی توجہ نہ دی جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔
ویسے سب کو خبر تو مل گئی کہ فضائی حملہ میں معصوم حفاظ کرام شہید ہوئے لیکن نہ تو صدر پاکستان کی طرف سے اس سانحہ پر کوئی مذمتی بیان جاری ہوا، نہ ہی کوئی دوسرا حکومتی یا ریاستی ذمہ دار بولا۔ وزارت خارجہ کی ہفتہ وار بریفنگ کے دوران ترجمان دفتر خارجہ نے جب اس ظلم پر کوئی بات نہ کی تو ایک صحافی نے سوال کیا کہ ویسے تو دفتر خارجہ افغانستان میں کسی بھی دہشتگردی کے واقعہ پر فوری مذمتی بیان جاری کرتا ہے لیکن قندوز سانحہ پر کیوں خاموش ہے؟؟اس کے جواب میں دفتر خارجہ کے ترجمان نے کچھ رسمی مذمتی الفاظ دہراتے ہوئے کہا کہ ہم دوسرے ممالک کے اندرونی معاملات پر بات نہیں کرتے۔
کیا خوب پالیسی ہے ہماری؟؟؟ اور کیسا امتیازی سلوک ساری دنیا قندوز سانحہ جیسے شہداء کے ساتھ روا رکھے ہوئے ہے؟؟ یعنی اگر دہشتگردی کسی فرد نے کی یا کسی پرائیویٹ گروہ نے تو پھر تو اس پر مذمت کی جائے گی اور اس کے خلاف آواز بھی اٹھائی جائے گی۔ لیکن اگر دہشتگردی ریاست کی طرف سے کی جائے اور مرنے والوں کی تعداد چاہیے سینکڑوں، ہزاروں یا لاکھوں تک بھی پہنچ جائے تو نہ کوئی مذمت، نہ کوئی احتجاج، نہ کوئی افسوس اور نہ کوئی معافی اور یہی ہم افغانستان، عراق، شام، کشمیر، فلسطین، یمن اور دوسرے کئی اسلامی ممالک میں دیکھ رہے ہیں۔ انصاف نام کی کو ئی چیز نہیں، جب لگتا ہے کہ ضمیر مر چکے ہیں۔ 9/11 کے بعداس ریاستی دھشتگردی کو کھلی چھٹی دے دی گئی جس کے لیے شرط صرف ایک ہی رہی اور وہ یہ کہ ریاستی دہشتگردی کا نشانہ صرف مسلمانوں کو ہی ہونا چاہیے۔
مغرب سے یا اُن کے میڈیا سے کوئی کیا گلہ کرے، دکھ تو اس بات کا ہے کہ ہم مسلمان، ہماری حکومتیں اور ہمارا میڈیا بھی وہی کرتا ہے جو امریکا کی پالیسی ہے۔ ہمارے ٹی وی چینلز کو ہی دیکھ لیجیے جنہوں نے پاکستانی قوم کو بھارتی فلمی اداکارہ سری دیوی کی موت پر دن رات کوریج کر کے گھنٹوں سوگ منایا اور ایک وقت تو یہ ڈر پیدا ہو گیا کہ ہمارا میڈیا کہیں سری دیوی کو شہید کا درجہ ہی نہ دے دے۔ گزشتہ ہفتہ ایک اور بھارتی اداکار سلمان خان کو پانچ سال سزا ملنے پر ہمارے چینلز نے اسے پاکستانیوں کا بہت بڑا مسئلہ بنا کر پیش کیا لیکن افسوس کہ انہی چینلز کو قندوز مدرسے میں شہید کیے جانے والے معصوم بچوں کے نہ توچہرے نظر آئے نہ ہی اُنہیں ان بچوں کے والدین پر جو گزری اُس کی فکر تھی۔
سوشل میڈیا اور ٹیوٹر پر بھی میڈیا سے تعلق رکھنے والے اور دوسرے وہ سیکولرز اور لبرلز جو فرانس حملہ پر 12 افراد کی ہلاکت پر کئی روز افسوس کا اظہار کرتے رہے، کی اکثریت کے پاس بھی ان ڈیڑھ سو سے زائد حفاظ کرام کی شہادت پر افسوس اور اس ظلم کی مذمت کے لیے کچھ بھی کہنے کا وقت نہیں تھا۔ کسی نے سوال نہیں اٹھایا کہ ان معصوم بچوں کا آخر قصور کیا تھا؟ یہ بچے تو حافظ قرآن تھے جو ایک بہت بڑی سعادت کی بات تھی لیکن ایسے معصوموں کی شہادت پر ماسوائے پاکستان کے مذہبی ر ہنماوں کے کسی صف اول کے سیاسی رہنما کو بھی توفیق نہ ہوئی کہ اس معاملہ پر بات کرے اور ان انسان دشمن عمل کی مذمت کرے۔
کیا داڑھی والوں اور مدرسے میں پڑھنے والوں کی زندگی کی کوئی حیثیت نہیں؟؟ اُنہیں جو چاہے مار دے!!! ظلم ظلم ہے چاہے اس کا شکار کوئی بھی کیوں نہ ہو۔ قندوز سانحہ ریاستی دہشتگردی کا ایک سنگین واقعہ ہے۔ اس ظلم کو اجاگر کرنے اور اس کے خلاف بیداری پیدا کرنے کے لیے میڈیا کا کردار بہت اہم ہے۔ وہی میڈیا جو ہمیں رلاتا بھی ہے اور ہنساتا بھی ہے ، وہی میڈیا جس کا اب یہ دائرہ اختیار بنا دیا گیا ہے کہ کس کو ظالم اور کس کو مظلوم بنا کر دکھائے۔ یہ میڈیا ہی فیصلہ کرتا ہے کہ کس واقعہ پر ہمیں افسردہ کرے، کہاں رلائے اور کس واقعہ کو چاہے وہ کتنا ہی بڑا سانحہ ہو اُسے کوئی اہمیت نہ دے۔
افغانستان پر حملہ کرنا مقصود تھا تو اس کا راستہ میڈیا ہی کے ذریعے ہموار کیا گیا۔ عراق کو تباہ و برباد کرنا تھا تو مہلک ہتھیاروں کی موجودگی کا جھوٹ میڈیا ہی کے ذریعے بیچا گیا۔ لیبیا پر حملہ کرنا تھا تو کرنل قدافی کو ولن کے طور پر میڈیا ہی کے ذریعے پیش کیا گیا۔ میری درخواست مسلمان ممالک کے میڈیا سے ہے کہ مہربانی کر کے ایک لمحہ کے لیے سوچیں کہ مغرب اور مغربی میڈیا کی نقالی میں ہم بھی کہیں معصوم مسلمانوں کے خون سے اپنے ہاتھ تو نہیں رنگ رہے۔
انصار عباسی
↧
↧
غزہ میں کوئی معصوم لوگ نہیں : اسرائیل
اسرائیلی وزیر دفاع لیبرمین نے اپنے ایک متنازعہ بیان میں کہا ہے کہ حماس کے زیر انتظام غزہ پٹی میں ’کوئی معصوم لوگ نہیں‘ ہیں۔ اس فلسطینی علاقے میں احتجاجی مظاہروں اور جھڑپوں میں دس دنوں میں تیس فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں۔ یروشلم سے نیوز ایجنسی اے ایف پی کی رپورٹوں کے مطابق اسرائیلی وزیر دفاع ایوگڈور لیبرمین نے آج اسرائیلی پبلک ریڈیو کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ غزہ پٹی کے فلسطینی علاقے میں ’کوئی معصوم لوگ ہیں ہی نہیں‘۔ لیبرمین نے کہا، (غزہ میں) ہر کسی کا تعلق حماس سے ہے۔ ہر کوئی حماس سے تنخواہ وصول کرتا ہے۔ وہ تمام کارروائیاں، جن کے ذریعے ہمیں چیلنج کیا جا رہا ہے اور سرحد کی خلاف ورزی کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے، وہ حماس کے عسکری بازو کی سرگرمیاں ہیں۔
غزہ میں وزارت صحت کے مطابق غزہ پٹی اور اسرائیل کے درمیان سرحد پر ہزاروں کی تعداد میں فلسطینی گزشتہ دس دنوں سے اپنا جو احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں، اس دوران ان مظاہرین کی اسرائیلی دستوں کے ساتھ جھڑپیں بھی ہوئیں اور اسرائیلی فائرنگ کے نتیجے میں اب تک کم از کم 30 فلسطینی مارے جا چکے ہیں جبکہ زخمی فلسطینیوں کی تعداد بھی سینکڑوں میں بنتی ہے۔ ان جھڑپوں میں کسی اسرائیلی کے زخمی ہونے کی کوئی اطلاعات نہیں ہیں۔ ان حالات میں اسرائیل کو اس وجہ سے بڑھتی ہوئی تنقید اور بین الاقوامی برادری کے چبھتے ہوئے سوالات کا سامنا ہے کہ اسرائیلی دستوں نے فلسطینی مظاہرین پر وہ فائرنگ کیوں کی، جو اب تک درجنوں انسانی جانوں کے ضیاع کا سبب بن چکی ہے۔ غزہ پٹی اور اسرائیل کی درمیانی سرحد کے قریب فلسطینی مظاہرین نے اپنا احتجاج 30 مارچ کو شروع کیا تھا اور اس دوران جب ان ہزاروں مظاہرین کی اسرائیلی دستوں کے ساتھ جھڑپیں شروع ہو گئی تھیں، تو اسرائیلی فوجیوں کی طرف سے کی گئی فائرنگ کے نتیجے میں اس روز 19 فلسطینی مارے گئے تھے۔
پھر گزشتہ جمعے کے روز جب فلسطینیوں نے دوبارہ اپنے یہی مظاہرے پھر کیے، تو بھی اسرائیل کے ساتھ سرحد کے قریب ایک صحافی سمیت کم از کم نو فلسطینی مارے گئے تھے۔ اسرائیل کا اس فائرنگ کے بارے میں کہنا ہے کہ اس کے فوجیوں نے یہ فائرنگ اس وجہ سے کی کہ فلسطینی مظاہرین کی طرف سے سرحدی باڑ کو نقصان پہنچائے جانے کے علاوہ ممکنہ حملوں اور مظاہرین کی اسرائیل میں داخلے کی کوششوں کو ناکام بنایا جا سکے۔ ان مظاہروں اور جھڑپوں کے دوران صرف دس دنوں میں درجنوں فلسطینیوں کی ہلاکت کے بعد یورپی یونین اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انٹونیو گوٹیرش کی طرف سے بھی یہ مطالبے کیے جا چکے ہیں کہ ان ہلاکت خیز واقعات کی غیر جانبدارانہ چھان بین کرائی جانا چاہیے۔ اسرائیل ان مطالبات کو قطعی طور پر مسترد کر چکا ہے۔
بشکریہ DW اردو
↧
شام کے فوجی اڈے پر میزائل حملہ اسرائیل نے کیا
شام کے سرکاری ٹی وی نے ایک اعلیٰ فوجی افسر کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل کے 'ایف 15'جنگی طیاروں نے شام کے پڑوسی ملک لبنان کی فضائی حدود سے شامی فوجی اڈے پر کئی میزائل داغے۔ شام اور روس نے کہا ہے کہ شام کے ایک فوجی ہوائی اڈے پر کیا جانے والا حملہ امریکہ نے نہیں بلکہ اسرائیل نے کیا تھا۔ اس سے قبل شام کی حکومت نے اس حملے کا الزام امریکہ پر عائد کیا تھا لیکن امریکی محکمۂ دفاع 'پینٹاگون'نے اس الزام کی تردید کرتے ہوئے کہا تھا کہ امریکہ نے شام میں کوئی کارروائی نہیں کی۔ روس کی وزارتِ دفاع نے ایک بیان میں کہا ہے کہ شام کے وسطی صوبے حمص میں واقع 'ٹی 4'نامی فوجی ہوائی اڈے پر حملہ اسرائیل کے دو جنگی طیاروں نے کیا تھا جو لبنان کی فضائی حدود میں تھے۔
شامی فوج کے ایک اعلیٰ افسر نے بھی روسی فوج کے اس دعوے کی تصدیق کی ہے کہ حملے میں اسرائیل ملوث ہے۔ شام کے سرکاری ٹی وی نے ایک اعلیٰ فوجی افسر کے حوالے سے بتایا ہے کہ اسرائیل کے 'ایف 15'جنگی طیاروں نے شام کے پڑوسی ملک لبنان کی فضائی حدود سے شامی فوجی اڈے پر کئی میزائل داغے۔ سرکاری ٹی وی نے واقعے کی مزید تفصیل بیان نہیں کی۔ البتہ اپنی پہلی رپورٹ میں سرکاری ٹی وی نے کہا تھا کہ حملے میں کئی افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔ روسی وزارتِ دفاع نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ شامی فوج نے ہوائی اڈے پر فائر کیے جانے والے آٹھ میں سے پانچ میزائل مار گرائے البتہ تین میزائلوں نے ہوائی اڈے کے مغربی حصے کو نشانہ بنایا۔
دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملے کا نشانہ بننے والے ہوائی اڈے پر روسی فوجیوں کی بڑی تعداد بھی تعینات ہے اور اس ہوائی اڈے سے اڑنے والے جنگی جہاز تواتر سے شام میں باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں پر بمباری کرتے ہیں۔ شام میں جاری تشدد پر نظر رکھنے والی برطانوی تنظیم 'سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس'نے کہا ہے کہ ہوائی اڈے پر کیے جانے والے حملے میں کم از کم 14 افراد ہلاک ہوئے ہیں.
بشکریہ وائس آف امریکہ
↧
لندن نے قتل کے واقعات میں نیویارک کو پیچھے چھوڑ دیا
برطانیہ میں جرائم کی شرح میں خطرناک حد تک اضافہ ہوا ہے، برطانوی میڈیا کے مطابق لندن میں ہونے والے قتل کے واقعات نے نیویارک کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔ برطانوی وزیر داخلہ ایمبررڈ کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ برطانوی حکومت نے جرائم کے خلاف اعلان جنگ کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جرائم پر قابو پانے کے لیے نئے فنڈز جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے، حکومت جرائم پر قابو پانے کے لیے ہرممکن اقدام اٹھائے گی۔ ایمبر رڈ کا یہ بھی کہنا ہے کہ نئے فنڈ میں ساڑھے 6 ارب روپے کی مساوی رقم رکھی گئی ہے، اس فنڈ سے سیکیورٹی فورسز کو اپنا کام بہتر انداز میں کرنے میں مدد ملے گی۔
↧
↧
کم جونگ ان چین میں کیا کرتے رہے ؟
کئی روز کی افواہوں کے بعد اب باضابطہ طور پر تصدیق کر دی گئی ہے کہ شمالی کوریا کے سربراہ کم جونگ ان نے چین کا دورہ کیا اور اعلی حکام سے ملاقاتیں کیں۔
مقامی میڈیا پر یہ خبر چلی کہ سفارتی ٹرین پر ہائی پروفائل شخصیت بیجنگ پہنچی ہے جبکہ جاپانی میڈیا کا کہنا تھا کہ وہ شخصیت شمالی کوریائی لیڈر کم جونگ ان ہیں۔
اب کم جونگ کے اس دورے کی تصدیق چین اور شمالی کوریا دونوں نے کر دی ہے.
چینی خبر رساں ایجنسی شن ہوا کا کہنا ہے کہ کم جونگ ان کے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ کامیاب مذاکرات ہوئے ہیں.
ایجنسی کے مطابق غیر سرکاری دورے کے دوران کم جونگ ان نے اپنے چینی ہم منصب کو جوہری ہتھیاروں کے خاتمے کے عزم پر قائم رہنے کی یقین دہانی کرائی.
شمالی کوریائی لیڈر کم جونگ ان کا 2011 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد یہ پہلا غیر ملکی دورہ تھا.
اس دورے کو امریکہ اور جنوبی کوریا کے ساتھ شمالی کوریا کی جانب سے مذاکرات پر رضامندی دیے جانے کے تناظر میں بہت اہم قدم قرار دیا جا رہا ہے.
ماہرین کا کہنا تھا کہ ٹرمپ سے ملاقات سے پہلے شمالی کوریا اور چین کے اعلیٰ حکام ایک ملاقات کر سکتے ہیں۔
↧
ایڈولف ہٹلر : عروج سے زوال تک
ایڈولف ہٹلر آسٹریا کے شہر برائونا میں 1889ء میں پیدا ہوا۔ نوجوانی میں اس نے عملی زندگی کا آغاز ایک ناکامیاب مصور کی حیثیت سے کیا۔ بعدازاں وہ ایک پرجوش جرمن قومیت پرست بن گیا۔ جنگ عظیم اول میں وہ جرمن فوج میں بھرتی ہوا، زخمی ہوا اور اسے شجاعت کے مظاہرے پر میڈل ملے۔ جرمنی کی شکست نے اسے صدمہ پہنچایا اور برہم کیا۔ 1919ء میں جب وہ تیس برس کا تھا، وہ میونخ میں ایک چھوٹی سی دائیں بازو کی جماعت میں شامل ہوا، جس نے جلد ہی اپنا نام بدل کر نیشنل سوشلسٹ جرمن ورکرز پارٹی (مختصراً ’’نازی‘‘ جماعت) رکھ لیا۔ ترقی کرتے ہوئے، اگلے دو برسوں میں وہ اس کا غیر متنازعہ قائد بن گیا۔ ہٹلر کی زیر قیادت نازی جماعت جلد ہی طاقت ور ہو گئی۔
نومبر 1923ء میں اس نے اقتدار پر قبضہ کرنے کے لیے ایک کودیتا کی کوشش کی، جسے ’’میونخ بیئرپال پوش‘‘ کا نام دیا جاتا ہے۔ یہ ناکام رہا جس کے بعد ہٹلر کو گرفتار کر لیا گیا۔ اس پر غداری کا مقدمہ چلا اور اسے سزا ہوئی۔ تاہم ایک سال سے بھی کم جیل کاٹنے کے بعد اسے رہا کر دیا گیا۔ 1928ء میں بھی ’’نازی‘‘ مختصر سی جماعت تھی۔ تاہم عظیم عالمی کساد بازاری کے دور میں جرمن عوام سیاسی جماعتوں سے بیزار ہونے لگے۔ اس صورت حال میں نازی جماعت نے خود کو متبادل کے طور پر پیش کرتے ہوئے اپنی بنیادیں مضبوط کر لیں۔ جنوری 1933ء میں چوالیس برس کی عمر میں ہٹلر جرمنی کا چانسلر بن گیا۔ چانسلر بننے پر اس نے تمام مخالف جماعتوں کو زبر دستی دبانا شروع کر دیا، اورآمر بن بیٹھا۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ یہ سب کچھ عوامی رائے اور قوانین کے مطابق ہوا۔ بس سب کچھ تیزی کے ساتھ کیا گیا۔
نازیوں نے مقدمات کا تکلف بھی ضروری نہیں سمجھا۔ بیشتر سیاسی حریفوں پر تشدد کو استعمال کیا گیا اور انہیں زدو کوب کیا گیا، بعض کو مار دیا گیا۔ تاہم اس کے باوجود عالمی جنگ کی شروعات سے پہلے چند سالوں میں ہٹلر کو جرمنوں کی بڑی اکثریت کی حمایت حاصل رہی، کیونکہ اس نے بے روزگاری کا خاتمہ کیا اور معاشی خوشحالی لایا۔ پھر وہ دوسرے ملک فتح کرنے لگا جو وہ جنگ عظیم دوم کا سبب بنا۔ ابتدائی فتوحات اسے لڑائی کے چکر میں پڑے بغیر حاصل ہوئیں۔ انگلستان اور فرانس اپنی معاشی بدحالی کے باعث مایوس تھے اور امن کے خواہاں تھے۔ اسی لیے انہوں نے ہٹلر کے کسی کام میں مداخلت نہیں کی۔
ہٹلر نے ورسیلز کا معاہدہ منسوخ کیا اور جرمن فوج کو ازسرنو منظم کیا۔ اس کے دستوں نے مارچ 1936ء میں رہائن لینڈ پر قبضہ کیا، مارچ 1938ء میں آسٹریا کو جبری طور پر خود سے ملحق کر لیا۔ اس نے ’’سوڈبٹن لینڈ‘‘ کو بھی ستمبر 1938ء میں الحاق پر رضا مند کر لیا۔ یہ چیکو سلواکیہ کا ایک قلعہ بند علاقہ تھا جو ایک معاہدے سے ہٹلر کے پاس چلا گیا۔ اس بین الاقوامی معاہدے کو ’’میونخ پیکٹ‘‘ کہتے ہیں۔ برطانیہ اورفرانس کو امید تھی کہ یہ سب کچھ لے کر وہ پرامن ہو جائے گا لیکن ایسا نہ ہوا۔
ہٹلر نے اگلے چند ماہ میں مزید حصہ بھی غصب کر لیا۔ ہر مرحلے پر ہٹلر نے مکاری سے اپنے اقدامات کے جواز گھڑ لیے اور دھمکی بھی دی۔ اس نے کہا، اگر کسی نے مزاحم ہونے کی کوشش کی، تو وہ جنگ کرے گا۔ ہر مرحلے پر مغربی جمہوریتوں نے پسپائی اختیار کی۔ انگلستان اورفرانس نے البتہ پولینڈ کے دفاع کا قصد کیا، جو ہٹلر کا اگلا نشانہ تھا۔ ہٹلر نے اپنے دفاع کے لیے اگست 1939ء میں سٹالن کے ساتھ ’’عدم جارحیت‘‘ کے معاہدے پر دستخط کیے (دراصل یہ ایک جارحانہ اتحاد تھا۔ جس میں دو آمر اس امر پر متفق ہوئے تھے، کہ وہ پولینڈ کو کس شرح سے آپس میں تقسیم کریں گے)۔ نو دن بعد جرمنی نے پولینڈ پر حملہ کیا۔ اس کے سولہ روز بعد روس بھی حملے میں شامل ہو گیا، اگرچہ انگلستان اور فرانس بھی اس جنگ میں کود پڑے، لیکن پولینڈ کو شکست فاش ہوئی۔ 1940ء ہٹلر کے لیے بہت اہم برس تھا۔
اپریل میں اس کی فوجوں نے ڈنمارک اور ناروے کو روند ڈالا۔ مئی میں انہوں نے ہالینڈ، بلجیم اور لکسمبرگ کو تاخت و تاراج کیا۔ جون میں فرانس نے شکست کھائی لیکن اسی برس برطانیہ نے جرمن ہوائی حملوں کا دلیری سے مقابلہ کیا۔ برطانیہ کی مشہور جنگ شروع ہوئی۔ ہٹلر کبھی انگلستان پر قابض ہونے میں کامیاب نہ ہو سکا۔ اپریل 1941ء میں ہٹلر کی فوجوں نے یونان اور یوگوسلاویہ پر قبضہ کیا۔ جون 1941ء میں ہٹلر نے عدم جارجیت کے معاہدے کو تارتار کیا اور روس پر حملہ آور ہوا۔ اس کی فوجوں نے بڑے روسی علاقے پر فتح حاصل کی۔ لیکن وہ موسم سرما سے پہلے روسی فوجوں کو نیست ونابود کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ ہٹلر بیک وقت روس اورانگلستان سے برسرپیکار تھا، اس کے باوجود وہ دسمبر 1941ء میں امریکہ پر بھی حملہ آور ہو گیا۔
کچھ عرصہ پہلے جاپان پرل ہاربر میں امریکی بحری چھائونی پر حملہ کر چکا تھا۔ 1942ء کے وسط تک جرمنی یورپ کے ایک بڑے حصے پر قابض ہو چکا تھا۔ تاریخ یورپ میں کسی قوم نے کبھی اتنی وسیع سلطنت پر حکمرانی نہیں کی تھی۔ مزید برآں اس نے شمالی افریقہ کے بیشتر حصہ کو بھی فتح کیا۔ 1942ء کے دوسرے نصف میں جنگ کا رخ بدل گیا۔ جب جرمنی کو مصر میں العلمین اور روس میں سٹالن گراڈ کی جنگوں میں شکست کی ہزیمت اٹھانی پڑی۔ ان نقصانات کے بعد جرمنی کی عسکری برتری کا زوال شروع ہوا۔ جرمنی کی حتمی شکست گو اب ناگزیر معلوم ہو رہی تھی، لیکن ہٹلر نے جنگ سے دست بردار ہونے سے انکار کر دیا، ہولناک نقصانات کے باوجود سٹالن گراڈ کی شکست کے بعد قریب دو برس یہ جنگ جاری رہی۔ 1945ء کے موسم بہار میں تلخ انجام وقوع پذیر ہوا۔ 30 اپریل کو برلن میں ہٹلر نے خودکشی کر لی۔ سات روز بعد جرمنی نے ہتھیار پھینک دیے۔ متعدد وجوہات کی بنا پر یہ ظاہر ہوتا ہے کہ ہٹلر کی شہرت باقی رہے گی۔ ایک تو اس لیے کہ اسے تاریخ کے بدنام ترین افراد میں شمار کیا جاتا ہے۔
مائیکل ہارٹ
↧
عراق جنگ : پندرہ سال بعد بھی بہت سارے سوالات جواب طلب ہیں
نو اپریل 2003ء کو بغداد میں صدام حسین کا مجمسہ مسمار کر دیا گیا تھا۔ جھوٹ کی بنیاد پر لڑی جانے والی اس جنگ کی وجہ سے ان پندرہ برسوں کے دوران کئی ہزار بے گناہ ہلاک ہوئے اور مشرقی وسطی کا پورا خطہ افراتفری کا شکار ہو گیا۔ نو اپریل 2003ء کو بغداد میں سابق عراقی صدر صدام حسین کے مجسمے کو مسمار کرنے کے موقع پر کھینچی جانے والی تصاویر انسانیت کی مشترکہ یادداشت میں پیوست ہو چکی ہیں۔ تاہم اب پندرہ سال بعد بھی بہت سارے سوالات جواب طلب ہیں۔ مثال کے طور پر عراق جنگ کے دوران کتنی ہلاکتیں ہوئیں؟ اندازے لگائے گئے ہیں کہ ڈیڑھ لاکھ سے پانچ لاکھ اس جنگ کی نذر ہوئے ہیں جبکہ اس حوالے سے کی جانے والی کئی ایک تحقیقاتی رپورٹس میں ہلاکتوں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ بتائی جاتی ہے۔
اس کے علاوہ بمباری، خود کش حملوں اور دیگر پرتشدد کارروائیوں میں ملک کے بنیادی ڈھانچے اور طبی شعبے کو پہنچنے والے نقصانات کا بھی ابھی تک صحیح اندازہ نہیں لگایا گیا ہے۔ تاہم ایک بات سب پر واضح ہے کہ اس عسکری کارروائی کا جواز جھوٹ پر مبنی تھا۔ عراق جنگ کے حوالے سے پانچ فروری 2003ء کو سلامتی کونسل میں سابق امریکی وزیر خارجہ کولن پاؤل نے اپنے خطاب میں کہا تھا کہ صدام حسین کے پاس بڑے پیمانے تباہی پھیلانے ہتھیار ہیں، صدام حکومت بین الاقوامی دہشت گردی کی پشت پناہی کرتی ہے اور وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوششوں میں ہے۔ یورپی خارجہ امور کے سربراہ اور نیٹو کے سابق سیکرٹری جنرل خاویر سُولانا کے مطابق 43 ویں امریکی صدر جارج بش کی انتظامیہ جنگ چاہتی تھی اور عراق جنگ کی بنیاد 9 ستمبر سن 2011 سے پہلے ہی رکھ دی گئی تھی۔ ان کے بقول بش نے دوبارہ صدر منتخب ہونے کے بعد ہی عراق کو سلامتی کی اپنی پالیسی میں ترجیحاً شامل کیا تھا۔
↧
ایمسٹرڈیم کی سیر
قوموں کی تہذیب وتمدّن سے آشنا ہونے کے لیے قرآن میں حکم ہے کہ زمین میں پھرو اور انکار کرنے والی مردہ قوموں کے حالات سے واقفیت حاصل کرو۔ چنانچہ ہم نے کئی ممالک دیکھے اور جہالت کی زندگی سے روشنی تک حالات کا علم ہوا۔ موجودہ دور میں ہالینڈ کے لوگوں نے جینے کا سلیقہ سیکھ لیا اور ماڈرن تہذیب و تمدن کے میدان میں عروج حاصل کیا۔ ڈچ قوم نے اپنے اردگرد پر غور کیا۔ تدبر و تفکر اور یکسوئی سے اپنے اندر انقلاب برپا کر کے دنیا کی ماڈرن قوموں میں اپنا شمار کر لیا۔ ایک زمانہ تھا کہ ڈچ مچھلیاں پکڑتے تھے۔ کشتی رانی ان کا پیشہ تھا۔ پھر یہ لوگ امریکہ کے شمال مشرقی حصہ پر قابض ہو گئے تھے۔
نیویارک کے علاقہ کو ڈچ کے قبضہ کی بدولت نیو نیدر لینڈ کہا کرتے تھے۔ یہ بڑی محنتی قوم ہے۔ ذہنی اور فکری سوچ ان کا سرمایہ ہے۔ ان لوگوں نے چھوٹے سے ملک کو کمال کا عروج بخشا ہے۔ ایئرپورٹ سطح سمندر سے نیچے ہے۔ ریل گاڑی کا انتظام زیر زمین ہے۔ سمندر کو روک کر شہر آباد کر لیے۔ نیدرلینڈ خوبصورت ترین چھوٹا سا ملک ہے اور بے پناہ قسم کا صاف ستھرا، ڈسپلن کا پابند ہے۔ ان کا فضائی سفر آرام دہ اور خوشگوار ہے۔ نہایت ماڈرن ایئر پورٹ ہے۔ جس میں ہر طرح کا آرام اور کھلا پن ہے۔ دکانیں عمدہ، شہر میں ریلوے نیٹ ورک حیرت کدہ ہے۔ بسیں چلتی ہیں، ائرپورٹ (Schiphol) کیا غضب کا ہے۔ فضائی کمپنی یم کا عملہ بڑا چوکس ہے۔ یہ ہوائی اڈا 45 میٹر سطح سمندر سے نیچے ہے۔
ہیگ میں دنیا کی بین الاقوامی عدالت ہے۔ اس کو امن کا شہر کہتے ہیں۔ اسی شہر میں بیگم رعنا لیاقت علی خان پاکستان کی سفیر رہ چکی ہیں۔ اسی عدالت کے چیف جسٹس ظفر اللہ تھے۔ اس اکیڈمی سے جسٹس ڈاکٹر نسیم حسن شاہ (مرحوم ) نے وکالت کی تعلیم حاصل کی۔ ایمسٹرڈیم شہر کی خاصیت یہ ہے کہ اس شہر کو پائلز(Piles) پر بنایا گیا ہے۔ سمندر میں کئی بڑے بڑے مکعب ڈالے گئے اور شہر تعمیر کیا گیا۔ ایسا طریقہ اختیار کیا کہ سمندر کے پانی کو روکا اور عالی شان عمارتیں کھڑی کر لیں۔ کمال تو یہ ہے کہ سمندر کی لہریں زیادہ نہیں ہوتیں۔ ہم نے سمندر کی سیر کی۔
سمندر کے کنارے اعلیٰ قسم کی لذیذ مچھلی میسّر آتی ہے۔ اس کا نام 17ویں صدی میں پڑا۔ اس وقت ایک آدمی جس کا نام ایمسٹرڈیم تھا، اُس نے اپنا مکان سمندر کے قریب بنایا، یہ مکان اب بھی موجود ہے۔ جس میں بوڑھے حضرات کا قیام ہے۔ شاہی محل کے سامنے آزادی کا نشان ہے۔ ایمسٹرڈیم میں میوزیم بہت عمدہ ہیں۔ پینوراما میسزڈک، وہ جگہ ہے جہاں ڈچ پینٹر نے ایک بڑی پینٹنگ پینوراما کو ایک بڑے کپڑے پر 17ویں صدی کے مناظر پیش کیے، ایسا لگتا ہے کہ یہ پینٹنگ کل تیار ہوئی۔ اس کا کام اتنا قدرتی اور اعلیٰ ہے کہ حکومت ہالینڈ نے اس کے نام کا سکّہ جاری کیا۔ اس کی شہرت نہریں بھی ہیں جو شہر میں رواں دواں ہیں۔
یہ لوگوں کو خوشی اور تفریح کا سامان مہیا کرتی ہیں۔ کئی مقامات پر نہروں کے اوپر پل تعمیر کیے گئے ہیں۔ جب کوئی اونچی چیز کا نہر سے گزر ہوتا ہے تو ٹریفک تھوڑی دیر کے لیے رُک جاتی ہے۔ پل (تعمیر شدہ) اوپر اٹھ جاتا ہے۔ یہاں پر خاص قسم کے گھر ہیں، ایک ہی طرز پر بنے ہوئے ہیں۔ میوزیم بے شمار ہیں۔ 17ویں صدی کے تعمیر شدہ مکانات موجود ہیں اور ماڈرن آرکیٹیکچر کے نمونے بھی میسّر آتے ہیں۔ ہم نے ایمسٹرڈیم کی گلیوں، بازاروں، چوراہوں کی سیر کی، ہر لحاظ سے ہم نے اس شہر کو منفرد پایا۔
ایمسٹرڈیم کے قدیم علاقہ میں جائیں تو جس طرح اندرون لاہور ہے۔ وہ نقشہ نظر آتا ہے۔ اس میں میوزیم، پارک، مارکیٹ آپ کو اپنی طرف راغب کرتی ہیں۔ اس میں تقریباً 6 ہزار 8 سو ٹرسٹ بلڈنگز ہیں جو حکومت کے قبضہ میں ہیں۔ ان بلڈنگز کا تعلق 16ویں اور 20ویں صدی سے ہے۔ ہالینڈ کے لوگ فرانسیسیوں یا جرمن یا اٹلی والوں کی طرح انگریزی بولنا پسند نہیں کرتے۔ مگر آپ انگریزی میں مدعا بیان کر سکتے ہیں۔ یورپی ممالک کی طرح یہاں بھی آپ کو انڈونیشیا، فرانس، اٹلی، میکسیکن اور انڈو پاکستان ریسٹورنٹ میسّر آئیں گے۔
مگر ایمسٹرڈیم کی برائون کافی طبیعت کو ہشاش بشاش کر دیتی ہے۔ عمدہ بھنی ہوئی مچھلی میسّر آتی ہے۔ نوجوان علیٰحدہ ریسٹورنٹ میں اپنا ڈیرہ لگاتے ہیں۔ آرٹ ڈیگو کیفے ہیں۔ ریسٹورنٹ رات ایک بجے تک کھلے رہتے ہیں۔ ایمسٹرڈیم اور ڈائمنڈ کا چولی دامن کا ساتھ ہے۔ گزشتہ چار صدیوں سے ایمسٹرڈیم نے ڈائمنڈ کی تجارت کو دنیا بھر میں مشہور کر دیا۔ یہ لوگ ہیروں کی تراش خراش میں اتنے ماہر ہیں کہ ان کی باریکی کامقابلہ نہیں کیا جا سکتا۔ اس لئے ایمسٹرڈیم کٹ ہیرے کی تجارت میں مشہور ہو گیا ہے۔ ڈائمنڈ افریقہ میں1867ء میں دریافت ہوا تھا۔ اس سے قبل ایمسٹرڈیم میں ہیرا تراشی کا کام چل رہا تھا۔ آپ کو تعجب تو ہو گا کہ ہیرا کلی نان (Cullinan) اور کوہ نور کی کٹائی اور پالش یہیں ہوئی تھی۔ بلیک ڈائمنڈ 33.74 کریٹ ہے۔ یہاں ہر سال تقریباً 8 لاکھ افراد اس آرٹ سے محظوظ ہوتے ہیں۔ان میں ہم بھی شامل تھے۔
پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی
↧
↧
امریکا، برطانیہ اور فرانس کی شام پر حملے کی منصوبہ بندی
شام کے شہر مشرقی غوطہ کے علاقے دوما میں بشارالاسد افواج کے مبینہ کیمیائی حملے کے بعد امریکا، فرانس اور برطانیہ نے شامی حکومت پر حملے کی منصوبہ بندی کر لی ہے، روس نے سلامتی کونسل میں امریکی قرارداد ویٹو کر دی ہے، قرارداد شام میں کیمیائی حملے سے متعلق تحقیقات سے تھی، امریکا نے بھی سلامتی کونسل میں روسی قرارداد کو ویٹو کر دیا، اقوام متحدہ میں روسی سفیر نے کہا ہے کہ شام پر کسی بھی حملے سے قبل ہوش سے کام لیا جائے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ آئندہ دو روز کے دوران زہریلی حملے سے متعلق سخت رد عمل دیں گے، برطانوی میڈیا کے مطابق خطے میں موجود امریکی جنگی جہاز نے پوزیشن سنبھال لی ہے جبکہ قبرص میں برطانوی فوجی اڈے پر غیر معمولی سرگرمیاں دیکھی گئی ہیں، شامی فوج نے بھی اپنی بری، بحری اور فضائیہ کو الرٹ کر دیا ہے جبکہ اسرائیل نے شام اور لبنان کی سرحد پر اپنی افواج کو الرٹ کر دیا ہے، سعودی عرب کا کہنا ہے کہ اگر مغربی اتحادیوں نے مطالبہ کیا تو وہ بھی شامی حکومت پر حملے میں شامل ہو سکتے ہیں.
تفصیلات کےمطابق امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے وزیردفاع جم میٹس نے اپنے بیرونی دورے منسوخ کر دیے ہیں، ٹرمپ کا کہنا تھا کہ کیمیائی حملے پر ردعمل دینے کے لیے ہمارے پاس عسکری سطح پر کئی راستے موجود ہیں جس کے لیے مغربی ممالک کے درمیان مشاورت جاری ہے، صدر ٹرمپ نے برطانوی وزیراعظم تھریسا مے کو بھی فون کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ شامی حکومت کو کیمیائی حملوں کی اجازت نہیں دے سکتے، دوسری جانب فرانسیسی صدر ایمانوئل میکغوں نے کہا ہے کہ اگر انہوں نے شام پر حملے کا فیصلہ کیا تو وہ شامی حکومت کے کیمیائی ہتھیاروں کی تنصیبات کو نشانہ بنائے گا، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان سے ملاقات کے بعد فرانسیسی صدر کا کہنا تھا کہ وہ آنے والے دنوں میں اپنے اتحادیوں امریکا اور برطانیہ کیساتھ مل کر رد عمل دیں گے، میکغوں کا کہنا تھا کہ فرانس کی معلومات کے مطابق شام میں کیمیائی ہتھیار استعمال ہوئے ہیں اور صاف ظاہر ہے کہ اس کے ذمہ دار شامی حکومت ہے.
اس موقع پر سعودی ولی عہد نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ اگر ان کے اتحادیوں نے شامی حکومت پر حملے کا مطالبہ کیا تو وہ یقیناً ایسا کریں گے، ادھر ممکنہ حملے کے پیش نظر شامی فوج نے اپنی تمام فوجی پوزیشنز کو الرٹ کر دیا ہے، سیرین آبزرویٹری کے مطابق تمام فضائی، بری اور بحری اڈوں پر تعینات فوجیوں کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے، شامی فوج کے ایک زریعہ نے فرانسیسی خبررساں ایجنسی کو بتایا کہ شامی فوج نے حفاظتی اقدامات اٹھانا شروع کر دیے ہیں۔ دریں اثناء قطر کے امیر نے واشنگٹن میں صدر ٹرمپ سے ملاقات کی ۔ اس موقع پر شیخ محمد بن خلیفہ الثانی اور ٹرمپ نے شام کی صورت حال اور خلیجی امور پر بات کی۔ صدر ٹرمپ سعودی عرب اور قطر میں مفاہمت چاہتے ہیں ۔
↧
نہتے فلسطینی کو گولی مارنے کی دنیا بھر میں مزمت
اسرائیل کے فوجی حکام فوجی بندوق پر لگی دور بین سے لی گئی ایک ایسی ویڈیو کے بارے میں تحقیقات کر رہے ہیں جس میں ایک نہتے فلسطینی کو ہلاک کرنے کے بعد اسرائیل فوجی خوشی منا رہے ہیں۔ یہ ویڈیو جو سوشل میڈیا پر بہت زیادہ دیکھی جا چکی ہے اسے اسرائیل کے بعض ٹی وی چینلوں پر بھی نشر کیا گیا جس پر اسرائیلی سیاست دانوں نے برہمی کا اظہار بھی کیا ہے۔ فوجی حکام کا کہنا ہے کہ یہ واقعہ بظاہر اسرائیل اور غزہ کی سرحد پر چند ماہ قبل پیش آیا تھا۔ لیکن یہ ویڈیو ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب غزہ میں بسنے والے سات لاکھ سے زیادہ فلسطینی اسرائیل کے زیرِ قبضہ اپنے آبائی گھروں میں واپس جانے کا حق مانگنے کے لیے غزہ کی سرحد پر مظاہرے کر رہے ہیں۔
اسرائیل کو نہتے فلسطینیوں پر گولیاں برسانے اور موجودہ مظاہروں میں دو درجن سے زیادہ فلسطینیوں کو ہلاک اور ڈیڑھ ہزار کے قریب فلسطینیوں کو زخمی کرنے پر عالمی سطح پر تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ اسرائیل نے اپنے دفاع میں کہا ہے کہ ان کے فوجی صرف ان ہی لوگوں کو نشانہ بنا رہے ہیں جو یا تو غزہ اور اسرائیل کی سرحد کو عبور کرنے کی کوشش کرتے ہیں یا ان کو جو اسلحہ اور دھماکہ خیز مواد استعمال کرنے کی کوشش میں تھے۔ مذکورہ ویڈیو میں تین افراد کو سرحدپر لگی باڑ کی طرف بڑھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ گولی چلنے کی آواز کے ساتھ ہی ان تین افراد جو ساکن کھڑے تھے اور بظاہر نہتے تھے ان میں سے ایک زمین پر گر جاتا ہے۔
اس کے ساتھ ہی عبرانی زبان میں کوئی پرجوش نعرہ لگاتا ہے اور گالی بھی دیتے ہوئے کہتا ہے کہ کیا ویڈیو ہے۔ اس کے بعد ایک ہجوم دوڑتا ہوا زمین پر گرے شخص کی طرف آتا ہے۔ یہ ویڈیو سب سے پہلے اسرائیل کے چینل ٹین پر نشر ہونے کے بعد نیٹ پر بہت دیکھی گئی۔ اس ویڈیو کی عرب فلسطینیوں کے علاوہ اسرائیل سیاست دانوں کی طرف سے بھی مذمت کی گئی ہے۔ اسرائیل کی انسانی حقوق کی تنظیم بیت سلم نے کہا ہے کہ انھیں فوجی کی طرف سے کی جانے والی تحقیقات پر کوئی اعتبار نہیں ہے۔ ایک ٹویٹ میں تنظیم کی طرف سے کہا گیا کہ اسرائیلی سیاست دانوں اور رہنماوں کی طرف سے اس کی مذمت صرف زبانی کلامی ہے اور فوج کی طرف سے کرائی جانے والی تحقیقات صرف لیپا پوتی کے مترادف ہو گی۔ ٹویٹ میں مزید کہا گیا کہ یہ وہی لوگوں ہیں جو فوجیوں کو دیے جانے والے غیر قانونی احکامات کی حمایت کرتے ہیں کہ جو بھی سرحد کے قریب آئے چاہے ان سے کوئی خطرہ نہ بھی تب بھی انھیں ہلاک کر دیا جائے۔
بشکریہ بی بی سی اردو
↧
شام میں ’کیمیائی حملے‘ کی تحقیقات کیلئے قرار داد، روس نے ویٹو کر دی
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے اجلاس میں امریکا اور روس، شام میں ہونے والے مشتبہ کیمیائی حملے کے ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے، کسی قسم کا لائحہ عمل مرتب کرنے میں ناکام ہو گئے۔ کونسل کے اجلاس میں، شام کے علاقے ڈوما میں ہونے والے کیمیائی حملے کے نتیجے میں 40 افراد کی ہلاکت کی تحقیقات کے لیے امریکا کی جانب سے پیش کردہ قرار داد کو روس نے ویٹو کر دیا۔ 12 ممالک نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا، بولیویا نے مخالفت میں روس کا ساتھ دیا جب کہ چین نے ووٹنگ میں اپنا حق رائے دہی استعمال نہیں کیا۔
خیال رہے کہ کسی بھی قرار داد کو منظور کرنے کے لیے کل 9 ووٹ درکار ہوتے ہیں اس حوالے سے یہ بات بھی اہمیت کی حامل ہے کہ روس، چین، فرانس، برطانیہ اور امریکا کی جانب سے مخالفت میں ووٹ نہ دیا جائے۔ روس کے ویٹو کرنے کے بعد، ایک اور قرار داد سلامتی کونسل میں پیش کی گئی، جو ماسکو کی حمایت کردہ تھی، تاہم 7 ممالک کی مخالفت کے باعث اسے مسترد کر دیا گیا، چین سمیت پانچ ارکان نے اس قرار داد کے حق میں ووٹ دیا جب کہ دو نے حق رائے دہی استعمال نہیں کیا۔
امریکا اور روس کی باہمی کشمکش
ووٹنگ سے قبل امریکا اور روس کے مابین سخت جملوں کا تبادلہ ہوا۔ روس کے نمائندے وسیلی نیبینزیا نے کہا کہ ڈوما میں مشتبہ کیمیائی حملے کو جواز بنا کر امریکا کی جانب سے کی گئی کسی بھی کارروائی کے سنگین نتائج مرتب ہوں گے۔
دوسری جانب امریکی مندوب نکی ہیلے کا کہنا تھا کہ شامی افواج کی حمایت کر کے روس نے اپنے ہاتھ شام کے معصوم بچوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔
واضح رہے سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس، شام کے مشرقی حصے غوطہ کے علاقے میں ہونے والے مشتبہ کیمیائی حملے بعد بگڑتی صورتحال کے باعث طلب کیا گیا تھا۔
اجلاس کے دوران شدید تنقید کے تبادلے کے بعد سلامتی کونسل کے مندوبین کی جانب سے کسی ممکنہ حل کی کوشش کے لیے تین تجاویز پر بند کمرے میں مشاورت بھی کی گئی۔ نمائندوں کے مطابق امریکا کا موقف تھا کہ وہ اس بارے میں گفتگو کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن دنیا کی نظریں سلامتی کونسل کی جانب لگی ہوئی ہیں۔ امریکا کا کہنا تھا کہ وہ اپنی قرار داد کے مسودے پر روس کے خدشات دور کرنے کے لیے سلامتی کونسل کے ارکان کے ساتھ کام کرنے کے لیے تیار ہے لیکن جو بھی کرنا ہے جلد کرنا ہو گا۔
امریکا کی جانب سے سلامتی کونسل کا اجلاس طلب کرنے کا مقصد مذمتی قرار داد کے ذریعے شام میں ہونے والے مشتبہ کیمیائی حملے کے ذمہ داروں کا تعین کرنا تھا۔ قرار داد کا مسودہ ڈوما میں ہونے والے کیمیائی حملے کے حوالے سے تھا، جس میں خدشہ ظاہر کیا گیا تھا کہ اس طرح کے کیمیائی ہتھیاروں کے استعمال سے عوام کا جانی نقصان ہوتا رہے گا۔ اس سے قبل امریکی صدر نے کہا تھا کہ اس واقعے پر سخت اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے اور امریکا کے پاس بہت سے عسکری راستے موجود ہیں جبکہ اس حوالے سے جلد کوئی فیصلہ کیا جائے گا۔
↧
فیس بک : معاشرے کے لیے سہولت یا مصیبت
اکٹھے رہنا انسان کی ضرورت ہے اور وہ ایک دوسرے کو جاننا پسند کرتے ہیں۔ اس خواہش کی تکمیل کے لیے تاریخ انسانی میں نت نئے طریقے وضع ہوئے اور ایجادات ہوتی رہیں۔ جسمانی اشارے کافی نہیں تھے، زبانیں اسی لیے انسانوں کا طرۂ امتیاز بنیں۔ تاہم اپنے اعضا سے انسان چند گز کے فاصلے تک ہی گفتگو کر سکتا ہے۔ انسانی آواز کی طرح اس کی بصارت بھی محدود ہے۔ نصف کلومیٹر کے فاصلے سے انسانی آنکھ چہرہ نہیں پہچان پاتی۔ ابتدا میں اس محدودیت کا حل سیاحوں اور مسافروں سے حل احوال لینے سے نکالا گیا۔ تحریر کی ایجاد کے بعد خط و کتابت اور تار نے اسے تیز کیا۔ ٹیلی فون نے فاصلوں کو مزید سمیٹ دیا۔ ایک عام ٹیلی فون پر صرف آواز آیا کرتی ہے۔ انٹرنیٹ نے تحریر، تصویر، ویڈیو ہر ذریعے سے رابطے کو ممکن کر دیا۔
ایک اپلی کیشن جسے اس بارے میں امتیاز حاصل کیا وہ فیس بک ہے۔ چودہ سال قبل مارک زکر برگ نے ہاورڈ یونیورسٹی کے ساتھیوں سے مل کر فیس بک کو ویب سائٹ پر لائے۔ ایک اندازے کے مطابق اب فیس بک کے اثاثے 84 ارب ڈالر ہیں، 25 ہزار سے زائد افراد اس میں کام کرتے ہیں، یہ دنیا کی تیسری سب سے زیادہ استعمال ہونے والی ویب سائٹ ہے اور ایک ارب سے زائد صارفین اسے موبائل فون پر روزانہ استعمال کرتے ہیں۔ یہ اعداد وشمار حیران کن ہیں جو فیس بک کی تیز رفتار وسعت اور اس میں پائی جانے والی دلچسپی کا پتا دیتے ہیں۔ آخر اس میں ایسا کیا ہے کہ لوگ اس کی جانب کھنچے چلے جا رہے ہیں۔ ایک دوسرے کو جاننے کے ساتھ ساتھ انسان نت نئی دنیائیں دریافت کرنا چاہتا ہے۔
فیس بک ایک ایسی دنیا ہے جس میں سفر نہیں کرنا پڑتا اور مختلف دنیاؤں کی ’’سیر ‘‘ ہو جاتی ہے۔ دنیا بھر سے ہر رنگ، نسل، نظریات، ملک اور مذہب کے پروفائل تک رسائی ہو سکتی ہے۔ آپ پسندیدہ گروپس میں شامل ہو سکتے ہیں، رائے دے سکتے ہیں اور تبصرہ بھی کر سکتے ہیں۔ تصاویر اور ویڈیوزدیکھی جا سکتی ہیں اور پوسٹ کی جا سکتی ہیں۔ صارفین کی بڑی تعداد کے ہوتے دلچسپ تحاریر پڑھنے اور تصاویر اور ویڈیوز کو دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ یہ فوری اور نت نئی معلومات کا اہم ذریعہ بن چکی ہے۔ فیس بک کے ذریعے آپ اپنے دوستوں سے رابطہ کر سکتے ہیں اور انہیں تلاش کر سکتے ہیں۔ یوں بہت سے بچھڑے ہوئے دوست آپس میں مل جاتے ہیں۔
روایتی میڈیا سے اوجھل بہت سی خبریں یہاں مل جاتی ہیں۔ ٹرینڈ بن جائیں تو حکام کو ہلا دیتی ہیں۔ لیکن ایک دوسرا پہلو بھی ہے۔ عمومی تجربہ بتاتا ہے کہ فیس بک کے صارف کسی گورکھ دھندے کی طرح اس میں پھنستے چلے جاتے ہیں۔ کسی ایک کی پروفائل کو دیکھ کر دوسرے پر جانا ، ایک کے بعد دوسرا تبصرہ پڑھنا، اور جب احساس ہوتا ہے تو بہت وقت ضائع ہو چکا ہوتا ہے، تجسس کی تسکین پھر بھی نہیں ہوئی ہوتی۔ تحقیقات سے پتا چلتا ہے کہ سوشل میڈیا بشمول فیس بک کی نشے جیسی لت بھی لگ سکتی ہے۔ صارف بار باراپنے اکاؤنٹ سے رجوع کرتا ہے اوراسے کھولے بغیر رہ نہیں پاتا۔ اسے دوسروں کے تبصروں اور ’’لائیکس‘‘ کا انتظار رہتا ہے۔ تب اس سے انسانی رشتے متاثر ہونے لگتے ہیں۔
خاندان کے افراد اور دوست ملتے ہیں مگر نظریں موبائل پر جمی ہوتی ہیں۔ انسانوں کی اس نوع کی اجنبیت ایک انوکھا مظہر ہے جس کی ابتدا شاید تھیٹر اور بعدازاں سینما سے ہوئی۔ سینما میں ایک جگہ پر موجود انسانوں کی بڑی تعداد ایک دوسرے کی بجائے ایک سے تین گھنٹے تک واحد مردہ سکرین ہی کو دیکھتی ہے وگرنہ چار انسانوں کے ملنے کے بعد باہمی گفتگو اورحال احوال کو فطری سمجھا جاتا ہے۔ اب ہوا یہ ہے کہ سوشل میڈیا کے سبب سکرینیں کسی عمارت میں نصب نہیں بلکہ ہر ہاتھ میں ہیں۔ یوں انسان جہاں ایک دوسرے کے قریب ہوا ہے وہیں وہ دور اور بیگانہ بھی ہوا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خاندان میں کسی ایک کو دوسرے سے شکایت ہوتی ہے۔ بچوں کو ماں باپ یا ماں باپ کو نوعمروں سے، میاں بیوی میں سے کسی ایک کو دوسرے سے۔ بوڑھوں کو اپنی اولاد سے۔
وہ شکایات کرتے نظر آتے ہیں کہ انہیں وقت نہیں دیا جا رہا۔ متعدد صارفین کی نیند پوری نہیں ہوتی اور ان کا کام متاثر ہوتا ہے۔ فیس بک اکاؤنٹ بنانے کے لیے عمر کی ایک حد ہے اور یہ بلاوجہ نہیں۔ اس پر بہت سا ایسا مواد ہوتا ہے جو بچوں کے لیے موزوں نہیں۔ لیکن ملک میں بچوں کی ایک بڑی تعداد نے اکاؤنٹ بنا رکھے ہیں، یہاں تک کہ بہت سے والدین بھی اسے برا تصور نہیں کرتے۔ اس سے بچوں کی رسائی ایسے مواد ہو تک جاتی ہے جو نفسیاتی طور پر انہیں نقصان پہنچا سکتا ہے نیز ایسے افراد ان سے رابطہ کر سکتے ہیں جو انہیں نقصان پہنچائیں۔ فیس بک پرصارفین کی جانب سے بہت سی ایسی معلومات بھی فراہم کر دی جاتی ہیں جن کی نوعیت نجی ہوتی ہے۔
پرائیویسی سیٹنگ نہ ہونے، غلطی ہونے یا اکاؤنٹ ہیک ہونے کی صورت میں ان تک رسائی آسان ہو جاتی ہے اور پھر بلیک میل کرنے کی کوششیں ہوتی ہیں۔ ایسے کئی واقعات منظر عام پر آ چکے ہیں۔ فیس بک پر معلومات کا ارتکاز ہو چکا ہے یعنی ایک ہی کمپنی کے ہاتھ میں اربوں صارفین کا ڈیٹا ہے۔ فراہم کردہ معلومات کو بڑے پیمانے پر حاصل کر کے انہیں کاروباری اور سیاسی مفادات کے لیے بلا اجازت اور غیر اخلاقی طور پر استعمال کرنے کے واقعات بھی سامنے آئے ہیں۔ جعلی اور خفیہ اکاؤنٹس کے ذریعے رائے عامہ بدلنے اور ترغیب دینے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ گزشتہ امریکی صدارتی انتخابات میں کی جانے والی ایسی کوششیں ابھی تک خبروں اور تجزیوں کی زینت ہیں۔ لہٰذا اس کا استعمال مفید تو ہے مگر احتیاط کا متقاضی ہے۔ اسے استعمال کرتے ہوئے اس کے فوائد کو حاصل کیا جاسکتا ہے لیکن ایسا کرتے ہوئے اس کے نقصانات پر نظر رکھنا اور ان سے بچنا بھی ضروری ہے۔
رضوان عطا
↧
↧
اگلے بہتر گھنٹوں میں شام پر فضائی حملے کا امکان
فضائی حدود کی نگرانی کے یورپی ادارے ’یوروکنٹرول‘ نے فضائی کمپنیوں کو خبردار کیا ہے کہ وہ مشرقی بحیرہ روم سے گزرنے والی اپنی پروازوں کے حوالے سے احتیاط کریں کیونکہ اگلے بہتر گھنٹوں میں شام پر فضائی حملہ کیا جا سکتا ہے۔ شام کے علاقے مشرقی غوطہ کے شہر دوما میں ہونے والے مبینہ کیمیائی حملے کے بعد سے صورتحال مسلسل کشیدہ ہوتی جا رہی ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور ان کے مغربی اتحادی دوما میں کیے جانے والے اس مبینہ کیمیائی حملے کی ذمہ داری شامی حکومت پر عائد کرتے ہوئے صدر اسد کو سزا دینے کے بارے میں سوچ رہے ہیں۔
ماسکو اپنے حلیف اسد کے خلاف کسی بھی طرح کی عسکری کارروائی کے حوالے سے سلامتی کونسل میں پیش کی جانے والی بارہ قراردادوں کا راستہ روک چکا ہے۔ ٹرمپ نے خبردار کیا تھا کہ دوما میں کیمیائی حملے کے ذمہ داروں کا تعین ہوتے ہی اس کے خلاف فوری اور بھرپور کارروائی کی جائے گی۔ ماسکو اور واشنگٹن شامی علاقے دوما میں کیے جانے والے مبینہ کیمیائی حملے کے حوالے سے مختلف موقف رکھتے ہیں۔ یہ دونوں ممالک اس واقعے کی آزاد تحقیقات کا مطالبہ بھی کر رہے ہیں اور ساتھ ہی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اس تناظر میں ایک دوسرے کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کی راہ میں رکاوٹ بھی بن رہے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ نے لاطینی امریکی خطے کا پہلے سے طے شدہ اپنا دورہ منسوخ کرتے ہوئے اپنی تمام تر توجہ شام پر مرکوز کی ہوئی ہے۔ دوما میں مبینہ کیمیائی حملے میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد کے حوالے سے متضاد خبریں سامنے آ رہی ہیں۔ سیریئن ریلیف گروپ کے مطابق اس واقعے میں ساٹھ افراد ہلاک اور ایک ہزار سے زائد زخمی ہوئے ہیں۔ دوسری جانب ڈیڑھ سو ہلاکتوں کا بھی ذکر کیا جا رہا ہے۔
بشکریہ DW اردو
↧
کیا صدر ٹرمپ شام پر میزائل حملہ کر دیں گے ؟
صدر ٹرمپ نے روس کو متنبہہ کیا ہے کہ وہ شام کے اندر کیمیائی حملے کرنے والوں کا ساتھ نہ دیں اور ساتھ ہی اپنے ایک ٹویٹ میں کہا ہے ’’ روس تیار ہو رہو، میزائل آ رہے ہیں، بہترین، جدید اور سمارٹ‘‘. دوسری جانب روس نے بھی خبردار کیا ہے کہ شام کی جانب آنے والے تمام میزائلوں کو مار گرائے گا۔ صدر ٹرمپ کا ٹویٹ محض انتباہ ہے یا اس پر عمل درآمد بھی ہو سکتا ہے؟ ردعمل کیا ہو گا ؟ وائس آف امریکہ کے پروگرام جہاں رنگ میں اسد حسن کے ساتھ گفتگو میں ان سوالوں کا جواب دیتے ہوئے واشنگٹن میں قائم تھنک ٹینک مڈل ایسٹ انسٹیٹیوٹ سے وابستہ تجزیہ کار ڈاکٹر زبیر اقبال نے کہا کہ صورتحال بہت پیجیدہ ہے، صدر ٹرمپ کے واضح اعلان کے بعد شام پر امریکہ کے حملہ کرنے یا نہ کرنے، دونوں صورتوں میں نتائج سنگین ہیں۔
’’ اب جبکہ صدر ٹرمپ نے حملے کا اعلان کر دیا ہے تو بدقسمتی سے یہ حملہ ہو کر رہے گا۔ اگر حملہ نہیں ہوتا تو پھر (صدر ٹرمپ کی) ساکھ کو مزید دھچکہ پہنچے گا‘‘۔ زبیر اقبال کے بقول امریکہ کے صدر ٹرمپ کے بیانات تضاد ناتجربہ کاری کے عکاس ہیں یہ ناتجربہ کاری ہے۔ ان کے مشیروں کو چاہیے کہ مناسب سمت کی جانب ان کی راہنمائی کریں۔ ناتجربہ کاری بڑی خطرناک ہوتی ہے۔ کیونکہ دوسرے ملک اس کو اس نظر سے نہیں دیکھتے بلکہ اس کو پالیسیوں میں لڑکھڑاہٹ یا تذبذب کے طور پر دیکھا جاتا ہے اور ملکوں کے لیے اس کے بہت خطرناک نتائج ہوا کرتے ہیں‘‘۔
پاکستان سے تجزیہ کار، سابق سفیر ظفر ہلالی نے ڈونلڈ ٹرمپ کے شام پر میزائل حملے کے عندیہ پر تنقید کی اور کہا کہ امریکہ وہیں حملے کیا کرتا ہے جہاں اسے یقین ہو کہ جواب میں حملہ نہیں کیا جائے گا۔ اسے معلوم ہو کہ جواب میں کاروائی ہو گی تو وہاں وہ بات چیت کیا کرتا ہے۔ اس ضمن میں شمالی کوریا کی مثال واضح ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ شام پر میزائل حملہ ان کے الفاظ میں احمقانہ فیصلہ ہو گا جس کے حق میں دلائل نہیں دیے جا سکتے۔ سال 2013 میں اوباما انتظامیہ بھی شام پر اس وقت حملے پر سوچ بچار کرتی رہی ہے جب صدر بشارالاسد نے امریکہ کی جانب سے متعین کردہ سرخ لکیر پار کی تھی اور کیمیائی ہتھیاروں کا استعمال کیا تھا۔
اسد حسن
بشکریہ وائس آف امریکہ
↧
جرمنی اور امریکا اور اس کے اتحادیوں کے درمیان درۂ کیسرین کا معرکہ
بلاشبہ جرمن طوفان جب اٹھا تھا تو اس نے یورپ اور ایشیا کے بڑے حصے کو اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔ تیونس میں نازی جرمنی اور امریکا اور اس کے اتحادیوں کے درمیان فروری 1943ء میں ایک لڑائی لڑی گئی۔ یہ جرمنوں اور امریکیوں کے درمیان براعظم افریقہ میں ہونے والی پہلی بڑی لڑائی تھی۔ تیونس کے دروں، وادیوں اور پہاڑیوں کے اس طرف سیدی بوزید تک کے تمام علاقے پر جرمن افواج کا قبضہ تھا۔ وہاں انہوں نے ٹینکوں، ہوائی جہازوں اور دوسرے جدید قسم کے فوجی ساز وسامان کے ساتھ بڑا مضبوط دفاع قائم کر رکھا تھا جس میں حملہ کرنے کی بھی پوری طاقت تھی۔
چند ہی میل کے فاصلے پر امریکیوں کی دفاعی لائن تھی جس میں ٹینک اور ٹینک شکن توپیں شامل تھیں۔ ٹینک یکے بعد دیگرے جرمن لائن پر حملہ کے لیے بڑھ رہے تھے۔ غرض ایک ایک کر کے پچاس ٹینک حرکت میں آ گئے تھے جن کا تعلق امریکا کی پہلی بکتر بند ڈویژن سے تھا۔ جرمنوں نے امریکی ٹینکوں کے نمودار ہوتے ہی اپنی ٹینک شکن توپوں کے منہ کھول دیے۔ کئی ٹینک تباہ ہو گئے اور ان میں آگ لگ گئی۔ اس سے جرمنوں میں مسرت کی ایک لہر دوڑ گئی۔ ٹینکوں کو پیچھے ہٹنا پڑا۔ دراصل امریکیوں کو پھنسایا گیا تھا اور جرمن اسی کے منتظر تھے۔ انہوں نے اپنی ٹینک شکن توپوں کی مار چار سو گز تک بڑھالی اور امریکی ٹینکوں میں ایک تباہی مچا دی۔
جرمنی کے مشہور جنرل رومیل کی پالیسی دراصل یہ تھی کہ آگے بڑھ کر امریکا کی ناتجربہ کار فوج پر حملہ کر دے جو فیض شلطا کے علاقے میں جنرل منٹگمری کے زیر کمان طاقتور ہوتی چلی جا رہی تھی۔ اسی بنا پر اس نے تیس جنوری کو تیونس کے درہ فیض پر ٹینکوں سے شدید حملہ کر دیا جہاں فرانسیسی رجمنٹ دفاع پر مامور تھی۔ جرمن افواج نے اس کا صفایا کر دیا ۔ جنرل رومیل اپنے حریفوں کی تمام کمزوریوں سے واقف تھا۔ اسے معلوم تھا کہ سیدی بوزید کے اگلے علاقے میں اتحادیوں کی افواج بڑی تیاری کے ساتھ موجود ہیں چنانچہ ان کی دم پر ہاتھ رکھنے کے طور پر اس نے چند ٹینک اس طرف روانہ کر دیے تھے۔ رومیل کی یہ کارروائی کامیاب رہی۔
امریکی بڑھ کر درہ کے دہانے تک آگئے جہاں رومیل کا دستہ ان کا ’’خیر مقدم‘‘ کرنے کو موجود تھا۔ امریکیوں نے اس درہ پر دو شدید حملے کیے تاکہ اس پر قبضہ کر لیں۔ لیکن جرمنوں کی آرٹیلری نے انہیں بھون کر رکھ دیا، امریکیوں کو جنگی ناتجربہ کاری کی بنا پر شدید نقصان کے ساتھ پسپا ہونا پڑا اور ان کا بھی وہی حشر ہوا جو فرانسیسی فوج کا ہوا تھا۔ اس کے چند ہی روز بعد جرمن جاسوسوں نے یہ اطلاع فراہم کی کہ جنرل آئزن ہاور اپنی منتشر افواج کو جمع کر کے کسی تازہ حملہ کی تیاری کر رہا ہے۔ چالاک رومیل نے آئزن ہاور کی کوششوں کے بار آور ہونے سے قبل پیش قدمی شروع کر دی۔ 14 فروری 1943ء کو ایک سو پچاس ٹینکوں کی گڑگڑاہٹ سے زمین لرزنے لگی جو تین طرف سے درہ فیض میں داخل ہو رہے تھے۔
اس طرح جرمنوں نے درہ فیض سے چھ میل آگے بڑھ کر امریکی فوج اور ان کے توپ خانہ کو جا لیا اور ان پر تین اطراف سے حملہ کر دیا۔ جرمنی کی دسویں پنسر ڈویژن نے درہ کیسرین کو گھیر لیا۔ اس دو طرفہ حملے اور حصار میں ہزاروں امریکی فوجی اپنی بڑی لائن سے کٹ گئے۔ جرمن فوج نے ایک اہم پہاڑی پر بھی قبضہ کر لیا تھا جہاں امریکا کے تقریباً پچیس ٹینک موجود تھے۔ ان میں سے پانچ ٹینک تباہ کر دیے گئے ۔ جرمنوں کے بھی تین ٹینک ضائع ہوئے۔ تھوڑی ہی دیر بعد امریکا کے چالیس ٹینک اور آ گئے۔ اب جرمن ٹینکوں کو ذرا پیچھے ہٹنا پڑا مگر جرمن ٹینک شکن توپوں نے ان میں سے بھی کئی ٹینک تباہ کر دیے کیونکہ شرمن ٹینک بھاری ہونے کی وجہ سے جلد حرکت نہ کر سکتے تھے۔
چونکہ جرمنی کی فوجوں نے قبل ازیں طبروق اور الامین کی لڑائی میں ٹینکوں کی بہت اچھی مشق کی تھی لہٰذا اس جنگ میں ان کے ٹینک ہر مقام پر امریکی ٹینکوں پر بھاری پڑ رہے تھے۔ جرمن ٹینک بڑی ترکیب سے حملہ کرتے اور اتحادیوں کے ٹینکوں کو تباہ کر دیتے۔ حالانکہ اتحادیوں کے ٹینک دور مار بھی تھے اوران کا نشانہ بھی اچھا تھا مگر اتحادیوں اور بالخصوص امریکیوں کو ٹینکوں کی لڑائی کی اچھی مشق نہ تھی۔ پھر بھی امریکیوں کا ساتھ دینے والے برطانیہ کے ٹینک جرمن ٹینکوں کا خوب مقابلہ کر رہے تھے اور اکثر غالب بھی آ جاتے تھے۔ ایک مقام پر چار امریکی ٹینک کھڑے ہوئے جرمنوں پر گولے برسا رہے تھے مگر فوجی اعتبار سے وہ درست پوزیشن میں نہ تھے۔
نتیجہ یہ نکلا کہ جرمنی کی ایک ٹینک شکن توپ نے معقول زاویے سے ان چاروں کو اڑا دیا۔ جرمنوں کے حملے میں اتحادیوں کے سینکڑوں آدمی مارے گئے۔ لڑائی میں جرمنی کے آٹھ ٹینک جبکہ امریکا کے چالیس ٹینک تباہ ہوئے۔ دو روز کے وقفے سے خبر آئی کہ جبل السودہ کے قریب جرمن فوجیں اتحادیوں کو مارتی ہوئی آگے نکل گئی ہیں۔ امریکا کی بقیہ فوج نے شمال کی جانب سے حملہ کیا مگر شدید نقصان اٹھا کر پسپا ہوئی۔ دوسرے روز امریکا کی پندرہویں رجمنٹ نے درہ کی دوسری طرف سے جوابی حملہ کیا لیکن بہت سے امریکی مارے گئے اور کئی ٹینک تباہ ہو گئے۔
کئی روز تک یہی حالات رہے یہاں تک کہ سترہ تاریخ کو امریکیوں نے ایک سوچے سمجھے منصوبے کے ساتھ ایک بڑا حملہ کیا۔ ایک ہی حملہ میں جرمنی کے بیس ٹینک ضائع ہو گئے اور بہت سارے سپاہی مارے گئے۔ آخر جرمنوں کے پیر اکھڑ گئے لیکن وہ جلد ہی سنبھل گئے۔ انہوں نے پلٹ کر ایسا حملہ کیا کہ نقشۂ جنگ پلٹ گیا۔ شیطلہ امریکیوں کے ہاتھ سے نکل گیا اور وہ درہ کی طرف بھاگ نکلے۔ پھر فضائی بمباری ہوئی جس سے جرمنوں میں انتشار پیدا ہوا اور امریکیوں نے درہ کیسرین کے اندر دو ہزار سے زیادہ شیل جھونک دیے۔ اس بگڑی ہوئی صورت حال کو دیکھنے کے لیے جنرل رومیل خود اس مقام پر آیا اور حالات کا جائزہ لینے کے بعد اندازہ لگایا کہ اس کے پاس ٹرانسپورٹ کے وافرذرائع نہیں اس کے علاوہ اس کی فوجیں دو طرفہ پہاڑیوں کے درمیان ہیں لہٰذا اس نے عافیت اسی میں دیکھی کہ پسپائی اختیار کی جائے۔
قیسی رامپوری
↧
دونوں سپر قوتیں محلے کے بدمعاشوں کی مانند ایک دوسرے کو دہمکیاں دے رہی ہیں
ترکی کے وزیر اعظم نے روس اور امریکہ کو شام کے بارے میں متنبہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب گلی کوچوں کی جنگ کو ختم کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ اس جنگ کا خمیازہ سویلین اپنے جانیں دیتے ہوئے بھگت رہے ہیں۔ انہوں نے ان خیالات کا اظہار استنبول میں یوریشیا اقتصادی سربراہی اجلاس کے موقع پر کیا انہوں نے کہا کہ اقوام متحدہ کے مستقل نمائندئے جن کو بڑی قوت حاصل ہے پر بھاری ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ کیا کر رہے ہیں۔ ایک دوسرے کو ٹویٹ کے ذریعے متنبہ کر رہے ہیں۔ کیا دنیا ان دونوں ممالک کو ایک دوسرے کو نشانہ بناتے ہوئے جن میں ہزاروں افرا ہلاک ہو چکے ہیں تماشا ہی دیکھتے رہیں گے؟ ایک کہتا ہے میرے میزائل زیادہ موثر ہیں جبکہ دوسرا کہتا ہے میرے میزائل زیادہ طاقتور ہیں۔
یہ ممالک محلے کی لڑائی کی طرح ایک دوسرے سے برسر پیکار ہیں۔ محلے کے بد معاشوں کے مانند لڑ جھگڑ رہے ہیں۔ لیکن اس کا حساب کون چکا رہا ہے۔؟ بے چارے معصوم سویلین چکا رہے ہیں۔ علاقے میں مزید خون خرابہ روکنے کے لیے شام میں برسر پیکار ممالک کو متنبہ کرتے ہوئے بن علی یلدرم نے کہا ہے کہ یہ لڑائی کا وقت نہیں ہے بلکہ علاقے میں زخمی ہونے والے افراد کے زخموں پر مرہم پٹی کرنے کا وقت ہے۔ ان تمام ممالک کو اپنی قوت کا مظاہرہ کرنے کی بجائے علاقے میں امن قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ تمام ممالک کو آپس میں اتحاد کرتے ہوئے شام اور عراق میں امن کے قیام کے لیے اپنی بھر پور کوششیں جاری رکھنے چاہیں۔ انہوں نے کہا کہ ایک دوسرے کو آنکھیں دکھا کر کچھ بھی حاصل نہیں کیا جا سکتا ۔
بشکریہ RT اردو
↧
↧
نواز شریف اور جہانگیر ترین تاحیات نااہل
سپریم کورٹ کی جانب سے سابق وزیر اعظم میاں نواز شریف، تحریک انصاف کے سابق رہنما جہانگیر ترین اور دیگر نااہل افراد کو تاحیات نااہل قرار دے دیا گیا۔
سپریم کورٹ نے فیصلہ سنایا کہ آئین کے آرٹیکل 62 ون ایف کے تحت یہ نااہلی تاحیات رہے گی۔ چیف جسٹس آف پاکستان میاں ثاقب نثار کی سربراہی میں 5 رکنی بنچ نے جس میں جسٹس عظمت سعید شیخ، جسٹس عمر عطاء بندیال، جسٹس اعجاز الاحسن اور جسٹس سجاد علی شاہ شامل ہیں ،کیس کا فیصلہ 14 فروری 2018ء کو محفوظ کیا تھا۔
آج جسٹس عمر عطا بندیال نے محفوظ کیا گیا فیصلہ پڑھ کر سنایا، فیصلے کے وقت لارجر بنچ میں شامل 4 ججز عدالت کے کمرہ نمبر 1 میں تھے جبکہ جسٹس سجاد علی شاہ اسلام آباد میں نہ ہونے کے باعث شرکت نہیں کر سکے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے میں کہا گیا ہے کہ جو صادق اور امین نہ ہو اسے آئین تاحیات نااہل قرار دیتا ہے،جب تک عدالتی ڈیکلریشن موجود ہے نااہلی رہے گی۔ جسٹس عمر عطا بندیال نے فیصلہ تحریر کیا جبکہ جسٹس عظمت سعید نے اضافی نوٹ تحریر کیا۔
اس سے قبل سپریم کورٹ کے اسی 5 رکنی لارجر بنچ نے 14 فروری کو مختلف اپیلوں پر سماعت کے بعد یہ فیصلہ محفوظ کیا تھا۔ پانچ رکنی لارجر بنچ نے رواں سال جنوری میں 15 مختلف درخواستیں یکجا کر کے سماعت کی تھی۔ سپریم کورٹ نے اس حوالے سے سابق وزیراعظم نوازشریف کو نوٹس بھی جاری کیا تھا۔ نواز شریف کی طرف سے داخل جواب میں کہا گیا کہ انہوں نےکوئی درخواست داخل نہیں کی۔ نواز شریف نے جواب میں کہا کہ نااہلی صرف اس مدت کے لیے ہو گی جس مدت کے لیے امیدوار منتخب ہو۔ جہانگیر ترین کے وکیل اور نااہل ہونے والے دیگر اپیل کنندگان نے تاحیات نااہلی کے خلاف دلائل دیے تھے۔
پاناما کیس میں نوازشریف کو 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دینے والے بنچ میں جسٹس عظمت سعید شامل تھے۔ پاناما کیس میں نوازشریف کو 62 ون ایف کے تحت نااہل قرار دینے والے بنچ میں جسٹس اعجازالحسن شامل تھے۔ چیف جسٹس پاکستان جسٹس ثاقب نثار اور جسٹس عمر عطا بندیال نے جہانگیر ترین کی نااہلی کا فیصلہ دیا تھا۔ سپریم کورٹ نے نوازشریف اور جہانگیر ترین کے خلاف فیصلوں میں نااہلی کی مدت کا تعین نہیں کیا تھا۔ سپریم کورٹ عبدالغفور لہڑی کیس میں 62 ون ایف کے تحت نا اہلی کو تاحیات قرار دے چکی ہے۔
↧
کشمیر کی آٹھ سالہ بیٹی آصفہ انصاف مانگ رہی ہے
مقبوضہ جموں و کشمیر کے ضلع کٹھوعہ میں آٹھ سالہ کشمیری بچی آصفہ بانو کے لرزہ خیز قتل نے پورے بھارت کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔ خانہ بدوش گجر برادری کی یہ بچی دس جنوری کو خچر چرانے جنگل میں گئی ، اس کے خچر واپس آگئے مگر وہ نہیں ، 12 جنوری کو اسکا والد پولیس کے پاس مقدمہ درج کرانے گیا تو اسے کہا گیا کہ اسکی بیٹی کسی لڑکے کے ساتھ بھاگ گئی ہو گی۔ پانچ دن بعد بچی کی لاش مل گئی ۔ بچی کی ماں نسیمہ اور اس کے خاوند نے سب سے پہلے بھاگ کر جھاڑیوں میں لاش دیکھی تھی۔ اس پر تشدد کیا گیا تھا۔ اس کی ٹانگیں ٹوٹی ہوئی تھیں۔ اس کے ناخن کالے پڑ گئے تھے اور اس کے بازوؤں اور انگلیوں پر لال اور نیلے نشان تھے۔
تفتیش سے پتہ چلا کہ اس بچی کو کئی دن تک ایک مندر میں رکھا گیا تھا اور اسے بے ہوشی کی دوائیں دی جاتی رہی تھیں۔ کئی دنوں تک ریپ کیا گیا، آخر اسے قتل کر دیا گیا۔ پہلے اس کا گلا گھونٹا گیا پھر سر پر دو بار پتھر مارا گیا۔ 60 سالہ ریٹائرڈ سرکاری ملازم سنجی رام نے چار سپاہیوں سریندر ورما، تلک راج، کھجوریا اور آنند دتا کے ساتھ مل کر اس جرم کی منصوبہ بندی کی۔ رام کا بیٹا وشال، اس کا کم عمر بھتیجا اور دوست پرویش کمار بھی ریپ اور قتل کے ملزم ٹھہرائے گئے۔ تفتیش کاروں کا الزام ہے کہ کھجوریا اور دوسرے پولیس اہلکاروں نے مقتولہ کے خون آلود کپڑے دھو کر فارینزک لیبارٹری کو بھیجے تھے تاکہ سراغ دھل جائیں۔ ان میں سے بعض بچی کو تلاش کرنے میں اس کے خاندان کی جھوٹ موٹ مدد بھی کرتے رہے تھے۔ اس جرم کا مقصد گجر برادری کو ڈرا کر جموں سے نکالنا تھا۔ گجر بچی کو اس قبرستان میں دفن کرنا چاہتے تھے جس کی زمین انھوں نے چند سال پہلے خریدی تھی اور وہاں پہلے ہی پانچ مردے دفنا چکے تھے ۔ لیکن جب وہ جنازہ لے کر وہاں پہنچے تو قبرستان کو کٹر ہندوؤں نے گھیرے میں لے رکھا تھا اور انھوں نے دھمکی دی کہ اگر بچی کو وہاں دفنانے کی کوشش کی تو اچھا نہیں ہو گا۔
دوسری طرف وحشیانہ جرم کے مرتکب درندوں کی حمایت میں ہندوؤں نے مظاہرے شروع کر دئیے اور وکیلوں نے فردِ جرم عائد کرنے کے لیے پولیس کو عدالت میں داخل ہونے سے روک دیا۔ ہندو قوم پرست جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے دو وزرا نے ملزموں کے حق میں جلوسوں میں شرکت کی۔ تاہم جب احتجاج کی چنگاری نے شعلوں کا روپ دھارا تو ان وزرا کو مستعفی ہونا پڑا۔ واقعہ کے 65 روز بعد بھارت کے کونے کونے سے آوازیں آنے لگیں کانگریس صدر راہول گاندھی نے بی جے پی لیڈرشپ سے مخاطب ہو کر اپنے ٹویٹ میں لکھا پورا ملک آصفہ کے قتل سے ہل گیا ہے مگر آپ نہیں۔ سابق خارجہ سیکرٹری نروپامہ رائو نے تحریر کیا آصفہ کی معصوم آنکھیں مجھے پریشان کر رہی ہیں۔ ہم کہاں گر چکے ہیں ؟ شری روی شنکر نے تحریر کیا وہ انسان نہیں حیوان ہیں، پورے ملک کو آصفہ کیلئے کھڑا ہونا چاہیے۔ کرکٹر گوتم گمبھیر نے اپنے ٹویٹ میں کہا 8 سالہ بچی کی عصمت دری سے میرا سر شرم سے جھک گیا ہے اور اگر آصفہ کو جلد انصاف فراہم نہیں کیا گیا تو یہ ہمارے بھارتی ہونے پر سوال کھڑا کرے گا۔
ٹینس سٹار ثانیہ مرزا نے اپنے ٹویٹ میں سوالیہ انداز میں پوچھا کیا سچ میں ہم بھارت کو پوری دنیا میں اس نام سے پکارنے کے خواہاں ہیں، اگر ہم بغیر مذہب و ملت و جنس کے آٹھ سالہ بچی کیلئے کھڑے نہیں ہوں گے تب ہم اس دنیا میں رہنے کے لائق نہیں ہیں۔ اداکارہ سونالی بندرے نے کہا یہ ہمارے ملک کے لیے شرم کا مقام ہے کہ ہم لڑکیوں کی حفاظت نہیں کر پا رہے ہیں فلم اداکار سنجے دت نے لکھا بطور سماج ہم ناکام ہو چکے ہیں بطور باپ میں ہل گیا ہوں کہ آٹھ سالہ بچی کے ساتھ کیا ہوا اور میں کوئی بھی بات سننے کیلئے تیار نہیں ہوں، کسی بھی صورت میں آصفہ کو انصاف ملنا ہی چاہیے ۔ سونم کپور نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ میں نام نہاد قوم پرستوں اور ہندوئوں کے اس ہیبت ناک عمل سے شرمندہ ہوں اور خوف زدہ ہوں، مجھے یقین نہیں ہو رہا ہے کہ کیا واقعی یہ سب کچھ بھارت جیسے دیش میں ہو رہا ہے ۔ مزید برآں بھارتی سپریم کورٹ نے پولیس کو ایک مقامی عدالت میں فرد جرم دائر کرنے سے روکنے کے واقعہ کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اظہار وجوہ کا نوٹس جاری کر دیا ہے اور از خود کیس کا جائزہ لینے کا بھی فیصلہ کیا ہے ۔ آصفہ کے والد کا کہنا ہے کہ اس نے یہ معاملہ اللہ کی عدالت میں پیش کر دیا ہے۔
بشکریہ دنیا نیوز اردو
↧
ٹرمپ ’مافیا کے سرغنہ’ کی طرح وائٹ ہاؤس چلاتے ہیں، جیمز کومی
امریکا کی فیڈرل بیورو آف انویسٹی گیشن (ایف بی آئی) کے سابق ڈائریکٹر جیمز کومی نے اپنی نئی کتاب میں انکشاف کیا ہے کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ کسی مافیا کے سرغنہ کی طرح کام کرتے ہیں، جو اپنے لیے مکمل وفاداری چاہتا ہے، جسے لگتا ہے ساری دنیا اس کے خلاف ہے اور جو ہر بات میں جھوٹ بولتا ہے۔ یہ وہی کومی ہیں جنہیں گزشتہ برس مئی میں ڈونلڈ ٹرمپ نے عہدے سے برطرف کر دیا تھا۔ اپنی کتاب میں انہوں نے کہا کہ ’صدر ٹرمپ اپنے بنائے ہوئے خول میں قید رہتے ہیں اور دوسروں کو بھی گھسیٹ کے اس میں لے جانا چاہتے ہیں۔ واشنگٹن پوسٹ کے مطابق کتاب اگلے ہفتے عوام کے لیے پیش کر دی جائے گی۔
صدر ٹرمپ سے اپنی ملاقاتوں کو دہراتے ہوئے جیمز کومی نے لکھا کہ ’منظوری کا منتظر ایک خاموش ماحول، تمام تر طاقت کا حامل سربراہ، وفاداری کا حلف، ہر بات کے بارے میں جھوٹ، پوری دنیا ایک طرف ہم ایک طرف والا رویہ، ادارے کے قواعد و ضوابط سے بالا صرف وفاداری کا یقین دلانا، ملازمت کے شروع میں ایسا لگتا تھا جیسے میں کسی ہجوم کے خلاف وکالت کرتا ہوں۔ کومی کا کہنا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ کو شروع سے ہی صحیح اور غلط کی تمیز نہیں ہے۔ نیو یارک ٹائمز کے مطابق جیمز کومی نے نے لکھا ہے کہ ’امریکی صدر ایک بداخلاق شخص ہیں جنہیں اخلاقی اقدار کی کوئی پرواہ نہیں، ان کی سربراہی صرف لین دین کے فلسفے اور اپنی انا کی تسکین کے لیے مکمل وفاداری پر بنی ہوئی ہے۔‘
اعلیٰ وفاداری
اے ہائیر لائلٹی : ٹروتھ، لائیز اینڈ لیڈر شپ کے عنوان سے لکھی گئی اس کتاب کی اشاعت نے وائٹ ہاؤس میں تشویش کی لہر دوڑا دی ہے، جبکہ ریپبلکن اسٹیبلشمنٹ بھی پہلے سے مشکلات میں گھرے ڈونلڈ ٹرمپ کی پریشانیوں میں متوقع اضافے پر فکرمند ہے۔ کتاب کے اقتباسات سامنے آنے کے بعد وائٹ ہاؤس کی جانب سے جیمز کومی کی کردار کشی کی کوششیں شروع کر دی گئی ہیں، تاکہ عوام پر کتاب کا اثر نہ ہو پائے۔ اس سلسلے میں ریپبلکن پارٹی نے رواں ہفتے ایک ویب سائٹ کا بھی اجرا کیا جس کا عنوان ہے جھوٹے کومی۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ جیمز کومی کوئی معمولی شخصیت نہیں، بلکہ تین صدور کے ادوار میں ایف بی آئی کے سربراہ کے عہدے پر فائز رہ چکے ہیں اور واشنگٹن میں ڈیموکریٹ اور ریپبلکن حلقوں میں مشہور ہیں۔ گزشتہ برس جیمز کومی نے انکشاف کیا تھا کہ ڈونلڈ ٹرمپ نے ان پر، صدر کے سابق مشیر قومی سلامتی مائیک فلن سے جاری تفتیش ختم کرنے کے لیے دباؤ ڈالا اور وفاداری کا ثبوت طلب کیا۔ بعد ازاں امریکی صدر نے 9 مئی کو جیمز کومی کو برطرف کر دیا تھا جو انتخابات میں روسی مداخلت پر تحقیقات کر رہے تھے۔
اس واقعے کے ایک ہفتے بعد امریکی شعبہ انصاف نے رابرٹ ملر کو اس تفتیش کے لیے مقرر کر دیا تھا، جنہوں نے تمام تر رکاوٹوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے اب تک 19 افراد پر فرد جرم عائد کی جس میں ٹرمپ کے قریبی ساتھی بھی شامل ہیں۔ تاہم مذکورہ کتاب میں روس کے ساتھ روابط کی تحقیقات کے بارے میں کوئی خاص بات نہیں کی گئی کیونکہ جیمز کومی، رابرٹ ملر سے جاری حساس نوعیت کی تفتیش کی رازداری کے پابند ہیں، جسے ڈونلڈ ٹرمپ پہلے ہی جھوٹ کا پلندہ قرار دے چکے ہیں۔
↧